پیلی چھتری والی لڑکی. ایک منفرد افسانہ
برصغیر کی سیاست میں تقریباً ہمیشہ ہی فرقہ وارانہ پہلو کہیں نہ کہیں نمایاں ضرور رہا ہے۔ یہ فرقہ واریت کبھی لسانی رُخ اختیار کرلیتی ہے تو کبھی علاقائی، کبھی مذہبی تو کبھی ثقافتی۔ بیشتر مؤرخین بھی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایسے فرقہ وارانہ موضوعات پر اپنی جانبداری کا ثبوت دانستہ یا نادانستہ دے جاتے ہیں۔ برصغیر کی موجودہ سیاست، ذات پات، اونچ نیچ اور طبقاتی تقسیم کے عام فرد پر پڑتے اثرات اجاگر کرنے میں معروف مصنف اُدے پرکاش (نئی دلّی) کا افسانہ ’’پیلی چھتری والی لڑکی‘‘ موجودہ دور میں ایک مثبت اور حوصلہ افزا کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔
’’پیلی چھتری والی لڑکی‘‘ایک 23 سالہ لڑکے راہل کی سادہ سی داستانِ محبت ہے جس کی آڑ میں اُدے پرکاش نے سیاسی نظام کی خرابیوں، سرمایہ دارانہ نظام کی سازشوں، ذات پات کے جھگڑوں اور سیاست دانوں اور مجرموں کے درمیان قریبی تعلقات کو اُجاگر کیا ہے۔ نامیاتی کیمیا (Organic Chemistry) میں ایم ایس سی کرنے کے بعد راہل نے اپنے معاشرہ میں ایسی کیا چیز دیکھی جو اُسے اپنا مضمون بے کار لگنے لگا اور اُس پر بشریات (Anthropology) میں ماسٹرز کرنے کا بھوت سوار ہوا اور کیا وجہ تھی کہ بعد ازاں اُس نے یہ شعبہ چھوڑ کر ہندی کے شعبے میں داخلہ لے لیا جسے ناکام ترین طلبا کا مقام سمجھا جاتا تھا۔
اُدے پرکاش کے افسانے کے کردار غیر مرئی یا اچھوتے نہیں۔ وہ ہماری ہی دنیا کے عام افراد ہیں۔ اُن کی سوچ، اُن کے مطالبے، اُن کی خواہشات ہماری ہی طرح ہیں۔ اُن کے ساتھ بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ غیر محسوس طور پر سیاست سے ان کا کوئی نہ کوئی ربط ہو ہی جاتا ہے۔ وہ ہندو۔مسلم فسادات اور پاک۔ہند دشمنی کی حقیقت کھوجنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ افسانہ میں ایک مقام پر یہ مکالمے ہیں:
’’اسپانسرڈ نیشنل ازم! ہیمنت! مجھے یہ تو بتا، کبھی تُو نے کوئی ایسا نیشنل ازم دیکھا ہے جو صرف ایک ہی کنٹری (ملک) کے معاملے میں دِکھائی دیتا ہے؟‘‘ راہل نے پوچھا۔
’’مطلب؟‘‘ ہیمنت نے پوچھا۔
’’مطلب یہ کہ اس نیشنل ازم کے معاملے میں ہر بار اور ہمیشہ پاکستان ہی کیوں ہوتا ہے؟ کسی بھی دوسرے طاقت ور ملک کے سامنے، جنہوں نے ہمیں غلام بنایا، ہتھیاروں سے بھرے جہازی بیڑے اِس ملک کو ختم کرنے کے لیے بھیجے، جن کے عطا کردہ ہتھیاروں سے ہمارے اتنے سارے لوگ مرے۔۔۔ اُن کے سامنے نیشنل ازم کیوں پیدا نہیں ہوگا؟ ایک لمبی سی چاپلوس دُم کیوں مسلسل ہلتی نظر آتی ہے؟‘‘
راہل برانگیختہ تھا۔
اِس سے اگلی سطور مزید سوچنے پر مجبور کرتی ہیں:
وہ سوچ رہا تھا کہ پہلے کے سارے حوالے منسوخ ہوچکے ہیں اور کیا واقعی تاریخ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ یا پھر اس ملک کے حکمرانوں اور شہریوں کی یادداشت ہی برباد ہوچکی ہے۔ یا یہ دور ہی ایک بالکل بدلا ہوا دور ہے، یہ ایک نئی دنیا ہے۔ ایک نیا عالمی نظام اس میں ماضی کے سارے حوالے غیر مربوط ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہے تو ابھی پوکھرن میں بم پھوڑنے کے ساتھ اور کارگل یا کشمیر کے معاملے میں اِسی ماضی کی ’قوم پرستی‘ کو کیوں پیدا کیا گیا؟ کیا یہ سچ مچ کی قوم پرستی ہے یا ایک طرح کی گروہی نفرت؟ ایک متعین اِرادے سے جگائی گئی فرقہ وارانہ نفرت؟ اگر مان لیں کہ انگلینڈ اور امریکہ کے معاملے میں تاریخ کے سارے حوالے بدل چکے ہیں تو بابر یا اورنگ زیب کے زمانے کے معاملات کو کیوں بار بار جگایا جارہا ہے۔ اگر بابری مسجد ایک غلط ڈھانچا تھی تو لٹین کا بنوایا گیا وائسراے ہاؤس کیوں غلط نہیں ہے جس میں اس ملک کا صدر رہتا ہے؟ انڈیا گیٹ کیوں غلط نہیں ہے جہاں ابھی کچھ سال پہلے، آزادی کے پچاس سال پورے ہونے پر اے آر رحمٰن نے ’’ماں تجھے سلام‘‘ گایا تھا اور خوب جشن منایا گیا تھا۔ اگر دلّی کے اس ڈھانچے کو نہیں توڑا گیا تو ایودھیا کے اِس ڈھانچے کو کیوں توڑا گیا؟
افسانے میں جابجا سیاسی بحث ہونے کے باوجود قاری کہانی کے سحر میں گرفتار رہتا ہے۔ ایک طرف اگر قاری کی فکر کو جگایا جاتا ہے تو دوسری طرف راہل اور انجلی جوشی کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ
راہل نے تین کتابیں اِشو کرائیں۔ ’ہندی ساھتیہ کا اتہاس‘ مصنف رام چندر شکلا، ’انام داس کا پوتھا‘ مصنف ہزاری پرشاد دویدی اور نرالا کی ’رچنا ولی‘ کا پہلا حصہ جس میں اُن کی کویتا ’رام کی شکتی پوجا‘ موجود تھی۔ جب وہ لائبریری سے نکل کر ڈپارٹمنٹ کی طرف جارہا تھا تو ایک پل کو اُس نے سوچا، ایسا کیوں ہے کہ ان تینوں کتابوں کے مصنف برہمن ہیں۔
اور انجلی؟
وہ صوبے کے شعبۂ تعمیراتِ عامہ کے وزیر ایل اے جوشی کی بیٹی۔ وہ بھی تو؟ یہ کیسا تضاد ہے۔ جو ذات اُسے اور اُس کے جیسے بے شمار لوگوں کو مٹا ڈالنا چاہتی ہے، جس کی بداخلاقی، بے انصافی اور بدکرداری کی وجہ سے یہ سارا دور کراہ رہا ہے، اُسی ذات کے مصنفوں کی وہ کتابیں پڑھ ررہا ہے اور اُسی ذات کی ایک لڑکی اُس کے دل کی حیاتیاتی گھڑی میں ٹک ٹک، ٹک ٹک کے ساتھ ہر پل دھڑک رہی ہے۔
افسانہ ’’پیلی چھتری والی لڑکی‘‘ ہمیں سیاست دانوں اور مجرموں کے گٹھ جوڑ کی ایک جھلک دِکھاتا ہے کہ کس طرح ایک مخصوص طبقہ، غریب عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر خود عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اِس سماج میں جینے کا طریقہ؟ چاپلوسی اور خوشامد۔
اُدے پرکاش کا یہ افسانہ ہندی زبان سے حیدر جعفری سید نے اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے جو شہرزاد، کراچی سے 2002ء میں شائع ہوا۔ 166 صفحات کے اِس افسانے کی قیمت صرف 70 روپے ہے۔ اِس افسانے کا مطالعہ یقیناً آپ کے لیے بھی ایک دلچسپ تجربہ ثابت ہوگا۔
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


July 7, 2009 at 5:16 PM
بہت عمدہ ریویو لکھا ہے آپ نے۔۔۔

اقتباسات سے افسانہ بھی اچھا معلوم ہوتا ہے
لیکن کراچی آ کے خریدنے میں تو بہت رقم خرچ ہوجائے گی میری۔۔۔
کوئی لنک شنک دے دیتے ۔۔۔
جعفر´s last blog ..کریلا بینگن شیک
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 8th, 2009 بوقت 2:15 PM
شکریہ جعفر! آپ کہاں ہوتے ہیں؟ پاکستان میں ہیں تو کسی اچھے بُک ڈپو سے پتا کریں، امید ہے کہ مل جائے گی. لنک شنک کیا آن لائن پڑھنے کے لیے دیتا؟ یہ کتاب شاید آن لائن دستیاب نہیں ہوگی. میں اسے ضرور اردواتا لیکن حقوق محفوظ ہیں.
[جواب لکھیں]
جعفر نے جواب میں لکھا:
July 8th, 2009 بوقت 3:38 PM
یواےای میں۔۔۔
جعفر´s last blog ..کریلا بینگن شیک
[جواب لکھیں]
DuFFeR - ڈفر نے جواب میں لکھا:
July 9th, 2009 بوقت 1:09 AM
تم اردو کر دو اور میرے نام سے چھاپ دو
DuFFeR – ڈفر´s last blog ..فوج کرے موج
جملہ حقوق کی ایسی کی تیسی
[جواب لکھیں]
جعفر نے جواب میں لکھا:
July 9th, 2009 بوقت 9:54 AM
او جی او شیرا۔۔۔
جعفر´s last blog ..کریلا بینگن شیک
July 7, 2009 at 10:26 PM
بہت خوب اقتباس ہیں۔ یہاں امریکہ میں خرید کر اس افسانہ کو پڑھنا تو مشکل ہے لیکن اچھا محسوس ہوا اقتباس پڑھ کر۔
خرم´s last blog ..ذاتی جاگیر
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 8th, 2009 بوقت 2:17 PM
شکریہ خرم بھائی. اور ہاں، بلاگ پر خوش آمدید.
[جواب لکھیں]
July 8, 2009 at 9:54 AM
بہت شکریہ عمار اس خوبصورت ریویور کیلیے!
[جواب لکھیں]
عمار ابنِ ضیاء نے جواب میں لکھا:
July 8th, 2009 بوقت 2:17 PM
شکریہ وارث بھائی.
[جواب لکھیں]
July 8, 2009 at 8:43 PM
واقعی بہت اچھا ہے
بلو´s last blog ..لوگ کہتے ہیں
[جواب لکھیں]
July 9, 2009 at 9:24 PM
اپنی بلاگ رول میں میرے بلاگ کا ایڈریس ڈالو
قدیر احمد´s last blog ..عدلیہ آزاد ہے
[جواب لکھیں]
July 12, 2009 at 3:13 PM
بہت عمدہ ریویو لکھا ہے آپ نے
menat jari rakho meri tarah
واجد علی´s last blog ..sorry
[جواب لکھیں]
July 16, 2009 at 7:25 PM
یہ ناولٹ میں نے شاید چار سال پہلے پڑھا تھا اور سوچا تھا کہ کیا کوئ پاکستانی ادیب ایسی چیز لکھنے کی ہمت کر سکتا ہے۔ اگرچہ اسو قت پاکستانی اس سرکل میں جو کتابوں میں دلچسپی لیتا ہے اس کتاب کا خاصہ شہرہ اٹھا تھا اور ڈان میں اسپہ ریویو بھی آیا تھا لیکن میں کبھی کسی سے یہ نہیں کہ سکی کہ آپ ضرور پڑھئیے گا۔
عنیقہ ناز´s last blog ..مجھے اماں چاہئیں
[جواب لکھیں]
July 18, 2009 at 12:13 PM
عنیقہ ناز!
اسے پڑھ کر میں بھی سوچ رہا تھا کہ پاکستانی ادب میں کیا اس طرح کی کوئی چیز موجود ہے؟ اور یہ کسی کو پڑھنے کی دعوت نہ دینے کی وجہ؟
[جواب لکھیں]
July 19, 2009 at 11:04 AM
Bohat hi acha likha hei.. aise hi likhte raho ji
Wakas Mir´s last blog ..Staying away from manipulative people
[جواب لکھیں]
July 22, 2009 at 5:32 PM
وقاص! بہت شکریہ. آپ کے بلاگ پر تو آنے کا سوچتا ہی رہ جاتا ہوں. یا آتا بھی ہوں تو پڑھ کر چلا جاتا ہوں، مصروفیت کے سبب تبصرہ کر ہی نہیں پاتا اور آپ کا تبصرہ یہاں دیکھ کر شرمندہ ہوتا ہوں.
[جواب لکھیں]
July 23, 2009 at 11:55 PM
I tried to write in urdu but I messup, I will definitely read the novel and thanks for sharing it was very nice review.
awahid´s last blog ..Waziristan where Baitullah-mehsud [Taliban] was born
[جواب لکھیں]
July 25, 2009 at 2:26 PM
اواحد!
بلاگ پر خوش آمدید اور بہت شکریہ.
[جواب لکھیں]