کتاب گلی

کراچی کے باسیوں نے شاید بوتل گلی کا نام سن رکھا ہوگا ، نہ بھی سنا ہو تو کوئی بات نہیں۔ میں آج کتاب گلی کا ذکر کررہا ہوں۔ مجھے دفتر کے ایک ساتھی سے پتا چلا کہ قریب ہی (ریگل چوک، صدر) ایک گلی میں اتوار کو کتابوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ آج وہاں کا چکر لگایا جائے۔ عبد اللہ ہارون روڈ، کوآپریٹو مارکیٹ سے اگر آپ ریگل چوک کی طرف آئیں تو بائیں ہاتھ پر ایک گلی اتوار کے دن کتاب گلی کا منظر پیش کررہی ہوتی ہے۔ ذرا ذرا سے فاصلے پر کتب فروش حضرات کتابوں کا ڈھیر لگائے بیٹھے ہیں۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ اکثر یہاں پروفیسر سحر انصاری اور کئی دوسرے ادیب وغیرہ بھی آتے ہیں۔ ہم ایک جگہ بیٹھے اور کچھ کتابیں دیکھنے لگے۔ اچانک میری نظر وہاں بیٹھے ایک شخص پر پڑی۔۔۔ میں نے اپنے ساتھی کو متوجہ کیا کہ دیکھو، یہ کتاب فروش جون ایلیا سے کتنا مل رہا ہے نا۔۔۔ اب اس نے جو اس کی طرف نظریں اٹھاکر دیکھا تو اچانک سے نعرہ مارا، ارے پروفیسر سحر انصاری صاحب۔۔۔ اور میں ہونق۔۔۔ کہ یہ صاحب یہاں کیسے۔۔۔ سادہ سے شلوار قمیض زیب تن کیے، بڑی سی عینک لگائے چبوترے پر بیٹھے تھے۔۔ان سے سلام دعا ہوئی۔ پھر میرا ساتھی اٹھ کر آگے کچھ کتب دیکھنے چلا گیا۔ میں سوچنے لگا کہ پروفیسر صاحب کیوں اپنی کتب فروخت کرنے لگے؟ بہرحال! میں نے کچھ کتب پسند کیں اور ان کے سامنے کیں تاکہ قیمت کا پتا چلے۔ ان میں سے ایک کتاب منیر الدین احمد کی “شجرِ ممنوعہ” (افسانے، نظمانے، نثرانے) تھی۔ کتاب میرے ہاتھ میں دیکھ کر پروفیسر صاحب کہنے لگے کہ یہ اچھا لکھتے ہیں، جرمنی میں ہوتے ہیں آج کل۔۔۔ پھر خاموش۔۔۔ اب میں سوچوں کہ قیمت کیوں نہیں بتاتے؟ :hmm: پھر ایک بندہ آیا تو اس سے کہنے لگے کہ بھئی مجھے تم کچھ اور کتب دکھارہے ہو یا بس؟ تو ان کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ وہ تو خود کتابیں لینے آئے ہوئے ہیں اور کتب فروش تو کوئی اور بندہ ہے۔ :haha: شکر کیا کہ دبے الفاظ ہی میں کہا تھا میں نے۔ پھر اس بندے کووہ کتب دکھائیں تو اس نے قیمت بتائی۔ “شجرِ ممنوعہ” (منیر الدین احمد) 30 روپے میں، “پھر صبح ہوگی” (ساحر لدھیانوی) 15 روپے میں اور “نور جہاں سرورِ جاں” (سعادت حسن منٹو) 10 روپے میں یعنی کہ کُل پچپن روپے، پچاس روپے ہی لیے اس نے۔ پھر وہاں سے اٹھ کر دوسروں کے پاس چلا گیا۔ دیکھتا رہا۔ ایک اسٹال سے بچوں کے لیے دو انگریزی کتابیں پسند آئیں۔ بڑے سائز کی، چار رنگوں میں، آرٹ پیج۔ کتب فروش نے دونوں کتابوں کے 80 روپے کہے۔میں نے کہا، زیادہ ہیں تو پوچھنے لگے، آپ کیا دوگے؟ میں نے کہا پچاس روپے اور وہ جھٹ راضی۔ آگے ایک جگہ انگریزی کتب کا بہت بڑا انبار لگا نظر آیا۔ وہاں ہر کتاب 20 روپے کی تھی۔ میں نے وہاں سے چار کتابیں لیں۔
1۔ David Copperfiled by Charles Dickens۔ مشہور انگریز ناول نگار کی تصنیف۔ (280 صفحات)
2۔ Super Story Book for Boys۔ چالیس سے زیادہ کہانیاں (512 صفحات)
3۔ Silver Jackanory۔ ناشر: بی بی سی بکس (96صفحات)
4۔ Children’s Letters to God۔ بچوں کی طرف سے خدا کو لکھے جانے والے خطوط

ماسوائے چوتھی کتاب کے جو 10 روپے میں ملی، باقی تینوں مجلد ہیں اور اچھے کاغذ پر ہیں۔ بیس بیس روپے میں یہ سودا برا نہیں ہے۔ :wink:

اگر آپ کراچی ہی میں رہتے ہیں اور کتابوں سے شغف رکھتے ہیں تو میں آپ کو اس گلی کے دورے کا مشورہ دوں گا۔ صرف انگریزی ہی نہیں، اردو میں بھی کتب کا وافر ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ دینی، سائنسی، نصابی، ادبی و دیگر موضوعات پر کافی کتب مل جاتی ہیں۔ عصر کے بعد سے کتابیں سمیٹنا شروع کردی جاتی ہیں اس لیے بارہ بجے کے بعد اور عصر سے پہلے پہلے چکر لگائیں اور پھر بتائیں کہ آپ نے کیا پایا۔ :)

کتب خانہ

اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔

تبصرے

”کتاب گلی“ پر 13 تبصرے
  1. فہیم نے لکھا:

    مجھے بہت پہلے سے معلوم ہے اس کتاب گلی کا،
    ایک بار مجھے ایک کتاب کی تلاش تھی تو میں نے چکر لگایا تھا اس گلی کا۔

    لیکن مجھے وہ کتاب وہاں نہیں مل پائی تھی۔

    [جواب لکھیں]

  2. نبیل نے لکھا:

    اففف۔۔
    کتنا خوش قسمت ہے کراچی جہاں کتاب گلی ہے اور جہاں اتنی سستی کتابیں دستیاب ہیں۔
    لاہور میں بھی جمبو سیل کے نام سے کئی سٹال لگے ہوتے ہیں جہاں کتابیں اور سی ڈی/ڈی وی دی ملتے ہیں۔ میں پاکستان جاتا ہوں تو ان جمبو سیلز میں کافی وقت صرف کرتا ہوں، لیکن یہاں کتابیں اتنی بھی سستی نہیں ہوتیں۔

    [جواب لکھیں]

  3. شکاری نے لکھا:

    میں نے بھی اس گلی کا سنا ہوا ہے لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ اتنی سستی کتابیں ہوں گی۔
    اب جانا ہی پڑے گا۔

    [جواب لکھیں]

  4. نعمان نے لکھا:

    میں جا چکا ہوں اور سچی بات ہے ڈھیر میں سے کتابیں چننا بہت ہی دلچسپ مشغلہ ہے۔ کتابوں کی کم قیمت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی کتابیں قریبا نایاب ہوتی ہیں۔

    [جواب لکھیں]

  5. ڈفر نے لکھا:

    میں تو جب بھی کبھی کتابوں والی جگہ پر چلا جاتا ہوں تو دل کرتا ہے جو کتاب نظر آئے وہی خرید لوں، گو لا کر بک شیلف کی زینت ہی بنانا ہوتا ہے۔ پڑھنے کی توفیق کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔ میں نے اس دفعہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا کارڈ دسمبر میں ہی ختم کر دیا تھا :grins: شائد ضد میں، کیونکہ پچھلا کارڈ بغیر استعمال کے ہی ضائع ہو گیا تھا :(

    [جواب لکھیں]

  6. افتخار اجمل بھوپال نے لکھا:

    جناب ۔ اس گلی میں پرانی کتابین 40 سال قبل بھی بکا کرتی تھیں ۔ قیمتیں اُن دنوں بھی اسی لگ بھگ ہوتی تھیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ پرانی کتابیں خریدنے کا شوق بہت کم ہو گیا ہے

    نبیل صاحب
    لاہور میں چالیس پچاس سال قبل دکانوں کی چھٹی والے دن انارکلی سے پرانی پنجاب یونیورسٹی کے پچھے دالی سڑک پر اور اُردو بازار کی ایک گلی میں پرانی کتابیں بکا کرتی تھیں اور راولپنڈی میں موچی بازار میں بکتی تھیں ۔ لیکن اب وہ بات نہیں جو کبھی ہوا کرتی تھی کیونکہ شوقِ علم کی جگہ دکھاوے نے لے لی ہے

    افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر دہشتگرد حکمران

    [جواب لکھیں]

  7. عبدالقدوس نے لکھا:

    لاہور میں‌اردو بازار بھرا پڑا ہے جب مرضی جاو کتابیں ہی کتابیں
    ویسے پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ بھی کتب فروش ہوتے ہیں سنا ہے لیکن کبھی دیکھا نہیں ہاں البتہ جی سی کے سامنے دیکھے ہیں

    عبدالقدوس کے بلاگ سے آخری تحریر Twitter Buttons

    [جواب لکھیں]

  8. دوست نے لکھا:

    بجا فرمایا اب کتاب کا شوق ہی نہیں رہا۔ ہمارے ہاں‌ امین پور بازار میں جمعے کے جمعے ایسے ہی کتابوں کے بیچنے والے بیٹھتے ہیں فٹ پاتھ پر۔ ویسے بھی امین پور بازار فیصل آباد کی پریس مارکیٹ اور کتابوں والا بازار ہے۔

    دوست کے بلاگ سے آخری تحریر فنکشن

    [جواب لکھیں]

  9. بدتمیز نے لکھا:

    اجمل انکل مذکورہ جگہ پر ابھی بھی کتاب والے بیٹھے ہوتے ہیں۔

    [جواب لکھیں]

  10. زین نے لکھا:

    عمار بھائی ۔ میرے سسٹم سے یہاں تبصرہ نہیں‌ہورہا۔
    یہ کسی اور جگہ سے تبصرہ کررہا ہوں۔ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے :cry:
    زین کے بلاگ سے آخری تحریر سوات کے بعد بلوچستان؟؟؟

    [جواب لکھیں]

  11. ماوراء نے لکھا:

    اتنی سستی کتابیں۔۔۔ :zip: مجھے بھی لینی ہیں۔ :sad:

    [جواب لکھیں]

  12. شعیب سعید شوبی نے لکھا:

    میں نے کتاب گلی کے بارے میں سن رکھا ہے۔ مگر کبھی جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ مگر اب تو جانا ہی پڑے گا۔

    شعیب سعید شوبی کے بلاگ سے آخری تحریر چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی

    [جواب لکھیں]

  13. حجاب نے لکھا:

    میں نے بہت ساری کتابیں لی ہیں کتاب گلی سے ، اور اتنی کم قیمت میں لی ہیں کہ کیا بتاؤں ، اتنی اچھی اچھی کتابیں لوگ پتہ نہیں کیوں پڑھ کے اپنے پاس جمع کرنے کی بجائے بیچ دیتے ہیں خیر اس میں بھی ہمارا ہی بھلا ہے :)

    [جواب لکھیں]




اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں



CommentLuv مجاز ہے۔