اب نہ کریں گے
سوچا ہے کہ اُمیدِ وفا اب نہ کریں گے
تم لاکھ ستاؤ بھی، گِلا اب نہ کریں گے
تکلیف جو ہوتی ہے مِرے دل کو تو ہووے
تم جیسے مسیحا سے دوا اب نہ کریں گے
قسمیں بھی اُٹھاؤ تو نہ آئے گا یقیں اب
تم کہتے ہی رہتے ہو جفا اب نہ کریں گے
دیکھے ہیں تمہارے یہ ڈرامے بھی بہت بار
’’غلطی ہوئی، تم دے دو سزا، اب نہ کریں گے‘‘
ہر بار رُلاتے ہو مجھے، جانتے ہو نا؟
ہر بار ہی کہتے ہو خفا اب نہ کریں گے
عمار! مبارک ہمیں تنہائی ہماری
ہم ان سے محبت کی خطا اب نہ کریں گے
اگر آپ تحریر پڑھنے کی زحمت فرماچکے ہیں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں یا فیڈ کے لیے سبسکرائب کریں اور مستقبل میں آنے والی تحاریر سے باخبر رہیں۔


March 13, 2010 at 6:28 PM
بہت خوب! کیا کہنے !
خوش رہیے۔
محمد احمد کے بلاگ سے آخری تحریر۔۔۔ غزل
[جواب لکھیں]