<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia &#187; جامعہ نامہ</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/category/jamiah-namah/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Thu, 02 Sep 2010 13:57:40 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>نظریۂ دورِ ترغیب</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 24 Aug 2010 10:01:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[Ammar]]></category>
		<category><![CDATA[Ammar's Theory of Motivation Cycle]]></category>
		<category><![CDATA[Cycle]]></category>
		<category><![CDATA[Herzberg]]></category>
		<category><![CDATA[Maslow]]></category>
		<category><![CDATA[Motivation]]></category>
		<category><![CDATA[Sir Imtiaz]]></category>
		<category><![CDATA[Theory]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=421</guid>
		<description><![CDATA[ان دنوں سر امتیاز ہمیں ترغیب (Motivation) کے بارے میں مختلف نظریات (theories) پڑھارہے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے میسلو (Maslow) اور ہرزبرگ (Herzberg) کی تھیوری پڑھی۔ سر امتیاز اس بات پر بے حد زور دیتے ہیں کہ صرف کتابی باتوں تک محدود نہ رہا جائے بل کہ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مختلف [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ان دنوں سر امتیاز ہمیں ترغیب (Motivation) کے بارے میں مختلف نظریات (theories) پڑھارہے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے میسلو (Maslow) اور ہرزبرگ (Herzberg) کی تھیوری پڑھی۔ سر امتیاز اس بات پر بے حد زور دیتے ہیں کہ صرف کتابی باتوں تک محدود نہ رہا جائے بل کہ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مختلف نظریات و مفروضوں کا اطلاق موجودہ زمانے میں مختلف صورتِ حال پر کرکے دیکھا جائے۔ ترغیب کے بارے میں دو مختلف نظریات پڑھ کر تیسرے نظریے نے میرے دماغ میں جنم لیا۔ ممکن ہے کہ اس میں کئی خامیاں ہوں لیکن بہ ہر حال، یہ ایک منفرد کوشش ہی صحیح۔<br />
<span id="more-421"></span></p>
<p>موضوع سے متعلقہ دیگر تحاریر:<br />
میسلو کا نظریۂ وراثت (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Maslow%27s_hierarchy_of_needs" >Maslow&#8217;s hierarchy of need</a>)<br />
ہرزبرگ کا نظریہ (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Motivator-Hygiene_theory" >Two-Factor Theory</a>)<br />
سر امتیاز کے بارے میں میری ایک تحریر (<a href="http://ibnezia.com/blog/2010/04/aisa-kahan-se-laaon/" >ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے</a>)</p>
<p><center><br />
<h2>عمار کا نظریۂ دورِ ترغیب</h2>
<p></center></p>
<p><a target="_blank" href="http://www.scribd.com/doc/36339010/Ammar-s-Theory-of-Motivation-Cycle" title="View Ammar's Theory of Motivation Cycle on Scribd"  style="margin: 12px auto 6px auto; font-family: Helvetica,Arial,Sans-serif; font-style: normal; font-variant: normal; font-weight: normal; font-size: 14px; line-height: normal; font-size-adjust: none; font-stretch: normal; -x-system-font: none; display: block; text-decoration: underline;">Ammar&#8217;s Theory of Motivation Cycle</a> <object id="doc_659580966307402" name="doc_659580966307402" height="500" width="100%" type="application/x-shockwave-flash" data="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf" style="outline:none;" rel="media:document" resource="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf?document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list" ><param name="movie" value="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf"><param name="wmode" value="opaque"><param name="bgcolor" value="#ffffff"><param name="allowFullScreen" value="true"><param name="allowScriptAccess" value="always"><param name="FlashVars" value="document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list"><embed id="doc_659580966307402" name="doc_659580966307402" src="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf?document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" height="500" width="100%" wmode="opaque" bgcolor="#ffffff"></embed></object></p>
<p><img src="http://lh5.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/THOUuZ2catI/AAAAAAAAATI/7Py_VJOGrxk/s576/Motivation-Cycle.jpg" alt="Ammar's Theory of Motivation Cycle" /></p>
<p>دورِ ترغیب کی چار درجوں میں تقسیم یوں ہے:</p>
<p>پہلا درجہ:<br />
پہلے درجے میں تین عوامل ہیں: حالت، ضرورت،ماحول۔ حالت سے مراد یہ ہے کہ انسان کی کیفیت کیا ہے۔ وہ کس صورتِ حال میں زندگی بسر کررہا ہے۔ اس کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، سماجی، معاشی و معاشرتی کیفیات کس نوعیت کی ہیں۔ دوسری چیز ہے ضرورت، یعنی انسان جس مقام پر موجود ہے، وہاں اس کو کس قسم کی ضروریات محسوس ہوتی ہیں؟ کیا وہ ضروریات کے تحت اپنی حالت میں تبدیلی چاہتا ہے؟ پہلے درجے کے تین عوامل میں سے آخری ہے، ماحول۔ انسان کس ماحول میں رہ رہا ہے؟ آیا ماحول میں آنے والی تبدیلیاں اسے کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کروارہی ہیں؟ کیا ماحول اس کی طبیعت یا اس کی مطلوبہ تبدیلیوں کے موافق ہے؟</p>
<p>دوسرا درجہ:<br />
	دوسرا درجہ ’ترغیب‘ ہے جس کا مکمل انحصار پہلے درجے پر ہے۔ اگر انسان کی جسمانی، ذہنی و نفسیاتی کیفیت درست ہے تو وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ماحول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کسی نہ کسی قدم اُٹھانے کی طرف ضرور ترغیب حاصل کرے گا۔ البتہ اگر انسان ذہنی لحاظ سے تندرست نہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ وہ ضرورت ہونے کے باوجود اپنے اندر کسی قسم کی ترغیب محسوس نہ کرے کہ اُسے کچھ سوجھ بوجھ ہی نہیں ہوگی۔</p>
<p>تیسرا درجہ:<br />
پہلے درجے کی طرح تیسرے درجے کے بھی تین مراحل ہیں: فعل، نتائج اور امکانات۔ ’فعل‘ کا براہِ راست رابطہ پہلے درجے (یعنی حالت، ضرورت، ماحول) اور دوسرے درجے (یعنی ترغیب) سے ہے۔ انسان کو صورتِ حال کے مطابق کسی قسم کی ’ضرورت‘ کا محسوس ہونا اسے ’ترغیب‘ دلاتا ہے کہ وہ کوئی قدم اُٹھاکر اپنی ضرورت کو پورا کرے اور خواہش کی تسکین کرے (بہ شرط یہ کہ وہ ذہنی و نفسیاتی لحاظ سے تندرست ہو جیساکہ پہلے گزرا)۔ ترغیب اُسے کسی ’فعل‘ کی طرف راغب کرتی ہے، ایسا فعل جس کے ذریعے اُسے لگتا ہو کہ وہ یوں اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ جب انسان کوئی ’فعل‘ انجام دیتا ہے تو اگلا مرحلہ ہوتا ہے ’نتائج‘ کا یعنی اس فعل کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ آیا اس کی ضرورت پوری ہوئی کہ نہیں؟ اس کی خواہش کو تسکین ملی یا نہیں؟ اس درجے پر تیسرا مرحلہ ہے ’امکانات‘ کا۔ امکانات سے مراد مستقبل کے ممکنہ نتائج ہیں کہ اپنے اس عمل میں انسان کس حد تک آگے بڑھ سکتا ہے اور اُسے مزید کیا فائدہ مل سکتا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ اُس نے اس درجے پر جو کام کیا ہو، اس کے نتائج تسلی بخش نہ ہوں اور وہ مزید ایک کوشش کرنا چاہے یا ایک قدم بڑھنا چاہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کی وقتی ضرورت تو پوری ہوگئی ہو لیکن وہ مزید اطمینان چاہتا ہو یا مزید آگے بڑھنا چاہتا ہو۔</p>
<p>چوتھا درجہ:<br />
چوتھا درجہ بھی ’ترغیب‘ ہے لیکن اس درجے پر ترغیب کی نوعیت معمولی سی بدل جاتی ہے۔ پہلے اس کی ترغیب ایک ضرورت کے سبب تھی۔ اس درجے پر ترغیب کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مثلاً اگر تیسرے درجے پر کیے جانے والے ’فعل‘ سے حاصل ہونے والے ’نتائج‘ نے فاعل کو مطمئن نہ کیا ہو یا اس کی ’ضروریات‘ پوری نہ ہوئی ہوں تو اسے مزید کوشش کرنے کی ’ترغیب‘ بھی ہوسکتی ہے۔ یا تیسرے درجے پر انجام پذیر ہونے والے ’فعل‘ کے ’نتائج‘ حوصلہ افزا ہوں اور وہ اُن سے مزید مستفید ہونا چاہے یا حاصل شدہ ’نتائج‘ کے بعد اس کے آگے بڑھنے کے ’امکانات‘ روشن ہوں اور فوائد متوقع ہوں تو وہ اس ’فعل‘ کو جاری رکھنے یا اس میں بہتری لانے کی طرف راغب ہوگا۔</p>
<p>ایک بار پھر:<br />
چوں کہ یہ ایک دور یا چکر (Cycle) ہے لہٰذا یہ اس مرحلے پر آکر رُک نہیں جاتا بل کہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل جاری رہتا ہے۔ ایک چکر مکمل کرنے کے بعد جب آپ دوبارہ پہلے درجے کی طرف بڑھتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کے ’افعال‘ اور ان کے ’نتائج‘ کے بعد آنے والے ’تغیرات‘ کے سبب اب انسان کی ’حالت‘، ’ضرورت‘ اور ’ماحول‘ میں تبدیلی آگئی ہے۔ اس مرحلے پر اس کی ضروریات بدل جاتی ہیں، ماحول بدل جاتا ہے۔ اب کی بار جو چیز اُسے دوسرے درجے ’ترغیب‘ کی طرف لے کر جاتی ہے، وہ کچھ بھی ہوسکتی ہے کیوں کہ انسان کی خواہشات کا سلسلہ لامتناہی ہے اور ایک ضرورت یا خواہش پوری ہوتے ہی اگلی جنم لے لیتی ہے۔ مثلاً پہلا چکر مکمل ہونے کے بعد اب جس مقام پر وہ پہنچا ہے، اس کی ضروریات پہلے کے مقابلے میں مختلف ہوگئی ہیں، ماحول بدل گیا ہے تو اب وہ ان ضروریات کو حاصل کرنے کے لیے ’ترغیب‘ پاتا ہے اور پھر کوئی ’فعل‘ انجام پذیر ہوتا ہے، اس کے ’نتائج‘ اور مزید ’امکانات‘ اسے آگے بڑھنے کی طرف ’ترغیب‘ دیتے ہیں اور یہ چکر چلتا چلا جاتا ہے۔</p>
<p>از<br />
عمار ابنِ ضیا<br />
اگست ۲۰۱۰ء</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
یہ نظریہ آج میں نے کلاس میں پیش کیا اور طلبہ سمیت سر امتیاز نے بھی بے حد سراہا اور اس کے مختلف مثبت پہلوؤں کو مزید اجاگر کیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا کہوں</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/07/kya-kahun/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/07/kya-kahun/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 18:22:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[abuse]]></category>
		<category><![CDATA[University Girl]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=405</guid>
		<description><![CDATA[میں آج صبح یونیورسٹی میں داخل ہوا تو وہ چیک پوسٹ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی اور ایک لڑکا بھی تھا جن سے وہ باتیں کررہی تھی۔ میں جب اس کے پاس سے گزرا تو مجھے اس کی آواز سنائی دی: ’’بہن چ**‘‘۔ میرے کانوں کو یقین نہیں آیا کہ یہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میں آج صبح یونیورسٹی میں داخل ہوا تو وہ چیک پوسٹ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی اور ایک لڑکا بھی تھا جن سے وہ باتیں کررہی تھی۔ میں جب اس کے پاس سے گزرا تو مجھے اس کی آواز سنائی دی: ’’بہن چ**‘‘۔ میرے کانوں کو یقین نہیں آیا کہ یہ لفظ اس نے کہا ہوگا۔ میں نے اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔ وہ عبایا میں تھی۔ دیکھنے سے اچھے گھر کی لگتی تھی۔ وہ ہنس رہی تھی اور اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ تفریح کے موڈ میں ہے۔</p>
<p>پھر بولی: ’’حرامی۔۔۔ حرام زادہ۔‘‘ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ اتنے مجمع میں کس طرح کی زبان استعمال کررہی ہے۔ میں سر جھٹک کر آگے بڑھا۔</p>
<p>’’مادر چ**‘‘۔ اس کے منہ سے یہ گالی سن کر مجھے جیسے بجلی کا جھٹکا لگا۔ میں نے اُسے مُڑ کر دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھا اور اپنے راستے ہولیا۔</p>
<p>[اس تمام واقعے سے یہ نہ سمجھیے گا کہ وہ یہ گالیاں مجھے دے رہی تھی۔ وہ جو کوئی بھی تھی، اپنے دوستوں کے ساتھ تفریح کررہی تھی۔]</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/07/kya-kahun/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>44</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وہی جامعہ کو رونا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/06/wohi-uni-rona/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/06/wohi-uni-rona/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 30 Jun 2010 14:36:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[exam]]></category>
		<category><![CDATA[karachi university]]></category>
		<category><![CDATA[students]]></category>
		<category><![CDATA[teacher]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=400</guid>
		<description><![CDATA[جب کوئی اور موضوع سمجھ نہیں آتا، اپنی جامعہ کراچی یاد آجاتی ہے۔ جامعہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھو، کم ہے۔ تعمیرات، ڈھانچہ، نظام، تعلیم، تدریس، اساتذہ۔۔۔ جامعہ سے وابستہ وہ کون سی چیز ہے جو تفصیلی گفتگو کی محتاج نہ ہو۔ فائنل ایئر میں طلبہ عموماً زیادہ محنت کرتے ہیں کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جب کوئی اور موضوع سمجھ نہیں آتا، اپنی جامعہ کراچی یاد آجاتی ہے۔ جامعہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھو، کم ہے۔ تعمیرات، ڈھانچہ، نظام، تعلیم، تدریس، اساتذہ۔۔۔ جامعہ سے وابستہ وہ کون سی چیز ہے جو تفصیلی گفتگو کی محتاج نہ ہو۔</p>
<p>فائنل ایئر میں طلبہ عموماً زیادہ محنت کرتے ہیں کہ یار، آخری سال ہے، جی جان سے محنت کرکے بہتر نتائج حاصل کرلیے جائیں۔ ایسے میں اگر شعبے کے چیئرمین کی جانب سے اساتذہ پر دباؤ ڈالا جائے کہ فائنل ایئر کے طلبہ کو 100 میں 65 سے زیادہ نمبرز نہ دیے جائیں تو آپ بتائیے، یہ حرکت کیسی ہے؟ جب کہ پاس ہونے کے لیے 50 نمبرز کی حد ہے، اور 70 نمبرز سے اوپر B گریڈ بنتا ہے۔ یعنی کہ طلبہ نے جتنی بھی محنت کی ہو، ان کو 65 سے زیادہ نمبرز نہیں ملیں گے اور گریڈ بنے گا C۔</p>
<p>یہ کوئی سنی سنائی خبر نہیں ہے بلکہ میری خالہ زاد جو خود جامعہ کے ایک شعبے میں پڑھارہی ہیں، انہوں نے کل ہی ذکر کیا۔ اب وہ پریشان ہیں کہ کیا کریں؟ اگر چیئرمین کی بات نہیں مانتیں تو امتحانی کاپیاں ویسے بھی پہلے تو چیئرمین کے پاس ہی جائیں گی، لہٰذا نتائج میں تبدیلی تو کی ہی جائے گی ساتھ نوکری جانے کے امکانات بھی کیوں کہ ابھی عارضی لیکچرار شپ ہے۔ اگر چیئرمین کی بات مانی جائے تو طلبہ کے ساتھ ناانصافی اور ان کی بددعائیں۔ جی جناب۔۔۔!!!</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/06/wohi-uni-rona/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>15</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قصہ نصاب کے تین حصوں، سمسٹر کے تین مہینوں اور آخر کے تین دنوں کا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/05/qissa-nisaab3-2parts/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/05/qissa-nisaab3-2parts/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 13 May 2010 07:20:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[Check and Balance]]></category>
		<category><![CDATA[department of education]]></category>
		<category><![CDATA[Law of Association]]></category>
		<category><![CDATA[Learning]]></category>
		<category><![CDATA[punctuality]]></category>
		<category><![CDATA[students]]></category>
		<category><![CDATA[teacher]]></category>
		<category><![CDATA[Teaching Method]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=380</guid>
		<description><![CDATA[پورا سمسٹر نصاب کے ایک حصے پر زور صرف کرنے کے بعد جب استانی صاحبہ کو علم ہوا کہ امتحانات سر پر آپہنچے ہیں اور ان کے پاس لیکچر (دوسرے الفاظ میں املا کرانے) کے لیے کچھ ہی دن باقی رہے ہیں تو انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اب جلد ہی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پورا سمسٹر نصاب کے ایک حصے پر زور صرف کرنے کے بعد جب استانی صاحبہ کو علم ہوا کہ امتحانات سر پر آپہنچے ہیں اور ان کے پاس لیکچر (دوسرے الفاظ میں املا کرانے) کے لیے کچھ ہی دن باقی رہے ہیں تو انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اب جلد ہی نصاب مکمل کروادیں گی۔ یوں جہاں تین مہینے میں نصاب کے تین حصوں میں سے صرف ایک حصہ پڑھایا گیا تھا، وہاں اگلے تین دنوں میں باقی کے دو حصے پڑھانے کی کوشش کا آغاز ہوا۔</p>
<p>ویسے تو موصوفہ نے کبھی وقت پر آنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی۔ ان کی کلاس کا وقت جب کہ صبح 9 بج کر 25 منٹ پر شروع ہوتا لیکن مجال ہے جو وہ پونے دس سے پہلے کبھی تشریف لائی ہوں۔ بفرضِ محال اگر کبھی وہ ذرا پہلے ڈپارٹمنٹ پہنچ بھی جاتیں، تب بھی اپنے دفتر میں اتنا وقت لگانا لازمی تصور کرتیں کہ پونے دس ہوجائیں۔ البتہ کلاس کا وقت ختم ہونے کے بعد تب تک پڑھانا ختم نہ کرتیں جب تک اگلے استاد کو کلاس سے باہر پانچ منٹ انتظار میں کھڑا نہ رکھیں۔ اگلا استاد چونکہ جونیئر ہے اس لیے یقین قوی ہے کہ وہ اُن کی شکایت نہیں کرے گا۔ بہرحال، اب جو طے پایا کہ اگلے تین دنوں میں نصاب کے دو حصے مکمل کیے جائیں تو انہوں نے (شاید مروت میں) طلبہ سے پوچھ لیا کہ کیا صبح اُن کی کلاس سے پہلے کسی کی کلاس ہوتی ہے؟ جواب انکار میں تھا۔ لہٰذا انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ سب صبح نو بجے پہنچ جائیں، وہ بھی جلدی آنے کی ’’کوشش‘‘ کریں گی۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>پیر، منگل، بدھ۔۔۔ یہ تین دن اُن کے پاس باقی تھے۔ پیر کے دن تقریباً تمام طلبہ صبح نو بجے کمرۂ جماعت میں موجود لیکن محترمہ کا نام و نشان نہیں۔ تشریف لائیں تو وہی پونے دس بجے کے بھی بعد۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_twisted.gif' alt=':devil:' class='wp-smiley' /> حاضری لی۔۔۔ پڑھانا شروع کیا تو ارشاد ہوا، چونکہ وقت کم ہے اس لیے جلدی جلدی ’’بولتی‘‘ جاؤں گی، آپ لوگ اپنے الفاظ میں نوٹ کرتے رہیں۔ ہمیں کیا مجال جو انکار کریں۔ حکم کی تعمیل میں سرِ تسلیم خم کیا۔ انہوں نے جو سمجھایا، وہ ہماری سمجھ میں آنا تو دور، یقینِ کامل ہے کہ خود اُن کی سمجھ میں بھی نہ آیا ہوگا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' />  مختلف کتابوں سے دیکھ کر ’’ریڈنگ‘‘ کرتی رہیں اور طلبہ اپنی استطاعت اور بساط کے مطابق ان میں سے کچھ نکات اخذ کرکے لکھتے رہے۔ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا یہاں تک کہ اگلی کلاس کا وقت ہوگیا اور وقت کا پابند ’’جونیئر استاد‘‘ کلاس کے باہر آکھڑا ہوا۔ یہ دیکھ لینے کے باوجود وقت کی ’’کمی‘‘ کا خیال کرتے ہوئے استانی صاحبہ نے تدریسی عمل جاری رکھا اور پانچ منٹ بعد گویا بادل نخواستہ وہ کتب بند  کیں جن سے ’’ریڈنگ‘‘ کرکے ہمیں ’’لیکچر‘‘ دیا جارہا تھا۔ پھر سوال ہوا، آپ لوگوں کی سمجھ میں آگیا نا سب کچھ؟ خاموشی چھائی رہی۔ پھر تکیہ کلام کا گولا فائر ہوا: ’’Clear?‘‘ خاموشی چھائی رہی۔ اقرار میں سر ہلانے کا جی نہیں چاہتا۔ انکار میں سر ہلے تو اس کے بعد جو ہوتا ہے اس سے بہتر ہے کہ سر قلم کروالیا جائے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' />  کبھی جو کسی نے کہہ دیا کہ فلاں بات سمجھ نہیں آئی تو حکم ہوگا، کھڑے ہوجائیں پہلے آپ۔ بندہ جھجکتے ہوئے کھڑا ہو تو سوال ہوتا ہے، جی اب بتائیے، کیا سمجھ نہیں آیا آپ کو؟؟؟؟؟  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' />  اس سوال پر میرا جی کرتا ہے کہ میں قہقہہ ماردوں۔ خیر۔۔۔ ان کے ’’کلیئر‘‘ کو عموماً میں ہی جیسے تیسے سر ہلاکر ’’کلیئر‘‘ کرتا ہوں کہ سب سے آگے اور ان کے سب سے قریب بیٹھا ہوتا ہوں (فیوض و برکات کے حصول کے لیے)۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' />  اس کے بعد سوال ہوا، آپ لوگ آج کب آئے تھے؟ اس سوال پر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میری ’’بیستی‘‘ ہوئی ہو حالانکہ میں اس شعبے کا چیئرمین ہرگز نہیں۔ سب طلبہ نے کہا، نو بجے آگئے تھے۔ شاید موصوفہ کو یقین نہیں آیا یا پھر انہوں نے اپنی شرمندگی چھپانا چاہی، کہنے لگیں:<br />
’’سب نو بجے آگئے تھے؟ سب؟؟؟‘‘<br />
’’جی میڈم!‘‘ کئی آوازیں ابھریں۔<br />
’’اچھا۔۔۔‘‘ (تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کی)۔ چلیں، آج تو مجھے ’’تھوڑی‘‘ دیر ہوگئی تھی، کل آپ لوگ نو بجے آجائیے گا تاکہ ہم یہ کورس مکمل کرلیں، دن کم بچے ہیں نا۔۔۔ انہوں نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا اور چل دیں۔</p>
<p>نادان بچوں کا کیا جائے، اگلے دن پھر نو بجے موجود۔ محترمہ وہی پونے دس بجے تشریف لائیں۔ پچھلے دن کی طرح ’’تیز رفتاری‘‘ سے پڑھایا بلکہ بھگایا اور اگلے استاد کے آنے تک یہ مشقت جاری رکھی۔ حسبِ عادت اسے پانچ منٹ انتظار کروانے کے بعد جب ’’ریڈنگ‘‘ کرنا بند کی تو سوال ہوا، آج آپ لوگ کتنے بجے آگئے تھے؟ گذشتہ روز کی طرح وہی جواب اور ویسا ہی ردِ عمل۔<br />
سب نو بجے آگئے تھے؟ اچھا، کتنے لوگ نو بجے آئے تھے، ہاتھ کھڑا کریں۔ (شکر ہے صرف ہاتھ کھڑا کروانے پر اکتفا کروایا)۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /><br />
اچھا۔۔۔ سب آگئے تھے۔۔۔ ہمم۔۔۔ چلیں آج مجھے ’’ذرا سی‘‘ دیر ہوگئی تھی۔ کل آپ لوگ نو بجے آجائیے گا، میں بھی آجاؤں گی کیوں کہ کل ہمیں یہ ختم کرنا ہے نا۔۔۔!!</p>
<p>جو حکم۔۔۔ اگلے دن طلبہ نو بجے موجود۔ غضب کیا تِرے وعدے پہ اعتبار کیا۔ میں نوابوں کی طرح ساڑھے نو بجے پہنچا تو پتا چلا کہ اب تک نہیں آئی ہیں۔ ساڑھے نو بجے کے بعد تو وہ ڈپارٹمنٹ تشریف لائیں، اپنے دفتر میں ’’تیار‘‘ ہوئیں اور پھر اپنے ’’لیکچر‘‘ سے فیض یاب کرنے کے لیے موجود۔ اس دن تو گاڑی اتنی رفتار سے بھاگی کہ میں مشکل سے کچھ ہی جملے مکمل نوٹ کرسکا۔ اخیر میں یہ ہوا کہ چونکہ ہمارا نصاب مکمل نہیں ہوسکا ہے، اس لیے ہم ایک ’’ایکسٹرا کلاس‘‘ رکھیں گے۔</p>
<p>اس قصے کو اصولی طور پر یہاں ختم ہوجانا چاہیے کہ سمسٹر کے تین مہینوں کے بعد آخر کے تین دن کا ذکر بھی مکمل ہوچکا لیکن حسنِ اتفاق یا شومئی قسمت کہ نصاب کے تین حصے تو ابھی مکمل نہیں ہوئے نا  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' />  تو ایکسٹرا کلاس کا صرف ایک واقعہ۔</p>
<p>Laws of Reading پڑھاتے ہوئے ذکر آیا Law of Association کا کہ کسی چیز سے مشروط کرکے سکھایا جائے۔ میری ناقص سمجھ کے مطابق اس سے مراد یہ ہوگی کہ جب ہم طلبہ کو تعلیم دے رہے ہیں تو اس کو پڑھائی کی طرف راغب کرنے کے لیے پڑھائی کے ساتھ کسی ایسی چیز کو مشروط کردیا جائے جو اسے پڑھائی کی طرف رغبت دلائے۔ لیکن محترمہ نے جو ’’اعلیٰ‘‘ مثال دی وہ اس قانون سے مطابقت بھلے نہ رکھے، عملی زندگی میں اس کا بے حد تجربہ رہا۔ کہنے لگیں، Law of Association سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز سے مشروط کردیا جائے۔ مثلاً میں آپ سے کہوں کہ آپ لوگ صبح نو بجے آجائیں  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' />  تو آپ لوگ کتنے بجے آئیں گے؟ آپ لوگ نو بجے آجائیں گے نا کیوں کہ آپ کو پتا ہے کہ ٹیچر نے نو بجے بلایا ہے تو وہ بھی نو بجے آجائے گا۔ تو ٹیچر کے آنے سے آپ کا آنا مشروط ہوگیا  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_bigsmile.gif' alt=':D' class='wp-smiley' />  اب اگر ٹیچر نو بجے نہ آتا ہو تو آپ وقت پر آئیں گے؟ نہیں نا۔۔۔ تو اسے Law of Association کہتے ہیں۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/05/qissa-nisaab3-2parts/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/04/aisa-kahan-se-laaon/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/04/aisa-kahan-se-laaon/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 02 Apr 2010 11:36:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[administration]]></category>
		<category><![CDATA[department of education]]></category>
		<category><![CDATA[education]]></category>
		<category><![CDATA[educational institute]]></category>
		<category><![CDATA[faculty of arts]]></category>
		<category><![CDATA[karachi]]></category>
		<category><![CDATA[karachi university]]></category>
		<category><![CDATA[management]]></category>
		<category><![CDATA[organization]]></category>
		<category><![CDATA[Student]]></category>
		<category><![CDATA[teacher]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=367</guid>
		<description><![CDATA[میں نے پچھلے دنوں اپنے شعبے کی ایک استانی صاحبہ کے حوالے سے کچھ خامہ فرسائی کی تھی جسے بعد ازاں چند خدشات اور خطرات کے سبب غائب کردیا کہ بہرحال میرے غائب ہوجانے سے بہتر اس تحریر کا غائب ہونا تھا. سوچا تھا کہ اساتذہ پر لکھنے سے پرہیز کروں گا، کم از کم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میں نے پچھلے دنوں اپنے شعبے کی ایک استانی صاحبہ کے حوالے سے کچھ خامہ فرسائی کی تھی جسے بعد ازاں چند خدشات اور خطرات کے سبب غائب کردیا کہ بہرحال میرے غائب ہوجانے سے بہتر اس تحریر کا غائب ہونا تھا.  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' />  سوچا تھا کہ اساتذہ پر لکھنے سے پرہیز کروں گا، کم از کم تب تک جب تک کہ میں جامعہ کا طالبِ علم ہوں لیکن طبیعت کا کیا کروں کہ پرہیز پر راغب نہیں ہوتی  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>اب ارادہ ہے اپنے ہی شعبے کے ایک اور استاد پر لکھنے کا اور اگرچہ میں نے اُن کی ہجو نہیں لکھنی، نہ ہی انہیں تنقید کا نشانہ بنانا ہے لیکن ۔۔۔ خیر، آگے بڑھتے ہیں۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
<p>سر امتیاز۔۔۔ میں ان کا پورا نام نہیں جانتا اور یقین جانیں کہ یہ اُن کا فرضی نہیں، اصل نام ہے۔   <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_razz.gif' alt=':razz:' class='wp-smiley' />   دیکھنے سے مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ سندھی ہوں گے لیکن اس سے کوئی غرض نہیں۔ اُن سے پڑھتے ہوئے مجھے ڈھائی مہینے ہی کا عرصہ گزرا ہے اور اس عرصے میں اُن کے کوئی دس لیکچرز ہی ہوئے ہیں لیکن مجھے اس مختصر عرصے ہی میں اُن کے طریقۂ تدریس نے بے حد متاثر کیا ہے۔ میں نے اپنے تمام تعلیمی کیریئر میں ایسا محنتی استاد نہیں دیکھا جسے اپنی ذمہ داری سے دلچسپی ہے، لگن ہے اور وہ اس ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>وہ ہمیں آرگنائزیشن، منیجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن (Organization, Management &#038; Administration) کے موضوعات تعلیمی اداروں (Educational Organizations) کے حوالے سے پڑھارہے ہیں۔ باریک سے باریک نکتے کو بھی آسان اور واضح انداز میں جامعہ کراچی کی مثالوں سے مزین کرتے ہیں کہ نالائق سے نالائق ترین طالبِ علم کی سمجھ میں بھی آسانی سے آجاتا ہے۔</p>
<p>جس دن جس موضوع پر لیکچر دینا ہوتا ہے، اس سے چند دن پہلے کوئی ایسی کتاب دے دیتے ہیں جس میں اس موضوع پر مناسب مواد موجود ہوتا ہے تاکہ تمام طلبہ اس کی فوٹوکاپی کروالیں اور لیکچر والے دن پہلے ہی گھر سے کچھ پڑھ کر آئیں تاکہ اُن کا ذہن کھلا ہو اور موضوع سے متعلق انہیں پہلے سے تھوڑی بہت آگاہی ہو تاکہ لیکچر کے وقت وہ ہونق بنے منہ نہ تکیں۔ لیکچر کا انداز یہ ہے کہ جس موضوع پر بولنا ہوتا ہے، اس کی پہلے سے تیاری کرکے آتے ہیں اور عموماً ایک صفحے پر اہم نکات نوٹ کیے ہوتے ہیں۔ لیکچر دینے سے پہلے عنوان تختۂ سیاہ (Black Board) پر لکھتے ہیں اور پھر طلبہ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا جانتے ہیں یا اس سے کیا سمجھتے ہیں۔ طلبہ کی رائے سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ نکات سامنے آتے ہیں جو کتب میں نہیں ملتے۔ بعد ازاں، سر امتیاز خود ایک ایک موضوع کو تفصیل سے سمجھاتے ہیں اور آخر میں یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ ہم نے جو کچھ پڑھا، تعلیمی اداروں میں اس کا عملی اطلاق کس قدر نظر آتا ہے اور اگر کہیں خامیاں پائی جاتی ہیں تو کیوں اور اُن کا سدِّباب کیوں کر ہو۔ سر امتیاز نے پہلی تعارفی کلاس میں ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے interactive class پسند ہے، خالی دماغ کے ساتھ میرے لیکچر میں بیٹھنے سے بہتر ہے کہ آپ نہ ہی آئیں۔</p>
<p>ایک اور منفرد بات میں نے یہ نوٹ کی کہ ہر استاد کے پاس ایک حاضری رجسٹر ہوتا ہے لیکن سر امتیاز حاضری رجسٹر کے بجائے اپنی ڈائری لے کر آتے ہیں اور لکھے لکھائے ناموں کے آگے بس حاضر اور غیر حاضر کا نشان لگانے کے بجائے طلبہ کو دیکھتے جاتے ہیں اور نام لکھتے جاتے ہیں۔ ہر بار نام لکھنے کے باعث اُنہیں طلبہ کے نام بہت جلدی یاد ہوئے۔ اس کے علاوہ جو طلبہ لیکچر کے دوران اپنی رائے دیتے ہیں اور تدریسی عمل میں خود بھی حصہ لیتے ہیں تو سر امتیاز اپنی ڈائری میں اُن کے ناموں کے آگے نشان لگاتے جاتے ہیں تاکہ فعال طلبہ کا ثبوت رہے۔</p>
<p>تختے پر لکھنے کے لیے وہ مختلف رنگوں کی chalk استعمال کرتے ہیں جن میں پیلی، گلابی (ایسا گلابی رنگ جو شوخ نہیں ہوتا) اور سفید رنگ کی chalk شامل ہوتی ہے۔ جب وہ پڑھا رہے ہوتے ہیں تو یہ فکر نہیں کرتے کہ chalk powder سے بھرا اُن کا ہاتھ ان کی نفیس پینٹ کو کس قدر خراب کررہا ہے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' />  اُن کی ساری توجہ صرف لیکچر کی طرف ہوتی ہے۔</p>
<p>شعبۂ تعلیم کے طلبہ خاص کر چند لڑکوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تعلیم کا شعبہ ہمارے لیے بے کار اور فضول ہے۔ سر امتیاز نے دو/ تین بار اس تصور کو زائل کرنے کی کوشش کی اور بیرونِ ملک اسکالر شپ کے وہ اشتہارات دکھائے جن میں شعبۂ تعلیم اور ماہرینِ تعلیم کو اسکالر شپ کے لیے اولین ترجیح دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اپنے موضوع سے دلچسپی پیدا کرنے کے لیے وہ اکثر طلبہ کو راغب کرتے ہیں کہ اخبارات میں شائع ہونے والے تعلیمی صفحات کا خصوصاً روزنامہ ’’ڈان‘‘ کی اتوار کی اشاعت میں شامل تعلیمی صفحے کا ضرور مطالعہ کریں تاکہ اُنہیں اپنے شعبے کی تازہ ترین صورتِ حال اور اس میں آنے والی جدتوں سے آگاہی رہے۔</p>
<p>میں نہیں جانتا کہ سر امتیاز کس تعلیمی ادارے سے پڑھ کر آئے ہیں، اتنا جانتا ہوں کہ جامعہ کراچی کے نہیں پڑھے ہوئے، لیکن اُن کے جو بھی اساتذہ رہے ہوں گے، وہ خود بھی بہت قابل ہوں گے جن کی تعلیم و تربیت کا اثر سر امتیاز کے طریقۂ تدریس میں نظر آتا ہے۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی میں ایسا استاد نہیں دیکھا اور آپ ہمارے شعبے کے کسی بھی ایسے طالبِ علم سے پوچھ کر دیکھ لیں جس نے سر امتیاز سے پڑھا ہو، مجال ہے جو ایک لفظ اُن کی برائی میں کہے۔ میرے جتنے بھی سینئرز نے پوچھا کہ کون پڑھا رہا ہے اور میں نے کہا کہ سر امتیاز تو آگے سے اُن کے طریقۂ تدریس کے بے انتہا خوبیاں ہی سُنیں کہ اُن جیسا استاد پورے شعبے میں کوئی نہیں ہے۔</p>
<p>مجھے خوشی ہے کہ اس مادہ پرست دور میں جب کہ ہر ایک اپنی ذمہ داری نبھانے سے کوسوں دور بھاگتا ہے، اساتذہ کی اکثریت کا مقصد صرف دولت کا حصول رہ گیا ہے اور انہیں طلبہ کی تعلیم و تربیت سے غرض نہیں رہی، اب بھی سر امتیاز جیسے اساتذہ موجود ہیں اور ایسا استاد میسر آنے پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتا ہوں۔ خدا کرے کہ میں بھی اُنہی کے نقشِ قدم پر چلنے میں کامیاب ہوسکوں۔ آمین۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/04/aisa-kahan-se-laaon/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جامعہ نامہ۔ پیس واک</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/03/jn-ep16/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/03/jn-ep16/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 02 Mar 2010 06:34:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[magazine]]></category>
		<category><![CDATA[peace walk]]></category>
		<category><![CDATA[peerzada qasim raza siddiqi]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[Youth Express]]></category>
		<category><![CDATA[youth pakistan]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=345</guid>
		<description><![CDATA[جامعہ کراچی میں یوتھ ایکسپریس پاکستان اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیرِ اہتمام 17 فروری 2010ء کو چہل قدمی برائے امن (پیس واک) کا اہتمام کیا گیا تھا. پیس واک کی قیادت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی صاحب نے خود کی جب کہ ان کے ساتھ مشیرِ امورِ طلبہ پروفیسر ڈاکٹر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جامعہ کراچی میں یوتھ ایکسپریس پاکستان اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیرِ اہتمام 17 فروری 2010ء کو چہل قدمی برائے امن (پیس واک) کا اہتمام کیا گیا تھا. پیس واک کی قیادت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی صاحب نے خود کی جب کہ ان کے ساتھ مشیرِ امورِ طلبہ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد صاحبہ اور جامعہ کے اساتذہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پیس واک کے شرکاء یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ سے یونیورسٹی کیفے تک نعرے بازی کرتے ہوئے آئے کہ خوف اور دہشت سے پاک پُرامن درس گاہ ان کا حق ہے۔ بعد ازاں مختصر سی تقریب سے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کے حوصلے کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس موقع پر انہیں یوتھ ایکسپریس پاکستان کی جانب سے ماہنامہ یوتھ ایکسپریس کے دو شمارے بھی پیش کیے گئے جو بہت سراہے گئے۔ اس دن کی تصاویر آپ میری <a target="_blank" href="http://farozaan.blogspot.com/2010/02/peace-walk.html" >تصویری بلاگ پر یہاں</a> ملاحظہ کرسکتے ہیں۔</p>
<p>کچھ ویڈیو کلپس<br />
<object width="480" height="385"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/p/66EC594CD68EBF43&amp;hl=en_US&amp;fs=1"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/p/66EC594CD68EBF43&amp;hl=en_US&amp;fs=1" type="application/x-shockwave-flash" width="480" height="385" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true"></embed></object></p>
<p>(اپڈیٹ کرنے میں خاصی دیر ہوگئی.  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> )</p>
<p>میرے ساتھی طلبہ نے پچھلی پوسٹ پر کافی خدشات کا اظہار کیا کہ اگر یہ بات آگے تک پہنچ گئی تو استاد پر لکھنے کی وجہ سے معاملہ میرے تعلیمی مستقبل لیے خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا احتیاطی تدابیر کے طور پر میں وہ پوسٹ پوشیدہ کررہا ہوں۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' />  ویسے بھی جنہوں نے پڑھنا تھا، وہ پڑھ ہی چکے ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/03/jn-ep16/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پیغامِ امن کرکٹ ٹورنامنٹ</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/02/pegham-amn-cricket-tournament/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/02/pegham-amn-cricket-tournament/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 14 Feb 2010 07:05:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[aisia]]></category>
		<category><![CDATA[APMSO]]></category>
		<category><![CDATA[cricket]]></category>
		<category><![CDATA[karachi]]></category>
		<category><![CDATA[MQM]]></category>
		<category><![CDATA[tournament]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=327</guid>
		<description><![CDATA[امن کے پیغام کو پھیلانے کے لیے ایشیا کا سب سے بڑا آٹھواں پیغامِ امن کرکٹ ٹورنامنٹ آغاز 16فروری 2010ء سے ولیکا گراؤنڈ، جامعہ کراچی میں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center>امن کے پیغام کو پھیلانے کے لیے ایشیا کا سب سے بڑا</center><br />
<center><br />
<h3>آٹھواں پیغامِ امن کرکٹ ٹورنامنٹ</h3>
<p></center></p>
<p><center>آغاز 16فروری 2010ء سے</center><br />
<center>ولیکا گراؤنڈ، جامعہ کراچی میں</center></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/02/pegham-amn-cricket-tournament/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یوتھ ایکسپریس</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/11/youth-express/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/11/youth-express/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 17 Nov 2009 11:20:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[magazine]]></category>
		<category><![CDATA[poem]]></category>
		<category><![CDATA[story]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[youth]]></category>
		<category><![CDATA[Youth Express]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=282</guid>
		<description><![CDATA[14 اکتوبر 2009ء، سنیچر، ایک یادگار دن جب جامعہ کراچی کے آڈیو ویژول سینٹر میں نوجوانوں کی آواز ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کی تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ تقریب کی نظامت (کمپیرئنگ) کے فرائض انجام دینے والوں میں ایک موصوف مابدولت بھی تھے۔ میگزین کے ایڈیٹر ان چیف مرزا نادر بیگ سے میرا تعارف بس اچانک [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://youthexpress.webs.com/fw-profile-image.jpg" alt="Youth Express" /></p>
<p>14 اکتوبر 2009ء، سنیچر، ایک یادگار دن جب جامعہ کراچی کے آڈیو ویژول سینٹر میں نوجوانوں کی آواز ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کی تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ تقریب کی نظامت (کمپیرئنگ) کے فرائض انجام دینے والوں میں ایک موصوف مابدولت بھی تھے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>میگزین کے ایڈیٹر ان چیف مرزا نادر بیگ سے میرا تعارف بس اچانک ہی ہوا۔ گذشتہ ماہ میں نے جامعہ میں مختلف جگہ ایک اعلان چسپاں دیکھا کہ ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کا اجرا کیا جارہا ہے جس کے لیے تحاریر ارسال کی جاسکتی ہیں۔ میں نے ان کے دیے ہوئے ای۔میل پتے پر ربطہ کیا تو مرزا نادر بیگ کا حوصلہ افزا جواب آیا۔ میں نے اپنی ایک پرانی تحریر ’’انڈا‘‘ ارسال کی تو مرزا صاحب خاصے متاثر ہوئے۔ شروع میں کافی تکلفات ملحوظ رکھے کیوں کہ مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اس میگزین کا جامعہ سے کوئی تعلق ہے۔ پھر جب نادر سے پہلی ملاقات ہوئی تو بالکل ہی الٹ ماجرا تھا۔ یہ صاحب تو مجھ سے بھی آٹھ/ نو ماہ چھوٹے نکلے۔ شعبۂِ سیاسیات (پولیٹکل سائنس) کے دوسرے سال میں زیرِ تعلیم۔ نادر کے توسط سے باقی دوستوں سے بھی شناسائی ہوئی۔ سلیم انصاری، شاہ ولی، عباد، احسن، طلحہ، جبران، ماہین علی وغیرہ۔۔۔ نادر نے میگزین کی تکمیل کے تمام مراحل میں سب کو ساتھ رکھنے کی کوشش کی اور آخر ہم ایک اچھی ابتدا کرنے میں کامیاب ہوئے الحمدللہ۔<br />
<span id="more-282"></span></p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-c.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs001.snc3/10861_1052817175959_1691691211_109561_7728013_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Mirza Nadir Baig" src="http://photos-c.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs001.snc3/10861_1052817175959_1691691211_109561_7728013_n.jpg" alt="" width="378" height="503" /></a><br />
مرزا نادر بیگ</p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-f.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_179120183947_824638947_2765563_3963054_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Youth Express Team" src="http://photos-f.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_179120183947_824638947_2765563_3963054_n.jpg" alt="" width="499" height="374" /></a><br />
تقریبِ اجرا کے اختتام پر یوتھ ایکسپریس ٹیم</p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-h.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_178402533947_824638947_2760137_2720503_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Launching Ceremony of Youth Express" src="http://photos-h.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_178402533947_824638947_2760137_2720503_n.jpg" alt="" width="490" height="367" /></a></p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-a.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs100.snc3/16731_178402563947_824638947_2760139_2749920_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Audience" src="http://photos-a.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs100.snc3/16731_178402563947_824638947_2760139_2749920_n.jpg" alt="" width="496" height="372" /></a></p>
<p>تقریب کے شرکا</p>
<p><object width="499" height="317" ><param name="allowfullscreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="movie" value="http://www.facebook.com/v/178378648947" /><embed src="http://www.facebook.com/v/178378648947" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="499" height="317"></embed></object><br />
میگزین کی تقریبِ رونمائی</p>
<p><object width="499" height="317" ><param name="allowfullscreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="movie" value="http://www.facebook.com/v/178414898947" /><embed src="http://www.facebook.com/v/178414898947" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="499" height="317"></embed></object><br />
مرزا نادر بیگ کو اظہارِ خیال کی دعوت دیتے ہوئے</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/11/youth-express/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/10/mirzafarhat-khakanigari/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/10/mirzafarhat-khakanigari/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 10:52:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[Assignment]]></category>
		<category><![CDATA[Khaka Nigari]]></category>
		<category><![CDATA[literature]]></category>
		<category><![CDATA[Mirza Farhat Ullah Baig]]></category>
		<category><![CDATA[Mirza Farhatullah]]></category>
		<category><![CDATA[Research]]></category>
		<category><![CDATA[scetch]]></category>
		<category><![CDATA[urd]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=265</guid>
		<description><![CDATA[خاکہ وہ تحریر ہے جس میں خاکہ نگار کسی انسان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کرے کہ وہ شخصیت قاری کو ایک زندہ شکل میں نظر آئے اور خاکہ نگار نے اس انسان کی زندگی کا جس قدر مشاہدہ کیا ہو، غیر جانب داری سے اس سے متعلقہ حالات و واقعات [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>خاکہ وہ تحریر ہے جس میں خاکہ نگار کسی انسان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کرے کہ وہ شخصیت قاری کو ایک زندہ شکل میں نظر آئے اور خاکہ نگار نے اس انسان کی زندگی کا جس قدر مشاہدہ کیا ہو، غیر جانب داری سے اس سے متعلقہ حالات و واقعات کو قاری کے مطالعہ میں لے آئے۔</p>
<p>شخصیت نگاری کی تاریخ نئی نہیں ہے۔ البتہ زمانۂ قدیم میں یہ فن صرف بادشاہوں، نوابوں، راجاؤں یا مذہبی شخصیات کے حالاتِ زندگی لکھنے تک محدود تھا۔ یہ حالاتِ زندگی سوانحِ عمری کی صورت رقم کیے جاتے اور ان میں کئی جگہ لکھنے والے کی جانب داری نمایاں ہوتی کیوں کہ ایسی تحاریر عموماً کسی خاص مقصد کے تحت لکھی جاتیں یعنی مصنف کا مطمحِ نظر کسی شخصیت سے عقیدت یا لگاؤ کے سبب اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا رنجش و عداوت کے سبب اس پر الزام تراشی اور اس کی کردار کُشی کرنا ہوتا تھا۔ ایسی سوانحِ عمریوں کے مقابلے میں بہرحال خاکہ نگاری ایک نئی صنف ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر جمیل جالبی (پ۱۹۲۹ء) لکھتے ہیں:<br />
اردو ادب میں خاکہ، مختصر افسانہ کی طرح، ایک نئی صنف ہے۔ اس سے پہلے ہمیں طویل سوانح عمریاں تو ملتی ہیں لیکن اُن کی حیثیت عام طور پر ادبی کم اور تاریخی زیادہ ہے۔غاؔلب کے فوراً بعد کے دور میں سوانح نگاری نے ایک خاص اہمیت حاصل کرلی اور حاؔلی کی یادگارِ غالب، حیاتِ سعدی، حیاتِ جاوید، شبلیؔ کی حیاتِ ابوحنیفہ، المامون اور الفاروق وغیرہ سامنے آئیں۔ یہ چیزیں مستقل تصانیف ہیں اور ان میں کسی ایک شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ہر زاویۂ نظر سے دیکھا اور دکھایا گیا ہے۔ ان میں تاریخی اہمیت زیادہ اور کردار نگاری کا عنصر کم ہے۔</p>
<p>مرزا فرحت اللہ بیگ ۱۵؍اگست ۱۸۸۵ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حشمت بیگ تھا۔ ان کے آبا و اجداد شاہ عالم ثانی کے دورِ حکومت میں ۱۸ویں صدی کے آخر میں ہجرت کرکے دہلی پہنچے اور فوج کی ملازمت اختیار کی۔ فرحت نے ابتدا میں مرزا الم نشرح کے قلمی نام سے لکھا۔ عظمت اللہ خاں ان کی تحریروں کی تعریف کرتے اور زور دیتے کہ کوئی زوردار مضمون لکھیے۔ اسی اصرار کے نتیجے میں فرحت اللہ نے مولوی نذیر احمد پر اپنا معرکہ آرا خاکہ لکھا جو کہ آپ کے اصل نام سے چھپا۔ اس مضمون سے اُردو دنیا میں اُن کی دھوم مچ گئی اور وہ یکایک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ فرحت اللہ بیگ نے ۱۹۴۷ء میں وفات پائی۔</p>
<p>خاکہ نگاری اور مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری کے حوالے سے <a target="_blank" href="http://www.scribd.com/doc/21690871/Mirza-Farhat-Ki-Khaka-Nigari" >میرا اسائنمنٹ آن.لائن پڑھیں</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/10/mirzafarhat-khakanigari/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہفتۂِ طلبا میں خطاطی کا اسٹال</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/10/jn-ep14/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/10/jn-ep14/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2009 13:53:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=259</guid>
		<description><![CDATA[ہفتۂِ طلبا کے سلسلے میں 14 اور 15 اکتوبر کو اے۔پی۔ایم۔ایس۔او (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے تحت جمنازیم میں میلہ لگایا گیا تھا۔ میرے دو ہم جماعت علی اور اویس بھی اسی تنظیم کے کارکن ہیں۔ 14؍ اکتوبر کو تذکرہ نکلا تو علی نے کہا کہ اگر وہاں میلے میں کسی چیز کا اسٹال [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہفتۂِ طلبا کے سلسلے میں 14 اور 15 اکتوبر کو <a target="_blank" href="http://www.apmso.org/home.html" >اے۔پی۔ایم۔ایس۔او</a> (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے تحت جمنازیم میں میلہ لگایا گیا تھا۔ میرے دو ہم جماعت علی اور اویس بھی اسی تنظیم کے کارکن ہیں۔ 14؍ اکتوبر کو تذکرہ نکلا تو علی نے کہا کہ اگر وہاں میلے میں کسی چیز کا اسٹال لگانا ہو تو مفت میں لگوادوں گا (ویسے فی اسٹال ڈھائی سو روپے تھا)۔ میں اس دن میلے سے ہوکر آیا تھا، خاصا رش تھا۔سوچا کہ کیوں نہ ابو کی خطاطی کا اسٹال لگوالوں۔ ایسا ایک تجربہ پہلے ایک اسکول والے کرچکے تھے۔ میں نے علی سے بات کی تو اس نے کہا کہ فکر کی بات ہی نہیں، میں انتظام کردوں گا۔ میں نے اُسی وقت ابو کو اطلاع کردی تاکہ وہ بھی اس حساب سے تیاری کرلیں۔</p>
<p>اگلے دن میں تو صبح اپنے وقت پر جامعہ پہنچا کہ صبح اردو کی کلاس تھی۔ ابو سوا دس بجے کے قریب جامعہ پہنچ گئے۔ میں انہیں لے کر جمنازیم پہنچا۔ اویس نے ایک اسٹال کا بندوبست کردیا۔ ابو نے اپنا سارا سامان نکالا، خطاطی کے کچھ نمونے اور اپنی چند پینٹنگز بھی سامنے رکھیں۔ اسٹال یہ تھا کہ آپ اپنا نام خوبصورت انداز میں لکھوائیں، فی نام 20روپے۔ شروع میں تو ایسا لگا جیسے لوگ اس طرف توجہ نہ دیں گے لیکن علی نے کافی ساتھ دیا (حالانکہ ویسے اس سے اتنی زیادہ بنتی نہیں)۔ آدھ/ ایک گھنٹا وہیں کھڑا رہا اور لوگوں کو آواز دے دے کر اس طرف متوجہ کرتا رہا۔ کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہونے دی۔ بعد میں تو پھر ایسا رش لگا کہ ابو کو پانی پینے کا بھی مشکل سے وقت ملتا۔  میرے شعبے میں محفلِ میلاد بھی تھی۔ میری تین ہم جماعتوں تابندہ، اریبہ اور منیبہ کا اسٹال (Personality Test by Dr. Phills) برابر ہی میں لگا تھا۔ انہیں خیال رکھنے کا کہہ کر میں محفلِ میلاد میں چلا گیا کہ وہاں ایک نعت کے لیے نام لکھوایا ہوا تھا (اس کی موبائل سے بنی ہوئی ویڈیو مل سکی تو لگاؤں گا)۔ ان دوستوں نے واقعی کافی ساتھ دیا جس کی وجہ سے بے فکری رہی۔ وہاں سے ایک/ ڈیڑھ گھنٹے بعد واپس آیا تو ابو کام میں مصروف تھے۔۔۔ وہیں گھومتا پھرتا رہا۔ کافی سارے اسٹالز لگے تھے اور خوب ہلّا گلّا تھا۔ مختلف کھیل ہورہے تھے، مہندی لگ رہی تھی، گانے بج رہے تھے، عبایا اور چوڑیوں کی خرید و فروخت جاری تھی، اسکیچ کلب میں ایک نوجوان بیٹھا 15 منٹ اور 150 روپے کے بدلے لوگوں کے خاکے بنارہا تھا۔ دل تو بہت کیا کہ میں بھی بنواؤں مگر ڈیڑھ سو روپے نکالنے کی ہمت نہ ہوئی۔ جامعہ سے عنقریب شایع ہونےوالے میگزین ’’<a target="_blank" href="http://youthexpress.webs.com/" >یوتھ ایکسپریس</a>‘‘ کے اسٹال پر گیا تو وہاں اس کے ایڈیٹر ان۔چیف مرزا نادر بیگ سے پہلی ملاقات ہوئی۔ انہیں میں نے اپنی تحریر ’’<a target="_blank" href="http://raahbar.urdutech.com/?p=65" >انڈا</a>‘‘ بھیجی تھی جس سے یہ خاصے متاثر لگتے ہیں۔</p>
<p>شام سوا چار بجے کے قریب جب رش چھٹنا شروع ہوا اور ہمارے پڑوسیوں نے اسٹال سمیٹا تو ہم نے بھی اپنی دکان بڑھائی اور چل دیے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ لوگوں کا ردِّ عمل خاصا مثبت رہا اور خوشی خوشی گھر واپسی ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/10/jn-ep14/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
