برابری؟
عورت، مرد پر ہاتھ اُٹھائے تو بہادر۔۔۔ مرد، عورت پر ہاتھ اُٹھائے تو بزدل۔۔۔؟
برابری؟
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


June 30, 2009 at 8:06 PM
شیر اگر بکری کو کھا لے تو کچح نہیں ہوتا۔ بکری اگر شیر کو کھالے توخبر۔
کیوں؟
عنیقہ ناز´s last blog ..سرمایہ اور ایجاد تمنا
[جواب لکھیں]
June 30, 2009 at 8:18 PM
tumain samjya b tha kay jamia main larkion say panga nahie layna ab aram hay
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 9:53 AM
[جواب لکھیں]
کاشفی نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 5:02 PM
[جواب لکھیں]
June 30, 2009 at 8:30 PM
عمار بھائی بہت عجب سوال ہے آپ کا ۔۔ آپ بھی نا ۔۔ !
پر ناجانے خواتین مرد حضرات کو شیر والی کیٹیگری میں کیو لیکر آتی ہیں !! مرد کوئی بہادر نہیں ہے جناب ۔ عمار بھائی کمزور پر ہاتھ اٹھانے والا بزدل سے بھی گرا ہوا ہوتا ہے ۔
عمار بھی سچھ بتائیں سب خیریت ہیں نا ؟
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 9:53 AM
آپ کمزور کس کو کہہ رہے ہیں؟
[جواب لکھیں]
DuFFeR - ڈفر نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 8:33 PM
اوئے ریحان: مرا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے تو بند مٹھی ڈیڑھ لاکھ کی ہوتی ہے
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..عقلمند کون؟
تندرستی ہزار نعمت ہے تو خاموشی لاکھ نعمت ہے
[جواب لکھیں]
July 1, 2009 at 8:22 AM
بیٹا عمار! اگر عورتیں برابری کی بات کرتی ہیں تو پھر میرے خیال میں مظلوم بن کر بھی نہیں دکھانا چاہیے، اینٹ کا جواب پتھر سے
ابوشامل´s last blog ..یہ کون سا فونٹ ہے؟
عنیقہ صاحبہ! کیا آپ عورتوں کو بکری ثابت کرنا چاہ رہی ہیں؟
[جواب لکھیں]
کاشفی نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 5:04 PM
عورتیں بکری۔۔ مرد بکرے
کاشفی´s last blog ..نیک اور بد
[جواب لکھیں]
July 1, 2009 at 9:38 AM
اس پوسٹ کا محرک، آپ کے ساتھ پیش آیا کوئی تازہ ترین حادثہ تو نہیں۔۔۔۔ ازقسم سینڈل، چپل۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
جعفر´s last blog ..عمر دا اصل حصہ
:mrgreen:
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 9:49 AM
اللہ نہ کرے جعفر! ایسا موقع نہیں آنے والا، ان شاء اللہ.
[جواب لکھیں]
July 1, 2009 at 9:48 AM
میں حتی الامکان کوشش کروں گا کہ اس موضوع پر تبصروں میں حصہ نہ لوں.
[جواب لکھیں]
عمر احمد بنگش نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 12:50 PM
وجہ
کوئی دھمکی تو موصول نہیں ہوئی
عمر احمد بنگش´s last blog ..قسط نمبر ۸: کشف المحجوب
[جواب لکھیں]
کاشفی نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 5:05 PM
[جواب لکھیں]
July 1, 2009 at 11:34 AM
حیرتی ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے ہے ۔
خیر، خبر تو دونوں ہی بری ہیں ہاتھ کوئی بھی کسی پر اٹھائے۔
مگر یہ سوال کیوں پیدا ہوا۔ ؟
م۔م۔مغل (ناطقہ)´s last blog ..I believe I can fly .. ایک خوبصورت گیت
[جواب لکھیں]
July 1, 2009 at 12:49 PM
یہ کیا بات ہوئی؟
بھیا خیال کرو کہ یہ پوسٹ پڑھ کر کہیں عورتیں اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کو تُل گئیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استغفراللہ ایسی بات سوچنی بھی نہیں چاہیے
عمر احمد بنگش´s last blog ..قسط نمبر ۸: کشف المحجوب
[جواب لکھیں]
کاشفی نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 5:08 PM
کاشفی´s last blog ..نیک اور بد
[جواب لکھیں]
DuFFeR - ڈفر نے جواب میں لکھا:
July 1st, 2009 بوقت 8:34 PM
جبکہ میرے خیال میں عورتیں منہ پھٹ ہوتی ہیں اور لڑکیاں نک چڑھی
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..عقلمند کون؟
[جواب لکھیں]
July 1, 2009 at 8:42 PM
میں نے کہا تھا نا بھاءی کے داخلے کا انتظام کر دو
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..عقلمند کون؟
کسی مائی کی کالی کی جرات نہیں ہونی تھی اس حرکت کی
اب بھگتو
[جواب لکھیں]
July 2, 2009 at 8:36 AM
اصل میں عورت کو مارنا ان مقدس رشتوں کی تذلیل ہے.
لالے کی جان´s last blog ..نہلے پہ دیہلا
[جواب لکھیں]
July 2, 2009 at 1:00 PM
ڈفر! کس سے کیا سننا چاہ رہے ہو؟
[جواب لکھیں]
July 3, 2009 at 7:41 PM
یہ تاثر تو عام ہے کہ مرد عورت پر ہاتھ اٹھائے تو بزدل کہلاتا ہے ۔ مگر یہ کبھی نہیں سنا کہ فلاں عورت نے ہاتھ اٹھایا تو بہادری کا ثبوت دیا ۔ اور عورت پر ہاتھ اٹھانا ۔۔۔ یہ رویہ صرف اذداوجی زندگی سے ہی متعلق ہے ۔ کسی غیر یا سرِ راہ چلتی ہوئی عورت پر ہاتھ اٹھا یا جائے تو سو ہاتھ خود پر ہی پڑیں گے ۔ عورت کو تو ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔
اور اگر یہ سوال اذداجی زندگی سے ہی متعلق ہے تو پھر مرد عورت پرہاتھ اٹھا کر جس بزدلی کا ثبوت دیتا ہے ۔ اسی طرح یہ حرکت عورت کے لیئے بھی بے شرمی سے تعبیر کی جائے گی ۔ لہذا مجھے سوال آدھا تیتر ، آدھا بیٹر لگ رہا ہے ۔ چھوٹے بھائی ذرا سوال کی تاریخ پر کچھ روشنی تو ڈالو ۔
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 4th, 2009 بوقت 9:50 AM
ظفری بھائی! آپ اس طرف کیسے راستہ بھول پڑے؟
سوال کی تاریخ پر کیا روشنی ڈالوں؟ ایک لمبی تاریخ ہے۔ ازدواجی زندگی سے متعلق آپ نے ٹھیک لکھا کہ جس طرح مرد، عورت پر ہاتھ اُٹھاکر بزدلی کا ثبوت دیتا ہے، اسی یہ حرکت عورت کے لیے بھی بے شرمی سے تعبیر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ازدواجی یا گھریلو زندگی سے باہر دیکھا جائے تو عورت پر مرد کے ہاتھ اُٹھانے کے واقعات شاذ شاذ ہی ملتے ہیں۔
[جواب لکھیں]
July 4, 2009 at 12:39 AM
یار عمار۔۔۔ مغل بھائی نے ٹھیک کہا، ہاتھ کوئی بھی اٹھائے تو غلط ہے۔ سوال کرنے کا مطمعِ نظر بتائو تو شاید ہم کسی رخ پر لے جا بھی سکیں گفتگو کو
محمد امین قریشی´s last blog ..موجودہ کراچی اورمصطفیٰ کمال
[جواب لکھیں]
July 4, 2009 at 9:56 AM
امین بھائی! بس یہی جواب چاہیے تھا کہ ہاتھ کوئی بھی اُٹھائے، غلط ہے۔ سوال کرنے کا مطمعِ نظر کچھ نہیں نہ ہی اس کا کوئی پس منظر ہے۔
[جواب لکھیں]
July 4, 2009 at 11:07 AM
بس چھوٹے بھائی ۔۔۔۔ سوچتا ہوں کہ بلاگز کی طرف اب توجہ دوں ۔ یار دوستوں کے بلاگز پر تبصرہ کروں ۔ اور پھر جو کچھ سیکھوں اس سے اپنے بلاگ کی ترتیب و زینت میں تبدیلیاں پیدا کرکے اس میں کشش پیدا کرنے کی کوشش کروں ۔
رہی بات راستہ بھولنے کی تو ۔۔۔ صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو پھر اسے رسوا ء نہیں کرتے ۔
قصہ مختصر کے اردو محفل کو خیر آباد کہہ دیا ہے اور جو وقت وہاں صرف ہوتا تھا وہ انشاٰ اللہ بلاگز کی دنیا میں اب وقف ہوگا ۔ جہاں اپنی بات ہوگی ۔ کوٰ ئی ڈکٹیٹر شپ کا مسئلہ نہیں ہوگا ۔ عقلمند کو اشارہ کافی ہے ۔
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 6th, 2009 بوقت 10:10 AM
اچھا اچھا۔۔۔ یہ وجہ ہے۔۔۔ میں سمجھ گیا۔ میں نے اردو محفل پر تھوڑی سی تلخ گفتگو دیکھی تھی۔ خیر، رات گئی، بات گئی۔
بلاگز کی دنیا میں واپسی پر آپ کو گرمجوشی کے ساتھ خوش آمدید۔ بلاگ کہاں کرنے کا ارادہ ہے؟ اردو ٹیک والے بلاگ پر؟
[جواب لکھیں]
July 7, 2009 at 9:27 AM
کيا ہو گيا ميرے بھائ خيريت تو ہے نا؟ ويسے مُجھے اُمّيد ہے اور پکّی بات ہے کہ مُنّے بھائ کے ساتھ کُچھ نہيں ہُوا ہوگا کيُونکہ عمّار سے کِسي غلط بات کي توقُع کم از کم ميں تو نہيں کر سکتي بس قاضی صاحب شہر کے دُکھوں کی وجہ سے مزيد دُبلے ہو رہے ہيں ويسے ہاتھ اُٹھانا کِسی بھی کمزور پر بُزدلی ہی ہے مرد اور عورت کی تخصيص نہيں ہے
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 7th, 2009 بوقت 3:58 PM
ہاہاہا… شکریہ آپی… یہ تو بالکل ٹھیک پہچانا آپ نے… میرے ساتھ خیر ایسا کیا ہونا تھا… آپ کے یہ قاضی صاحب والے جملے نے بہت ہنسایا.
[جواب لکھیں]
July 7, 2009 at 2:15 PM
شاہدہ بہن کی بات سے متفق ہوں
[جواب لکھیں]
July 12, 2009 at 10:03 PM
السلام علیکم عمار !
امید ہے خیریت سے ہوگے ۔ میں آج کل تقریباً سارے ہی احباب کے بلاگز پڑھ رہا ہوں مگر تحاریر میں جو تسلسل کی امید تھی وہ کسی بھی بلاگ میں منقود نظر آتی ہے جس کی میں امید کررہا تھا ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ تر احباب اپنی ذمہ داریوں اور دیگر مصروفیات میں الجھے ہوئے ہوتے ہونگے ۔ جس کی وجہ سے ایک تسلسل سے مسلسل تحریریں لکھنا بھی مشکل کام ہوتا ہوگا ۔ بہرحال لکھنا بھی ایک تخلیقی کام ہے اور اس کے لیئے فراغت کیساتھ ذہنی آسودگی بھی ضروری ہے ۔ بنیادی طور سے ہم سب پیشہ ور رائٹر نہیں ہیں ۔ اس لیئے پہلی ترجیح اپنی ذمہ داریاں ہوتیں ہیں ۔ اس کے بعد پھر اپنے اندر موجود تخلیقی عمل کو متحرک کرنے کا موقع ملتا ہوگا ۔
میں جانے کیوں یہاں یہ بات کہہ رہا ہوں مگر تم نے مجھ سے میرے بلاگ کی بابت پوچھا تو سوچا کہ اپنا یہ تاثر یہاں “پیش کردوں ۔ رہی میرے بلاگ کی بات تو میرا بلاگ اب بھی وہیں اردو ٹیک پر موجود ہے ۔ جیسے ہی سلسلہ مستقل ہوا میں اسے کہیں اور منتقل کرنے کا سوچوں گا بہرحال ابھی ایسے ہی چلنے دو۔ مجھے تمہاری رہنمائی کی بدستور ضرورت رہے گی ۔ شکریہ
[جواب لکھیں]
July 14, 2009 at 12:06 AM
iss liye k aurat apne bachao k akhri harbe k taur per hath uthati hai aur mard apni ghalati chupane k liye. niyat aur maqsad ka farq hai bhai,
[جواب لکھیں]