جامعہ نامہ. 13

اس ہفتے جامعہ کراچی میں ’’ہفتۂِ طلبا‘‘ منایا جارہا ہے۔ ہمارے شعبے کے مشیرِ امورِ طلبا کی سستی کہیے یا طلبا کی عدم دل چسپی، اب تک ہمارے شعبے میں کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔ ہفتۂِ طلبا میں دن گیارہ بجے کے بعد تدریسی عمل ختم ہوجاتا ہے اور ہر شعبے اپنی مرضی سے ہر دن یا چند مخصوص دن کوئی تقریب رکھتا ہے جیسے مقابلۂِ قراٴت و نعت، نمائش، کوئز پروگرام، وغیرہ۔ ہمارے شعبے میں ہر طالبِ علم سے 150 روپے مانگے گئے۔ میری تجویز تھی کہ پچاس روپے یا زیادہ سے زیادہ سو روپے فی طالب علم لیے جائیں۔ شعبے میں تین سو سے زائد طلبا ہیں، اگر دو سو طلبا سے بھی پچاس روپے مل جائیں تو دس ہزار روپے ہوجائیں گے جب کہ ہمارے خرچے کا تخمینہ اب پانچ ہزار سے زیادہ کا نہیں۔ لیکن اساتذہ سنتے نہیں۔ دو ہی تو پروگرام ہیں، میلاد اور نمائش/ میلہ۔ بھلا اس میں کتنا خرچ ہوجانا ہے۔ میں نے تو اپنے ہم جماعتوں کو تسلی دی ہے کہ فکر نہ کرنا، پیسوں کا حساب دوں گا۔ کیوں کہ چار سال تک مجھے ہی ان سے ہر موقع پر پیسے مانگنے ہوں گے۔۔۔ طے کیا تھا کہ شعبے میں ایسے کسی دن کچھ نہیں رکھیں گے جس دن کسی طلبا تنظیم کی طرف سے جامعہ میں کوئی پروگرام رکھا جاے کیوں کہ طلبا کی اکثریت وہیں چلی جاتی ہے اور شعبہ سنسان پڑا رہتا ہے۔ ہفتۂِ طلبا کے ابتدائی دو دن یعنی سوموار اور منگل خالی گزار دیے، اب کل یعنی بدھ، 14؍اکتوبر کو نمائش/ میلہ رکھا ہے جب کہ کل اور پرسوں اے پی ایم ایس او کی جانب سے میلہ لگایا جارہا ہے۔ اب ہمارا پروگرام فلاپ ہی ہونا ہے۔ اللہ مالک ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

اللہ جانے، اور کیا سوچا تھا جامعہ نامہ میں لکھنے کے لیے۔۔۔اب یاد نہیں آرہا۔

متفرقات

اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔

تبصرے

”جامعہ نامہ. 13“ پر 5 تبصرے
  1. خرم نے لکھا:

    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
    انشاء اللہ آپ کا پروگرام بھی کامیاب ہوگا۔ بھائی جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ اگر آپ کا میلہ اچھا ہے تو اسے کسی دوسرے پروگرام سے فرق نہیں پڑنے کا۔ حوصلہ بلند رکھئے۔ chxmx
    خرم´s last blog ..مفروضے اور حقائق

    [جواب لکھیں]

  2. افتخار اجمل بھوپال نے لکھا:

    گویا جامعہ کی کارگذاری چھُٹی کے وقت آپ کی یاد داشت ساتھ لے کر چلی گئی اور آپ کو گھر پہنچ کر پتہ چلا
    افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..پتھر دل سفّاک

    [جواب لکھیں]

  3. یاسرعمران مرزا نے لکھا:

    بڑے چالاک اساتذہ ہیں آپ کے، چلیں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ :D

    [جواب لکھیں]

  4. عنیقہ ناز نے لکھا:

    یہ تو میں پہلی دفعہ سن رہی ہوں کہ جامعہ میں ایسی سرگرمیوں کے لئےیھی پیسے مانگے جا رہے ہیں۔۔ گئے وہ دن کہ جب جامعہ اور اسکول میں فرق ہوا کرتا تھا۔ ہم نے سوائے ان پکنکس کے جو ہم جماعتوں نے ارینج کی یا پاکستان ٹور کے کسی چیز کے لئیے پیسے نہیں دئیے۔وقت کتنی تیزی سے سفر کر رہا ہے۔ ابھی تو ہمارے بچوں کو بڑا ہونے میں وقت ہے۔ چہ چہ
    عنیقہ ناز´s last blog ..جوتوں کے بھوت

    [جواب لکھیں]

  5. فرحان دانش نے لکھا:

    عنیقہ ناز باجی پاکستان میں سرکاری اداروں میں تونہیں البتہ ہرپرائیوٹ اداروں میں پیسے کی لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔

    [جواب لکھیں]




اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں



CommentLuv مجاز ہے۔