مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری

خاکہ وہ تحریر ہے جس میں خاکہ نگار کسی انسان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کرے کہ وہ شخصیت قاری کو ایک زندہ شکل میں نظر آئے اور خاکہ نگار نے اس انسان کی زندگی کا جس قدر مشاہدہ کیا ہو، غیر جانب داری سے اس سے متعلقہ حالات و واقعات کو قاری کے مطالعہ میں لے آئے۔

شخصیت نگاری کی تاریخ نئی نہیں ہے۔ البتہ زمانۂ قدیم میں یہ فن صرف بادشاہوں، نوابوں، راجاؤں یا مذہبی شخصیات کے حالاتِ زندگی لکھنے تک محدود تھا۔ یہ حالاتِ زندگی سوانحِ عمری کی صورت رقم کیے جاتے اور ان میں کئی جگہ لکھنے والے کی جانب داری نمایاں ہوتی کیوں کہ ایسی تحاریر عموماً کسی خاص مقصد کے تحت لکھی جاتیں یعنی مصنف کا مطمحِ نظر کسی شخصیت سے عقیدت یا لگاؤ کے سبب اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا رنجش و عداوت کے سبب اس پر الزام تراشی اور اس کی کردار کُشی کرنا ہوتا تھا۔ ایسی سوانحِ عمریوں کے مقابلے میں بہرحال خاکہ نگاری ایک نئی صنف ہے۔

ڈاکٹر جمیل جالبی (پ۱۹۲۹ء) لکھتے ہیں:
اردو ادب میں خاکہ، مختصر افسانہ کی طرح، ایک نئی صنف ہے۔ اس سے پہلے ہمیں طویل سوانح عمریاں تو ملتی ہیں لیکن اُن کی حیثیت عام طور پر ادبی کم اور تاریخی زیادہ ہے۔غاؔلب کے فوراً بعد کے دور میں سوانح نگاری نے ایک خاص اہمیت حاصل کرلی اور حاؔلی کی یادگارِ غالب، حیاتِ سعدی، حیاتِ جاوید، شبلیؔ کی حیاتِ ابوحنیفہ، المامون اور الفاروق وغیرہ سامنے آئیں۔ یہ چیزیں مستقل تصانیف ہیں اور ان میں کسی ایک شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ہر زاویۂ نظر سے دیکھا اور دکھایا گیا ہے۔ ان میں تاریخی اہمیت زیادہ اور کردار نگاری کا عنصر کم ہے۔

مرزا فرحت اللہ بیگ ۱۵؍اگست ۱۸۸۵ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حشمت بیگ تھا۔ ان کے آبا و اجداد شاہ عالم ثانی کے دورِ حکومت میں ۱۸ویں صدی کے آخر میں ہجرت کرکے دہلی پہنچے اور فوج کی ملازمت اختیار کی۔ فرحت نے ابتدا میں مرزا الم نشرح کے قلمی نام سے لکھا۔ عظمت اللہ خاں ان کی تحریروں کی تعریف کرتے اور زور دیتے کہ کوئی زوردار مضمون لکھیے۔ اسی اصرار کے نتیجے میں فرحت اللہ نے مولوی نذیر احمد پر اپنا معرکہ آرا خاکہ لکھا جو کہ آپ کے اصل نام سے چھپا۔ اس مضمون سے اُردو دنیا میں اُن کی دھوم مچ گئی اور وہ یکایک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ فرحت اللہ بیگ نے ۱۹۴۷ء میں وفات پائی۔

خاکہ نگاری اور مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری کے حوالے سے میرا اسائنمنٹ آن.لائن پڑھیں.

جامعہ نامہ, کتب خانہ

اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔

تبصرے

”مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری“ پر 5 تبصرے
  1. خرم نے لکھا:

    پکوان کی تعریف تو بہت کی لیکن چکھائے بغیر ہی بھاگ لئے :roll:

    [جواب لکھیں]

  2. ابوشامل نے لکھا:

    تمہارا اسائنمنٹ ڈاؤنلوڈ کر لیا ہے۔ پڑھنے کے بعد رائے پیش کردوں گا۔

    [جواب لکھیں]

  3. محمد سعد نے لکھا:

    السلام علیکم۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کی وفات ۱۹۴۷ء میں کیا پاکستان بننے سے پہلے ہوئی تھی یا بعد میں؟

    [جواب لکھیں]

  4. عمار ابنِ ضیاء نے لکھا:

    محمد سعد!
    وعلیکم السلام. مرزا فرحت اللہ بیگ کا 27 اپریل 1947ء کو حیدرآباد دکن، انڈیا میں انتقال ہوا.

    [جواب لکھیں]

  5. شازل نے لکھا:

    خاکہ نویسی سے مجھے زیادہ تر تب آگاہی حاصل ہوئی جب شاید علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پورا ایک چیپڑر اس حوالے سے پڑھا،
    گنجے فرشتے سوانحی خاکوں پر مشتمل ایک مشہور کتا ب ہے

    [جواب لکھیں]




اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں



CommentLuv مجاز ہے۔