اسلام کا تصورِ جہاد۔ اسائنمنٹ
جامعہ میں سب سے پہلا اسائنمنٹ جو ملا وہ اسلامیات کا تھا۔ پانچ پانچ طلبا پر مشتمل گروہ بنائے گئے اور ہر گروہ کو کچھ عنوانات دیے گئے۔ میرے گروہ کے حصے میں آنے والے تین عناوین یہ تھے:
1۔ غزوہ احزاب
2۔ غزوہ خیبر
3۔ اسلام کا تصورِ جہاد
ہوتا عموماً یہ ہے کہ گروہ کے تمام اراکین مل کر ہر موضوع پر مواد اکٹھا کرتے اور اسے ترتیب دیتے ہیں تاہم میں نے کیا یہ کہ عناوین تقسیم کردیے۔ میرے گروہ میں، میں اکلوتا لڑکا تھا اور باقی چار لڑکیاں۔ دو لڑکیوں کو ایک موضوع دیا، دو لڑکیوں کو دوسرا موضوع دیا اور اسلام کا تصورِ جہاد میں نے اپنے پاس رکھا کیوں کہ اس میں لکھنے کی گنجائش تھی۔ کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں:
اسلامی تاریخ کا متعصبانہ اور سرسری مطالعہ رکھنے والے حلقوں کی طرف سے ہر دور میں یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ اسلام جبر کا دین ہے جو تلوار کے زور پر پھیلا۔ اس الزام کے ثبوت میں اسلام کی طویل جنگی تاریخ پیش کی جاتی ہے تاہم اگر غیر جانبداری سے اسلام کے تصورِ جہاد کا مطالعہ کیا جائے تو اس الزام کی قلعی بہ آسانی کھل جاتی ہے۔
امن و سلامتی کا دین:
اسلام دین ہے امن و سلامتی کا۔ جس دور میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلافات کے باعث خون کی ندیاں بہائی جاتی تھیں، نومولود لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا، اس وقت شبِ ظلمت کے اندھیروں میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا اور چاروں طرف اجالا ہوگیا۔
اسلام کے پیامبر رحمت و شفقت اور لطف و عنایت کے مجسم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ تو وہ عظیم انسان تھے کہ جن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، زخم دیے گئے، لہولہان کیا گیا، برا بھلا کہا گیا لیکن آپ رحمت اللعالمین تھے، آپ نے کسی کے لیے بددعا نہیں کی۔ پھر کیسے ان کا لایا ہوا دین جبر یا ظلم کا دین ہوسکتا ہے؟ جس دین نے یہ اعلان کیا ہو کہ ایک بے گناہ جان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ایسا پیامِ سلامتی پیش کرنے والا یہ دین کیونکر تلوار کے زور پر پھیلایا جاسکتا ہے؟
جہاد کے بارے میں احکامات کے حوالے سے کچھ احادیث:
لڑائی کی آرزو سے ممانعت:
حضرت عبد اللہ بن ابی ادنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ’’رسول اللہﷺنے بعض جنگوں میں انتظار کیا یہاں تک کہ جب آفتاب ڈھل گیا تو آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! دشمنوں سے معرکہ آراء ہونے کی آرزو نہ کرو بلکہ خدا سے امن و عافیت طلب کرو اور جب تم دشمن سے لڑو، صبر سے کام لو۔۔۔‘‘
(بخاری، بحوالہ پیارے نبی کی پیاری باتیں، علامہ عالم فقری، شبیر برادرز، لاہور، ص:۷۸، ۱۹۹۳ء)قتل کی ممانعت:
اسلام کے تصورِ جہاد کا خوبصورت ترین پہلو یہ ہے کہ اسلام قتلِ عام سے روکتا ہے، اعتدال میں رہنے کی تلقین کرتا ہے اور حالتِ جہاد کے باوجود قتل و غارت گری کی اجازت نہیں دیتا۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’نبی کریمﷺ نے عورتوں اور بچوں کو (جنگ میں) قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘
(مسلم، بحوالہ پیارے نبی کی پیاری باتیں، علامہ عالم فقری، شبیر برادرز، لاہور، ص:۸۵، ۱۹۹۳ء)حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے چند لوگوں کے پاس رسول اللہﷺ نے ہم کو بھیجا۔ میں ایک شخص کے مقابلہ پر آیا اور اس پر نیزہ سے حملہ کرنا چاہا، اس نے لاالہ الا اللہ کہہ دیا۔ میں نے اس کے نیزہ مارا اور مار ڈالا۔ پھر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا، جب اس نے لاالہ الا اللہ کہہ دیا تھا تھا تو پھر تُو نے اس کو کیوں قتل کیا؟ میں نے عرض کی، یارسول اللہ! اس نے تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا۔ آپ نے فرمایا، کیا تُو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟‘‘ (بخاری، بحوالہ پیارے نبی کی پیاری باتیں، علامہ عالم فقری، شبیر برادرز، لاہور، ص:۸۴، ۱۹۹۳ء)
آپ ﷺ قرآن لے کر دشمن کی سرزمین میں جانے سے منع کرتے۔ آپ بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرماتے تھے۔ لڑائی کے دوران آپ جسے بالغ سمجھتے، اسے قتل کرتے اور جو بالغ نہ ہوتا، اسے قتل کرنے سے گریز کرتے۔ جب کوئی لشکر بھیجتے تو اسے اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتے اور فرماتے: ’’اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں جاؤ، کافروں سے جنگ کرو، مثلہ نہ کرو (یعنی حلیہ نہ بگاڑو)، بدعہدی نہ کرو، زیادتی نہ کرو اور بچوں کو قتل نہ کرو۔‘‘
(مختصر زاد المعاد، شیخ محمد بن عبد الوہاب، ترجمہ: سید احمد قمر الزمان ندوی، ص:۲۲۸)
جہاد اور عصرِ حاضر کے موضوع کے تحت میں نے اپنے اسائنمنٹ کا نتیجہ اور دورِ حاضر میں جاری جہاد پر مختصر سی گفتگو کی ہے۔۔۔
پورا اسائنمنٹ یہاں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


March 7, 2009 at 1:56 PM
کس سے لڑتے تھے بھائی؟
آپ کی اسائنمنٹس محفوظ کر لی ہیں۔ انشاء اللہ فرصت میں پڑھوں گا۔
[جواب لکھیں]
March 7, 2009 at 3:16 PM
سعادت!
بتانے کا شکریہ، صحیح کردیا ہے۔
وہ تھوڑا لاڈ پیار والے انداز میں توتلا پن آگیا تھا۔۔۔
[جواب لکھیں]
March 7, 2009 at 6:45 PM
اچھا لکھا ہے ۔ کسی بوڑھے سے مشورہ کر لیتے تو مزید زوردار ہو جاتا
افتخار اجمل بھوپال کے بلاگ سے آخری تحریر دبئی میں چند مساجد اور کشتی کی سیر
[جواب لکھیں]
March 8, 2009 at 8:03 PM
شاباش بھائی آج کل آپ کافی محنت کررہے ہیں۔
[جواب لکھیں]
March 13, 2009 at 3:26 PM
وہ تھوڑا لاڈ پیار والے انداز میں توتلا پن آگیا تھا
یہ لاڈ والا انداز کس کے لئے اپنایا گیا تھا؟
سارے اراکین کے نام اور ان کا اسائنمنٹ میںحصہ بتایا جائے
تاکہ شخصیت کے تجزئے میں آسانی ہو
اور مجھے لگتا ہے کہ آپ نے اسائنمنٹ کی جنس بدل دی ہے
اور اگر بدل دی ہے تو آپ کو تو اس کی اجازت ہے ہی
[جواب لکھیں]
March 13, 2009 at 5:45 PM
افتخار اجمل بھوپال!
صاحب! بوڑھے سے مشورہ کرنے سے اس موضوع پر کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے تھے؟
زین زیڈ ایف!
شکریہ چھوٹے بھائی۔
ڈفر!
اسائنمنٹ دیکھیں گے بھائی تو اندازہ ہوجائے گا کہ کس نے کیا لکھا ہے۔۔۔ اور اسائنمنٹ کی جنس کیوں بدل گئی؟ ہمارے ہاں اسائنمنٹ ہوتا ہے۔ آپ کے ہاں ہوتی ہے؟
ویسے مجھے وہ جملہ یاد آگیا کہ “سارے صوبوں میں وزیرِ اعلیٰ ہوتا ہے، سرحد میں وزیر اعلیٰ ہوتی ہے۔ (امیر حیدر خان “ہوتی”)
[جواب لکھیں]
July 8, 2009 at 11:31 AM
بہت اچھی ساءٹ ہے اس پہ اور کام کے کی ضرورت ہے
[جواب لکھیں]
July 8, 2009 at 11:34 AM
اسلام و علیکم پہت مزہ آیا اس میں مزید کام کی ضروت ہے
نوید الرحمن کراچی
[جواب لکھیں]
July 8, 2009 at 2:13 PM
وعلیکم السلام نوید. بلاگ پر خوش آمدید اور شکریہ.
[جواب لکھیں]