اب نہ کریں گے
سوچا ہے کہ اُمیدِ وفا اب نہ کریں گے
تم لاکھ ستاؤ بھی، گِلا اب نہ کریں گے
تکلیف جو ہوتی ہے مِرے دل کو تو ہووے
تم جیسے مسیحا سے دوا اب نہ کریں گے
قسمیں بھی اُٹھاؤ تو نہ آئے گا یقیں اب
تم کہتے ہی رہتے ہو جفا اب نہ کریں گے
دیکھے ہیں تمہارے یہ ڈرامے بھی بہت بار
’’غلطی ہوئی، تم دے دو سزا، اب نہ کریں گے‘‘
ہر بار رُلاتے ہو مجھے، جانتے ہو نا؟
ہر بار ہی کہتے ہو خفا اب نہ کریں گے
عمار! مبارک ہمیں تنہائی ہماری
ہم ان سے محبت کی خطا اب نہ کریں گے
جامعہ نامہ۔ پیس واک
جامعہ کراچی میں یوتھ ایکسپریس پاکستان اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیرِ اہتمام 17 فروری 2010ء کو چہل قدمی برائے امن (پیس واک) کا اہتمام کیا گیا تھا. پیس واک کی قیادت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی صاحب نے خود کی جب کہ ان کے ساتھ مشیرِ امورِ طلبہ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد صاحبہ اور جامعہ کے اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پیس واک کے شرکاء یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ سے یونیورسٹی کیفے تک نعرے بازی کرتے ہوئے آئے کہ خوف اور دہشت سے پاک پُرامن درس گاہ ان کا حق ہے۔ بعد ازاں مختصر سی تقریب سے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کے حوصلے کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس موقع پر انہیں یوتھ ایکسپریس پاکستان کی جانب سے ماہنامہ یوتھ ایکسپریس کے دو شمارے بھی پیش کیے گئے جو بہت سراہے گئے۔ اس دن کی تصاویر آپ میری تصویری بلاگ پر یہاں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
کچھ ویڈیو کلپس
(اپڈیٹ کرنے میں خاصی دیر ہوگئی.
)
میرے ساتھی طلبہ نے پچھلی پوسٹ پر کافی خدشات کا اظہار کیا کہ اگر یہ بات آگے تک پہنچ گئی تو استاد پر لکھنے کی وجہ سے معاملہ میرے تعلیمی مستقبل لیے خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا احتیاطی تدابیر کے طور پر میں وہ پوسٹ پوشیدہ کررہا ہوں۔
ویسے بھی جنہوں نے پڑھنا تھا، وہ پڑھ ہی چکے ہوں گے۔
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
كل مرزا اسد اللہ خاں غالب كی 144ویں برسی تھی۔ میں نے سوچا تھا كہ كچھ لكھوں۔ لیكن كیا؟ اسی خیال میں سارا دن گزر گیا اور كچھ نہ لكھ سكا۔ مرزا غالب سے كون ناواقف ہوگا؟ میرا تعارف بھی كوئی نیا نہیں۔ بچپن سے ان كی شاعری پڑھتا آیا ہوں۔ نصاب میں بھی ان كی شاعری اور ان كا تذكرہ شامل رہا۔ بہ حیثیت شاعر مجھے مرزا غالب پسند بھی رہے لیكن ان كی شاعری كا بڑا حصہ میری سمجھ سے بالا بالا گزر جاتا۔
گذشتہ دنوں میں نے گلزار كی فلم ’’مرزا غالب‘‘ دیكھی جس میں مرزا غالب كا كردار نصیرالدین شاہ نے نبھایا۔ فلم كافی پرانی اور سفید و سیاہ رنگت كی ہے لیكن اتفاق ایسا كہ میں نے پہلی بار كچھ عرصہ پہلے ہی دیكھی۔ اور اس كو دیكھ كر كچھ ایسا سحر چھایا ہے كہ مجھے اس كے بیان كو الفاظ نہیں ملتے۔ مرزا غالب كی حیات، ان كی مشكلات، ان كے طور طریقے، ان کا رہن سہن، میں نے اس فلم سے صرف یہی نہیں جانا بل کہ یہ فلم دیکھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ مجھے ان کی شاعری سمجھنے میں دقت کم ہوگئی ہے۔ كس شعر، كس غزل كو كس مناسبت سے اور كس موقع پر مرزا غالب نے كہا، اگرچہ وہ سب ایك فلمی انداز سے پیش كیا گیا ہے لیكن حالات و واقعات كو سمجھنے میں بے حد مدد دیتا ہے۔
غالب كے فنِ نظم و نثر پر بہت كچھ لكھا گیا، لكھا جارہا ہے اور اردو زبان جب تك رہے گی، لكھا جاتا رہے گا۔ اس پر میرا كچھ لكھنا میرے نزدیك غیر ضروری ہے۔ لیكن فلم دیكھنے كے بعد، میں یہ سوچتا ہوں كہ جس شخص كے ہاں سات لڑكوں كی ولادت ہوئی ہو اور ان میں سے ایك بھی نہ جیا ہو، اس كی كیا حالت ہوگی۔۔۔ جب اس شخص پر بڑھاپا طاری ہو اور اس كو سنبھالنے والا كوئی نہ ہو تو اس كی بے بسی كا عالم كیا ہوگا۔۔۔ جس شخص كو اس كا حق نہ ملا ہو، اس كو ملنے والی پنشن اور وظائف كا بہت معمولی حصہ بھی اسے بے حد تگ و دو كے بعد ملتا ہو، اس كی مایوسی كس درجے پر ہوگی۔۔۔ جب ہم یہ سب واقعات رونما ہوتے دیكھتے ہیں اور پھر غالب گنگناتا ہے كہ
آدمی كو بھی میسر نہیں انساں ہونا
تو سمجھ آتا ہے كہ یہ شعر كس كیفیت میں لكھا گیا ہوگا۔ یا جب غالب کو دہلی میں قدم جمانے نہیں دیے جاتے اور دربارِ مغلیہ میں اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اور پھر وہ گنگناتا ہے کہ
ہوتا ہے شب و روز تماشا مِرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مِرے ہوتے
گِھستا ہے جبیں خاك پہ دریا مِرے آگے
مت پوچھ كہ كیا حال ہے میرا تِرے پیچھے
تُو دیكھ كہ كیا رنگ ہے میرا تِرے آگے
object width=”425″ height=”344″>
یا امید و محبت میں ڈوبی ہوئی، آس اور طنز سے بھرپور غزل:
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
فلم كے گیتوں میں صرف مرزا غالب كی شاعری ہی نہیں، بلكہ میر تقی میر، استاد ذوق اور بہادر شاہ ظفر كی غزلیں بھی شامل ہیں اور جگجیت سنگھ نے بے حد كمال كی موسیقی اور دھنوں كی ترتیب دے كر ان غزلوں كا سمجھنا بہت آسان كردیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں كہ میٹرك اور انٹرمیڈیٹ كے وہ طلبہ جو اردو كلاسك شاعری سے بے زار اور كوسوں دور بھاگتے ہیں، جہاں ہزار فلمیں دیكھتے ہیں وہیں ایك یہ مووی بھی دیكھ لیں۔ امید ہے كہ امتحان كی تیاری میں بھی بے حد مفید اور كارآمد ثابت ہوگی اور اشعار كا رٹا مارنے سے چھٹكارا مل جائے گا۔
بے وفا نکلی ہے تُو
اگر آپ اس گانے کے بعد سمجھتے ہیں کہ میں نے آج کے دن اپنی کیفیت کے حوالے سے شیئر کیا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے
گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے مصروفیات کا وہ عالم رہا ہے کہ خدا کی پناہ۔ ایسے میں اگر کچھ لکھنے کا خیال آتا تو وقت نہ ملتا اور ابھی وقت ہے تو دماغ بالکل صاف ہورہا ہے۔۔۔ ایسے میں فی الحال اسی سے گزارا۔

