جامعہ نامہ. 12
آج کل دن بھر دھوپ کی شدت اس قدر ہوتی ہے کہ کمرے میں ایئرکنڈیشن یا پنکھے کے نیچے بیٹھنے والے اندازہ نہیں کرسکتے۔ جامعہ کے کلیہ فنون کی عمارت سے نکل کر بس اسٹاپ (سلور جوبلی گیٹ) تک اور صدر دواخانے سے ریگل چوک تک پیدل مارچ کرنے میں تیل نکل جاتا ہے اور سر درد کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح رات نیند پوری نہ ہونے کے سبب صبح سات بجے اُٹھ کر جامعہ کے لیے تیار ہونے میں بے حد سستی آتی ہے لیکن عید کے بعد سے باقاعدگی کے ساتھ جارہا ہوں کیوں کہ ماہِ رمضان میں کافی چھٹیاں کرڈالی تھیں۔ ان دنوں میقاتِ دوم (2nd Semister) کے مِڈ ٹرم امتحانات ہورہے ہیں۔ اب آخری پرچہ صرف انگریزی کا رہتا ہے جو آنے والی بدھ کو ہے۔
اس بار دیگر اسائنمنٹس میں صرف اُردو کا اسائنمنٹ ہی کچھ قابلِ ذکر بناسکا جس کا موضوع ’’مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری‘‘ تھا۔ یہ اسائنمنٹ آن لائن مطالعے کے لیے جلد پیش کروں گا ان شاء اللہ۔ عمرانیات اور تعلیم کے اسائنمنٹس بس بھرتی کے تھے۔ میں نے ان پر زیادہ کام نہیں کیا۔ ہاں، اب ’’سیاسیات‘‘ (Political Science) کا اسائنمنٹ ملا ہے جو ذیل کے تین موضوعات میں سے کسی ایک پر بنانا ہے:
1۔ کیا پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟
2۔ پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار
3۔ بلیک واٹر۔ پاکستان کو دھمکی؟
آپ لوگ مشورہ تو دیں کہ کس موضوع پر بنایا جاے اور کیا کچھ مطالعے میں شامل کیا جاے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو تجربہ حاصل ہوتا ہے، اگر آنکھیں کھلی رکھی جائیں تو مشاہدہ وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جامعہ میں آنے کے بعد بہت کچھ ایسا جاننے، دیکھنے اور بھگتنے کو ملا جو پہلے کبھی سوچا نہیں تھا۔ کچھ لڑکیوں کی طرف سے پروپوزل بھی آگئے
ایک سے میری بات چیت بہت محدود اور دوستی کی حد تک تھی، ان کی جانب سے بہت جلد پسندیدگی کا اظہار ہوا جس نے مجھے تھوڑا بوکھلا بھی دیا کیوں کہ مجھے ایسی کوئی توقع نہیں تھی۔ شروع میں تو میں نے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ میرے لیے آپ کے ساتھ رشتہ بالکل اس نوعیت کا نہیں۔ پھر میں نے اُن کو یہ سمجھایا کہ میرے حقوق پہلے سے محفوظ کرلیے گئے ہیں۔
اس کے باوجود وہ موصوفہ سمجھ نہ سکیں اور اب تک سمجھ نہیں پائیں۔ ان سے بارہا اس طرح کے مکالمے ہوے:
س: آپ چاہتی کیا ہو؟
ج: آپ کی مسز بننا۔
س: آپ کو پتا بھی ہے نا کہ میری منگنی ہوچکی ہے؟
ج: میں جو چاہتی ہوں، میں نے بتادیا۔
س: میں کیا کروں اس معاملے میں؟
ج: جو آپ چاہیں، وہ کریں!
اففف۔۔۔!! ایک واقعہ ہے، نجانے یہاں لکھنا مناسب ہوگا یا نہیں۔ میں نے ایک لڑکی کے پاس سے کتاب اُٹھائی۔ ضخیم تھی، اور اس کی ضخامت (یعنی موٹائی) پر قلم سے کچھ لکھا ہوا تھا جس طرح عموماً بچے لکھ دیتے ہیں۔ لڑکی کا نام ’’عظمیٰ‘‘ فرض کرلیں۔ اس کتاب پر لکھا تھا: ’’عظمیٰ پاگل کالی ہے‘‘۔ میں نے پوچھا، یہ کس نے لکھا؟ اُس نے فوراً میرے ہاتھ سے کتاب چھین لی۔ میں نے پھر پوچھا تو بولی، ’’یہ امّی ہیں نا بس۔۔۔‘‘ میں بے حد حیران ہوا، ’’یہ امی نے لکھا ہے؟‘‘ بولی، ’’ہاں، وہ بھانجا آیا ہوا تھا تو کتاب چھیڑ رہا تھا۔ میں نے اس سے بچانے کے لیے امی کو پکڑادی تو انہوں نے یہ لکھ دیا۔‘‘ مجھے حیرانگی کے ساتھ دُکھ بھی ہوا، پتا نہیں کیوں۔
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


October 2, 2009 at 8:51 PM
جن بی بی نے آپ سے اظہار محبت کیا، ان کے حوصلے اور ظرف کے ہم قائل ہو گئے ہیں۔
پیدا ہیں کہاں اب ایسے پراگندہ طبیعت لوگ
خرم´s last blog ..بھیڑئیے
[جواب لکھیں]
October 2, 2009 at 8:58 PM
آداب بھائي
ميرے خيال ميں تو بليک واٹر پر ہی بنا ليں اسائنمنٹ بلکہ کڑاکے دار سی ريسرچ بھی کر ڈ اليں اس پر مگر گروپ فارم ميں اور يونيورسٹی جانے سے پہلے بھلا منگنی کرانے کی کيا ضرورت تھی گھر والے بھی بس ميں انکو کيا کہوں آزادی تو دی ہے پر ہاتھ پاؤں باندھ کر اور عظمی پاگل کالی ہے پر مجھے بھی افسوس ہو رہا ہے پتہ نہيں کيوں؟ ميری مانيں تو منگيتر اور عاشق لڑکی دونوں سے پيچھا چھڑا ليں عظمی بہتر رہے گی
[جواب لکھیں]
October 2, 2009 at 11:04 PM
یعنی واقعی آپ نے جامعہ میں میقات دوم پورا گزار لیا۔۔ (:
[جواب لکھیں]
October 2, 2009 at 11:31 PM
عمار، یہ کراچی یونیورسٹی میں بھاگنے کا کام بہت تھکا دیتا ہے۔ میں نے آنرز میں ایڈمشن لیا تھا۔ لازمی مضمون کی کلاس شعبہ ء فنون میں ہوتی تھی اور سائینس کے مضامین کے لئے سائینس فیکلٹی کی طرف دوڑ لگانی پڑتی تھی۔ اور واقعتاً ہم دوڑتے ہوئے جاتے تھے۔ سائینس فیکلٹی سے سلور جوبلی دور بھی ہے تو پیدل چلنے کی ایسی عادت پڑی کہ اب پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اچھا اب کام کی بات۔ میراخیال ہے کہ پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار خاصہ دلچسپ رہے گا ور اس پر خاصہ مواد بھی آسان سے مل جائیگا۔ اس وقت اس پہ بحث بھی خاصی ہو رہی ہے۔ مختلف فوجی حکمرانوں کی خود نوشت موجود ہیں۔ اور بہت سا لٹریچر اس پہ مل جائیگا۔ فی الفور جو ایک کتاب مجھے یاد آرہی ہے وہ شجاع نواز کی کراسڈ سورڈز ہے۔
میں ٹی وی پر ثمینہ پیر زادہ کا انٹرویو دیکھ رہی تھی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کو خود پروپوز کیا تھا۔ ہمارے معاشرے میں معلوم نہیں کیوں اس چیز کو اچھا تصور نہیں کی جاتا لیکن میرے خیال سے پروپوز کرنا اظہار محبت کرنے سے زیادہ بہتر چیز ہے۔ پروپوز کرنے میں پختگی جھلکتی ہے جبکہ اظہار محبت نجانے کیوں مجھے ہمیشہ کافی فلمی لگتا ہے۔ لیکن انکار ہونے کے بعد اچھی اسپورٹسمین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تذکرے کو ختم کر دینا چاہئیے۔
عنیقہ ناز´s last blog ..ایمو شنل کوشنٹ اور ایک سوالنامہ
[جواب لکھیں]
October 3, 2009 at 1:03 AM
السلام علیکم
کیسے ہیں آپ عمار بھائی ؟
اپنا خیال رکھنا اور بچ کے رہنا
[جواب لکھیں]
October 3, 2009 at 2:09 AM
[جواب لکھیں]
October 3, 2009 at 4:33 PM
اسماء، یہ بات تو قابل غور ہے کہ یہ یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے کیا ضرورت تھی منگنی کروانے کی۔ کہیں عمارنے منگنی کی خبر ایسے ہی تو نہیں اڑادی ہے۔ ایسی منگنیاں بڑی دیکھی ہیں یونیورسٹی میں۔ اسماء آپکو پتہ ہے کراچی یونیورسٹی میں اس وقت تقریباً اسی فیصد لڑکیان موجود ہیں۔ اور اندھوں میں کانا راجا یہ بھی سناہو گا آپ نے۔

عمار یہ سب آپ نے تو نہیں پڑھا ناں۔ یہ ہم لوگوں کی انتہائ سیکرٹ گفتگو تھی۔
عنیقہ ناز´s last blog ..پھول نگر کے کانٹے
[جواب لکھیں]
October 3, 2009 at 5:31 PM
اسی فیصد لڑکیاں؟؟ یہ صحیح ہے کیا؟ پھر تو لڑکوں کو اعلی تعلیم کے حصول کی طرف راغب کرنے کے لءے اس کی تشہیر کرنا چاہئے.
کوشش کرکے جامعہ نامہ کے لءے ضرور وقت نکالا کرو.
[جواب لکھیں]
October 3, 2009 at 7:44 PM
عنيقہ ناز نے جو اسی فيصد والی بات بتائی ہے اب عبداللہ کے طرز پر کہ ُجو بات يہ نہيں کہہ سکتے وہ ميں کہہ کر انکا کام آسان کر ديتا ہوں` ، اب ميں ہی کہہ ديتی ہوں کہ کيوں نہ بلاگرز کي عيد ملن پارٹی يونيورسٹی ميں ہی رکھ لی جائے پھر ديکھيے گا بلاگر کہاں کہاں سے پہنچتے ہيں کچھ ہمارے بھائی تو اے سی والے کمرے ميں ٹھنڈی آئيں بھرتے رہتے ہيں انکی بيرون ملک سے شرکت يقينی ہو جائے گی
[جواب لکھیں]
October 3, 2009 at 9:18 PM
میراخیال ہے کہ کالا پانی “بلیک واٹر” صیح رہے گا ور اس پر خاصہ مواد بھی آسان سے مل جائیگا۔ اس وقت اس پہ بحث بھی خاصی ہو رہی ہے۔
[جواب لکھیں]
October 3, 2009 at 11:30 PM
پچھلے دو سالون کا مجھے علم نہیں۔ لیکن اس سے پہلے ہم حیران ہوتے تھے کہ جماعت اسلامی والے کیوں خواتین کی علیحدہ یونیورسٹی چاہتے ہیں۔ جامعہ کراچی تو چند سالوں میں خود ہی خواتین کی یونیورسٹی بن جائے گی۔ میری کلاس میں ایک سو بیس اسٹوڈنٹس میں پچیس لڑکے تھے۔ جن میں سے کلاس مین بمشکل پندرہ ہی ہوتے تھے۔ باسٹھ اسٹوڈنٹس میں پندرہ لڑکے۔ یہ تو اس مضمون کا حال ہے جس میں اچھے زمانے میں لڑکیان چالیس فی صد اور لڑکے ساٹھ فی صد ہوتے تھے۔ وہ مضامین جن میں لڑکیان زیادہ ہوتی تھیں جیسے مائیکرو بیالوجی اور بائیو کیمسٹری انکا تو کیا ہی حال ہے۔ سوال ہم بھی اٹھاتے تھے اور یہ سن کر باقی لوگ بھی سوچتے ہیں کہ لڑکے کیا کر رہے ہیں۔ میرے شوہر موصوف انجینیئیر ہیں۔ ابھی دو دن پہلے انکے کلاس فیلوز اور ہم سب باتیں کر رہے تھے کہ انیس سو نوے کے اوئل میں انکے سیکشن میں سو لڑکے اورچھ لڑکیاں تھیں۔ اب ایکدن آپ این ای ڈی یونیورسٹی کے باہر صبح کھڑے ہو کر دیکھیں کتنی لڑکیاں ہیں۔ آخر لڑکے کیا کر رہے ہیں، آخر لڑکے کہاں ہیں؟
عنیقہ ناز´s last blog ..پھول نگر کے کانٹے
[جواب لکھیں]
October 5, 2009 at 8:56 AM
“پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار” اچھا موضوع ہے، اس پر کافی کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
ابوشامل´s last blog ..مجرد مذہب اور دین میں فرق
[جواب لکھیں]
October 6, 2009 at 6:45 PM
خرم!
میں اور بھی کافی بیبیوں کے حوصلے کا قائل ہوچکا ہوں… اُن کے سامنے یہ بھی کچھ نہیں.
اسما، پیرس!
اور یہ عظمیٰ سے شادی کا مشورہ؟؟؟
ابھی ایسا وقت نہیں آیا.
بس کیا کہیں جی… والدین کو بچے کے بگڑنے کا خاصا ڈر تھا. اب تو سر پر تلوار لٹکادی ہے نا
راشد کامران!
میقاتِ دوم مکمل ہوا تو نہیں، دسمبر تک ہونے کو ہے الحمدللہ.
عنیقہ ناز!
یہ دوڑیں لگنے والی بات آپ نے بالکل ٹھیک کہی. ماشاء اللہ اتنی بڑی جامعہ ہے کہ ذرا سے کام کے لیے بھی اچھا خاصا چلنا پڑجاتا ہے. اور ان دنوں تو جو دھوپ کی شدت ہوتی ہے نا، اس میں ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں. اسائنمنٹ کے موضوع پر مشورہ دینے کا شکریہ. 15 اکتوبر آخری تاریخ ہے اور ابھی کچھ دن تک مجھے اسائنمنٹ پر کام کرنے کی بالکل بھی فرصت نہیں.
زین!
خیال رکھنے والے ماشاء اللہ دوسرے اتنے زیادہ ہیں کہ مجھے ضرورت نہیں پڑتی.
وعلیکم السلام میرے بھائی. کیسا ہوں میں، یہ تحریر حال نہیں بتارہی میرا؟
عنیقہ ناز!
اوووپس… سوری، میں نے آپ کی سیکرٹ گفتگو پڑھ لی… پہلے بتانا تھا نا
نعمان!
واقعی ستر سے اسی فیصد لڑکیاں ہی زیرِ تعلیم ہیں. اس کا ذکر میں نے بھی پہلے کسی ایک تحریر میں کیا تھا. ہماری ایک ٹیچر بارہا کہہ چکی ہیں کہ جو صورتِ حال نظر آرہی ہے، اس کے مطابق آنے والے چند سالوں میں جامعہ کراچی صرف لڑکیوں کی جامعہ بن کر رہ جاے گی.
اسما، پیرس!
وہاں بلاگرز کی عید ملن رکھ لی تو نقصِ امن کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے.
فرحان دانش!
بہت شکریہ.
عنیقہ ناز!
لڑکوں کی عدم موجودگی اور لڑکیوں کی کثرت والی بات پر سو فیصد متفق، واقعی یہی حقیقت ہے. ہماری جماعت میں صرف پانچ لڑکے ہیں، 24 لڑکیاں. اور سال دوم کی جماعت میں اس وقت صرف دو لڑکے ہیں، باقی سب لڑکیاں.
ابوشامل!
بہت شکریہ جناب. دیکھتا ہوں اب کہ کس پر لکھا جاتا ہے.
[جواب لکھیں]
October 6, 2009 at 8:50 PM
phir jaldi say mujhay admission form lay ker bhejo agar tumko chand bibiya offer mar sakti hai to mujhay aik adhi andhi to maray ge na
btw yeh urdu editor kissi sorat kaam nai fermata isko theek kero
[جواب لکھیں]
October 28, 2009 at 5:57 AM
یار یہ جو سوال جواب لکھے ہیں ،،، اس لڑکی نے جواب بڑے کمال کے دیے ہیں ،،، آخری سوال سے پتا چلتا ہے کہ عورتوں کو بھی شوہر “شیر” کرنے میں مسلہ نہیں لوگ ایسے ہی دوسری شادی کو پتا نہہں کیا کہہ جاتے ہیں
[جواب لکھیں]