حب الوطن

جشنِ آزادی قریب ہے. ہمارے ہاں علاقے میں دو کچھ زیادہ ہی محب الوطن پیدا ہوگئے ہیں. دونوں نے اعلا لاؤڈ اسپیکرز کی مدد سے ہر لمحہ اہلِ محلہ کے کان میں رس گھولنے کا انتظام کیا ہوا ہے. صرف نغمے ہی نہیں، انڈین گیت بھی چلتے رہتے ہیں اور کوئی کام سکون سے کرنے نہیں دیتے. میں ایک دن اپنے کمرے میں لیٹا دونوں طرف سے آنے والی آوازوں پر غور کررہا تھا. ایک طرف ہندوستانی فلمی گیت اور دوسری طرف پاکستانی قومی نغمہ، دونوں کا امتزاج عجیب و غریب صورت پیدا کررہا تھا. محلے کا سکون برباد ہوتا ہے تو ہوتا رہے، ان کو آپ لاکھ سمجھالیں، انہوں نے باز نہیں آنا کیوں کہ شاید ہم سب سے زیادہ جذبہِ حبُ الوطنی انہی میں جوش مار رہا ہے. :hunh:

آس پاس

اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔

تبصرے

”حب الوطن“ پر 8 تبصرے
  1. سعدیہ سحر نے لکھا:

    پاکستانی خاموش محبت کے قائل نہیں
    جب کوئ کام کریں چار لوگوں کو تو پتا چلنا چاہیے
    سعدیہ سحر ´s last blog ..اے میرے وطن

    [جواب لکھیں]

  2. یاسرعمران مرزا نے لکھا:

    کچھ لوگوں کو ھلا گلا کرنے کے لیے موقع درکار ہوتا ہے، تو پھر چاہے چشن آزادی ہو، چاہے بسنت انہوں نے یہ سب کرنا ہوتا ہے۔
    یاسرعمران مرزا´s last blog ..سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں میں آج شب برات

    [جواب لکھیں]

  3. میرا پاکستان نے لکھا:

    جناب ان کو منع کرنے کی کوشش بھی نہ کرنا کہیں توہین پاکستان یا پھر توہین قرآن کے چکر میں اپنی جان سے ہی نہ ہاتھ دھو بیٹھیں۔
    میرا پاکستان´s last blog ..مشرف کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

    [جواب لکھیں]

  4. جعفر نے لکھا:

    ابھی سے ہمت چھوڑ گئے آپ
    14 اگست کو سارا دن بغیر سائلنسر کے موٹر سائیکلوں کی موسیقی سے لطف اندوز ہونا تو باقی ہے !
    :-| جعفر´s last blog ..مُنّا سلانے کے آسان طریقے

    [جواب لکھیں]

  5. ظفری نے لکھا:

    کسی انسان میں شعور کی موجودگی ہی دراصل اس کی مقصدیت کا مظہر ہوتی ہے ۔ جب یہ شعور ناپید ہوجائے تو مقصدیت کا جواز بھی باقی نہیں رہتا ۔ اور جس انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ۔ اس کی زندگی اور حیوانوں کے طور طریقوں میں‌ کیا فرق رہ جاتا ہے ۔ ہمارا یہی المیہ ہے کہ ہم اپنی مقصدیت کھو چکے ہیں ۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہے کہ ہمارے وجود کا جواز کیا ہے ۔ لہذا اس طرح کے تمام طرزِ عمل جن میں اسے ایک رویے کا عمار نے تذکرہ کیا ۔ مقصدیت کے دائرے سے باہر ہے ۔ اب یہ طرزِ عمل اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے ظاہر کیا جائے ، یا مذہبی و سیاسی منبر پر چڑھ کر انجام دیا جائے یا حب الوطنی کی چادر میں‌لپیٹ کر اس کا پرچار کیا جائے ۔ سراسر جاہلت کے زمرے میں آئے گا ۔ اگر یہ رویہ اس طرح انجام دیا جاتا کہ ملک و قوم کی بقا اور ترقی کے لیئے کوئی سمینار ، کوئی فکری نشت ، کوئی یقین ِ محکم ، کوئی ارادہ ، کوئی حکمتِ عملی مرتب کی جاتی تو نہ صرف اس دن کی خوشی کی حقیقی روح بھی سمجھی جاتی ۔ بلکہ اپنی اور آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل کا بھی احاطہ کیا جاسکتا تھا ۔
    ظفری´s last blog ..چند حسینوں کے خطوط ، چند تصویرِ بُتاں ( گذشتہ سے پیوستہ )

    [جواب لکھیں]

  6. DuFFeR - ڈفر نے لکھا:

    برداشت میرے بھائی برداشت
    میرا پاکستان کی بات بالکل ٹھیک ہے
    اس سے زیر زبر بھی ادھر اُدھر ہوئے تو تم گئے کام سے

    [جواب لکھیں]

  7. عمار ابنِ ضیاء نے لکھا:

    سعدیہ سحر!
    یہ کیسی محبت ہے :sad:

    یاسر عمران مرزا!
    ہلا گلا دوسری اقوام بھی تو کرتی ہی ہیں. ہم کیوں ہمیشہ غلط راہ اپناتے ہیں؟

    میرا پاکستان!
    کچھ احباب ان لوگوں کو پچھلے سال سمجھانے کی کوشش کی تھی جس کے جواب میں انہیں دھمکیاں ملی تھیں کیوں کہ اُن پر پیر صاحب لندن والے کا سایہ ہے. :devil:

    جعفر!
    جی جی اور کیا…

    ظفری!
    آپ کے تجزیے کی تو خیر کیا بات ہے. :)

    ڈفر!
    بڑا تجربہ ہے بھئی. :)

    [جواب لکھیں]

  8. سعود نے لکھا:

    پیر صاحب لندن والے :hmm: ؟؟؟؟؟

    [جواب لکھیں]




اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں



CommentLuv مجاز ہے۔