ابو کی خطاطی
اگر آپ نے میرے بلاگ پر غور کیا ہو تو آپ کو ایک نئے صفحہ کا اضافہ نظر آئے گا جو ہے خطاطی ﴿کیلی گرافی﴾ کا۔ میں نے یہ ویب سائٹ سیٹ اپ کرنے کے بعد ارادہ کیا تھا کہ ابو کی خطاطی بھی اپ۔لوڈ کروں گا۔ اس بات کو اب کوئی ڈیڑھ ماہ ہونے کو آیا ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ دوستوں نے کہا تھا کہ خطاطی کے نمونے تو دکھاؤ۔ اب میں ابو سے کہوں تو وہ ٹال دیں کہ اتنی فرصت تو ہوتی نہیں کہ خاص کر کچھ خطاطی کرکے دیں۔ اور جو کچھ کام پہلے کیا تھا، اس کی کاپی عموما ابو اپنے پاس رکھتے نہیں۔ پچھلے دنوں ایک کیلینڈر کا کام آیا جس کے لیے ابو نے خطاطی کرنی تھی۔۔۔ بس انہوں نے جونہی سارا کام فائنل کیا، میں نے اس کی ایک کاپی بنالی اور اب اسکین کرکے آن۔لائن کررہا ہوں۔ آپ یہاں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
اب آپ مجھ سے یہ نہ پوچھیے گا کہ یہ کام میں نے کتنا سیکھا ہے۔
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


November 10, 2008 at 11:39 PM
جناب بہترین کام ہے۔ مجھے خطاطی کی اتنی سمجھ تو نہیںلیکن دیکھنے میں نہایت خوبصورت لگتا ہ ے۔
راشد کامران کے بلاگ سے آخری تحریر چھوٹی سی بات
[جواب لکھیں]
November 14, 2008 at 12:35 PM
عمار بھائی!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
اگر ہو سکے تو اپنے والدِ محترم کو خطاطی کے لیے کچھ اسباق لکھنے پر راضی ضرور کر لینا، جنہیں اگر چاہو تو یہیں، یا پھر کہیں الگ سائٹ پر ڈال دینا۔ تاکہ خطاطی کا ہنر کسی حد تک زندہ رہے۔ امید ہے کہ آپ کے والدِ محترم میری تجویز پر غور کریں گے۔
[جواب لکھیں]
November 14, 2008 at 7:33 PM
بھائی ماشاءاللہ سے بہت عمدہ کام ہے اور ویسے بھی یہ خدا کا تحفہ ہی ہوتا ہے سیکھا نہیں جاسکتا میرے خیال سے
عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر میری پسند
[جواب لکھیں]
November 15, 2008 at 5:41 PM
راشد کامران!
بہت شکریہ جناب۔
محمد سعد!
وعلیکم السلام اور بلاگ پر خوش آمدید میرے بھائی۔ امید ہے آتے رہیں گے۔ ابو کو خطاطی پر راضی کرنا مشکل کام نہیں لیکن دراصل ان کے پاس وقت کی بے حد کمی ہے۔۔ ان دنوں قرآن کا ایک پروجیکٹ اختتامی مراحل میں ہے۔۔۔ اس کے علاوہ چونکہ ان کا پروفیشن بھی کتابت ہی ہے اس لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہے۔ بہرحال! میں آپ کی طرف سے یہ پیغام انہیں ضرور دوں گا۔
عبد القدوس!
بہت شکریہ۔ فن تو شاید کچھ حد تک سیکھ ہی لیا جائے لیکن جو تخلیقی ذہن ہوتا ہے، وہ واقعی منتقل نہیں ہوسکتا۔ تخلیقی دماغ خدا کی دَین ہی ہوتا ہے۔
[جواب لکھیں]