منہ کالا

بہ حوالہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی، جمعہ 16 اکتوبر 2009ء، ص:9
اب اِس بے چارے کو دیکھو، خود تو عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے لیکن دوسروں کو قید سے رہا کرانے کا دعوے دار بنا بیٹھا ہے۔
اور یہ معصوم قیدی۔۔۔ اتنی سمجھ بوجھ سے کام نہیں لیا کہ یہ بابا جو خود قید میں بیٹھا ہے، وہ اپنے تعویذ سے پہلے اپنے آپ کو رہا کیوں نہیں کروادیتا؟ عقل کے اندھے!
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


October 27, 2009 at 6:18 PM
سلام علیکم
یہ تو اچھا ہوا پہلی ناکامی پر ہوش آگیا، ورنہ لوگ تو بار بار ان کے جال میں پہنستے رہتے ہیں، لیکن ہوش نہیں آتا.
جب تک ہمارے معاشرے سے جہالت ختم نہیں ہوگی، یہ سب ہوتا رہے گا.
شکریہ
[جواب لکھیں]
October 27, 2009 at 8:30 PM
انسان ہے نا، سوشل جانور۔
[جواب لکھیں]
October 27, 2009 at 9:00 PM
ناج نہ جانے آنگن ٹیرا
[جواب لکھیں]
October 28, 2009 at 5:43 AM
مبارک ہو یار ،،، چلو کہیں تو کچھ ہوا ،،،
[جواب لکھیں]
October 28, 2009 at 10:00 AM
[جواب لکھیں]
October 30, 2009 at 3:26 PM
چلیے کسی کو تو عقل آئی ورنہ تو ہمارے ہاں لوگ اس قدر خوش عقیدہ ہوتے ہیں کہ بس .
[جواب لکھیں]
November 3, 2009 at 3:51 AM
ہاہاہاہا..واقعی خود جیل میں..اور دوسروں کو رہائی دلوا رہا ہے.
[جواب لکھیں]
November 16, 2009 at 5:08 PM
جعلی پیر
دوبارہ مت کہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[جواب لکھیں]