<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia &#187; کتب خانہ</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/category/library/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Sep 2010 20:05:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>ہمدرد نونہال ادب</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 04 Aug 2010 08:42:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[Adab]]></category>
		<category><![CDATA[books]]></category>
		<category><![CDATA[children]]></category>
		<category><![CDATA[Hakim Saeed]]></category>
		<category><![CDATA[Hamdard Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[literature]]></category>
		<category><![CDATA[Masud Ahmad Barkati]]></category>
		<category><![CDATA[Naunehal]]></category>
		<category><![CDATA[Novel]]></category>
		<category><![CDATA[Sadia Rashid]]></category>
		<category><![CDATA[Stories]]></category>
		<category><![CDATA[story]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=407</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے مہینوں میرا جانا آرام باغ کی طرف ہوا تو ’’ہمدرد کتابستان‘‘ دیکھ کر میرا جی للچاگیا۔ ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ سوچا، عرصہ ہوگیا ہے، کیوں نہ ایک چکر اس کا بھی لگالیا جائے۔ اندر گیا تو ترتیب بدلی نظر آئی لیکن کتابیں زیادہ تر پرانی ہی تھیں۔ میں وہی لینے گیا تھا۔ مجھے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پچھلے مہینوں میرا جانا آرام باغ کی طرف ہوا تو ’’ہمدرد کتابستان‘‘ دیکھ کر میرا جی للچاگیا۔ ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ سوچا، عرصہ ہوگیا ہے، کیوں نہ ایک چکر اس کا بھی لگالیا جائے۔ اندر گیا تو ترتیب بدلی نظر آئی لیکن کتابیں زیادہ تر پرانی ہی تھیں۔ میں وہی لینے گیا تھا۔ مجھے میرے گھر والوں نے بچپن سے مطالعے کی عادت ڈالی ہے۔ ابو اکثر اوقات مختلف کتابیں لاکر دیتے رہتے تھے جن میں زیادہ تعداد ہمدرد نونہال ادب کی ہوتی تھی۔<span id="more-407"></span> میرے پاس کتب کا خاصا ذخیرہ تھا جسے سنبھالنا کافی مشکل ہوگیا تھا۔ آٹھویں جماعت میں جب ہم طلبہ نے رضاکارانہ طور پر اپنے کمپیوٹر کے استاد اُسامہ صاحب کے ساتھ پبلک پیراڈائز اسکول میں طلبہ کے لیے ایک لائبریری کھولنے کا فیصلہ کیا تو وہ سب کتب میں نے اس لائبریری کو عطیہ کردی تھیں۔ اس اسکول کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہم نے ایسے کوششیں کی تھیں جسے وہ ہمارا خاندانی اسکول ہو لیکن جب مالکان کی نیت ٹھیک نہ ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔ لہٰذا وہ اسکول مجھ سمیت کئی طلبہ نے ایک سال بعد ہی چھوڑ دیا اور وہ اب بھی بے کار سی حالت میں ہے۔</p>
<p>خیر، قصہ تھا نونہال ادب کی کتابوں کی۔ میں نے چوں کہ تقریباً سبھی کتب اسکول کی لائبریری کو عطیہ کردی تھیں اس لیے میری چھوٹی بہن زینب کو وہ کہانیاں پڑھنے کو نہیں ملیں۔ میرے بعد گھر میں کسی کو مطالعے کا زیادہ شوق بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اس دن ہمدرد کتابستان دیکھ کر میں نے سوچا کہ کچھ پرانی کتب خرید لوں تاکہ بچپن کی یاد بھی تازہ ہوجائے اور بہنوں کو بھی وہ دل چسپ کہانیاں پڑھنے کو ملیں۔ میں نے کتابیں اُٹھانا شروع کیں۔ زیادہ تر 1993ء اور 1994ء کے وقت کی چھپی ہوئی ہیں۔ ہمدرد نونہال ادب کی خاص بات یہ ہے کہ کتابیں بے حد سستی ہیں۔ ساٹھ/ ستّر صفحات کی کتاب دس روپے کی۔ اگرچہ یہ پرانی چھپی ہوئی ہیں اور اس وقت اتنی مہنگی طباعت نہیں تھی لیکن پھر بھی ان کا یہ قدم خوش آئند ہے کہ انہوں نے ان کتابوں کی قیمت جوں کی توں رہنے دی ہے ورنہ ہمارے ہاں پبلشرز کے حال سے کون واقف نہیں۔ میں اے۔حمید کی لکھی 12 کتابوں پر مشتمل خلائی مخلوق سیریز کا مکمل سیٹ خریدنا چاہتا تھا۔ یہ اے۔حمید کا بہترین ناول ہے جس کی کہانی عمران اور شیبا کے گرد گھومتی ہے جو کزنز  ہیں۔ خلائی مخلوق زمین پر اُترتی ہے تو اس کے سگنلز پکڑ لیتے ہیں اور اپنی زمین کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ناول سے بچوں کو بہت سی سائنسی باتوں کا علم ہوجاتا ہے۔ خلائی مخلوق اور اڑن طشتری کی بحث، ٹائم مشین، تاریخی واقعات اور بہت کچھ اس داستان میں سمویا ملتا ہے ساتھ ہی اچھی باتیں اور پند و نصائح بھی۔ افسوس اس سیریز کی  دو، تین کتابیں ان کے پاس نہیں تھیں۔ انہوں نے مجھے پیشکش کی کہ 9کتابیں 85 روپے کی عوض خرید لوں لیکن میرے لیے وہ نامکمل ہونے کے سبب اتنی سود مند نہیں تھیں۔ اس کے بجائے میں نے اے۔حمید کی لکھی 7 کتابوں پر مشتمل ’’نامور مسلمان طبیب اور عالم‘‘ سیریز اٹھائی جس کی تمام کتب موجود تھیں۔ یہ بہت دل چسپ ناول ہے۔</p>
<p>بہت سی کتب ایسی تھیں جن کا میں نے پوچھا مگر مجھے بتایا گیا کہ اب وہ ختم ہوگئی ہیں۔ آپ ہمدرد کتابستان میں داخل ہوں تو اندر موجود دو بزرگوں کے چہرے پر جیسے رونق آجاتی ہے۔ وہ بڑی خوشی سے آپ کو مختلف کتابیں پیش کرتے ہیں کہ یہ دیکھیں، یہ آپ نے پڑھی ہے؟ یہ بہت اچھی ہے، اسے دیکھیں۔ بے چارے دونوں حضرات اکثر اوقات فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر آپ کتابیں لینے جارہے ہیں تو آپ اطمینان کرلیں کہ آپ کے پاس کھلے پیسے موجود ہیں کیوں کہ وہاں جب کچھ آمدنی ہی نہیں ہوتی تو کھلے پیسے کہاں ہوں گے۔</p>
<p>میں نے ہمدرد کی شائع کردہ دو کتب، ’’مونٹی کرسٹو کا نواب‘‘ اور ’’سائنس دان کا اغوا‘‘ آن۔لائن رکھی تو ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ باقی کتب پر کام کرنے سے پہلے مسعود احمد برکاتی صاحب یا سعدیہ راشد صاحبہ سے باقاعدہ اجازت لے لوں۔ مجھے ابھی تک اپنی مصروفیات اور زندگی کے بکھیڑوں سے فرصت نہیں مل پارہی کہ ان سے ملاقات کا وقت لوں۔</p>
<p>میں نے ہمدرد کتابستان سے جو کتب خریدیں، ان میں سے چند کا مختصر تعارف:<br />
1۔ پُراسرار مکان: یہ کہانی ہے دو بھائیوں عمران، رضوان اور ایک بہن شازیہ کی۔ والدہ کے انتقال کے بعد اُن کے والد نے اُنہیں خالہ صفیہ کے پاس لندن بھیج دیا۔ خالہ صفیہ کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔ انہوں نے اپنے گھر کو بورڈنگ ہاؤس میں تبدیل کررکھا تھا۔ اگر کوئی مہمان رکنے آجاتا تو ان کو گزر بسر کے لیے کچھ آمدنی ہوجاتی۔ ان کے ہاں دو پُراسرار مہمان شیرازی صاحب اور نور جہاں بیگم عرصے سے رہائش پذیر تھے۔ پڑوس کا مکان خالی تھا۔ وہاں انہیں ایک لڑکی دکھائی دی۔ وہ لڑکی کون تھی، اس سے ملنے کے بعد کیا ہوا، لڑکی نے جھوٹ کیوں بولے، خالہ صفیہ کے ہاں تین بہن بھائی کیا کرتے رہے، انہی واقعات پر مشتمل یہ دل چسپ کہانی ظفر محمود نے تحریر کی ہے۔128 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت صرف 12روپے ہے۔ (میں اس کا نسبتاً صاف نسخہ اُٹھالیا، شاید ہی کوئی نسخہ اب اچھی حالت میں موجود ہو۔)</p>
<p>2۔ انسان اور شیطان: یہ رابرٹ لوئی اسٹیونسن کی مشہور کہانی ’’ڈاکٹر جیکال اور مسٹر ہائیڈ‘‘ کا خلاصہ ہے جسے رفیع الزمان زبیری نے اردو زبان میں بہت خوب ڈھالا ہے۔ کہانی بہت دل چسپ ہے اور اس موضوع کو کئی فلموں میں بھی فلمایا جاچکا ہے کہ ڈاکٹر ہنری جیکال ایک تجربے کے ذریعے ایسی دوا بنالیتا ہے جو انسان کی اچھی اور بری شخصیت کو علاحدہ کرسکتی ہے۔ جب وہ دوائی ایک مرتبہ استعمال کرتا ہے تو اس کے اندر کا برا انسان ظاہر ہوجاتا ہے، دوسری بار استعمال پر اچھا انسان واپس۔ بری شخصیت ابتدا میں کمزور ہوتی ہے کیوں کہ ڈاکٹر ہنری جیکال ایک اچھا ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن بعد میں اس کی بری شخصیت جب رات کے اندھیرے میں شہر کی سڑکوں پر آزادی سے برے کام کرتی پھرتی ہے تو اس کی اچھی شخصیت پر بُری شخصیت غالب آنے لگتی ہے اور اس قدر طاقتور ہوجاتی ہے کہ دوائی کے بغیر ہی اس کی اچھی شخصیت پر بری شخصیت ظاہر ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر جیکال کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ کیا طریقہ استعمال کرتا ہے، یہ سب بہت ہی دل چسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ 52صفحات پر مشتمل اس رسالے کی قیمت صرف 8روپے ہے۔</p>
<p>3۔ شاہی خزانہ: یہ کہانی محمد سعید اختر نے تحریر کی ہے جس میں صابر حسین اور سلطان ایک چھپے ہوئے خزانے کو کھوجنے نکلتے ہیں۔ راستےمیں کتنی مشکلات آتی ہیں اور انجام کیا ہوتا ہے، یہ سبق آموز کہانی 64صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت 10روپے ہے۔</p>
<p>4۔ ہلتا ہوا مکان: یہ توراکینہ قاضی کی لکھی چند کہانیوں کا انتخاب ہے۔ صفحات:56 قیمت:10روپے</p>
<p>5۔ نامور مسلمان طبیب اور عالم سیریز: یہ اے۔حمید کی لکھی ہوئی دل چسپ طویل کہانی ہے۔ اس میں شہزاد ایک جن کے بچّے سانچی سے ملتا ہے اور اسے سامری جادوگر کی قید سے رہائی دلاتا ہے۔ اس احسان کے بدلے میں سانچی اس سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کی کوئی ایک خواہش پوری کردے گا۔ شہزاد یہ خواہش کرتا ہے کہ اس کی ملاقات ماضی کے عظیم مسلمان اطبا و علما سے کروادے۔ چنانچہ سانچی اپنے وعدے کے مطابق اس کی خواہش پوری کرتا ہے۔ پہلی کتاب میں حکیم زکریا رازی، دوسری کتاب میں ابوالبرکات بغدادی، تیسری کتاب میں البیرونی، چوتھی میں ابنِ سینا، پانچویں میں ابوعلی الحسن ابن الہیثم، چھٹی میں ابنِ رُشد اور ساتویں کتاب میں جابر بن حیان سے ملاقات ہوتی ہے۔ سات کتابوں پر مشتمل یہ مکمل سیٹ آپ کو تقریباً 85 روپے میں مل جائے گا۔ اس میں بچوں کو نہ صرف عظیم مسلمان سائنس دانوں کی شخصیت، کارناموں اور واقعات سے دل چسپ انداز میں روشناس کرایا گیا ہے بل کہ اس میں دوسرے واقعات بھی اتنے سحر انگیز ہیں کہ پڑھنے والے بچے کو چھوڑنے کا دل نہیں کرتا (اگر اسے مطالعہ کا شوق ہو)۔</p>
<p>اس کے علاوہ وہ کتابیں جو مجھے ملی نہیں اور مجھے ان کتب کے پچھلے صفحے پر اُن کے سرورق دیکھ کر اُن کی یاد آرہی ہے، وہ کروڑ پتی فقیر، بیس سال بعد، عمون کی تباہی، جادو نگری، پتھر کی گڑیا وغیرہ ہیں۔ عمون کی تباہی اور جادونگری تو کمال کی کہانیاں تھیں۔ افسوس مجھے نہیں مل سکیں۔</p>
<p>میں نے کُل 13، 14 کتابیں خریدی تھیں اور کُل میزانیہ 150روپے سے بھی کم کا بنا تھا۔ اب اور کیا چاہیے؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کتاب: سائنس دان کا اغوا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/01/book-missing-scientist/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/01/book-missing-scientist/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 02 Jan 2010 08:33:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[book]]></category>
		<category><![CDATA[books]]></category>
		<category><![CDATA[digital book]]></category>
		<category><![CDATA[Hamdard Foundation]]></category>
		<category><![CDATA[pdf]]></category>
		<category><![CDATA[story]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=308</guid>
		<description><![CDATA[منظرنامہ کے تحت چلنے والی مہم ’’ایک بلاگر۔ایک کتاب‘‘ گذشتہ کچھ عرصے سے خاصی سست روی کا شکار ہے۔ میں نے سوچا کہ ٹھہرے پانی میں دوبارہ سے پتھر پھینکنے کا کام کیوں نہ میں ہی انجام دے ڈالوں۔ ایس ایف اسٹیوینس کی دل چسپ جاسوسی کہانی The Missing Scientist کا اردو ترجمہ بہ عنوان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a target="_blank" href="http://www.manzarnamah.com/" >منظرنامہ</a> کے تحت چلنے والی مہم ’’<a target="_blank" href="http://www.manzarnamah.com/muhim-eik-blogger-eik-kitab/" >ایک بلاگر۔ایک کتاب</a>‘‘ گذشتہ کچھ عرصے سے خاصی سست روی کا شکار ہے۔ میں نے سوچا کہ ٹھہرے پانی میں دوبارہ سے پتھر پھینکنے کا کام کیوں نہ میں ہی انجام دے ڈالوں۔</p>
<p>ایس ایف اسٹیوینس کی دل چسپ جاسوسی کہانی <a target="_blank" href="http://www.buy.com/prod/the-missing-scientist/q/loc/106/207666604.html" >The Missing Scientist</a> کا اردو ترجمہ بہ عنوان ’’سائنس دان کا اغوا‘‘ (مترجم: ظفر محمود) نونہال ادب، ہمدرد فاؤنڈیشن پریس، کراچی نے شائع کیا تھا۔ اس کو آن.لائن پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں.  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>Scribd پر <a target="_blank" href="http://www.scribd.com/doc/24689355/The-Missing-Scientist-Urdu" >پی.ڈی.ایف پڑھیں</a><br />
ای.اسنپس سے <a target="_blank" href="http://www.esnips.com/doc/28859d23-43d4-49f8-a4b6-0dc2fe5bfbda/The-Missing-Scientist" >ورڈ ڈاکیومنٹ ڈاؤن لوڈ</a><br />
ای.اسنپس سے <a target="_blank" href="http://www.esnips.com/doc/7c2043d4-aaf1-4d07-8ee7-9df785036a25/The-Missing-Scientist" >پی.ڈی.ایف ڈاؤن لوڈ</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/01/book-missing-scientist/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یوتھ ایکسپریس</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/11/youth-express/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/11/youth-express/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 17 Nov 2009 11:20:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[magazine]]></category>
		<category><![CDATA[poem]]></category>
		<category><![CDATA[story]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[youth]]></category>
		<category><![CDATA[Youth Express]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=282</guid>
		<description><![CDATA[14 اکتوبر 2009ء، سنیچر، ایک یادگار دن جب جامعہ کراچی کے آڈیو ویژول سینٹر میں نوجوانوں کی آواز ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کی تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ تقریب کی نظامت (کمپیرئنگ) کے فرائض انجام دینے والوں میں ایک موصوف مابدولت بھی تھے۔ میگزین کے ایڈیٹر ان چیف مرزا نادر بیگ سے میرا تعارف بس اچانک [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://youthexpress.webs.com/fw-profile-image.jpg" alt="Youth Express" /></p>
<p>14 اکتوبر 2009ء، سنیچر، ایک یادگار دن جب جامعہ کراچی کے آڈیو ویژول سینٹر میں نوجوانوں کی آواز ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کی تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ تقریب کی نظامت (کمپیرئنگ) کے فرائض انجام دینے والوں میں ایک موصوف مابدولت بھی تھے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>میگزین کے ایڈیٹر ان چیف مرزا نادر بیگ سے میرا تعارف بس اچانک ہی ہوا۔ گذشتہ ماہ میں نے جامعہ میں مختلف جگہ ایک اعلان چسپاں دیکھا کہ ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کا اجرا کیا جارہا ہے جس کے لیے تحاریر ارسال کی جاسکتی ہیں۔ میں نے ان کے دیے ہوئے ای۔میل پتے پر ربطہ کیا تو مرزا نادر بیگ کا حوصلہ افزا جواب آیا۔ میں نے اپنی ایک پرانی تحریر ’’انڈا‘‘ ارسال کی تو مرزا صاحب خاصے متاثر ہوئے۔ شروع میں کافی تکلفات ملحوظ رکھے کیوں کہ مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اس میگزین کا جامعہ سے کوئی تعلق ہے۔ پھر جب نادر سے پہلی ملاقات ہوئی تو بالکل ہی الٹ ماجرا تھا۔ یہ صاحب تو مجھ سے بھی آٹھ/ نو ماہ چھوٹے نکلے۔ شعبۂِ سیاسیات (پولیٹکل سائنس) کے دوسرے سال میں زیرِ تعلیم۔ نادر کے توسط سے باقی دوستوں سے بھی شناسائی ہوئی۔ سلیم انصاری، شاہ ولی، عباد، احسن، طلحہ، جبران، ماہین علی وغیرہ۔۔۔ نادر نے میگزین کی تکمیل کے تمام مراحل میں سب کو ساتھ رکھنے کی کوشش کی اور آخر ہم ایک اچھی ابتدا کرنے میں کامیاب ہوئے الحمدللہ۔<br />
<span id="more-282"></span></p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-c.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs001.snc3/10861_1052817175959_1691691211_109561_7728013_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Mirza Nadir Baig" src="http://photos-c.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs001.snc3/10861_1052817175959_1691691211_109561_7728013_n.jpg" alt="" width="378" height="503" /></a><br />
مرزا نادر بیگ</p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-f.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_179120183947_824638947_2765563_3963054_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Youth Express Team" src="http://photos-f.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_179120183947_824638947_2765563_3963054_n.jpg" alt="" width="499" height="374" /></a><br />
تقریبِ اجرا کے اختتام پر یوتھ ایکسپریس ٹیم</p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-h.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_178402533947_824638947_2760137_2720503_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Launching Ceremony of Youth Express" src="http://photos-h.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs120.snc3/16731_178402533947_824638947_2760137_2720503_n.jpg" alt="" width="490" height="367" /></a></p>
<p><a target="_blank" href="http://photos-a.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs100.snc3/16731_178402563947_824638947_2760139_2749920_n.jpg" ><img class="alignnone" title="Audience" src="http://photos-a.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc3/hs100.snc3/16731_178402563947_824638947_2760139_2749920_n.jpg" alt="" width="496" height="372" /></a></p>
<p>تقریب کے شرکا</p>
<p><object width="499" height="317" ><param name="allowfullscreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="movie" value="http://www.facebook.com/v/178378648947" /><embed src="http://www.facebook.com/v/178378648947" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="499" height="317"></embed></object><br />
میگزین کی تقریبِ رونمائی</p>
<p><object width="499" height="317" ><param name="allowfullscreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="movie" value="http://www.facebook.com/v/178414898947" /><embed src="http://www.facebook.com/v/178414898947" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="499" height="317"></embed></object><br />
مرزا نادر بیگ کو اظہارِ خیال کی دعوت دیتے ہوئے</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/11/youth-express/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/10/mirzafarhat-khakanigari/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/10/mirzafarhat-khakanigari/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 10:52:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[Assignment]]></category>
		<category><![CDATA[Khaka Nigari]]></category>
		<category><![CDATA[literature]]></category>
		<category><![CDATA[Mirza Farhat Ullah Baig]]></category>
		<category><![CDATA[Mirza Farhatullah]]></category>
		<category><![CDATA[Research]]></category>
		<category><![CDATA[scetch]]></category>
		<category><![CDATA[urd]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=265</guid>
		<description><![CDATA[خاکہ وہ تحریر ہے جس میں خاکہ نگار کسی انسان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کرے کہ وہ شخصیت قاری کو ایک زندہ شکل میں نظر آئے اور خاکہ نگار نے اس انسان کی زندگی کا جس قدر مشاہدہ کیا ہو، غیر جانب داری سے اس سے متعلقہ حالات و واقعات [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>خاکہ وہ تحریر ہے جس میں خاکہ نگار کسی انسان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کرے کہ وہ شخصیت قاری کو ایک زندہ شکل میں نظر آئے اور خاکہ نگار نے اس انسان کی زندگی کا جس قدر مشاہدہ کیا ہو، غیر جانب داری سے اس سے متعلقہ حالات و واقعات کو قاری کے مطالعہ میں لے آئے۔</p>
<p>شخصیت نگاری کی تاریخ نئی نہیں ہے۔ البتہ زمانۂ قدیم میں یہ فن صرف بادشاہوں، نوابوں، راجاؤں یا مذہبی شخصیات کے حالاتِ زندگی لکھنے تک محدود تھا۔ یہ حالاتِ زندگی سوانحِ عمری کی صورت رقم کیے جاتے اور ان میں کئی جگہ لکھنے والے کی جانب داری نمایاں ہوتی کیوں کہ ایسی تحاریر عموماً کسی خاص مقصد کے تحت لکھی جاتیں یعنی مصنف کا مطمحِ نظر کسی شخصیت سے عقیدت یا لگاؤ کے سبب اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا رنجش و عداوت کے سبب اس پر الزام تراشی اور اس کی کردار کُشی کرنا ہوتا تھا۔ ایسی سوانحِ عمریوں کے مقابلے میں بہرحال خاکہ نگاری ایک نئی صنف ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر جمیل جالبی (پ۱۹۲۹ء) لکھتے ہیں:<br />
اردو ادب میں خاکہ، مختصر افسانہ کی طرح، ایک نئی صنف ہے۔ اس سے پہلے ہمیں طویل سوانح عمریاں تو ملتی ہیں لیکن اُن کی حیثیت عام طور پر ادبی کم اور تاریخی زیادہ ہے۔غاؔلب کے فوراً بعد کے دور میں سوانح نگاری نے ایک خاص اہمیت حاصل کرلی اور حاؔلی کی یادگارِ غالب، حیاتِ سعدی، حیاتِ جاوید، شبلیؔ کی حیاتِ ابوحنیفہ، المامون اور الفاروق وغیرہ سامنے آئیں۔ یہ چیزیں مستقل تصانیف ہیں اور ان میں کسی ایک شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ہر زاویۂ نظر سے دیکھا اور دکھایا گیا ہے۔ ان میں تاریخی اہمیت زیادہ اور کردار نگاری کا عنصر کم ہے۔</p>
<p>مرزا فرحت اللہ بیگ ۱۵؍اگست ۱۸۸۵ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حشمت بیگ تھا۔ ان کے آبا و اجداد شاہ عالم ثانی کے دورِ حکومت میں ۱۸ویں صدی کے آخر میں ہجرت کرکے دہلی پہنچے اور فوج کی ملازمت اختیار کی۔ فرحت نے ابتدا میں مرزا الم نشرح کے قلمی نام سے لکھا۔ عظمت اللہ خاں ان کی تحریروں کی تعریف کرتے اور زور دیتے کہ کوئی زوردار مضمون لکھیے۔ اسی اصرار کے نتیجے میں فرحت اللہ نے مولوی نذیر احمد پر اپنا معرکہ آرا خاکہ لکھا جو کہ آپ کے اصل نام سے چھپا۔ اس مضمون سے اُردو دنیا میں اُن کی دھوم مچ گئی اور وہ یکایک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ فرحت اللہ بیگ نے ۱۹۴۷ء میں وفات پائی۔</p>
<p>خاکہ نگاری اور مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری کے حوالے سے <a target="_blank" href="http://www.scribd.com/doc/21690871/Mirza-Farhat-Ki-Khaka-Nigari" >میرا اسائنمنٹ آن.لائن پڑھیں</a>.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/10/mirzafarhat-khakanigari/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پیلی چھتری والی لڑکی. ایک منفرد افسانہ</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/07/peeli-chatri-wali-larki/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/07/peeli-chatri-wali-larki/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 07 Jul 2009 10:50:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[haider jafari syed]]></category>
		<category><![CDATA[hindi]]></category>
		<category><![CDATA[peeli chatri]]></category>
		<category><![CDATA[uday prakash]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=227</guid>
		<description><![CDATA[برصغیر کی سیاست میں تقریباً ہمیشہ ہی فرقہ وارانہ پہلو کہیں نہ کہیں نمایاں ضرور رہا ہے۔ یہ فرقہ واریت کبھی لسانی رُخ اختیار کرلیتی ہے تو کبھی علاقائی، کبھی مذہبی تو کبھی ثقافتی۔ بیشتر مؤرخین بھی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایسے فرقہ وارانہ موضوعات پر اپنی جانبداری کا ثبوت دانستہ یا نادانستہ دے جاتے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>برصغیر کی سیاست میں تقریباً ہمیشہ ہی فرقہ وارانہ پہلو کہیں نہ کہیں نمایاں ضرور رہا ہے۔ یہ فرقہ واریت کبھی لسانی رُخ اختیار کرلیتی ہے تو کبھی علاقائی، کبھی مذہبی تو کبھی ثقافتی۔ بیشتر مؤرخین بھی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایسے فرقہ وارانہ موضوعات پر اپنی جانبداری کا ثبوت دانستہ یا نادانستہ دے جاتے ہیں۔ برصغیر کی موجودہ سیاست، ذات پات، اونچ نیچ اور طبقاتی تقسیم کے عام فرد پر پڑتے اثرات اجاگر کرنے میں معروف مصنف اُدے پرکاش (نئی دلّی) کا افسانہ ’’پیلی چھتری والی لڑکی‘‘ موجودہ دور میں ایک مثبت اور حوصلہ افزا کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔<br />
<span id="more-227"></span></p>
<p>’’پیلی چھتری والی لڑکی‘‘ایک 23 سالہ لڑکے راہل کی سادہ سی داستانِ محبت ہے جس کی آڑ میں اُدے پرکاش نے سیاسی نظام کی خرابیوں، سرمایہ دارانہ نظام کی سازشوں، ذات پات کے جھگڑوں اور  سیاست دانوں اور مجرموں کے درمیان قریبی تعلقات کو اُجاگر کیا ہے۔ نامیاتی کیمیا (Organic Chemistry) میں ایم ایس سی کرنے کے بعد راہل نے اپنے معاشرہ میں ایسی کیا چیز دیکھی جو اُسے اپنا مضمون بے کار لگنے لگا اور اُس پر بشریات (Anthropology) میں ماسٹرز کرنے کا بھوت سوار ہوا اور کیا وجہ تھی کہ بعد ازاں اُس نے یہ شعبہ چھوڑ کر ہندی کے شعبے میں داخلہ لے لیا جسے ناکام ترین طلبا کا مقام سمجھا جاتا تھا۔ </p>
<p>اُدے پرکاش کے افسانے کے کردار غیر مرئی یا اچھوتے نہیں۔ وہ ہماری ہی دنیا کے عام افراد ہیں۔ اُن کی سوچ، اُن کے مطالبے، اُن کی خواہشات ہماری ہی طرح ہیں۔ اُن کے ساتھ بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ غیر محسوس طور پر سیاست سے ان کا کوئی نہ کوئی ربط ہو ہی جاتا ہے۔ وہ ہندو۔مسلم فسادات اور پاک۔ہند دشمنی کی حقیقت کھوجنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ افسانہ میں ایک مقام پر یہ مکالمے ہیں: </p>
<blockquote><p>’’اسپانسرڈ نیشنل ازم! ہیمنت! مجھے یہ تو بتا، کبھی تُو نے کوئی ایسا نیشنل ازم دیکھا ہے جو صرف ایک ہی کنٹری (ملک) کے معاملے میں دِکھائی دیتا ہے؟‘‘ راہل نے پوچھا۔<br />
’’مطلب؟‘‘ ہیمنت نے پوچھا۔<br />
’’مطلب یہ کہ اس نیشنل ازم کے معاملے میں ہر بار اور ہمیشہ پاکستان ہی کیوں ہوتا ہے؟ کسی بھی دوسرے طاقت ور ملک کے سامنے، جنہوں نے ہمیں غلام بنایا، ہتھیاروں سے بھرے جہازی بیڑے اِس ملک کو ختم کرنے کے لیے بھیجے، جن کے عطا کردہ ہتھیاروں سے ہمارے اتنے سارے لوگ مرے۔۔۔ اُن کے سامنے نیشنل ازم کیوں پیدا نہیں ہوگا؟ ایک لمبی سی چاپلوس دُم کیوں مسلسل ہلتی نظر آتی ہے؟‘‘<br />
راہل برانگیختہ تھا۔</p></blockquote>
<p>اِس سے اگلی سطور مزید سوچنے پر مجبور کرتی ہیں:</p>
<blockquote><p>وہ سوچ رہا تھا کہ پہلے کے سارے حوالے منسوخ ہوچکے ہیں اور کیا واقعی تاریخ کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ یا پھر اس ملک کے حکمرانوں اور شہریوں کی یادداشت ہی برباد ہوچکی ہے۔ یا یہ دور ہی ایک بالکل بدلا ہوا دور ہے، یہ ایک نئی دنیا ہے۔ ایک نیا عالمی نظام اس میں ماضی کے سارے حوالے غیر مربوط ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہے تو ابھی پوکھرن میں بم پھوڑنے کے ساتھ اور کارگل یا کشمیر کے معاملے میں اِسی ماضی کی ’قوم پرستی‘ کو کیوں پیدا کیا گیا؟ کیا یہ سچ مچ کی قوم پرستی ہے یا ایک طرح کی گروہی نفرت؟ ایک متعین اِرادے سے جگائی گئی فرقہ وارانہ نفرت؟ اگر مان لیں کہ انگلینڈ اور امریکہ کے معاملے میں تاریخ کے سارے حوالے بدل چکے ہیں تو بابر یا اورنگ زیب کے زمانے کے معاملات کو کیوں بار بار جگایا جارہا ہے۔ اگر بابری مسجد ایک غلط ڈھانچا تھی تو لٹین کا بنوایا گیا وائسراے ہاؤس کیوں غلط نہیں ہے جس میں اس ملک کا صدر رہتا ہے؟ انڈیا گیٹ کیوں غلط نہیں ہے جہاں ابھی کچھ سال پہلے، آزادی کے پچاس سال پورے ہونے پر اے آر رحمٰن نے ’’ماں تجھے سلام‘‘ گایا تھا اور خوب جشن منایا گیا تھا۔ اگر دلّی کے اس ڈھانچے کو نہیں توڑا گیا تو ایودھیا کے اِس ڈھانچے کو کیوں توڑا گیا؟</p></blockquote>
<p>افسانے میں جابجا سیاسی بحث ہونے کے باوجود قاری کہانی کے سحر میں گرفتار رہتا ہے۔ ایک طرف اگر قاری کی فکر کو جگایا جاتا ہے تو دوسری طرف راہل اور انجلی جوشی کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ</p>
<blockquote><p>راہل نے تین کتابیں اِشو کرائیں۔ ’ہندی ساھتیہ کا اتہاس‘ مصنف رام چندر شکلا، ’انام داس کا پوتھا‘ مصنف ہزاری پرشاد دویدی اور نرالا کی ’رچنا ولی‘ کا پہلا حصہ جس میں اُن کی کویتا ’رام کی شکتی پوجا‘ موجود تھی۔ جب وہ لائبریری سے نکل کر ڈپارٹمنٹ کی طرف جارہا تھا تو ایک پل کو اُس نے سوچا، ایسا کیوں ہے کہ ان تینوں کتابوں کے مصنف برہمن ہیں۔<br />
اور انجلی؟<br />
وہ صوبے کے شعبۂ تعمیراتِ عامہ کے وزیر ایل اے جوشی کی بیٹی۔ وہ بھی تو؟ یہ کیسا تضاد ہے۔ جو ذات اُسے اور اُس کے جیسے بے شمار لوگوں کو مٹا ڈالنا چاہتی ہے، جس کی بداخلاقی، بے انصافی اور بدکرداری کی وجہ سے یہ سارا دور کراہ رہا ہے، اُسی ذات کے مصنفوں کی وہ کتابیں پڑھ ررہا ہے اور اُسی ذات کی ایک لڑکی اُس کے دل کی حیاتیاتی گھڑی میں ٹک ٹک، ٹک ٹک کے ساتھ ہر پل دھڑک رہی ہے۔</p></blockquote>
<p>افسانہ ’’پیلی چھتری والی لڑکی‘‘ ہمیں سیاست دانوں اور مجرموں کے گٹھ جوڑ کی ایک جھلک دِکھاتا ہے کہ کس طرح ایک مخصوص طبقہ، غریب عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر خود عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اِس سماج میں جینے کا طریقہ؟ چاپلوسی اور خوشامد۔ </p>
<p>اُدے پرکاش کا یہ افسانہ ہندی زبان سے حیدر جعفری سید نے اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے جو شہرزاد، کراچی سے 2002ء میں شائع ہوا۔ 166 صفحات کے اِس افسانے کی قیمت صرف 70 روپے ہے۔ اِس افسانے کا مطالعہ یقیناً آپ کے لیے بھی ایک دلچسپ تجربہ ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/07/peeli-chatri-wali-larki/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بیسواں خط</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/04/20th-letter/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/04/20th-letter/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 09 Apr 2009 14:03:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=199</guid>
		<description><![CDATA[پرسوں والا نکاح کا پیام ابھی بھولی نہیں ہوں، میں جانتی ہوں تم مردوں کی۔۔۔ جو اس قدر انسان نہیں ہوتے جس قدر حیوان ہوتے ہیں۔ محبت کیا ہوتی ہے۔۔۔ نکاح کے پہلے تم لوگوں کو ہم سے وہ محبت ہوتی ہے جو مکڑی کو مکھی سے۔ ’’آ، میری جان! میرے غریب خانے میں قدم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<blockquote><p>پرسوں والا نکاح کا پیام ابھی بھولی نہیں ہوں، میں جانتی ہوں تم مردوں کی۔۔۔ جو اس قدر انسان نہیں ہوتے جس قدر حیوان ہوتے ہیں۔ محبت کیا ہوتی ہے۔۔۔ نکاح کے پہلے تم لوگوں کو ہم سے وہ محبت ہوتی ہے جو مکڑی کو مکھی سے۔ ’’آ، میری جان! میرے غریب خانے میں قدم رنجہ فرما! آ، اے مہمانِ عزیز! میں تیرے لیے بے چین ہوں۔‘‘ مکڑی کہتی ہے۔اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، معلوم ہے۔ یہ تو نکاح سے پہلے کی باتیں ہیں۔ پھر نکاح کے بعد مرد کو عورت سے جو محبت ہوتی ہے وہ ایسی ہے جیسی مالک کی محبت اپنے پنجرے میں پلے ہوئے طوطے اور مینا کے ساتھ، گھر کی بلّی کے ساتھ، گھر کے کتے کے ساتھ! مالک اگر خوش ہے تو طوطے کے پنجرے میں مزیدار پھل رکھے ہوئے ہیں، بلّی کے سامنے دودھ کا بھرا پیالہ رکھا ہے، کتے کو دسترخوان کے بہترین لقمے مل رہے ہیں۔ پھر جو ’’سرکار‘‘ کو غصہ آیا، مزاج بگڑا تو طوطے کا پنجرا ٹھکرایا جارہا ہے، بلّی مار کھارہی ہے، کتے کی کمر پر چابک پڑ رہے ہیں! ہم عورتیں تمہارے گھروں میں نرم کھال والی پالتو بلیاں ہیں جو گھر کی دیواروں کے اندر خُر خُر کرتی پھرتی ہیں۔ جب دیکھا کہ مالک خوش ہے تو اُس کی گود میں چڑھ گئیں لیکن اگر مالک کی نظر بدل گئی، مزاج برہم ہوا تو ہم گود اور بستر سے نکال کر پھینک دی جاتی ہیں، چھپتی پھرتی ہیں، ہماری مجال نہیں کہ سامنے آئیں۔ کہیں باورچی خانے کے کسی کونے میں، کہیں کسی اندھیری کوٹھری میں چھپی ہوئی پڑی ہیں۔ ہر وقت دھتکار دیے جانے کا اندیشہ ہمارے دلوں کو لپٹا ہوتا ہے۔ دراصل گھر کی چاردیواری میں بیویاں اونچے درجہ کی کنیز ہوتی ہیں۔ ’’سرکار‘‘ ان کو دسترخوان پر بٹھالیتے ہیں، اپنے بستر میں سلالیتے ہیں، اچھے اچھے لباس اور زیور عطا فرماتے ہیں تو یہ سب ’’سرکار‘‘ کا کرم ہے۔ بیویوں کا کام یہ ہے کہ عاجزانہ شکریہ کے ساتھ ان نوازشوں کو قبول کریں اور ہمیشہ دست بدعا رہیں۔ اس لیے کہ ’’سرکار‘‘ ہی کے دم سے اُن کا سہاگ قائم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>مرد جب عورت اپنے بستر کے لیے عورتیں تلاش کرتا ہے تو اس کو سب سے زیادہ فکر یہ ہوتی ہے کہ عورت حسین ہو۔ چاہے وہ خود کتنا ہی مکروہ صورت ہو، مگر عورت حسین چاہتا ہے۔نکاح سے پہلے وہ لڑکی کی صورت دیکھ کر مطمئن ہوجانا چاہتا ہے۔ مگر کبھی اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اگر عورتیں بھی شادی سے پہلے مرد کی صورت دیکھ لینا چاہیں تو کیا گناہ ہے؟ کیا بھیڑ بکریاں ہم ہی ہیں کہ تم ذبح کرنے سے پہلے ہماری کھال کو دیکھتے ہو کہ ڈھلی ہوئی تو نہیں؟ ہماری عمر معلوم کرتے ہو کہ بوڑھی تو نہیں، ہمارے ہاتھ پاؤں دیکھتے ہو کہ دُبلی تو نہیں؟ مہروں پر جھگڑتے ہو، قیمتی جہیز مانگتے ہو! اور اس طرح اپنے من کا سودا کرنا چاہتے ہو۔۔۔!</p>
<p>میں تم سے پوچھتی ہوں کیا وجہ ہے کہ ایک دن وہ نہ آئے کہ ہم بھی مردوں کو اسی طرح اپنے سامنے حاضر کرکے نہ جانچیں اور پرکھیں، کٹم خانوں میں عورتوں کے بجائے مرد رکھے جائیں اور عورتیں جاکر ان کا بھاؤ طے کیا کریں، وہ سب ہمارے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں اور ہم بھی مردوں کی طرح سنگ دل اور بے حیا ہوکر ان پر تبصرہ کیا کریں!<br />
’’یہ کالا ہے!‘‘<br />
’’یہ بھدا ہے!‘‘<br />
’’یہ کانا ہے!‘‘<br />
’’اس کی آنکھ ٹیڑھی ہے، کان بڑے بڑے ہیں!‘‘<br />
’’اُس کی داڑھی میں الجھٹے ہیں!‘‘<br />
’’یہ گنجا ہے۔‘‘<br />
’’اس کا سانس متعفن ہے۔ اس کے دانت میلے ہیں۔‘‘</p>
<p>پھر تم سے ہماری عصمت کے مکار ٹھیکہ دارو! ایسا خوفناک انتقام لیا جائے کہ آسمان کے فرشتے تمہارا حال دیکھ کر کانپنے لگیں۔ صدیاں اس طرح گزر جائیں اور تم غلامی کی زنجیروں میں اسی طرح جکڑے ہوئے عورتوں کے سامنے جھکائے جاؤ جس طرح آج تم بے دست و پا عورتوں کو جھکاتے ہو، کچلتے ہو، پیستے ہو۔ آج ہم تمہارے وہ غلام ہیں جو ریگستانوں میں پتھر ڈھوتے ہیں تاکہ تمہارا فتح مینار تعمیر ہوسکے۔ ہمارے شانوں پر تمہارے چابک پڑتے ہیں تاکہ ہم تمہارے گناہوں کا بوجھ اُٹھانے سے انکار نہ کرسکیں۔ انکار کا ایک سانس بھی نہ لے سکیں، ہم دریاؤں میں پھینکتے جاتے ہیں تاکہ تم جیسے مگر مچھ اپنی غذا پائیں۔ دیوتاؤں کی قربان گاہ پر رکھے جاتے ہیں تاکہ دیوتاؤں کا چہرہ ہمارے  خون سے گُل رنگ کیا جاسکے۔ پھر تمہاری فتح کے بعد جب ہم زخموں سے چور ہوکر میدانِ جنگ میں سسکتے ہوتے ہیں تو تمہارے صبا رفتار گھوڑے ہمیں روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں! کیا وہ دن کبھی نہ آئے گا کہ عورتیں تمہاری ہوس بھری آنکھوں میں سلائی پھیر کر تم کو اندھا کردیں تاکہ تمہاری بے شرم آنکھ اُن کے حسن کو دیکھ ہی نہ سکے! تمہارے کانوں میں گرم تیل ڈال کر تم کو بہرہ کردیں تاکہ وہ پھر کبھی عورت کی موسیقی سے آشنا نہ ہوں! تمہارے جسموں کو آگ اور دھوپ میں اس طرح خشک کردیں کہ تمہاری ہڈیوں میں بھی نم باقی نہ رہے۔</p></blockquote>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>آپ شاید یہ سوچیں کہ مجھے ہوا کیا ہے اور کس کا بیسواں خط بیان کررہا ہوں؟ بے فکر رہیں، نہ یہ خط مجھے لکھا گیا ہے نہ لکھنے والا میرا شناسا ہے۔ کل میں نے ایک کتاب کا مطالعہ مکمل کیا ہے۔</p>
<p>کتاب: ’’لیلیٰ کے خطوط‘‘<br />
ناول نگار: قاضی عبد الغفار<br />
سن اشاعت: 2004ء<br />
ناشر: بیکن بکس، ملتان، لاہور<br />
صفحات: 196<br />
قیمت: 140 روپے<br />
I.S.B.N 969-534-023-7</p>
<p>کتاب ’’لیلیٰ کے خطوط‘‘ میں صنفِ نازک کے ساتھ ہمارے معاشرے میں کیے جانے والے سلوک کا مؤثر بیان ملتا ہے۔ اس کتاب میں قاضی عبد الغفار نے عورتوں پر مردوں کے ظلم، ان کی ہوسناکیوں اور مکاریوں کو ایک طوائف کی زبانی بیان کیا ہے۔ بظاہر یہ کتاب ایک بازاری عورت کی داستان ہے مگر اس کے آئینے میں ہمارے معاشرے کی شکست خوردہ عورتوں کے وجود کی بے چارگی اور ان کی بے بسی نظر آتی ہے۔ اس میں طنز بھی ہے، شگفتگی بھی، حسن و دل کشی بھی ہے اور رومانیت بھی۔ قاضی عبد الغفار صحافی تھے اس لیے اُن کی تحریر میں ایسی نشتریت ہے جو معاشرے میں اُن کی بے باکی اور تنقیدی شعور کے لیے خراج حاصل کرتی ہے۔ یہ گرچہ ایک بازاری عورت، ایک طوائف کی جانب سے لکھے جانے والے خطوط ہیں  اور ان میں جنسیات کا ذکر بھی ہے لیکن قاضی صاحب نے کہیں بھی ایسا انداز نہیں اپنایا جس سے گماں ہو کہ جنس کا بیان لذت کے لیے کیا جارہا ہے۔ کتاب کے بارے میں باقی تجزیہ آپ خود اسے پڑھنے کے بعد ہی بہتر کرسکیں گے۔ میں فی الحال اپنی یہ تحریر اکیسیویں خط کے ایک اقتباس پر ختم کررہا ہوں:</p>
<blockquote><p>مردوں کی تمام ازدواجی زندگی یک طرفہ ہوتی ہے، کتنی زندگیوں کے دریا تمہاری پیاس نے خشک کردیے مگر تم نے صرف اپنی ہی پیاس کو یاد رکھا، دریا کا پانی خشک ہوا جاتا ہے، اس کی کبھی پروا نہ کی۔ جب ضرورت ہوئی، اپنی نفس پرستی پر اللہ اور اس کے رسول کی دلیل لائے، روتی، بسورتی، بیمار، اپاہج اولاد کی کثرت بھی تمہارے خیال میں گویا اللہ پر تمہارا ایک احسان ہے۔ کہتے ہو، ’’امتِ محمدی کی تعداد کا بڑھانا ہر مسلمان کا فرض ہے!‘‘ گویا نعوذ باللہ خدا تم سے یہ توقع رکھتا ہے کہ تم کانے، لنگڑے، لولے، جس قدر بچے پیدا کرسکو، کیے جاؤ، مرنے دو اگر تمہاری بیویاں بچے پیدا کرتے کرتے مرجائیں۔۔۔ بچوں کے پیدا کرنے میں کوئی ایسی رکاوٹ گوارا نہ کرو جو تمہارے تعیش میں حارج ہو۔ اگر مجاہد پیدا نہیں کرسکتے، اگر آزاد شہری پیدا نہیں کرسکتے، اگر تندرس و توانا بچے پیدا نہیں کرسکتے تو کچھ پروا نہیں، چوہے کے بچے پیدا کرو، اندھے پیدا کرو، جذامی پیدا کرو، غلام پیدا کرو، بھنگی اور چمار پیدا کرو۔۔۔ پیدا کیے جاؤ تاکہ امتِ محمدی کی تعداد میں اضافہ ہو۔</p></blockquote>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/04/20th-letter/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کتاب گلی</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/02/books-street/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/02/books-street/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 08 Feb 2009 16:25:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[books]]></category>
		<category><![CDATA[child]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[karachi]]></category>
		<category><![CDATA[novels]]></category>
		<category><![CDATA[poems]]></category>
		<category><![CDATA[regal]]></category>
		<category><![CDATA[regal chowk]]></category>
		<category><![CDATA[saddar]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=170</guid>
		<description><![CDATA[کراچی کے باسیوں نے شاید بوتل گلی کا نام سن رکھا ہوگا ، نہ بھی سنا ہو تو کوئی بات نہیں۔ میں آج کتاب گلی کا ذکر کررہا ہوں۔ مجھے دفتر کے ایک ساتھی سے پتا چلا کہ قریب ہی (ریگل چوک، صدر) ایک گلی میں اتوار کو کتابوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ آج وہاں کا چکر لگایا جائے۔ عبد اللہ ہارون روڈ،  کوآپریٹو مارکیٹ سے اگر آپ ریگل چوک کی طرف آئیں تو بائیں ہاتھ پر ایک گلی اتوار کے دن کتاب گلی کا منظر پیش کررہی ہوتی ہے۔ ذرا ذرا سے فاصلے پر کتب فروش حضرات کتابوں کا ڈھیر لگائے بیٹھے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی کے باسیوں نے شاید بوتل گلی کا نام سن رکھا ہوگا ، نہ بھی سنا ہو تو کوئی بات نہیں۔ میں آج کتاب گلی کا ذکر کررہا ہوں۔ مجھے دفتر کے ایک ساتھی سے پتا چلا کہ قریب ہی (ریگل چوک، صدر) ایک گلی میں اتوار کو کتابوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ آج وہاں کا چکر لگایا جائے۔ عبد اللہ ہارون روڈ،  کوآپریٹو مارکیٹ سے اگر آپ ریگل چوک کی طرف آئیں تو بائیں ہاتھ پر ایک گلی اتوار کے دن کتاب گلی کا منظر پیش کررہی ہوتی ہے۔ ذرا ذرا سے فاصلے پر کتب فروش حضرات کتابوں کا ڈھیر لگائے بیٹھے ہیں۔ میرے ساتھی نے بتایا کہ اکثر یہاں  <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Sahar_Ansari" >پروفیسر سحر انصاری</a> اور کئی دوسرے ادیب وغیرہ بھی آتے ہیں۔ ہم ایک جگہ بیٹھے اور کچھ کتابیں دیکھنے لگے۔ اچانک میری نظر وہاں بیٹھے ایک شخص پر پڑی۔۔۔ میں نے اپنے ساتھی کو متوجہ کیا کہ دیکھو، یہ کتاب فروش جون ایلیا سے کتنا مل رہا ہے نا۔۔۔ اب اس نے جو اس کی طرف نظریں اٹھاکر دیکھا تو اچانک سے نعرہ مارا، ارے پروفیسر  سحر انصاری صاحب۔۔۔ اور میں ہونق۔۔۔ کہ یہ صاحب یہاں کیسے۔۔۔ سادہ سے شلوار قمیض زیب تن کیے، بڑی سی عینک لگائے چبوترے پر بیٹھے تھے۔۔ان سے سلام دعا ہوئی۔ پھر میرا ساتھی اٹھ کر آگے کچھ کتب دیکھنے چلا گیا۔ میں سوچنے لگا کہ پروفیسر صاحب کیوں اپنی کتب فروخت کرنے لگے؟ بہرحال! میں نے کچھ کتب پسند کیں اور ان کے سامنے کیں تاکہ قیمت کا پتا چلے۔ ان میں سے ایک کتاب منیر الدین احمد کی &#8220;شجرِ ممنوعہ&#8221; (افسانے، نظمانے، نثرانے) تھی۔ کتاب میرے ہاتھ میں دیکھ کر پروفیسر صاحب کہنے لگے کہ یہ اچھا لکھتے ہیں، جرمنی میں ہوتے ہیں آج کل۔۔۔ پھر خاموش۔۔۔ اب میں سوچوں کہ قیمت کیوں نہیں بتاتے؟  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_think.gif' alt=':hmm:' class='wp-smiley' />  پھر ایک بندہ آیا تو اس سے کہنے لگے کہ بھئی مجھے تم کچھ اور کتب دکھارہے ہو یا بس؟ تو ان کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ وہ تو خود کتابیں لینے آئے ہوئے ہیں اور کتب فروش تو کوئی اور بندہ ہے۔   <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' />  شکر کیا کہ دبے الفاظ ہی میں کہا تھا میں نے۔ پھر اس بندے کووہ کتب دکھائیں تو اس نے قیمت بتائی۔ &#8220;شجرِ ممنوعہ&#8221; (منیر الدین احمد) 30 روپے میں، &#8220;پھر صبح ہوگی&#8221; (ساحر لدھیانوی) 15 روپے میں اور &#8220;نور جہاں سرورِ جاں&#8221; (سعادت حسن منٹو) 10 روپے میں یعنی کہ کُل پچپن روپے، پچاس روپے ہی لیے اس نے۔ پھر وہاں سے اٹھ کر دوسروں کے پاس چلا گیا۔ دیکھتا رہا۔ ایک اسٹال سے بچوں کے لیے دو انگریزی کتابیں پسند آئیں۔ بڑے سائز کی، چار رنگوں میں، آرٹ پیج۔ کتب فروش نے دونوں کتابوں کے 80 روپے کہے۔میں نے کہا، زیادہ ہیں تو پوچھنے لگے، آپ کیا دوگے؟ میں نے کہا پچاس روپے اور وہ جھٹ راضی۔ آگے ایک جگہ انگریزی کتب کا بہت بڑا انبار لگا نظر آیا۔ وہاں ہر کتاب 20 روپے کی تھی۔ میں نے وہاں سے چار کتابیں لیں۔<br />
1۔ David Copperfiled by Charles Dickens۔ مشہور انگریز ناول نگار کی تصنیف۔ (280 صفحات)<br />
2۔ Super Story Book for Boys۔ چالیس سے زیادہ کہانیاں (512 صفحات)<br />
3۔ Silver Jackanory۔ ناشر: بی بی سی بکس (96صفحات)<br />
4۔ Children&#8217;s Letters to God۔ بچوں کی طرف سے خدا کو لکھے جانے والے خطوط</p>
<p>ماسوائے چوتھی کتاب کے جو 10 روپے میں ملی، باقی تینوں مجلد ہیں اور اچھے کاغذ پر ہیں۔ بیس  بیس روپے میں یہ سودا برا نہیں ہے۔   <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' /> </p>
<p>اگر آپ کراچی ہی میں رہتے ہیں اور کتابوں سے شغف رکھتے ہیں تو میں آپ کو اس گلی کے دورے کا مشورہ دوں گا۔ صرف انگریزی ہی نہیں، اردو میں بھی کتب کا وافر ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔ دینی، سائنسی، نصابی، ادبی و دیگر موضوعات پر کافی کتب مل جاتی ہیں۔ عصر کے بعد سے کتابیں سمیٹنا شروع کردی جاتی ہیں اس لیے بارہ بجے کے بعد اور عصر سے پہلے پہلے چکر لگائیں اور پھر بتائیں کہ آپ نے کیا پایا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/02/books-street/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مونٹی کرسٹو کا نواب</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2008/10/monte-cristo/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2008/10/monte-cristo/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 27 Oct 2008 05:12:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[Alexendar Dumas]]></category>
		<category><![CDATA[Count of Monte Cristo]]></category>
		<category><![CDATA[Hamdard Foundation]]></category>
		<category><![CDATA[Masud Ahmad Barkati]]></category>
		<category><![CDATA[Nonehal]]></category>
		<category><![CDATA[مسعود احمد برکاتی]]></category>
		<category><![CDATA[نونہال]]></category>
		<category><![CDATA[ہمدرد]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=28</guid>
		<description><![CDATA[مشہور فرانسیسی ناول نگار الیگزینڈر ڈوما کا شہرہ آفاق ناول "مونٹی کرسٹو کا نواب"۔ اردو ترجمہ ڈاؤنلوڈ کریں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پچھلے دنوں <a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/" >مکی بھائی</a> کی <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/10/02/maki-interview/" >تجویز پر</a> ہم نے <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/" >منظرنامہ</a> کے پلیٹ فارم سے مہم “<a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/10/21/eik-bloger-eik-kitab/" >ایک بلاگر ایک کتاب</a>“ کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم کے آغاز ہی میں مکی بھائی نے ایک سائنسی مضامین پر ایک اہم کتاب کا اردو ترجمہ “<a target="_blank" href="http://makki.urducoder.com/?p=265" >وقت کا سفر</a>“ پیش کردیا تھا۔ <a target="_blank" href="http://sajid.gumbat.com/" >ساجد اقبال</a> نے <a target="_blank" href="http://focus.urdutech.net/2008/10/21/eik-bloger-eik-kitab/#comment-477" >ارادہ ظاہر کیا</a> ہے کہ ممتاز مفتی کی مشہور تصنیف “لبیک“ کو یونیکوڈ حالت میں ڈھالنے کا کام کریں گے۔ اور میں آج اپنے حصے کی پہلی کتاب پیش کررہا ہوں۔</p>
<p>“<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Count_of_monte_cristo" >مونٹی کرسٹو کا نواب</a>“ مشہور فرانسیسی ناول نگار <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Alexandre_Dumas,_p%C3%A8re" >الیگزینڈر ڈوما</a> کا مشہور ناول ہے۔ یہاں پاکستان میں انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں یہ ناول انگریزی میں ڈرامائی صورت میں شامل ہے۔ ہمدرد نونہال میں یہ ناول قسط وار شائع ہوا تھا جس کی مسعود احمد برکاتی نے اردو میں تلخیص کی۔ قارئین کی پسندیدگی اور فرمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے نونہال ادب، ہمدرد فاؤنڈیشن نے اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا۔ میں اس کتاب کو یونیکوڈ حالت میں پیش کررہا ہوں۔ امید ہے، آپ پڑھ کر لطف اندوز ہوں گے اور یہ کتاب طالب علموں کے لیے بھی مفید ثابت ہوگی۔</p>
<p><strong>مونٹی کرسٹو کا نواب ڈاؤنلوڈ کریں:</strong></p>
<p><a target="_blank" href="http://cid-903a38d655aa00d8.skydrive.live.com/self.aspx/My%20Library/Monti%20Cristo.doc" >ورڈ فائل</a></p>
<p><a target="_blank" href="http://cid-903a38d655aa00d8.skydrive.live.com/self.aspx/My%20Library/Monti%20Cristo.pdf" >پی ڈی ایف فائل</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2008/10/monte-cristo/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>25</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
