برابری؟

جون 30، 2009

عورت، مرد پر ہاتھ اُٹھائے تو بہادر۔۔۔ مرد، عورت پر ہاتھ اُٹھائے تو بزدل۔۔۔؟
برابری؟

Taken. اردو سب ٹائٹلز

جون 19، 2009

گذشتہ سال، 2008ء میں جاری ہونے والی انگریزی فلم TAKEN وہ شاندار مووی ہے جسے میں پچھلے کئی ماہ میں متعدد بار دیکھ چکا ہوں اور ہر بار ویسا ہی لطف پاتا ہوں. اس فلم کی کہانی ایک باپ کی اپنی بیٹی سے محبت کے گرد گھومتی ہے. فلم میں ایکشن بھی ہے، تھرل بھی اور ڈراما بھی. IMDB پر اس کا رینک 7.9 ہے. میں نے کافی پہلے اس کے اردو سب ٹائٹلز تیار کرنے کا کام شروع کیا تھا لیکن دوسرے کاموں میں مصروفیت کے سبب یہ کام ادھورا پڑا رہا.

چار دن پہلے مجھے اچانک سے جوش چڑھا اور میں نے جی جان سے اس کے اردو سب ٹائٹل پر کام شروع کیا اور آج یہ کام انجام کو پہنچا. لیجئے، اردو کی تاریخ میں دوسری مووی کا یونی.کوڈ اردو سب ٹائٹلز.

Taken[2008]DvDrip-thumbnail

جمیل نوری نستعلیق کی فارمیٹنگ کے ساتھ اگر آپ یہ سب ٹائٹلز ونڈوز میڈیا پلیئرمیں دیکھنا چاہتے ہیں تو
.ass فارمیٹ کی فائل ڈاؤن لوڈ کریں.
فائل ڈین سے ڈاؤن لوڈ کریں.

سادہ .srt فارمیٹ فائل ڈاؤن لوڈ کریں.
فائل ڈین سے ڈاؤن لوڈ کریں.

امید ہے کہ استعمال کرنے والوں کو یہ کاوش پسند آئے گی. اس سے پہلے میں نے Mr. Bean’s Holiday کا اردو سب ٹائٹل پیش کیا تھا. وہ خاصے مختصر مکالمے تھے لیکن اس فلم کے سب.ٹائٹلز تیار کرنے میں اچھی خاصی مصیبت ہوئی. پھر انگریزی میں بولے جانے والے ایسے جملے جن کا لفظی ترجمہ کافی فحش بنتا ہے… مجھے اس میں تھوڑی دماغ سوزی کرنی پڑی لیکن یہ فلم اتنی اچھی تھی کہ مجھے اس پر کام کرنے میں بہت مزا آیا.

زیب و حانیا : پیمانہ (مع ترجمہ)

جون 15، 2009

گذشتہ روز یعنی 14 جون، 2009ء بروز اتوار کوک اسٹوڈیو کی واپسی ہوئی. کل کی پہلی قسط میں کئی فن کاروں نے اپنی آواز کے جوہر دکھائے لیکن مجھے زیب اور حانیا کے فارسی گیت ’’پیمانہ‘‘ نے اپنی طرف متوجہ کیا.

اب اس کی شاعری تلاش کررہا ہوں تو مل کر نہیں دے رہی. رومن میں یہاں لکھی ہوئی ہے لیکن اس میں کچھ غلطیاں بھی ہیں اور رومن پلے بھی نہیں پڑتی. میں نے کچھ کوشش کرکے اسے جیسے تیسے لکھا ہے اور بڑی تحقیق سے آخرکار ترجمہ بھی شامل کرلیا ہے… کسی کو اس کی سمجھ آئے تو غلطیاں درست کردے.
مزید پڑھیں »

دعا

مئي 22، 2009

’’دعا مانگو کہ اللہ اس امام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے۔‘‘ بعد از نمازِ جمعہ امامِ مسجد کی دعاؤں اور نمازیوں کی ’آمین‘ کی صداؤں کے درمیان میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’اِسے اتنی عقل نہیں ہے کہ خود تو پنکھے کے نیچے بیٹھا ہے اور باہر نمازی دھوپ میں جھلس رہے ہیں۔‘‘

یہ آج نمازِ جمعہ کا احوال ہے۔ جماعت کے بعد امام صاحب نے جو دعائیں مانگنا شروع کیں تو ان کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ہم بقیہ پوری نماز (آٹھ رکعات) پڑھ کر فارغ ہوگئے اور امام صاحب کی دعائیں ختم نہ ہوئیں۔

’’اگر میں امیر المؤمنین ہوتا تو آج اس امام کو کوڑے لگواتا۔‘‘ میں نے غصہ میں کہا۔ ’’مجھے تو ان بے چارے نمازیوں پر ترس آرہا ہے جو بغیر پنکھے کے، باہر دھوپ میں بیٹھے ہیں۔‘‘

اگرچہ امام صاحب کی دُعا آج کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی تھی لیکن عام طور سے بھی مساجد کے اِمام دیگر نمازیوں کا خیال کیے بغیر دعائیں مانگتے ہیں اور مانگتے ہی چلے جاتے ہیں۔

صحیح بخاری، جلد3، پارہ 25، حدیث 1043 ہے:
’’ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز میں فلاں فلاں شخص کے طویل نماز پڑھانے کی وجہ سے شریک نہیں ہوتا ہوں، ابومسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ میں اس سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! ہم میں سے بعض وہ ہیں، جو دوسروں کو بھگاتے ہیں (نفرت دلاتے ہیں) اس لئے تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو مختصر پڑھے، اس لئے کہ ان میں مریض اور بوڑھے اور حاجت مندلوگ بھی ہوتے ہیں۔‘‘

صحیح بخاری، جلد1، پارہ3، حدیث 673ہے:
’’انس بن مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نماز شروع کرتا ہوں تو اس کو طول دینا چاہتا ہوں مگر بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس کی ماں سخت پریشان ہو جائے گی۔‘‘

کہاں تو میرے نبی کریمﷺ کی یہ احتیاط کہ فرض عبادت بھی مختصر فرمائیں اور کہاں آج کے مولوی کہ غیر فرض، غیر واجب عمل کو اتنا طویل کردیں۔۔۔ ایسے صاحبان کی دعاؤں میں کیا اثر۔۔۔

بعد میں میرے دوست نے موقع کی مناسبت سے ایک واقعہ سنایا۔ کہنے لگا کہ اس کے ایک شاعر دوست کا ایک بڑے میاں سے کافی بے تکلفانہ تھا۔ ان بڑے میاں کو بڑی بڑی دعائیں مانگنے کی عادت تھی۔ ایک بار وہ شاعر اپنے دوست کے پاس کسی کام سے گیا۔ وہ بڑے میاں دعائیں مانگنے میں مصروف تھے۔ شاعر کافی دیر تک انتظار کرتا رہا اور جب تھک گیا تو اس کے کان میں آکر بولا:

’’اگر جوانی میں اتنی حرام پائیاں نہ کی ہوتیں تو اتنی لمبی دعا مانگنی نہ پڑتی۔‘‘ :P

جامعہ نامہ. ساتویں قسط

مئي 20، 2009

آج مجھے جامعہ نامہ یاد آیا ہے کہ یہ بھی کوئی سلسلہ تھا۔۔۔ اور اسی سلسلہ سے مجھے میرا بلاگ بھی یاد آگیا ہے۔ شکر خدا پاک کا۔ :) 12 مئی سے سمسٹر امتحانات کا آغاز ہوا ہے۔ میرا پہلا پرچا 13مئی کو اسلامیات کا تھا، دوسرا پرچا 19مئی کو علمِ سیاسیات کا ہوا۔ اب اگلا عمرانیات کا ہے جو 25مئی کو ہے، پھر 26 مئی کو تعلیم کا اور یکم جون کو مطالعہ پاکستان کا۔ تب جاکر سکون۔۔۔ ایک سمسٹر مکمل ہوجائے گا۔ :uff:

آج ہمارا گروپ پڑھائی کرنے جامعہ پہنچا تھا۔ ایک منٹ، پہلے میں اپنے گروپ کی وضاحت کردوں۔ یہ ہم کچھ دوستوں کا گروپ ہے جو خود بخود ہماری کلاس میں قائم ہوگیا۔ ابتدا میں ہم سات تھے جن کے ناموں کا پہلا انگریزی حرف لکھ کر میں نے اسے نام دیا 7ARSH۔ بعد میں ہماری کلاس کی ننھی سی C.R امبرین شمع کے بھی شامل ہوجانے سے ہم آٹھ ہوگئے تو اب اس کے شروع سے ہندسہ ہٹاکر اسے ARSH-ROCK کردیا۔ میں اور سعید، دو لڑکے باقی لڑکیاں۔ خیر، آج ہم میں سے 5 جمع ہوئے تھے پڑھنے کے بہانے لیکن ہم ساتھ بیٹھے ہوں اور کچھ پڑھائی کریں، ایسی عظیم غلطی اتفاق ہی سے سرزد ہوتی ہے اور آج ایسے کسی اتفاق کا دن نہیں تھا۔ :P ہم پہلے تو نوک جھونک میں لگے رہے۔ پھر ہم یہ سوچ کر پریشان ہونے لگے کہ تعلیم ہمارا بنیادی مضمون ہے اور اسی میں ہمیں پڑھنے کے لیے ایک دن کا بھی وقفہ نہیں ہے۔ 25مئی کو عمرانیات کا پرچا دے کر آؤ اور اگلے ہی دن تعلیم کا پرچا تو تیاری کیسے کریں گے۔ لہٰذا فیصلہ ہوا، ہم دونوں C.R جاکر اپنی ٹیچر سے بات کریں کہ ہمیں پرچے میں کچھ آسانی دیں۔ جب ہمیں ٹیچر اپنے دفتر کی طرف جاتی نظر آئیں تو ہم دونوں بھی ان کے پیچھے پیچھے پہنچ گئے۔

محترمہ رضوانہ منیر صاحبہ ہمیں تعلیم کا مضمون پڑھاتی ہیں۔ کچھ حد تک سختی بھی کرتی ہیں لیکن کلاس سے باہر بہت شفیق ہیں (مجھے تو کلاس میں بھی شفیق ہی لگتی ہیں پر کچھ طلبا کو شاید اعتراض ہو)۔ ہم بارہ بجے میم رضوانہ کے پاس جاکر بیٹھے تو ایک بجے ہی اُٹھے۔ یہ ایک گھنٹہ کیسے گزرا، کب گزرا، کم از کم مجھے تو اس کا قطعی اندازہ نہ ہوا، ہوسکتا ہے میری ساتھی C.R کافی بور ہوئی ہو۔ اس ایک گھنٹہ میں ہم نے اپنے بارے میں، اپنی کلاس، اپنے مضامین، جامعہ کی مختلف جگہوں (خاص کر P.G) کے بارے میں، اپنے اساتذہ کے بارے میں، طلبا کے بارے میں، طلبا کے رویوں، اساتذہ کی دلچسپی عدم دلچسپی، جامعہ کے ماحول، معیارِ تعلیم، معیارِ تحقیق، غرض کون سا موضوع تھا جس پر بات نہیں کی۔ یہ ایک گھنٹہ ہم نے (یا شاید صرف میں نے) بہت انجوائے کیا۔

میم رضوانہ نے بتایا کہ کس طرح طلبا سیاسی جماعتوں کے ذریعے اساتذہ کو ڈراتے دھمکاتے ہیں، سیاسی جماعتوں کے کارکن (غنڈے) آکر پریشان کرتے ہیں، کس طرح سفارشیں اور دباؤ آتا ہے۔ ٹیچر خود اپنی پی۔ایچ۔ڈی کے مقالے کی تیاری کررہی ہیں۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے بی۔ایس۔آر (یہ کچھ Board of Studies جیسے لفظ کا مخفف ہے) کے چیئرمین جناب ضیاء الرحمٰن صاحب کا بھی ذکر ہوا جنہوں نے اپنی بہن کے لیے سفارش کرنی چاہی تھی اور میم رضوانہ نے سخت الفاظ میں انہیں منع کردیا تھا۔ اس پر ٹیچر کے بقول، ان کی پی۔ایچ۔ڈی کے نگران نے خبردار بھی کیا کہ آگے خود ان کا پی۔ایچ۔ڈی مقالہ بھی جانا ہے اور مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے لیکن بہرحال، اصول تو اصول ہے۔

خیر، ٹیچر کے پاس سے اُٹھے تو سب کا پروگرام بن گیا کہ ڈھابے چل کر بریانی کھائی جائے۔ وہاں پہنچے تو مَردوں کا رش بہت، وہاں سے دوسری جگہ پہنچے اور وہاں جاتے ہی بریانی منگوائی لیکن دس منٹ انتظار کے بعد جب بریانی دیکھ کر ہمارا جی اُچاٹ ہوگیا۔ گوشت کا تو نام و نشان ہی نہیں تھا، چاولوں میں آلو اور چھولے نظر آرہے تھے اس کے علاوہ املی، ثابت کالی مرچ کا وجود تھا۔ میرے منہ میں تو ایک کنکر بھی آیا۔ اکثر کے لیے تو پوری پلیٹ ختم کرنا بھی مشکل ثابت ہوا اور ہم وہاں سے پیپسی پی کر اُٹھ گئے۔ جامعہ کے سلور جوبلی گیٹ سے نکلتے ہوئے میں نے وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے۔ اففف۔۔۔ چل چل کر تھک گیا آج تو۔ :(