ٹریفک کا ایک اصول
میں نے جی ٹی اے ﴿گرینڈ تھیف آٹو﴾ وائس سٹی بہت کھیلا۔۔۔۔ اب تو خیر کھیل کھیل کر بور ہوگیا تو چھوڑ دیا۔۔۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور بے حد دلچسپ کمپیوٹر گیم ہے۔ اس میں نہ صرف مختلف مشنز مکمل کرنے ہوتے ہیں، بلکہ دوسرے بھی کئی کام کیے جاسکتے ہیں جیسے لوگوں کی گاڑیاں چھین کر بھاگ جانا۔۔۔ پولیس کی گاڑی چھینو تو پولیس پیچھے لگ جاتی ہے لیکن اس سے ایک کوڈ کی مدد سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔
میں نوٹ کرتا تھا کہ جب ہم پولیس کی گاڑی بھگاتے تھے تو تمام گاڑیاں ﴿شاید﴾ دائیں طرف ہوکر ہمیں بائیں طرف کا راستہ دیدیتی تھیں تاکہ پولیس تیزی سے اپنے ہدف تک پہنچ سکے۔ اسی طرح تب ہوتا جب ہم فائر بریگیڈ لے کر بھاگتے۔ ٹریفک کا یہ اصول میں نے اس کمپیوٹر گیم سے سیکھا۔
ہمارے ہاں بھی جب ایمبولینس یا فائر بریگیڈ جارہی ہوتی ہے تو اکثر گاڑیاں بائیں طرف ہوکر اسے دائیں طرف کا راستہ خالی فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن مجھے یہ دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ ایمبولینس کے پیچھے پیچھے ڈھیر ساری گاڑیاں ایسی ہوتی ہیں جو اس کی آڑ لے کر نکلنا چاہتی ہیں تاکہ ٹریفک رش سے بچ سکیں یا اگر ایمبولینس ٹریفک کا اشارہ توڑتی ہوئی نکلے تو اس کے پیچھے پیچھے نکل جائیں۔۔۔
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


November 23, 2008 at 8:01 AM
ایمبولینس کے ڈرائیور کبھی یونہی سائرن بجاتے ہوئے بھی نکل لیتے ہیں۔ کہ جلدی پہنچنا ہے تو۔۔ حالانکہ یہ جلدی مریض کے معاملے میں نہیں اپنے معاملے میں ہوتی ہے۔
دوست کے بلاگ سے آخری تحریر سرجی
[جواب لکھیں]
November 23, 2008 at 10:59 AM
اکثر تو ایمبولینس بیچاری خود ہی پھنسی ہوتی ہے۔
قدیر احمد کے بلاگ سے آخری تحریر پاکستان کے جاسوس طیارے
[جواب لکھیں]
November 23, 2008 at 12:57 PM
مجھے ایسے تمام کھیلوں سے نفرت ہے جن سے ذہن پر منفی اثر پڑتا ہو۔ اور یہ کھیل، جس کا آپ نے ذکر کیا، انہی میں سے ایک ہے۔
اور آپ جیسے چھوٹے بچوں کے لیے تو اور بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔
(اگر کوئی ایسا انتظام ہو سکے کہ مجھے اپنے تبصرے کے بعد ہونے والے تبصروں کی اطلاع بذریعہ برقی ڈاک کر دی جائے تو بڑی مہربانی ہوگی۔)
[جواب لکھیں]
November 24, 2008 at 10:42 AM
دوست!
میں بھی کبھی اس پر اعتراض کرتا تھا۔ ابو نے ایک دفعہ کہا کہ ہوسکتا ہے وہ کسی مریض کو لینے جارہے ہوں، اس لیے جلدی میں ہوں یا فورا پہنچ کر سینٹر رپورٹ کرنی ہو کہ کوئی اور کیس ہو تو وہاں پہنچیں اس لیے سائرن بجاتے ہوں۔
قدیر احمد!
ہاں یہ تو عموما ہوتا ہے۔ جگہ ہوتی ہی نہیں رستہ دینے کی۔
محمد سعد!
آج کل تو ہم سے بھی چھوٹے بچے بہت آگے ہیں، ویسے بھی یہ وائس سٹی ہے اور شاید آپ سین اینڈریاز کا حال جانتے ہوں۔ 
منفی اثر والے کھیل۔۔۔ اھمم
آپ اپنے بعد آنے والے تبصروں سے بذریعہ فیڈ باخبر رہ سکتے ہیں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کام کے لیے کوئی پلگ۔ان بھی شامل کرسکوں۔
[جواب لکھیں]
November 25, 2008 at 1:26 PM
کیا کوئی برائی محض اسی وجہ سے جائز ہو سکتی ہے کہ وہ کسی اور برائی کے مقابلے میں کم بری ہے؟

جہاں تک تفریح کی بات ہے تو گیم تو میں بھی کھیلتا ہوں لیکن میں نے آج تک کبھی بھی ایسے گھٹیا کھیلوں کو کھیلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہاں تک کہ دوسروں کو بھی ہر ممکن حد تک ان برائیوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔
اس لیے یہ بہانے بنانا چھوڑ دو۔ ورنہ مار پڑے گی۔
امید ہے کہ میں نے کسی بینگن یا تربوز کے سامنے یہ تقریر نہیں کی بلکہ میرا مخاطب ایک انسان ہی ہے۔
[جواب لکھیں]
November 25, 2008 at 11:35 PM
میں نے کسی اخبار میں ایک ایمبولینس ڈرائیور کا انٹرویو پڑا تھا جس میں اس نے بتایا کہ اکثر ہم خالی گاڑی میں سائرن بجاکر جارہے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم نے کسی جگہ سے ایمر جنسی مریض کو لینا ہوتا ہے لیکن لوگ خیال کرتے ہیں یہ اپنے شوق سے تیز گاڑی چلانے کے لیے ایسا کررہا ہے۔ اسی طرح اس نے ریس پر اپنا ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ میں کسی مریض کو ایمرجنسی لے کے جارہا تھا اس وقت بہت سے بائیک والے میری آڑ میں تیز چلا رہے تھے لیکن ایک جگہ پر میں نے اچانک بریک لگائی تو میںنے گاڑی کنڑول کرلی لیکن ایک اسکوٹر سوار رک نہ سکا اور میری گاڑی سے ٹکڑا کر ایک پول سے ٹکڑآیا جس سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ جس سے وہ ریس لگا رہا تھا اسی گاڑی میں اس کی ڈیڈ بوڈی جارہی تھی۔
شکاری کے بلاگ سے آخری تحریر کمپیوٹنگ میگزین تو کہاں ہے، کہاں ہے؟؟؟؟
[جواب لکھیں]
November 26, 2008 at 8:37 AM
جی ٹی اے اور نیڈ فار سپیڈ ایسی گیمز قرار پائی ہیں جو مشکل سے ہی مارکیٹ سے باہر جائیںویسے اگلے ماہ پرنس آف پرشیا کا نیا دور آرہا ہے زرا تیار ہوجائیں
عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر پاکستانی ہیکرز کا جواب (ہم سورہے ہیں مرے نہیں)
[جواب لکھیں]
November 26, 2008 at 5:01 PM
محمد سعد!
اچھا جی! نہیں بناتا بہانے۔۔۔
شکاری!
عبرت انگیز واقعہ ہے۔۔۔
عبد القدوس!
پرنس آف پرشیا2 ہی کھیلا تھا شاید۔۔۔ اس کے بعد والے پلے نہیں پڑے۔۔۔ اب اتنا وقت بھی نہیں ملتا گیمز کھیلنے کا۔ اگر گیمز کھیلنے بیٹھ گیا نا تو سارے منصوبوں نے بیٹھ جانا ہے میرے ساتھ۔۔ ویسے ٹرائی کروں گا۔
[جواب لکھیں]
November 26, 2008 at 5:26 PM
مجھے تو کمپیوٹر گیم سمجھ ہی نہیں ائے کبھی
[جواب لکھیں]
November 27, 2008 at 10:32 AM
حجاب!
صحیح کہا، عمر زیادہ ہوجائے تو کمپیوٹر گیمز کی ککھ سمجھ نہیں آتی۔
[جواب لکھیں]
December 16, 2008 at 4:41 PM
ہمارے ہاں کچھ عرصہ قبل تک تو یہ رویہ تھا کہ لوگ بڑھکیں مارتے تھے کہ یار ایک ایمبولینس کو اتنی دیر تک راستہ نہیں دیا۔ شکر ہے کہ اب کچھ شعور پیدا ہو رہا ہے
یہاں فن لینڈ میں چونکہ ٹریفک سڑک کے دائیں جانب چلتی ہے اس لئے راستہ دینے کے لئے انتہائی دائیں طرف ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ایمبولینس، پولیس یا فائر برگیڈ کی گاڑی کی لائٹس آف ہوں تو وہ عام گاڑی ہی کی طرح چلتی ہیں
باقی آج کل کی گیمز تو اب اس مرحلے پر پہنچ گئی ہیں کہ اگر کسی کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کیا تو اتنے پوائنٹس، اگر کسی بوڑھے یا بچے کو کچلا تو اس کے اور بھی زیادہ پوائنٹس۔ استغفرللہ
اسی طرح گولی مارنے سے کم، چاقو، خنجر یا کسی اور ہتھیار سے مارنے پر زیادہ اور زندہ جلا دینے پر سب سے زیادہ پوائنٹس
[جواب لکھیں]
December 21, 2008 at 2:19 PM
یہی گیمز بچوں کو غلط راستے پر لے جاتی ہیں کیونکہ وہ تو اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لیتے ہیں کہ غلط کام کرنے سے پوائنٹس ملتے ہیں
بلوُ کے بلاگ سے آخری تحریر راولپنڈی بن گیا وینس
[جواب لکھیں]