<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia &#187; ہلکا پھلکا</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/category/lite-polite/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Sep 2010 20:05:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>پہلے بلاگ ایوارڈز کی جھلکیاں</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/05/1st-blog-awards-2010/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/05/1st-blog-awards-2010/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 29 May 2010 06:25:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>
		<category><![CDATA[Abu Shamil]]></category>
		<category><![CDATA[Ammar Yasir]]></category>
		<category><![CDATA[Awab Alvi]]></category>
		<category><![CDATA[Blog Awards]]></category>
		<category><![CDATA[Farhan Danish]]></category>
		<category><![CDATA[George Fulton]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[rabia garib]]></category>
		<category><![CDATA[Red bull]]></category>
		<category><![CDATA[Regent Plaza]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Blog]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=387</guid>
		<description><![CDATA[پہلے پاکستان بلاگ ایوارڈز کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔ بہترین اردو بلاگ کے لیے ابوشامل کو نوازا گیا۔ بہت مبارک ہو۔ مجھے یہ تحریر رات ہی لکھ لینی چاہیے تھی لیکن نیند اور تھکن اس قدر تھی کہ ہمت نہ ہوئی اور پھر رات 12 بجتے ہی سال گرہ کی مبارک بادیں سمیٹنے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پہلے <a target="_blank" href="http://blogawards.pk/" >پاکستان بلاگ ایوارڈز</a> کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔ بہترین اردو بلاگ کے لیے <a target="_blank" href="http://abushamil.com/" >ابوشامل</a> کو نوازا گیا۔ بہت مبارک ہو۔ مجھے یہ تحریر رات ہی لکھ لینی چاہیے تھی لیکن نیند اور تھکن اس قدر تھی کہ ہمت نہ ہوئی اور پھر رات 12 بجتے ہی سال گرہ کی مبارک بادیں سمیٹنے میں مصروف ہوگیا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/msn_tongue.png' alt=';P' class='wp-smiley' />  </p>
<p>اگرچہ ایوارڈز کی تقریب سے دو روز پہلے ابوشامل اور شعیب صفدر کے ساتھ اس تقریب میں شرکت پر رضامندی ظاہر کردی تھی لیکن عین تقریب کے دن میرا ارادہ ڈانواں ڈول ہوگیا۔ ابوشامل کا بھی شاید میرے جیسا ہی حال تھا لیکن وکیل صاحب نے چھوڑا نہیں اور ہم دونوں کو دوپہر تین بجے تک تیار کرلیا کہ شرکت ضرور کرنی ہے۔</p>
<p><strong>تقریب کی مختصراً جھلکیاں:</strong><br />
ساڑھے چھ بجے تک میں اور ابوشامل ریجنٹ پلازہ پہنچ گئے تھے۔</p>
<p>تقریب کی نظامت کے فرائض <a target="_blank" href="http://twitter.com/rabiagarib" >رابعہ غریب</a> نے انجام دیے، ان کے حوصلے اور ہمت کی یقیناً داد دینی پڑے گی کہ اتنا وقت کھڑی رہیں اور اپنے گلے کا بھرپور استعمال کیا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
<p><a target="_blank" href="http://teabreak.pk/" >عمار یاسر</a> سے ملاقات اچھی رہی۔ اردو کے حوالے سے کام کرنے کے لیے اس بندے نے خاصے مثبت انداز کا مظاہرہ کیا اور رابطے میں رہنے کا کہا۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://twitpic.com/1rwq2b"  title="me with @aMmAryAsIr #pba10 on Twitpic"><img src="http://twitpic.com/show/thumb/1rwq2b.jpg" width="250" height="250" alt="me with @aMmAryAsIr #pba10 on Twitpic"></a></p>
<p>ابوشامل کو جب ایوارڈ کے لیے بلایا گیا تو تقریب کو وقت پر ختم کرنے کی بھرپور کوشش میں جلدی جلدی ایوارڈز نمٹائے جارہے تھے لہٰذا جب تک ابوشامل اسٹیج تک پہنچے، رابعہ صاحبہ نے سمجھا کہ شاید ابوشامل تقریب میں موجود نہیں اس لیے اگلے ایوارڈ کا اعلان کردیا گیا اور جب ابوشامل اسٹیج پر پہنچے تو ان کو اگلا ایوارڈ (E-Zine) تھمادیا گیا۔ بعد میں، میں نے ان کی توجہ دلائی تو ہم نے نیچے سے تبدیل کروایا۔<br />
<a target="_blank" href="http://twitpic.com/1rwp36"  title="Abu Shamil with his award #pba10 on Twitpic"><img src="http://twitpic.com/show/thumb/1rwp36.jpg" width="250" height="250" alt="Abu Shamil with his award #pba10 on Twitpic"></a></p>
<p>ابوشامل کے ایوارڈ پر ان کا نام Abu Shumail لکھا دیکھ کر غصہ آیا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_twisted.gif' alt=':devil:' class='wp-smiley' />  حالانکہ بلاگ کا ربط صحیح لکھا تھا۔<br />
<a target="_blank" href="http://twitpic.com/1rwlx5"  title="Best Urdu Blog Award goes to Abu Shamil @pba10 on Twitpic"><img src="http://twitpic.com/show/thumb/1rwlx5.jpg" width="250" height="250" alt="Best Urdu Blog Award goes to Abu Shamil @pba10 on Twitpic"></a></p>
<p>پوری تقریب میں شاید ہم تین (میں، ابوشامل، شعیب صفدر) ہی اردو بلاگرز تھے۔<br />
<a target="_blank" href="http://twitpic.com/1rwohd"  title="Share photos on twitter with Twitpic"><img src="http://twitpic.com/show/thumb/1rwohd.jpg" width="250" height="250" alt="Share photos on twitter with Twitpic"></a></p>
<p>تقریب کی گفتگو کا بڑا حصہ بلاگنگ کے متعلق نہیں تھا جس نے مایوس کیا۔</p>
<p>تقریب کےدرمیان ایک بار چائے سے، دوسری بار ریڈ بُل سے مہمان نوازی کی گئی جب کہ آخر میں ریجنٹ پلازہ کا اعلا قسم کا کھانا دیا گیا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>جارج فلٹن بہت ملنساری سے ملے۔ یہ جان کر کہ ہم اردو بلاگرز ہیں، خوش ہوئے۔ ان کے <a target="_blank" href="http://iaoj.wordpress.com/2010/04/25/at-least-we-are-not-dubai-george-fulton/" >اس بلاگ</a> کا ذکر بھی ہوا کہ یہ بہت پسند کیا گیا۔ بوشامل سے بلاگ کا ربط لینے کے بعد پوچھنے لگے، آپ کا بلاگ رومن میں ہے یا مکمل اردو اسکرپٹ؟ جس پر ابوشامل نے کہا کہ مکمل اردو رسم الخط میں، جو کہ شاید آپ کے کام کا نہیں ہو۔ اس پر جارج ہنس پڑے۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ سب سے بہترین اردو ٹرانسلیٹر کون سا ہے؟ افسوس کہ کوئی نہیں ہے تاہم ہم نے انہیں بتایا کہ گوگل اس سلسلے میں کام کررہا ہے۔<br />
<a target="_blank" href="http://twitpic.com/1rwmli"  title="me with George Fulton @pba10 on Twitpic"><img src="http://twitpic.com/show/thumb/1rwmli.jpg" width="250" height="250" alt="me with George Fulton @pba10 on Twitpic"></a></p>
<p>تقریب کے شرکا کو مختلف تحائف بھی ملے۔ <a target="_blank" href="www.dawnnews.tv/">ڈان نیوز</a> کی طرف سے ایک مگ، <a href="http://www.dell.com/" >Dell</a> کی طرف سے ٹی شرٹ، <a target="_blank" href="http://www.naseeb.com/" >نصیب ڈاٹ کام</a> کی طرف سے بھی مگ، بلاگ ایوارڈز ڈاٹ پی کے کی طرف سے key chain اور ایک اجرک ملی۔<br />
<a target="_blank" href="http://twitpic.com/1rwqw9"  title="thats what I got from Pakistan's 1st Blog Awards #pba10 on Twitpic"><img src="http://twitpic.com/show/thumb/1rwqw9.jpg" width="250" height="250" alt="thats what I got from Pakistan's 1st Blog Awards #pba10 on Twitpic"></a></p>
<p>ریجنٹ پلازہ سے نکلتے نکلتے گیارہ بج گئے۔</p>
<p>اور سب سے آخری جھلکی، میں نے پوری تقریب میں ایک بندے کو بہت miss کیا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/05/1st-blog-awards-2010/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>26</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ٹی20 ورلڈکپ 2010ء میں پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/05/t20worldcup10-super8/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/05/t20worldcup10-super8/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 11 May 2010 12:08:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>
		<category><![CDATA[2010]]></category>
		<category><![CDATA[ICC]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Semi-Final]]></category>
		<category><![CDATA[Super 8]]></category>
		<category><![CDATA[T20]]></category>
		<category><![CDATA[World Cup]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=378</guid>
		<description><![CDATA[گذشتہ روز ٹی20 ورلڈ کپ 2010ء کے سپر ایٹ (Super 8) مرحلے کا آخری میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کی کرکٹ ٹیم جب جنوبی افریقہ کے مقابلے پر میدان میں اُتری تو دعائیں صرف پاکستانی ٹیم کی فتح تک محدود نہیں تھیں بلکہ پاکستانی ٹیم کو اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے انگلیڈ بمقابلہ نیوزی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>گذشتہ روز ٹی20 ورلڈ کپ 2010ء کے سپر ایٹ (Super 8) مرحلے کا آخری میچ کھیلنے کے لیے  پاکستان کی کرکٹ ٹیم جب جنوبی افریقہ کے مقابلے پر میدان میں اُتری تو دعائیں صرف پاکستانی ٹیم کی فتح تک محدود نہیں تھیں بلکہ پاکستانی ٹیم کو اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے انگلیڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ کے میچ میں انگلینڈ کی فتح بھی درکار تھی۔ اس کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے تھے۔ پاکستان کی ٹیم تو آخرکار کامیاب ہوگئی۔ جب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا میچ شروع ہوا تو میرے بھائی کا کہنا تھا کہ شاید انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جوڑ توڑ سے کام لیتے ہوئے پاکستان کو ٹورنامنٹ سے باہر کردیں کیوں کہ آئی۔سی۔سی (International Cricket Council) میں انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا شمار ویسے بھی ایشیائی ممالک کے مخالفوں میں ہوتا ہے۔ مشہورِ زمانہ ڈیرل ہیئر کیس میں بھی پاکستان کے خلاف ووٹ دینے والے یہی ملک تھے۔</p>
<p>بہرحال! ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجھے جتنی توقعات تھیں، کل وہ سب پوری ہوئیں۔ پاکستان نے بالآخر سیمی فائنل کے مرحلے تک رسائی حاصل کرلی۔ میرے نزدیک پاکستان نے جیت کے معاملے میں کفایت شعاری سے کام لیا ہے۔ اور ان شاء اللہ جب پاکستان یہ ورلڈ کپ جیت کر لائے گا تو اپنی نوعیت کی منفرد کامیابی ہوگی کہ اس ٹورنامنٹ میں چار مرحلے تھے اور ہم نے چار ہی کامیابیاں حاصل کیں۔ <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/05/t20worldcup10-super8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>12 بجے (دوسری اور آخری قسط)</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/01/12baje-story-last/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/01/12baje-story-last/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 08 Jan 2010 05:48:10 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=315</guid>
		<description><![CDATA[آٹھ سے نو بجے۔۔۔ اور نو سے دس بج گئے۔ مجال ہے جو کسی آنے جانے والے نے شادی ہال کا رُخ کیا ہو۔ اُن کی نظریں اپنے سامنے سے گزرنے والے ہر شخص کا تعاقب کرتیں کہ شاید وہ شادی ہال میں داخل ہو اور وہ امید بھری نگاہیں تب تک تعاقب میں رہتیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آٹھ سے نو بجے۔۔۔ اور نو سے دس بج گئے۔ مجال ہے جو کسی آنے جانے والے نے شادی ہال کا رُخ کیا ہو۔ اُن کی نظریں اپنے سامنے سے گزرنے والے ہر شخص کا تعاقب کرتیں کہ شاید وہ شادی ہال میں داخل ہو اور وہ امید بھری نگاہیں تب تک تعاقب میں رہتیں جب تک وہ شخص نگاہوں سے اوجھل نہ ہوجاتا۔ کوئی ساڑھے دس بجے کا وقت ہوگا کہ انہیں ان کا ایک شناسا ارشاد احمد شادی ہال کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ دوڑے دوڑے گئے اور اُس کے چہرے کے بوسے لینے لگے۔ وہ بے چارا اِس اچانک افتاد سے بوکھلا گیا۔<br />
”چھوڑو مجھے۔۔۔ میں اِس طرح کا نہیں ہوں بھئی۔ چھوڑو!“ ارشاد بے بسی سے چلایا۔<br />
”میرے بچے۔۔۔ میرے لال۔۔۔ میرے بابو! کہاں رہ گیا تھا تُو؟“ فخرو نے مامتا بھری شفقت سے پوچھا جیسے ماں اپنے لڑکے کے رات گئے آنے پر سوال کرتی ہے۔<br />
”اوئے۔۔۔ یہ تم ہو فخرو!“ ارشاد نے جب اُن کی جبری قید سے نجات پائی تو دیکھا کہ اُس کے ساتھ ”زبردستی“ کی کوشش کرنے والا کوئی اور نہیں، دولہا میاں تھے۔ جی میں تو اُس کے یہ آیا کہ ایک دو کرارے دار تھپڑا رسید کرڈالے، آنے کو تو منہ میں بھی اعلا درجے کی مغلظات آئیں لیکن موقع محل کا لحاظ کیا۔ فخرو نے اُسے پکڑا اور وہاں لے گئے جہاں گذشتہ تین گھنٹے سے انتظار کی مجسم تصویر بنے بیٹھے تھے۔ اب جو فٹ پاتھ پر بیٹھنے لگے تو ارشاد چلایا:<br />
”ابے یہاں بیٹھ کر کیا کرے گا پاگل؟“<br />
”کتے کی دُم سیدھی کروں گا۔“ فخرو کا دماغ گھوم گیا تھا۔<br />
فخرو کے ہاتھ جو آجائے، وہ بھلا بچ کیسے سکتا تھا۔ کوئی آدھ/ پون گھنٹے تک ارشاد سر جھکائے وقت کی پابندی پر فخرو میاں کا لیکچر سنتا رہا اور جواب میں فرماں بردار شاگرد کی طرح سر ہلاتا رہا کہ اُس کی خیریت و عافیت بہ ہر حال اِسی میں تھی۔ یہاں تک کہ وہ وقت آن پہنچا جب فخرو میاں کو شادی ہال میں لایا گیا۔<br />
یہ دیکھیں۔۔۔ فخرو میاں باراتیوں کے ہمراہ اسٹیج کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ارے!! یہ شور کیسا؟ اوہ خدایا! فخرو میاں نے اپنا سہرا اُتار کر ارشاد کے منہ پر کھینچ مارا۔ دروغ بر گردنِ راوی، مگر سنتے ہیں کہ کسی ناہنجار، نامعقول نے فخرو میاں کو شادی ہال میں داخل ہوتے ہی سہرا پہنادیا۔ سہرا کیا پہنایا، فخرو میاں تو ہوگئے اندھے۔ چہرے کو پھولوں نے یوں ڈھک لیا گویا داغ زدہ چاند کو بادلوں نے چھپالیا ہو۔ اب فخرو میاں اسٹیج کی طرف یوں چل رہے تھے جیسے کسی گائے کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اُسے قربان گاہ کی طرف لے جایا جائے۔ ایک طرف تو فخرو میاں کو یہ الجھن کہ وقت گزرتا جاتا ہے، دوسری طرف مووی بنانے والا کہ اُن کے ہر قدم کو دس سیکنڈز تک محفوظ کرنا چاہتا تھا۔ فخرو میاں نے بارہا کوشش کی کہ یہاں سے چھپ چھپاکر آگے بھاگ سکیں لیکن ارشاد نے اُن کی ہر کوشش ناکام بنادی۔ بھلا یہ بے چارے بھولے بھالے معصوم سے فخرو میاں اِس ”جبری تشدد“ کے کہاں عادی تھے؟ جونہی صبر کا پیمانا لبریز ہوا، اچانک سہرا اُتار کر ارشاد کے منہ پر دے مارا۔<br />
”لے مردود! تجھی کو مبارک ہو یہ سہرا۔۔۔ ہم ایسے ہی بھلے۔“ اچھا خاصا تماشا کھڑا ہوگیا۔ ارشاد نے کانوں کو ہاتھ لگائے کہ مجال ہے جو آئندہ فخرو میاں کے ساتھ کہیں جاؤں۔<br />
بارہ بجنے کی دیر تھی۔ اِدھر فخرو میاں کی گھڑی نے ”دھوم مچالے، دھوم مچالے دھوم“ کی دُھن کے ساتھ بارہ بجنے کا اعلان کیا، اُدھر اُن کے دماغ کی پھرکی ایسی گھومی اور وہ اُدھم مچاکہ کیا سرداروں کے بارہ بجتے ہوں گے۔ کبھی مووی والے کو گھور کر بڑبڑاتے، کبھی اسٹیج پر بیٹھے بیٹھے قاضی صاحب کو آوازیں مارتے۔ حد تو یہ ہے کہ کئی بار ویٹرز کو کھانا کھول دینے کا سختی سے حکم صادر فرمادیا۔ بے چارے اُن کے احباب ہر ایک کو سمجھاتے پھرتے کہ فخرو کی بات کو ہرگز سنجیدہ نہ لیا جائے۔ بل کہ کچھ احباب تو دبے الفاظ میں کہتے پھرتے کہ خود فخرو کو بھی سنجیدہ نہ لیں۔<br />
غرض اِس شادی خانہ آبادی میں بہت سے لوگوں کی خانہ بربادی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ مووی اور عجیب و غریب قسم کی رسموں سے فارغ ہوکر بے چارے فخرو جب گھر پہنچے تو رات بیت چکی تھی۔ صبح کے ساڑھے چار بج رہے تھے۔ دل میں ہزاروں خواہشیں لیے کمرے میں داخل ہوئے، ہولے سے دروازہ بند کیا اور دبے پاؤں اپنی نئی نویلی دُلہن کی طرف بڑھے لیکن دو قدم بڑھاکر ہی ٹھہرگئے۔<br />
”لعنت ہے۔۔۔!!“ فخرو میاں نے اشکوں بھری آنکھوں کے ساتھ اُداسی سے کہا۔<br />
اُن کی دُلہن گہری نیند میں جاچکی تھی۔ فخرو میاں ایک کونے میں منہ بسورے ساری رات ٹسوے بہاتے رہے۔۔۔ بہاتے رہے۔۔۔ بہاتے رہے۔۔۔ یہاں تک کہ سورج کی کرنیں کمرے کی کھڑکی سے اندر جھانکنے لگیں۔<br />
اگلے دن صبح کے تقریباً سب ہی اخبارات میں ایک خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی:<br />
<center><br />
<h3>صوبے بھر میں شادی ہالز کی تقریبات رات 12 بجے ختم کرنے کا حکم</h3>
<p></center><br />
حکومت نے دفعہ 144 کے تحت ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت میرج گارڈنز، ہال اور ہوٹلوں میں ہونے والی تقریبات رات 12 بجے تک ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ حکم کی خلاف ورزی پر میرج گارڈنز، ہال اور ہوٹل مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/01/12baje-story-last/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>12 بجے (پہلی قسط)</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/01/12baje-story/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/01/12baje-story/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 07 Jan 2010 05:49:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=313</guid>
		<description><![CDATA[(میں نے کوشش تو کی تھی ایک پُرمزاح کہانی لکھنے کی۔ لکھا کیا ہے، اس کا فیصلہ قارئین پر۔) ”ارے بانگڑو! لعنت ہے بھئی، ہماری شیروانی کہاں رکھی تُو نے؟“ فخرو چلائے۔ ”اوئے بانگڑو! ابے زندہ ہے کہ مرگیا کم بخت؟“ بانگڑو مرا تو نہیں تھا لیکن گھر میں وہ شور مچا تھا کہ خدا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(میں نے کوشش تو کی تھی ایک پُرمزاح کہانی لکھنے کی۔ لکھا کیا ہے، اس کا فیصلہ قارئین پر۔)</p>
<p>”ارے بانگڑو! لعنت ہے بھئی، ہماری شیروانی کہاں رکھی تُو نے؟“ فخرو چلائے۔ ”اوئے بانگڑو! ابے زندہ ہے کہ مرگیا کم بخت؟“<br />
بانگڑو مرا تو نہیں تھا لیکن گھر میں وہ شور مچا تھا کہ خدا کی پناہ۔ ایسے میں بھلا بانگڑو تک فخرو میاں کی آواز کیسے پہنچتی۔ اور خاموشی ہوتی بھی تو کیوں کر؟ اجی آج تو فخرو میاں کی شادی خانہ آبادی تھی۔ محلے بھر میں جو بھی فخرو میاں کی خبر آگے پہنچاتا تو ساتھ یہ ضرور کہتا کہ لو جی! آخرکار فخرو بھی شادی شہدا میں نام لکھوانے پر تل گئے۔<br />
فخرو کی عمر زیادہ نہیں تھی، بس یہی کوئی 34، 35 سال صرف۔ اب آپ بتائیں، یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے؟ ننھا سا انسان۔ یہ تو کھیل کود کے دن ہوتے ہیں نہ کہ شادی کرکے ذمہ داری اٹھانے کی عمر۔ کچھ عرصے پہلے تک یہ ارشادات تھے فخرو میاں کے لیکن سر سے اُڑتے بالوں اور دوست احباب کی جانب سے سنجیدہ نوعیت کے خدشات کے اظہار نے انہیں کچھ ایسا حواس باختہ کیا کہ وہ چھ مہینوں ہی میں شادی کی تیاریاں مکمل کر بیٹھے۔ کہاں تو انہیں شادی کے نام سے بجلی کا جھٹکا لگتا تھا اور اب کہاں وہ بے تابی کہ شام پانچ بجے سے تیار ہونے کی کوششِ پیہم جاری رکھے ہوئے تھے۔<br />
”لعنت ہے! یہ بانگڑو بھی احمق نہ جانے کہاں جاکر دفعان ہوگیا ہے۔“ ہر جملے میں ”لعنت ہے“ کا موتی ٹانکنا فخرو میاں کی عادت بن گئی تھی۔ اس کے بغیر تو گویا اُن کا جملہ مکمل نہ ہوتا تھا۔ آپ ہی آپ بڑبڑاتے ہوئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جھانکتے پھرتے رہے۔ آپ بھی سوچیں گے کہ بانگڑو بے چارا کون تھا؟ سچ کہیں تو فخرو میاں کی نظروں میں تو کچھ دن پہلے تک دو ٹکے کا نوکر تھا۔ لیکن آج کے دن اس کی اہمیت میں چار چاند لگنے کے ساتھ ساتھ پانچ/چھ ستارے بھی لگ گئے تھے۔ ایک ایک کمرے کی تلاشی لیتے ہوئے انہیں بانگڑو تو نظر نہ آیا، ایک جگہ اپنی شیروانی ٹنگی نظر آگئی۔ اُتار کر سینے سے ایسے لگایا جیسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ کپڑے اُٹھائے اور غسل خانے کا رُخ کیا۔ چند ہی ثانیوں بعد اندر سے صدا بلند ہوئی:<br />
”بانگڑو۔۔۔ ابے او بانگڑو۔۔۔!“ بے چارے بانگڑو کی بدقسمتی کہیے یا فخرو میاں کی خوش قسمتی، بانگڑو قریب ہی سے گزر رہا تھا۔ جواب دے کر پھنس گیا۔<br />
”ابے گدھے! پانی کہاں ہے؟“ فخرو اندر سے دھاڑے۔<br />
”کہاں ہے صاحب؟“ بانگڑو نے سوال پر سوال جڑدیا۔<br />
”لعنت ہے!“ حسبِ معمول تکیہ کلام سے جملے کا آغاز ہوا۔ ”نالائق! نلکے میں نہیں آرہا پانی۔ جاکر موٹر چلا۔“<br />
جب تک نلکے میں پانی آنا شروع نہ ہوا، وہ اندر کھڑے (یا بیٹھے؟؟) گنگناتے رہے۔ باتھ روم singing کو وہ عظیم الشان کنسرٹ سمجھ کر شاید مزید گیتوں پر مشقِ سخن کرتے لیکن مجمع خاصا تھا اور غسل خانہ اکلوتا۔ جب دو تین لوگوں نے غسل خانے کے دروازے پر کھٹکا کیا تو انہیں خیال آیا کہ وہ کس مقام پر ہیں اور اس مقام کا کیا تقاضا ہے لہٰذا جلد از جلد (جیسے تیسے) تمام تقاضے پورے کیے اور نیا جوڑا زیب تن کیا۔ غسل خانے سے باہر نکلے تو فضا میں دبے دبے سے قہقہے سنائی پڑتے تھے لیکن وہ خوشی خوشی اُنہیں قطعی نظرانداز کرکے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔<br />
”لاحول ولاقوة! یہ کون واہیات سا آدمی ہے؟“ فخرو بھونچکا رہ گئے۔ قدِّ آدم آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر انہیں اپنا آپ بھی اجنبی گمان ہونے لگا۔ ہر طرح کی بے ہودہ حرکت کرنے کے بعد جب انہیں یقین آگیا کہ آئینے میں نظر آنے والا واہیات آدمی کوئی اور نہیں بل کہ اُن ہی کی دل فریب شخصیت (بہ زعمِ خود) ہے تو خوشی سے پھولے نہ سمائے۔<br />
”ماشاء اللہ فخرو! آج تو تم نکھر گئے ہو۔“ انہوں نے زیرِ لب مسکراتے اور شرماتے ہوئے اپنا کاندھا تھپتھپایا۔<br />
”ہائیں۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔؟“ اچانک اُن کی نظر اپنے سر پر پڑی اور پھر پڑی ہی رہ گئی جہاں بالوں کے درمیان اُن کی چمک دار ٹنڈ چپکے چپکے جھانک رہی تھی۔<br />
”لعنت ہے۔۔۔“ تکیہ کلام کا گولا فائر ہوا۔<br />
”ہائے ہائے ہائے ہائے۔۔۔۔“ فخرو میاں نے سینہ پیٹ لیا۔ کمرے میں ذرا سی دوڑ لگائی، بستر پر چڑھ کر اُچھل کود کی، فرش پر لیٹ کر لوٹیں ماریں، تب جاکر اُن کے ذہن میں ایک خیال آیا جس کے تصور سے اُن کا چہرہ تمتما اُٹھا۔<br />
کمرے سے باہر نکل کر پہلا شخص جو اُن کے ہتھے چڑھا، واہ رے قسمت کہ بانگڑو تھا۔ فخرو کی حالت دیکھ کر اُس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ کھلا تو اُس کا منہ بھی تھا لیکن اِس سے پہلے کہ اُس کی گز بھر زبان باہر نکلتی، فخرو نے دھماکا کردیا:<br />
”ٹوپی دے۔“ اُنہوں نے مختصر الفاظ میں حکم صادر کیا۔<br />
”نہیں صاحب میں ٹوپی نہیں دیتا۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میں درزی سے شیروانی اِس حالت میں نہیں لایا تھا۔“ بانگڑو بات کو سمجھنے کے بجائے دوسری الجھن میں پڑگیا۔<br />
”شیروانی کو آگ میں جھونک۔ ٹوپی بتا۔“ فخرو کو خوف کھائے جارہا تھا کہ شادی کی تقریب تک اُن کی ٹنڈ مزید سر نہ نکال لے۔<br />
”ہوا کیا ہے صاحب؟ کس سے بچنے کے لیے ٹوپی بتاؤں؟“ بانگڑو بھی بوکھلا گیا۔<br />
”اُلو کے۔۔۔۔ ٹنڈ چھپانے کے لیے ٹوپی پہننی ہے۔“ فخرو نے ہاتھ سے سر کی طرف اشارہ کیا تو اصل بات بانگڑو کے پلے پڑی۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے فخرو کو اپنی ٹنڈ کا ذکر کرنا بڑا معیوب گزرا۔ بہ ہر حال، وہ تو اُن کا اپنا ہی بندہ تھا۔ ٹوپی پہننے کے بعد جو وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے تو بڑا اطمینان محسوس کیا لیکن ابھی سکون کے دو سانس بھی نہ لیے تھے کہ نظر شیروانی پر پڑگئی جو فرش پر لوٹ پوٹ ہونے کے سبب اُن کا منہ چڑا رہی تھی۔<br />
”لعنت ہے۔۔۔“ فخرو کے جی میں آیا کہ شیروانی پھاڑ کر پرے کردیں لیکن اپنی دیوانگی پر مصلحتاً قابو پایا اور اُسے ٹھیک کرنے کے جتن میں لگ گئے۔<br />
شام کے سات بجے تھے جب فخرو مکمل طور پر تیار ہوکر کمرے سے باہر جلوہ افروز ہوئے۔ جس نے بھی دیکھا، اپنا سر پیٹ لیا۔ لاکھ سمجھایا کہ بھلا اتنی جلدی تیار ہونے کی کیا ضرورت؟لیکن فخرو میاں تو فخرو میاں ٹھہرے۔ اب موصوف کے دماغ میں جو بات ایک بار گھس جائے، وہ اندر کی بھول بھلیوں میں ایسی گم ہوتی ہے کہ اُسے واپسی کا راستہ کم ہی ملتا ہے۔ کچھ بھی کہہ کر دیکھ لیجیے، وہی ضد کہ احباب کو وقت کی پابندی کا کہا ہے۔ آٹھ بجے ہی شادی ہال پہنچ گئے۔ ہاں، اِتنا ضرور خیال کیا کہ شادی کے دن پہلے لڑکی والے جاتے ہیں، پھر لڑکے والوں کی بارات پہنچتی ہے۔ شادی ہال سے قدرے فاصلے پر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور ہر آنے جانے والے کی کڑی نگرانی کا من بھاتا فریضہ سرانجام دینے لگے۔</p>
<p>(جاری ہے۔۔۔)</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/01/12baje-story/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سگریٹ ہے؟</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/01/cigarette-sardar/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/01/cigarette-sardar/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jan 2009 14:22:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=136</guid>
		<description><![CDATA[سردار جی پہنچے دکان دار کے پاس اور پوچھا: سگریٹ ہے؟ دکان دار: ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔ اگلے دن۔ سردار: سگریٹ ہے؟ دکان دار: میں نے تمہیں کل بھی بتایا تھا کہ ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔ اگلے دن۔ سردار: سگریٹ ہے؟ دکان دار: ابے تمہیں آرام سے سمجھ نہیں آتی کہ ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سردار جی پہنچے دکان دار کے پاس اور پوچھا: سگریٹ ہے؟<br />
دکان دار: ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔</p>
<p>اگلے دن۔<br />
سردار: سگریٹ ہے؟<br />
دکان دار: میں نے تمہیں کل بھی بتایا تھا کہ ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔</p>
<p>اگلے دن۔<br />
سردار: سگریٹ  ہے؟<br />
دکان دار: ابے تمہیں آرام سے سمجھ نہیں آتی کہ ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔ ہتھوڑا ماروں تمہارے سر پر؟</p>
<p>اگلے دن۔<br />
سردار: ہتھوڑا ہے؟<br />
دکان دار: نہیں۔<br />
سردار: تو پھر سگریٹ ہے؟   <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /><br />
 <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/01/cigarette-sardar/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>17</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ٹیگ۔ دو اور 2 ؟ چار۔</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/01/tag-22-4/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/01/tag-22-4/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 08 Jan 2009 17:34:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=134</guid>
		<description><![CDATA[موبی نے ڈفر کو اور ڈفر نے ماوراء کو ٹیگ کیا، یوں یہ ٹیگ مجھ تک پہنچا۔ جوابات حاضر۔ چار جگہیں جہاں میں بار بار جاتا ہوں گھر دفتر سموسے والے کی دکان اوررر۔۔۔ اب یونیورسٹی چار لوگ جن سے باقاعدہ ملتا ہوں، گھر والوں کے علاوہ دفتر کے ساتھی موبائل میں ایزی لوڈ کرنے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a target="_blank" href="http://goldenpages-mubi.blogspot.com/2008/12/2-aue-dau-char.html" >موبی</a> نے <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/" >ڈفر</a> کو  اور ڈفر نے <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/" >ماوراء</a> کو <a target="_blank" href="http://www.dufferistan.com/?p=510" >ٹیگ</a> کیا، <a target="_blank" href="http://mawra.urdutech.com/2009/01/02/tag-do-aur-2-char/" >یوں یہ ٹیگ</a> مجھ تک پہنچا۔  جوابات حاضر۔   <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_smiley.gif' alt=':-)' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>چار جگہیں جہاں میں بار بار جاتا ہوں</strong><br />
گھر<br />
دفتر<br />
سموسے والے کی دکان  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_razz.gif' alt=':razz:' class='wp-smiley' /><br />
اوررر۔۔۔ اب یونیورسٹی  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>چار لوگ جن سے باقاعدہ ملتا ہوں، گھر والوں کے علاوہ</strong><br />
دفتر کے ساتھی<br />
موبائل میں ایزی لوڈ کرنے والا<br />
بس کنڈیکٹر  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>کھانے کی پسندیدہ چار جگہیں</strong><br />
الحاج اختر ریسٹورنٹ<br />
مہران آئس کریم<br />
ریگل لسی کارنر  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_mrgreen.gif' alt=':grins:' class='wp-smiley' /><br />
اوررر۔۔۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_think.gif' alt=':hmm:' class='wp-smiley' />  ساحلِ سمندر  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>چار جگہیں جہاں میں ہونا چاہوں</strong><br />
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم<br />
چاند<br />
میری پرانی رہائش گاہ<br />
جنت۔۔۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/msn_thumbup.png' alt=':wel:' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>چار پسندیدہ ٹی وی پروگرام</strong><br />
(ٹی وی تو دیکھنا ہی برائے نام کیا ہوا ہے)<br />
خبریں<br />
ریسلنگ<br />
آف دی ریکارڈ (اے آر وائی پر کاشف عباسی کا پروگرام)<br />
Hagemaru (جاپانی کارٹون ہے شاید لیکن POGOوالوں نے ہندی میں بہت خوب صورت ڈب کیا ہے)</p>
<p><strong>چار فلمیں جو بار بار دیکھنا چاہوں</strong><br />
کل ہو نہ ہو (شاہ رخ خان)<br />
مسٹر بین سیریز<br />
ہیری پورٹر سیریز<br />
ریس (سیف علی خان)</p>
<p>اب باری ہے آگے چار لوگوں کو ٹیگ کرنے کی۔۔۔ کس کو کروں کہ اکثریت یا تو پہلے ہوچکی ہے یا غائب ہے۔ خیر۔۔۔<br />
<a target="_blank" href="http://shagufta.urdutech.com/blog" >شگفتہ</a><br />
<a target="_blank" href="http://dareecha.urdutech.com/" >فرحت کیانی</a><br />
<a target="_blank" href="http://sajid.gumbat.com/" >ساجد اقبال</a><br />
<a target="_blank" href="http://badtamiz.com/blog" >بدتمیز بھائی صاحب</a>، جانتا ہوں یہ جناب آج کل بہت مصروف ہوئے ہیں لیکن امید ہے کہ فرصت میں ضرور جواب لکھ دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/01/tag-22-4/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>15</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آٹھ گھر</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/01/8-houses/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/01/8-houses/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 07 Jan 2009 14:39:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=132</guid>
		<description><![CDATA[گذشتہ دنوں مجھےمیرے آٹھ گھر کا ایک ٹیگ لگا تھا۔ اب جس بلاگ سے ٹیگا گیا، خود وہ بلاگ ان دنوں کومے میں ہے لیکن بہرحال میں اپنا قرض اتار رہا ہوں۔ اب اس بلاگ اور بلاگر پر منحصر ہے کہ وہ میرا ٹیگ کیچ کرتا ہے یا نہیں۔۔۔ کیچ اٹ اف یو کین ;)]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>گذشتہ دنوں مجھےمیرے آٹھ گھر کا ایک ٹیگ لگا تھا۔ اب جس بلاگ سے ٹیگا گیا، خود وہ بلاگ ان دنوں کومے میں ہے لیکن بہرحال میں اپنا قرض اتار رہا ہوں۔ اب اس بلاگ اور بلاگر پر منحصر ہے کہ وہ میرا ٹیگ کیچ کرتا ہے یا نہیں۔۔۔ کیچ اٹ اف یو کین ;)</p>
<p><strong>کھیل کے اصول:</strong></p>
<p>بتانے ہیں آٹھ گھر۔ اگر آپ اپنے آٹھ گھر بناتے تو کہاں ہوتے؟ یہ شرط اضافی ٹانگی گئی ہے کہ وہ آٹھ کے آٹھ گھر اسی ملک میں ہونے چاہئیں جہاں آپ رہ رہے ہیں۔  بھئی یہ تو بے مانٹی ہے نا ;) خیر، چوں کہ اس ٹیگ کے ساتھ ٹیگنے والے نے یہی دُم چھلا لگانا پسند کیا ہے تو ہم بھی چار و ناچار سرِ تسلیم خم کیے دیتے ہیں۔ ویسے مابدولت کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ استطاعت ہو بھی تو آٹھ گھر بنانے کی زحمت ہرگز نہ کریں گے۔</p>
<p><strong>میرا پہلا گھر۔۔۔</strong><br />
میرا پہلا گھر میرے پیارے شہر کراچی ہی میں ہوتا۔ ساحلِ سمندر کے پاس۔۔۔ بلکہ اگر میرے بس میں ہو تو ساحل کی ریت ہی پر اپنا پیارا سا چھوٹا سا گھروندا بنالوں۔ بس مسئلہ یہ ہوگا کہ گھروندے میں فِٹ نہیں ہوسکوں گا۔ صبح سویرے اٹھوں تو پُرسکون سمندر میرا استقبال کرے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں لہکتی لہکتی مجھے چھوکر گزرتی ہوئیں صبح بخیر کہیں۔۔۔ شام ہو تو ساحل کا سحر انگیز رومانوی نظارا مجھے اپنے سحر میں جکڑ کر دنیا کے ہر غم سے بے نیاز کردے۔۔۔ رات ہو تو گہری تاریکی، سناٹا، خاموشی۔۔۔ سوائے لہروں کے ہلکے ہلکے شور کے کوئی آواز نہیں۔۔۔ کیا خوب زندگی ہو۔۔۔</p>
<p><strong>میرا دوسرا گھر۔۔۔</strong><br />
یوں تو اس پہلے گھر کے بعد دوسرا گھر بنانے کا تصور کرنا ہی محال ہے کہ سب کچھ تو پہلے ہی گھر میں ہے۔۔۔ لیکن اگر پھر بھی کوئی ڈنڈا لے کر مجھ پر سوار ہوجائے کہ تم نے دوسرا گھر بنانا ہی ہے تو میں قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے پاس ایک گھر بنانا چاہوں گا۔ وہ علاقہ بہت اچھا ہے۔ عقبی حصہ تو کافی پُرسکون، سرسبز اور صاف ستھرا ہے۔  اس گھر میں میرے کمرے کی کھڑکی مزارِ قائد کی طرف کھلتی ہو اور میں جب صبح سویرے اٹھوں تو بستر سے اتر کر کھڑکی میں جاکھڑا ہوں اور قائد کو سلام پیش کروں کہ ان کی شب و روز کڑی محنت سے ہمیں یہ ارضِ پاک میسر آئی۔</p>
<p><strong>میرا تیسرا گھر۔۔۔</strong><br />
میرا تیسرا گھر ایک انتہائی گندے نالے اور کچرے کوڑے کے بہت بڑے ڈھیر کے پاس ہوتا جہاں سے ہر وقت بدبو ہی بدبو اٹھتی رہتی اور وہاں ایک منٹ بھی ٹھہرنا دشوار ہوتا۔۔۔ کیا ہوا؟ کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں وہاں کس لیے گھر بناتا؟ ارے صرف بناتا۔۔۔  رہتا تھوڑی۔۔۔ وہاں تو میں اس قوم کے سیاستدانوں کو پکڑ پکڑ کر بند کرتا کہ منحوسو! رہو ساری زندگی یہاں۔</p>
<p><strong>چوتھا گھر۔۔۔</strong><br />
چوتھا گھر ایوانِ صدر کے سامنے بناتا اور ایوانِ صدر سے کئی گنا زیادہ عالیشان بناتا۔۔۔ پھر زرداری کو کھانے کی دعوت پر بلاتا اور اس کو کہتا کہ حضور والا! اگر آپ کو عیش و آرام ہی چاہیے تو آئیے آپ اس گھر میں منتقل ہوجائیے لیکن یار! خدا کے واسطے اس ملک کی کرسیٴ صدارت کو چھوڑ کر لوگوں پر احسانِ عظیم کردو۔۔۔ آخر کار، صدارت کی کرسی پر ہمارا بھی کچھ حق بنتا ہے۔ <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p><strong>پانچواں گھر۔۔۔</strong><br />
اففف۔۔۔ ابھی چار مزید گھر بنانا رہتے ہیں۔۔۔ اگر میرا پانچواں گھر ہوتا تو شاید لاہور شہر میں ہوتا۔ سچ کہوں تو مجھے لاہور کے اکلوتے دورے میں ایسا کوئی خاص لطف تو بالکل نہیں آیا تھا لیکن میرا ایک کزن میرے پیچھے پڑا ہے کہ لاہور منتقل ہوجاؤ۔۔۔ اب اگر وسائل بنے تو ضرور وہاں بھی ایک گھر بناکر رکھوں گا تاکہ آنا جانا رہے۔</p>
<p><strong>چھٹا گھر۔۔۔</strong><br />
ہمم۔۔۔ ہمم۔۔۔ ارے بس بھئی۔۔۔ اتنا کافی ہے۔۔۔ ہم تو یہیں تھک گئے۔ آٹھ گھر نہ ہوئے، مصیبت ہوگئے۔۔۔ اتنا مشکل آٹھ گھر بنانا نہیں ہوگا، جتنا ان کا سوچنا۔۔۔ یار! ہم درویشوں کو لوگ ایسے جھنجھٹ میں ڈال دیتے ہیں <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> توبہ توبہ!</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/01/8-houses/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>چوہے کا بچہ</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/01/choohe-ka-bacha/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/01/choohe-ka-bacha/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 2009 11:15:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>
		<category><![CDATA[animation]]></category>
		<category><![CDATA[child]]></category>
		<category><![CDATA[kids]]></category>
		<category><![CDATA[multimedia]]></category>
		<category><![CDATA[poem]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=124</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے مہینے میں نے بچوں کے لیے نظم &#8220;عذرا کی گڑیا&#8221; پیش کی تھی۔ قدرے وقفے کے بعد ایک اور نظم بھی تیار ہوگئی ہے۔ شوبی کا بہت شکریہ۔ آپ لوگ دیکھیں اور اپنی آراء سے نوازیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پچھلے مہینے میں نے بچوں کے لیے نظم &#8220;<a href="http://ibnezia.com/blog/2008/12/azra-ki-gurya/" >عذرا کی گڑیا</a>&#8221; پیش کی تھی۔ قدرے وقفے کے بعد ایک اور نظم بھی تیار ہوگئی ہے۔ <a target="_blank" href="http://shobi.co.nr/" >شوبی</a> کا بہت شکریہ۔ آپ لوگ دیکھیں اور اپنی آراء سے نوازیں۔</p>
<p><object width="425" height="344"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/t6XZo5dZ7eM&#038;color1=0xb1b1b1&#038;color2=0xcfcfcf&#038;feature=player_embedded&#038;fs=1"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/t6XZo5dZ7eM&#038;color1=0xb1b1b1&#038;color2=0xcfcfcf&#038;feature=player_embedded&#038;fs=1" type="application/x-shockwave-flash" allowfullscreen="true" width="425" height="344"></embed></object></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/01/choohe-ka-bacha/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عذرا کی گڑیا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2008/12/azra-ki-gurya/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2008/12/azra-ki-gurya/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 04 Dec 2008 08:27:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>
		<category><![CDATA[animadet]]></category>
		<category><![CDATA[animation]]></category>
		<category><![CDATA[azra ki gurya]]></category>
		<category><![CDATA[child]]></category>
		<category><![CDATA[doll]]></category>
		<category><![CDATA[flash]]></category>
		<category><![CDATA[hindi]]></category>
		<category><![CDATA[kids]]></category>
		<category><![CDATA[nazam]]></category>
		<category><![CDATA[nursery rhyme]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/2008/12/%d8%b9%d8%b0%d8%b1%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%af%da%91%db%8c%d8%a7/</guid>
		<description><![CDATA[عذرا کی گڑیا۔۔۔ چھوٹے بچوں کے لیے اردو میں اینی میٹڈ نظم]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میرے ذہن میں عرصہ سے بچوں کے لیے کسی پروجیکٹ پر کام کرنے کا خیال تھا۔ انٹرنیٹ پر اگر آپ تلاش کریں تو بچوں کے لیے بہت سا دلچسپ مواد دستیاب ہے۔ یوٹیوب پر بھی بچوں کے حوالے سے بہت سی نظمیں، کہانیاں موجود ہیں لیکن اگر آپ اردو میں کچھ تلاش کرنا چاہیں تو آپ کو مایوسی ہی ہوگی۔</p>
<p>دو ہفتے پہلے، میں نے چھٹی کا ایک دن یوٹیوب سرچ کرتے گزارا اور اردو کے حوالے سے مجموعی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کیا کہ اب اپنی موجودہ اور آنے والی نسل کے معصوم معصوم بچوں کے لیے کوئی کام شروع کیا جائے۔ لہٰذا <a target="_blank" href="http://shobi.urdutech.com/" >شعیب سعید شوبی</a> کے ساتھ مل کر اس منصوبے کا آغاز ہوا۔</p>
<p>ابتداء میں ہم نے بچوں کی اردو نظموں پر کام کرنے کا سوچا۔ اس سلسلے میں، میں نے اپنی بہن سے ایک نظم ریکارڈ کروائی جس پر شوبی نے اینی میشن دی۔ آپ بھی دیکھئے اور ہمیں اپنی قیمتی آراء سے نوازیے۔</p>
<p><object classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" width="425" height="344" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="allowFullScreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="src" value="http://www.youtube.com/v/DLNp629ZNd0&amp;hl=en&amp;fs=1" /><embed type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="344" src="http://www.youtube.com/v/DLNp629ZNd0&amp;hl=en&amp;fs=1" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true"></embed></object></p>
<p>عذرا کی گڑیا نہانے لگی<br />
نہانے لگی، ڈوب جانے لگی<br />
عذرا کی گڑیا نہانے لگی<br />
نہانے لگی، ڈوب جانے لگی</p>
<p>بڑی مشکلوں سے بچایا اسے<br />
بڑی مشکلوں سے بچایا اسے<br />
کنارے پہ میں کھینچ لایا اسے<br />
کنارے پہ میں کھینچ لایا اسے</p>
<p>یہ ہماری پہلی کوشش ہے اور یقینا اس میں کئی خامیاں ہیں جن کی تلافی ہم اپنی جلد ہی آنے والی دوسری نظم میں کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2008/12/azra-ki-gurya/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>15</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>انگریزی نظمیں۔ کلاسیکی گائیکی</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2008/11/eng-rhymes/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2008/11/eng-rhymes/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 22 Nov 2008 19:16:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہلکا پھلکا]]></category>
		<category><![CDATA[children]]></category>
		<category><![CDATA[classical]]></category>
		<category><![CDATA[english]]></category>
		<category><![CDATA[Indian]]></category>
		<category><![CDATA[rhyme]]></category>
		<category><![CDATA[taal]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=74</guid>
		<description><![CDATA[خوبصورت کلاسیکی انداز میں بچوں کی دو انگریزی نظمیں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>یہ دیکھیں ذرا۔۔۔ کتنے خوبصورت کلاسیکی انداز میں بچوں کی دو انگریزی نظمیں گائی ہیں۔۔۔ لطف آگیا  :P  دنیا میں ہر قسم کے نمونے پائے جاتے ہیں۔۔۔</p>
<p><object classid="clsid:d27cdb6e-ae6d-11cf-96b8-444553540000" width="425" height="344" codebase="http://download.macromedia.com/pub/shockwave/cabs/flash/swflash.cab#version=6,0,40,0"><param name="allowFullScreen" value="true" /><param name="allowscriptaccess" value="always" /><param name="src" value="http://www.youtube.com/v/cKhsaYzKLrY&amp;hl=en&amp;fs=1" /><embed type="application/x-shockwave-flash" width="425" height="344" src="http://www.youtube.com/v/cKhsaYzKLrY&amp;hl=en&amp;fs=1" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true"></embed></object></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2008/11/eng-rhymes/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
