<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia &#187; میری باتیں</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/category/mine/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Sep 2010 20:05:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>نظریۂ دورِ ترغیب</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 24 Aug 2010 10:01:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[Ammar]]></category>
		<category><![CDATA[Ammar's Theory of Motivation Cycle]]></category>
		<category><![CDATA[Cycle]]></category>
		<category><![CDATA[Herzberg]]></category>
		<category><![CDATA[Maslow]]></category>
		<category><![CDATA[Motivation]]></category>
		<category><![CDATA[Sir Imtiaz]]></category>
		<category><![CDATA[Theory]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=421</guid>
		<description><![CDATA[ان دنوں سر امتیاز ہمیں ترغیب (Motivation) کے بارے میں مختلف نظریات (theories) پڑھارہے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے میسلو (Maslow) اور ہرزبرگ (Herzberg) کی تھیوری پڑھی۔ سر امتیاز اس بات پر بے حد زور دیتے ہیں کہ صرف کتابی باتوں تک محدود نہ رہا جائے بل کہ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مختلف [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ان دنوں سر امتیاز ہمیں ترغیب (Motivation) کے بارے میں مختلف نظریات (theories) پڑھارہے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے میسلو (Maslow) اور ہرزبرگ (Herzberg) کی تھیوری پڑھی۔ سر امتیاز اس بات پر بے حد زور دیتے ہیں کہ صرف کتابی باتوں تک محدود نہ رہا جائے بل کہ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مختلف نظریات و مفروضوں کا اطلاق موجودہ زمانے میں مختلف صورتِ حال پر کرکے دیکھا جائے۔ ترغیب کے بارے میں دو مختلف نظریات پڑھ کر تیسرے نظریے نے میرے دماغ میں جنم لیا۔ ممکن ہے کہ اس میں کئی خامیاں ہوں لیکن بہ ہر حال، یہ ایک منفرد کوشش ہی صحیح۔<br />
<span id="more-421"></span></p>
<p>موضوع سے متعلقہ دیگر تحاریر:<br />
میسلو کا نظریۂ وراثت (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Maslow%27s_hierarchy_of_needs" >Maslow&#8217;s hierarchy of need</a>)<br />
ہرزبرگ کا نظریہ (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Motivator-Hygiene_theory" >Two-Factor Theory</a>)<br />
سر امتیاز کے بارے میں میری ایک تحریر (<a href="http://ibnezia.com/blog/2010/04/aisa-kahan-se-laaon/" >ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے</a>)</p>
<p><center><br />
<h2>عمار کا نظریۂ دورِ ترغیب</h2>
<p></center></p>
<p><a target="_blank" href="http://www.scribd.com/doc/36339010/Ammar-s-Theory-of-Motivation-Cycle" title="View Ammar's Theory of Motivation Cycle on Scribd"  style="margin: 12px auto 6px auto; font-family: Helvetica,Arial,Sans-serif; font-style: normal; font-variant: normal; font-weight: normal; font-size: 14px; line-height: normal; font-size-adjust: none; font-stretch: normal; -x-system-font: none; display: block; text-decoration: underline;">Ammar&#8217;s Theory of Motivation Cycle</a> <object id="doc_659580966307402" name="doc_659580966307402" height="500" width="100%" type="application/x-shockwave-flash" data="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf" style="outline:none;" rel="media:document" resource="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf?document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list" ><param name="movie" value="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf"><param name="wmode" value="opaque"><param name="bgcolor" value="#ffffff"><param name="allowFullScreen" value="true"><param name="allowScriptAccess" value="always"><param name="FlashVars" value="document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list"><embed id="doc_659580966307402" name="doc_659580966307402" src="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf?document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" height="500" width="100%" wmode="opaque" bgcolor="#ffffff"></embed></object></p>
<p><img src="http://lh5.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/THOUuZ2catI/AAAAAAAAATI/7Py_VJOGrxk/s576/Motivation-Cycle.jpg" alt="Ammar's Theory of Motivation Cycle" /></p>
<p>دورِ ترغیب کی چار درجوں میں تقسیم یوں ہے:</p>
<p>پہلا درجہ:<br />
پہلے درجے میں تین عوامل ہیں: حالت، ضرورت،ماحول۔ حالت سے مراد یہ ہے کہ انسان کی کیفیت کیا ہے۔ وہ کس صورتِ حال میں زندگی بسر کررہا ہے۔ اس کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، سماجی، معاشی و معاشرتی کیفیات کس نوعیت کی ہیں۔ دوسری چیز ہے ضرورت، یعنی انسان جس مقام پر موجود ہے، وہاں اس کو کس قسم کی ضروریات محسوس ہوتی ہیں؟ کیا وہ ضروریات کے تحت اپنی حالت میں تبدیلی چاہتا ہے؟ پہلے درجے کے تین عوامل میں سے آخری ہے، ماحول۔ انسان کس ماحول میں رہ رہا ہے؟ آیا ماحول میں آنے والی تبدیلیاں اسے کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کروارہی ہیں؟ کیا ماحول اس کی طبیعت یا اس کی مطلوبہ تبدیلیوں کے موافق ہے؟</p>
<p>دوسرا درجہ:<br />
	دوسرا درجہ ’ترغیب‘ ہے جس کا مکمل انحصار پہلے درجے پر ہے۔ اگر انسان کی جسمانی، ذہنی و نفسیاتی کیفیت درست ہے تو وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ماحول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کسی نہ کسی قدم اُٹھانے کی طرف ضرور ترغیب حاصل کرے گا۔ البتہ اگر انسان ذہنی لحاظ سے تندرست نہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ وہ ضرورت ہونے کے باوجود اپنے اندر کسی قسم کی ترغیب محسوس نہ کرے کہ اُسے کچھ سوجھ بوجھ ہی نہیں ہوگی۔</p>
<p>تیسرا درجہ:<br />
پہلے درجے کی طرح تیسرے درجے کے بھی تین مراحل ہیں: فعل، نتائج اور امکانات۔ ’فعل‘ کا براہِ راست رابطہ پہلے درجے (یعنی حالت، ضرورت، ماحول) اور دوسرے درجے (یعنی ترغیب) سے ہے۔ انسان کو صورتِ حال کے مطابق کسی قسم کی ’ضرورت‘ کا محسوس ہونا اسے ’ترغیب‘ دلاتا ہے کہ وہ کوئی قدم اُٹھاکر اپنی ضرورت کو پورا کرے اور خواہش کی تسکین کرے (بہ شرط یہ کہ وہ ذہنی و نفسیاتی لحاظ سے تندرست ہو جیساکہ پہلے گزرا)۔ ترغیب اُسے کسی ’فعل‘ کی طرف راغب کرتی ہے، ایسا فعل جس کے ذریعے اُسے لگتا ہو کہ وہ یوں اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ جب انسان کوئی ’فعل‘ انجام دیتا ہے تو اگلا مرحلہ ہوتا ہے ’نتائج‘ کا یعنی اس فعل کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ آیا اس کی ضرورت پوری ہوئی کہ نہیں؟ اس کی خواہش کو تسکین ملی یا نہیں؟ اس درجے پر تیسرا مرحلہ ہے ’امکانات‘ کا۔ امکانات سے مراد مستقبل کے ممکنہ نتائج ہیں کہ اپنے اس عمل میں انسان کس حد تک آگے بڑھ سکتا ہے اور اُسے مزید کیا فائدہ مل سکتا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ اُس نے اس درجے پر جو کام کیا ہو، اس کے نتائج تسلی بخش نہ ہوں اور وہ مزید ایک کوشش کرنا چاہے یا ایک قدم بڑھنا چاہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کی وقتی ضرورت تو پوری ہوگئی ہو لیکن وہ مزید اطمینان چاہتا ہو یا مزید آگے بڑھنا چاہتا ہو۔</p>
<p>چوتھا درجہ:<br />
چوتھا درجہ بھی ’ترغیب‘ ہے لیکن اس درجے پر ترغیب کی نوعیت معمولی سی بدل جاتی ہے۔ پہلے اس کی ترغیب ایک ضرورت کے سبب تھی۔ اس درجے پر ترغیب کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مثلاً اگر تیسرے درجے پر کیے جانے والے ’فعل‘ سے حاصل ہونے والے ’نتائج‘ نے فاعل کو مطمئن نہ کیا ہو یا اس کی ’ضروریات‘ پوری نہ ہوئی ہوں تو اسے مزید کوشش کرنے کی ’ترغیب‘ بھی ہوسکتی ہے۔ یا تیسرے درجے پر انجام پذیر ہونے والے ’فعل‘ کے ’نتائج‘ حوصلہ افزا ہوں اور وہ اُن سے مزید مستفید ہونا چاہے یا حاصل شدہ ’نتائج‘ کے بعد اس کے آگے بڑھنے کے ’امکانات‘ روشن ہوں اور فوائد متوقع ہوں تو وہ اس ’فعل‘ کو جاری رکھنے یا اس میں بہتری لانے کی طرف راغب ہوگا۔</p>
<p>ایک بار پھر:<br />
چوں کہ یہ ایک دور یا چکر (Cycle) ہے لہٰذا یہ اس مرحلے پر آکر رُک نہیں جاتا بل کہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل جاری رہتا ہے۔ ایک چکر مکمل کرنے کے بعد جب آپ دوبارہ پہلے درجے کی طرف بڑھتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کے ’افعال‘ اور ان کے ’نتائج‘ کے بعد آنے والے ’تغیرات‘ کے سبب اب انسان کی ’حالت‘، ’ضرورت‘ اور ’ماحول‘ میں تبدیلی آگئی ہے۔ اس مرحلے پر اس کی ضروریات بدل جاتی ہیں، ماحول بدل جاتا ہے۔ اب کی بار جو چیز اُسے دوسرے درجے ’ترغیب‘ کی طرف لے کر جاتی ہے، وہ کچھ بھی ہوسکتی ہے کیوں کہ انسان کی خواہشات کا سلسلہ لامتناہی ہے اور ایک ضرورت یا خواہش پوری ہوتے ہی اگلی جنم لے لیتی ہے۔ مثلاً پہلا چکر مکمل ہونے کے بعد اب جس مقام پر وہ پہنچا ہے، اس کی ضروریات پہلے کے مقابلے میں مختلف ہوگئی ہیں، ماحول بدل گیا ہے تو اب وہ ان ضروریات کو حاصل کرنے کے لیے ’ترغیب‘ پاتا ہے اور پھر کوئی ’فعل‘ انجام پذیر ہوتا ہے، اس کے ’نتائج‘ اور مزید ’امکانات‘ اسے آگے بڑھنے کی طرف ’ترغیب‘ دیتے ہیں اور یہ چکر چلتا چلا جاتا ہے۔</p>
<p>از<br />
عمار ابنِ ضیا<br />
اگست ۲۰۱۰ء</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
یہ نظریہ آج میں نے کلاس میں پیش کیا اور طلبہ سمیت سر امتیاز نے بھی بے حد سراہا اور اس کے مختلف مثبت پہلوؤں کو مزید اجاگر کیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہمدرد نونہال ادب</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 04 Aug 2010 08:42:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[Adab]]></category>
		<category><![CDATA[books]]></category>
		<category><![CDATA[children]]></category>
		<category><![CDATA[Hakim Saeed]]></category>
		<category><![CDATA[Hamdard Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[literature]]></category>
		<category><![CDATA[Masud Ahmad Barkati]]></category>
		<category><![CDATA[Naunehal]]></category>
		<category><![CDATA[Novel]]></category>
		<category><![CDATA[Sadia Rashid]]></category>
		<category><![CDATA[Stories]]></category>
		<category><![CDATA[story]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=407</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے مہینوں میرا جانا آرام باغ کی طرف ہوا تو ’’ہمدرد کتابستان‘‘ دیکھ کر میرا جی للچاگیا۔ ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ سوچا، عرصہ ہوگیا ہے، کیوں نہ ایک چکر اس کا بھی لگالیا جائے۔ اندر گیا تو ترتیب بدلی نظر آئی لیکن کتابیں زیادہ تر پرانی ہی تھیں۔ میں وہی لینے گیا تھا۔ مجھے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پچھلے مہینوں میرا جانا آرام باغ کی طرف ہوا تو ’’ہمدرد کتابستان‘‘ دیکھ کر میرا جی للچاگیا۔ ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ سوچا، عرصہ ہوگیا ہے، کیوں نہ ایک چکر اس کا بھی لگالیا جائے۔ اندر گیا تو ترتیب بدلی نظر آئی لیکن کتابیں زیادہ تر پرانی ہی تھیں۔ میں وہی لینے گیا تھا۔ مجھے میرے گھر والوں نے بچپن سے مطالعے کی عادت ڈالی ہے۔ ابو اکثر اوقات مختلف کتابیں لاکر دیتے رہتے تھے جن میں زیادہ تعداد ہمدرد نونہال ادب کی ہوتی تھی۔<span id="more-407"></span> میرے پاس کتب کا خاصا ذخیرہ تھا جسے سنبھالنا کافی مشکل ہوگیا تھا۔ آٹھویں جماعت میں جب ہم طلبہ نے رضاکارانہ طور پر اپنے کمپیوٹر کے استاد اُسامہ صاحب کے ساتھ پبلک پیراڈائز اسکول میں طلبہ کے لیے ایک لائبریری کھولنے کا فیصلہ کیا تو وہ سب کتب میں نے اس لائبریری کو عطیہ کردی تھیں۔ اس اسکول کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہم نے ایسے کوششیں کی تھیں جسے وہ ہمارا خاندانی اسکول ہو لیکن جب مالکان کی نیت ٹھیک نہ ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔ لہٰذا وہ اسکول مجھ سمیت کئی طلبہ نے ایک سال بعد ہی چھوڑ دیا اور وہ اب بھی بے کار سی حالت میں ہے۔</p>
<p>خیر، قصہ تھا نونہال ادب کی کتابوں کی۔ میں نے چوں کہ تقریباً سبھی کتب اسکول کی لائبریری کو عطیہ کردی تھیں اس لیے میری چھوٹی بہن زینب کو وہ کہانیاں پڑھنے کو نہیں ملیں۔ میرے بعد گھر میں کسی کو مطالعے کا زیادہ شوق بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اس دن ہمدرد کتابستان دیکھ کر میں نے سوچا کہ کچھ پرانی کتب خرید لوں تاکہ بچپن کی یاد بھی تازہ ہوجائے اور بہنوں کو بھی وہ دل چسپ کہانیاں پڑھنے کو ملیں۔ میں نے کتابیں اُٹھانا شروع کیں۔ زیادہ تر 1993ء اور 1994ء کے وقت کی چھپی ہوئی ہیں۔ ہمدرد نونہال ادب کی خاص بات یہ ہے کہ کتابیں بے حد سستی ہیں۔ ساٹھ/ ستّر صفحات کی کتاب دس روپے کی۔ اگرچہ یہ پرانی چھپی ہوئی ہیں اور اس وقت اتنی مہنگی طباعت نہیں تھی لیکن پھر بھی ان کا یہ قدم خوش آئند ہے کہ انہوں نے ان کتابوں کی قیمت جوں کی توں رہنے دی ہے ورنہ ہمارے ہاں پبلشرز کے حال سے کون واقف نہیں۔ میں اے۔حمید کی لکھی 12 کتابوں پر مشتمل خلائی مخلوق سیریز کا مکمل سیٹ خریدنا چاہتا تھا۔ یہ اے۔حمید کا بہترین ناول ہے جس کی کہانی عمران اور شیبا کے گرد گھومتی ہے جو کزنز  ہیں۔ خلائی مخلوق زمین پر اُترتی ہے تو اس کے سگنلز پکڑ لیتے ہیں اور اپنی زمین کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ناول سے بچوں کو بہت سی سائنسی باتوں کا علم ہوجاتا ہے۔ خلائی مخلوق اور اڑن طشتری کی بحث، ٹائم مشین، تاریخی واقعات اور بہت کچھ اس داستان میں سمویا ملتا ہے ساتھ ہی اچھی باتیں اور پند و نصائح بھی۔ افسوس اس سیریز کی  دو، تین کتابیں ان کے پاس نہیں تھیں۔ انہوں نے مجھے پیشکش کی کہ 9کتابیں 85 روپے کی عوض خرید لوں لیکن میرے لیے وہ نامکمل ہونے کے سبب اتنی سود مند نہیں تھیں۔ اس کے بجائے میں نے اے۔حمید کی لکھی 7 کتابوں پر مشتمل ’’نامور مسلمان طبیب اور عالم‘‘ سیریز اٹھائی جس کی تمام کتب موجود تھیں۔ یہ بہت دل چسپ ناول ہے۔</p>
<p>بہت سی کتب ایسی تھیں جن کا میں نے پوچھا مگر مجھے بتایا گیا کہ اب وہ ختم ہوگئی ہیں۔ آپ ہمدرد کتابستان میں داخل ہوں تو اندر موجود دو بزرگوں کے چہرے پر جیسے رونق آجاتی ہے۔ وہ بڑی خوشی سے آپ کو مختلف کتابیں پیش کرتے ہیں کہ یہ دیکھیں، یہ آپ نے پڑھی ہے؟ یہ بہت اچھی ہے، اسے دیکھیں۔ بے چارے دونوں حضرات اکثر اوقات فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر آپ کتابیں لینے جارہے ہیں تو آپ اطمینان کرلیں کہ آپ کے پاس کھلے پیسے موجود ہیں کیوں کہ وہاں جب کچھ آمدنی ہی نہیں ہوتی تو کھلے پیسے کہاں ہوں گے۔</p>
<p>میں نے ہمدرد کی شائع کردہ دو کتب، ’’مونٹی کرسٹو کا نواب‘‘ اور ’’سائنس دان کا اغوا‘‘ آن۔لائن رکھی تو ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ باقی کتب پر کام کرنے سے پہلے مسعود احمد برکاتی صاحب یا سعدیہ راشد صاحبہ سے باقاعدہ اجازت لے لوں۔ مجھے ابھی تک اپنی مصروفیات اور زندگی کے بکھیڑوں سے فرصت نہیں مل پارہی کہ ان سے ملاقات کا وقت لوں۔</p>
<p>میں نے ہمدرد کتابستان سے جو کتب خریدیں، ان میں سے چند کا مختصر تعارف:<br />
1۔ پُراسرار مکان: یہ کہانی ہے دو بھائیوں عمران، رضوان اور ایک بہن شازیہ کی۔ والدہ کے انتقال کے بعد اُن کے والد نے اُنہیں خالہ صفیہ کے پاس لندن بھیج دیا۔ خالہ صفیہ کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔ انہوں نے اپنے گھر کو بورڈنگ ہاؤس میں تبدیل کررکھا تھا۔ اگر کوئی مہمان رکنے آجاتا تو ان کو گزر بسر کے لیے کچھ آمدنی ہوجاتی۔ ان کے ہاں دو پُراسرار مہمان شیرازی صاحب اور نور جہاں بیگم عرصے سے رہائش پذیر تھے۔ پڑوس کا مکان خالی تھا۔ وہاں انہیں ایک لڑکی دکھائی دی۔ وہ لڑکی کون تھی، اس سے ملنے کے بعد کیا ہوا، لڑکی نے جھوٹ کیوں بولے، خالہ صفیہ کے ہاں تین بہن بھائی کیا کرتے رہے، انہی واقعات پر مشتمل یہ دل چسپ کہانی ظفر محمود نے تحریر کی ہے۔128 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت صرف 12روپے ہے۔ (میں اس کا نسبتاً صاف نسخہ اُٹھالیا، شاید ہی کوئی نسخہ اب اچھی حالت میں موجود ہو۔)</p>
<p>2۔ انسان اور شیطان: یہ رابرٹ لوئی اسٹیونسن کی مشہور کہانی ’’ڈاکٹر جیکال اور مسٹر ہائیڈ‘‘ کا خلاصہ ہے جسے رفیع الزمان زبیری نے اردو زبان میں بہت خوب ڈھالا ہے۔ کہانی بہت دل چسپ ہے اور اس موضوع کو کئی فلموں میں بھی فلمایا جاچکا ہے کہ ڈاکٹر ہنری جیکال ایک تجربے کے ذریعے ایسی دوا بنالیتا ہے جو انسان کی اچھی اور بری شخصیت کو علاحدہ کرسکتی ہے۔ جب وہ دوائی ایک مرتبہ استعمال کرتا ہے تو اس کے اندر کا برا انسان ظاہر ہوجاتا ہے، دوسری بار استعمال پر اچھا انسان واپس۔ بری شخصیت ابتدا میں کمزور ہوتی ہے کیوں کہ ڈاکٹر ہنری جیکال ایک اچھا ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن بعد میں اس کی بری شخصیت جب رات کے اندھیرے میں شہر کی سڑکوں پر آزادی سے برے کام کرتی پھرتی ہے تو اس کی اچھی شخصیت پر بُری شخصیت غالب آنے لگتی ہے اور اس قدر طاقتور ہوجاتی ہے کہ دوائی کے بغیر ہی اس کی اچھی شخصیت پر بری شخصیت ظاہر ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر جیکال کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ کیا طریقہ استعمال کرتا ہے، یہ سب بہت ہی دل چسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ 52صفحات پر مشتمل اس رسالے کی قیمت صرف 8روپے ہے۔</p>
<p>3۔ شاہی خزانہ: یہ کہانی محمد سعید اختر نے تحریر کی ہے جس میں صابر حسین اور سلطان ایک چھپے ہوئے خزانے کو کھوجنے نکلتے ہیں۔ راستےمیں کتنی مشکلات آتی ہیں اور انجام کیا ہوتا ہے، یہ سبق آموز کہانی 64صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت 10روپے ہے۔</p>
<p>4۔ ہلتا ہوا مکان: یہ توراکینہ قاضی کی لکھی چند کہانیوں کا انتخاب ہے۔ صفحات:56 قیمت:10روپے</p>
<p>5۔ نامور مسلمان طبیب اور عالم سیریز: یہ اے۔حمید کی لکھی ہوئی دل چسپ طویل کہانی ہے۔ اس میں شہزاد ایک جن کے بچّے سانچی سے ملتا ہے اور اسے سامری جادوگر کی قید سے رہائی دلاتا ہے۔ اس احسان کے بدلے میں سانچی اس سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کی کوئی ایک خواہش پوری کردے گا۔ شہزاد یہ خواہش کرتا ہے کہ اس کی ملاقات ماضی کے عظیم مسلمان اطبا و علما سے کروادے۔ چنانچہ سانچی اپنے وعدے کے مطابق اس کی خواہش پوری کرتا ہے۔ پہلی کتاب میں حکیم زکریا رازی، دوسری کتاب میں ابوالبرکات بغدادی، تیسری کتاب میں البیرونی، چوتھی میں ابنِ سینا، پانچویں میں ابوعلی الحسن ابن الہیثم، چھٹی میں ابنِ رُشد اور ساتویں کتاب میں جابر بن حیان سے ملاقات ہوتی ہے۔ سات کتابوں پر مشتمل یہ مکمل سیٹ آپ کو تقریباً 85 روپے میں مل جائے گا۔ اس میں بچوں کو نہ صرف عظیم مسلمان سائنس دانوں کی شخصیت، کارناموں اور واقعات سے دل چسپ انداز میں روشناس کرایا گیا ہے بل کہ اس میں دوسرے واقعات بھی اتنے سحر انگیز ہیں کہ پڑھنے والے بچے کو چھوڑنے کا دل نہیں کرتا (اگر اسے مطالعہ کا شوق ہو)۔</p>
<p>اس کے علاوہ وہ کتابیں جو مجھے ملی نہیں اور مجھے ان کتب کے پچھلے صفحے پر اُن کے سرورق دیکھ کر اُن کی یاد آرہی ہے، وہ کروڑ پتی فقیر، بیس سال بعد، عمون کی تباہی، جادو نگری، پتھر کی گڑیا وغیرہ ہیں۔ عمون کی تباہی اور جادونگری تو کمال کی کہانیاں تھیں۔ افسوس مجھے نہیں مل سکیں۔</p>
<p>میں نے کُل 13، 14 کتابیں خریدی تھیں اور کُل میزانیہ 150روپے سے بھی کم کا بنا تھا۔ اب اور کیا چاہیے؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>برداشت کر!!</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 17 Jul 2010 08:29:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[Broadband]]></category>
		<category><![CDATA[Consumerism]]></category>
		<category><![CDATA[Electricity]]></category>
		<category><![CDATA[Fight Club]]></category>
		<category><![CDATA[K.E.S.C]]></category>
		<category><![CDATA[Landline Telephone]]></category>
		<category><![CDATA[Loadshedding]]></category>
		<category><![CDATA[mobile]]></category>
		<category><![CDATA[movie]]></category>
		<category><![CDATA[P.T.C.L]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>
		<category><![CDATA[Wateen]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=402</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان میں رہنے والوں کو ایک مسئلہ جو بارہا درپیش ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شکایات کے اندراج کے لیے مناسب طریقۂ کار کی عدم موجودگی۔ آپ کے علاقے میں بجلی بند ہوگئی۔ اب آپ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں، کس کے پاس جائیں؟ شکایت کے لیے K.E.S.C کا رابطہ نمبر 118 صرف PTCL [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں رہنے والوں کو ایک مسئلہ جو بارہا درپیش ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شکایات کے اندراج کے لیے مناسب طریقۂ کار کی عدم موجودگی۔ آپ کے علاقے میں بجلی بند ہوگئی۔ اب آپ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں، کس کے پاس جائیں؟ شکایت کے لیے <a target="_blank" href="http://www.kesc.com.pk/en" >K.E.S.C</a> کا رابطہ نمبر 118 صرف <a target="_blank" href="http://ptcl.com.pk/" >PTCL</a> فون سے ملایا جاسکتا ہے جب کہ PTCL فون اب گھروں میں کم ہی پایا جاتا ہے۔ موبائل سے اس نمبر تک رسائی نہیں۔ اور آپ کے پاس اگر PTCL ہے بھی تو اوّل آپ آدھ گھنٹا فون ملاتے رہیں، مجال ہے جو دوسری طرف سے اُٹھانے کی زحمت کی جائے۔ پھر اگر دوسری طرف سے جواب دے بھی دیا جائے تو آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے آپ کو ٹال دینا ہے کہ جی، فلاں فلاں خرابی ہے، کام کررہے ہیں، دو گھنٹے لگیں گے۔ گویا دن میں معمول کے مطابق چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ الگ اور پھر یہ دو، تین گھنٹے کا بونس بھی۔ آپ چیخیں، چلائیں، شور مچائیں، روئیں، جو چاہیں کریں، لیکن بجلی نہیں آنے کی جب تک احباب نہ چاہیں۔</p>
<p>آپ کی ٹیلے فون لائن خراب ہے، شور سنائی دیتا ہے، دوسری طرف سے کسی کی آواز ایسے سنائی دیتی ہے جیسے آپ ہواؤں کے دوش پر اُڑتے ہوئے بات چیت کررہے ہوں۔ آپ شکایت کرنا چاہتے ہیں۔ کرکے دکھائیے۔ کس سے کریں گے؟ ٹیلے فون بل پر موجود ہر نمبر ملالیجیے، یا مصروف ملے گا یا جواباً آپ کو بہت خوب صورتی سے شائستہ انداز میں ایک عدد بہانے سے ٹال دیا جائے گا لیکن مسئلہ جوں کا توں موجود رہے گا۔</p>
<p>آپ کے ہاں بجلی/ گیس کا بِل بہت زیادہ آرہا ہے۔ آپ پریشان ہیں کہ اتنا کیسے؟ لیکن شکایت کس سے کیجیے؟ کوئی سننے والا موجود جو نہیں۔ K.E.S.C کے دفتر چلے جائیے، ایک میز سے دوسری میز، دوسری سے تیسری، تیسری سے چوتھی اور پھر جب آخری میز پر پہنچیں تو آپ کہا جائے گا کہ آپ پہلی منزل پر چلے جائیں۔ پہلی منزل پر بھی ایسی ہی کاروائی۔ کسی کو ترس آگیا تو ٹھیک ورنہ جتنی منزلیں ہوں گی، سب کی سیر کرائی جائے گی۔ ترس آنے سے مراد یہ نہیں کہ کوئی اللہ کا بندا جھٹ پٹ آپ کا کام کردے گا۔ ارے نہیں جناب، ہرگز نہیں، اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ترس کھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا کھانچا بنانے کا ارادہ کرلے۔ کچھ دو کچھ لو کے اصول پر بات چیت کرنے کو صاحب کا من چاہے تو مبارک۔</p>
<p>آپ کے گھر ٹیلے ویژن ہے تو یقیناً ٹی۔وی کیبل لگائی ہوئی ہوگی کیوں کہ اکثریت <a target="_blank" href="http://ptv.com.pk/index.asp" >PTV Home</a> اور <a target="_blank" href="http://news.ptv.com.pk/index.asp" >PTV News</a> اور <a target="_blank" href="http://atv.com.pk/" >ATV</a> جیسے تھکے ہوئے چینلز دیکھنا نہیں چاہتی۔ اب آپ کے پاس 80 سے کچھ زیادہ ٹیلے ویژن چینلز آرہے ہیں۔ آپ ہر ماہ اس سہولت کے تین سو روپے ادا کرتے ہیں۔ اچانک ہوا یہ کہ آپ کے کنکشن میں خرابی آگئی۔ 80 میں سے 8 چینلز بمشکل صاف آرہے ہیں باقیوں پر مکھیاں بھنبھنارہی ہیں۔ آپ کیبل آپریٹر کو فون کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں کہ بھائی، یہ مسئلہ ہوگیا ہے۔ وہ کہتا ہے، اچھا میں آکر دیکھتا ہوں۔ وہ آنے میں تین/ چار دن لگادیتا ہے۔ آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ آتا ہے، دیکھ کر کہتا ہے کہ کنکشن تو ٹھیک ہے۔ لگتا ہے، تار خراب ہوگئی ہے لہٰذا تار اچھی والی لے آئیں۔ آپ سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اگلے ہی دن مہنگے داموں ایک معیاری تار کا بندوبست کردیتے ہیں لیکن اب جو اس کو بلانا چاہتے ہیں تو وہ صاحب کبھی فون بند کردیتے ہیں تو کبھی بہانا بناکر ٹال جاتے ہیں۔ پورا مہینا اسی طرح گزر جاتا ہے اور پھر اچانک سے آپ کے پاس سارے چینلز صاف آنے لگتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد موصوف کیبل آپریٹر آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ ان سے عرض کرتے ہیں کہ صاحب، جب شکایت کررہا تھا تو آپ نے کان نہیں دھرے، اب پیسے کس بات کے جب کہ آپ کی خدمات ہی نہیں ملیں؟ جواب ملتا ہے کہ یہ تو بالکل فضول کی بات ہے، پیسے تو آپ کو دینے ہی ہوں گے۔ آپ کہتے ہیں، میں تو آدھی رقم دوں گا حالانکہ حق دار تو آپ اس کے بھی نہیں ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ رقم تو پوری ہی دینی پڑے گی۔ آپ کا انکار سن کر وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے جی، نہ دیجیے اور پھر جاکر آپ کا کنکشن منقطع کردیتے ہیں۔ کرسکتے ہیں کسی سے شکایت؟ کرکے دکھائیے؟ ایک علاقے میں ایک کیبل آپریٹر کی موجودگی میں چوں کہ دوسرا آپریٹر خدمات فراہم نہیں کرتا اس لیے مونوپلی ہونے کے باعث تو ان کو پروا نہیں۔ کنکشن کروانا ہے تو کرواؤ نہیں تو بھاڑ میں جاؤ، اُن کے پاس اتنے لوگوں کے کنکشنز ہیں کہ ایک آپ کے جانے سے اُنہیں فرق بھی نہیں پڑتا۔ آپ خوش رہیے۔</p>
<p>آپ کے پاس کمپیوٹر ہے، آپ نے قریبی <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Cable_Internet_access" >انٹرنیٹ کیبل</a> کی خدمت فراہم کرنے والے ایک صاحب سے ماہانہ چھ سو روپے پر کنکشن کروایا (ویسے ہمارے ہاں کنکشن لگوایا جاتا ہے)۔ آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں کسی تعلیمی غرض سے یا انٹرنیٹ پر روزی تلاش کرتے ہیں۔ کبھی آپ کی انٹرنیٹ کچھوے کی رفتار سے چلتا ہے اور کبھی کچھوے کی طرح خول میں منھ دے کر سوجاتا ہے۔ آپ ہزار ٹھوکیے، ایسے ہوگیا جیسے مُردا۔ آپ آپریٹر کو فون لگاتے ہیں، وہ جواباً عرض کرتا ہے کہ جناب، اس طرف کی بجلی گئی ہوئی ہے۔ آپ کیا کرسکتے ہیں؟ پاکستان میں رہتے ہیں، بجلی سب کے ہاں جاتی ہے، اُس کے ہاں کوئی انوکھی نہیں گئی۔ اب کیا کریں کہ وہ اس علاقے میں بیٹھا ہے کہ جب اس کے بجلی ہوتی ہے تو آپ کے نہیں ہوتی اور جب آپ کے ہاں ہوتی ہے تو اس کے ہاں غایب۔ بے چارے کا کیا قصور۔ چلو، اچھا آپریٹر ہے، اس کے ہاں جنریٹر یا <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/U.P.S." >U.P.S</a> لگا ہوا ہے، بجلی جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ پھر بھی انٹرنیٹ نہیں چل رہا، آپ نے فون گھمایا تو بتایا گیا کہ پیچھے کہیں تار ٹوٹ گئی ہے، کام کیا جارہا ہے۔ ارے غصہ کیوں ہوتے ہیں؟ میاں آپ بھی یہیں کے باسی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ تاروں کے گچھے کیسے آپ کے سروں پر سایا کیے رہتے ہیں۔ کون سا تار بجلی کا ہے، کون سا انٹرنیٹ کا اور کون سا کیبل ٹی۔وی کا، آپ یہ اندازا ہی نہیں لگاسکتے۔ اب کہیں کوئی تار ٹوٹ گیا تو اوّل اسے ڈھونڈا جائے گا، پھر اس کو صحیح کرنے کا کام ہوگا، یوں آپ کا انٹرنیٹ مرے سے مرے، دو دن میں جاکر انگڑائی لے گا اور خراماں خراماں چلے گا۔</p>
<p>دو مہینے بعد تنگ آکر آپ نے کیبل انٹرنیٹ پر چار حرف بھیجے، سوچا <a target="_blank" href="http://ptcl.com.pk/contentp.php?NID=291" >PTCL کا براڈبینڈ انٹرنیٹ</a> اچھا چل رہا ہے، کیوں نہ وہی استعمال کیا جائے۔ آپ نے اس کی طرف رجوع کیا۔ آپ کو PTCL کی طرف سے بِل ملنا شروع ہوگیا لیکن تار اب تک نہیں لگائی گئی۔ یہ کیسا غضب ہے! آپ کو شکایت کرنی ہے؟ کس سے کریں گے؟ <a target="_blank" href="http://www.etisalat.ae/" >اتصالات کمپنی</a> کے ڈائریکٹر سے یا <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Asif_Ali_Zardari" >عزت مآب زرداری صاحب</a> سے؟ تین/ چار ماہ تک آپ کو بِل موصول ہوتا رہا، تب کہیں جاکر آپ کو تار فراہم کی گئی۔ لیکن نجانے تار کے جوڑ میں کہاں خرابی ہے۔ براؤزنگ کررہے ہوں تو صفحہ کھلتے کھلتے دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ کی طرح بھول جاتا ہے کہ وہ کر کیا رہا تھا۔ آپ اس پر دو تین بار Refresh کا مولا بخش مارتے ہیں، <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_web_browsers" >مختلف براؤزرز</a> کے ٹھڈے استعمال کرتے ہیں، تب جاکر براؤزنگ ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ بھی صاف بند۔۔۔ چلنے سے انکاری۔۔۔ آپ شکایت کرنے کی سعیِ لاحاصل کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خبر ملتی ہے کہ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Fiber_optic" >فائبر آپٹک</a> میں خرابی آگئی ہے، درست کرنے میں دو دن لگ سکتے ہیں۔ اب آپ PTCL کو فون گھماکر شکایت کرنے کی حماقت کریں گے تو ظاہر ہے، دوسری طرف سے کبھی جواب نہیں ملے گا۔ صاحب، آپ کو اطلاع دینے کے لیے تو ہر ہر ٹی۔وی چینلز پر خبر دکھائی گئی، اخبار میں سیاہی جمائی گئی (سرخی کا زمانہ کہاں، عورتوں سے بچتی ہی نہیں)، اب ہر طرح سے آپ کو مطلع کردیا گیا تو آپ کاہے کو فون کی زحمت کرتے ہیں؟</p>
<p>بڑے بے آبرو ہوکر تِرے کوچے سے ہم نکلے۔ تعجب ہے، آپ میں پاکستانی ہوکر برداشت نہیں؟ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ <a target="_blank" href="http://www.wateen.com/" >وطین</a> کے وائی میکس یا وائی فائی انٹرنیٹ کی طرف رجوع کریں گے؟ کرلیجیے۔ کرلیا؟ خوب!! واہ، یہ تو بہت اچھا رہا۔ رفتار بھی خاصی ہے۔ پھر ایک دن صبح جب آپ انٹرنیٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے سامنے ایک صفحہ آتا ہے کہ وطین ساری ڈیوائسز کا ریکارڈ اپڈیٹ کررہا ہے لہٰذا آپ بذریعہ ای۔میل یا فون اپنی ڈیوائس پر درج کوڈ ہمیں بتائیں۔ اللہ کے بندو، جب ڈیوائس دی تھی، تب ریکارڈ رکھا تو تھا، اب کیا ہوا؟ ارے جناب، پاکستان ہے، کوئی بعید نہیں کہ اُن کے کمپیوٹرز سے سارا ریکارڈ اُڑن چھو ہوگیا ہو۔ سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اب آپ ای۔میل کرکے تو بتانے سے رہے کیوں کہ جب تک آپ کی ڈیوائس کا ریکارڈ اپڈیٹ نہیں ہوتا، آپ کی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ فون کرنا ہی واحد ذریعہ ہے۔ آپ فون کرتے ہیں، مصروف ہے۔ پھر کرتے ہیں، مصروف۔۔۔ صاحبو! جب پوری وطین کمیونٹی کا انٹرنیٹ تم نے یہ کہہ کر بند کردیا کہ ریکارڈ اپڈیٹ کرواؤ اور پھر ساری دنیا یہ کوشش کرے گی تو تمہارا واحد فون نمبر مصروف ہی تو رہے گا (اُلّو کے۔۔۔۔)!!! آپ فون کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، آدھ گھنٹے تک ملاتے ہیں تب جاکر کہیں کنیکٹ ہوتا ہے، ٹیلے فون آپریٹر سے نہیں، کمپیوٹر سے۔۔ پھر وہ کمپیوٹر آپ کو سہانی دھنیں سناتا ہے جو غصے کے سبب آپ کے کانوں میں ایسے لگتی ہیں جیسے کسی سوتے آدمی کے سر پر بے سرے انداز میں ڈرم بجایا جانے لگے یا اس کے کانوں میں بنا سیکھے بانسری بجائی جائے۔ کمپیوٹر آپ کو پندرہ منٹ انتظار کروانے کے بعد کسٹمر سینٹر کے آپریٹر سے آپ کی کال کنیکٹ کرتا ہے۔ آپ اسے اپنی ڈیوائس کی معلومات فراہم کرتے ہیں تو وہ آپ کو مژدۂ جانفزا سناتا ہے کہ صرف اور صرف، جی ہاں صرف اور صرف چوبیس گھنٹے میں آپ کا انٹرنیٹ بحال ہوجائے گا۔ شکایت کریں گے؟ کس سے؟ U.A.E میں وطین کے ہیڈکوارٹر سے؟ چچ چچ۔۔۔ آپ چوبیس گھنٹے گزرنے کا انتظار یوں کرتے ہیں کہ ہر کچھ دیر بعد براؤزر کھولتے ہیں کہ شاید انٹرنیٹ چوبیس گھنٹے سے پہلے بحال ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ چوبیس گھنٹے کہاں، اڑتالیس گھنٹے گزر جاتے ہیں، انٹرنیٹ جوں کا توں مُردا۔ آپ پھر وطین کے کسٹمر (کئیر؟؟؟)  سینٹر پر نمائندے سے بات کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے آپ کو حسبِ سابق آدھ گھنٹے سے زیادہ بار بار ٹیلے فون نمبر ریڈائل کرنا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر رابطہ ہوتا ہے۔ آپ اس کو برا بھلا کہتے ہیں، زبان کی نوک پر رُکے سنسر کے قابل الفاظ پھسلنے لگتے ہیں، لاوا جو اب تک پک رہا تھا، اب اُبل پڑتا ہے لیکن دوسری طرف وہ اسی تحمل مزاجی سے آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا اور وہ آپ کی درخواست دوبارہ آگے بھیج رہا ہے، جلد مسئلہ حل ہوجائے گا۔ لیکن پھر بھی نہیں ہوتا۔ کچھ گھنٹے بعد دوبارہ کوشش کی جاتی ہے۔ اب کی بار ان کا نمایندہ آپ کو کہتا ہے کہ آپ کی درخواست تو آگے بھیجی ہی نہیں گئی ہے لیکن وہ بھیج رہا ہے، ساتھ ہی آپ کا انٹرنیٹ آدھ گھنٹے میں لاگ۔ان صفحے کے بنا ڈائرکٹ کنیکٹ پر ہوجائے گا۔ آپ کو اس کی بات پر یقین نہیں آتا، دل میں ہزار گالیاں دیتے ہیں لیکن اس کی بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ آپ کی ڈیوائس کی معلومات پر کام تو جب ہوگا سو ہوگا، لیکن اس نے آپ کی ڈیوائس کو ڈائرکٹ کنیکٹ کردیا۔ آپ سوچتے ہیں کہ اس کو دعا دوں یا پچھلے والوں کو بد دعا؟</p>
<p>اسی کشمکش میں آپ کی زندگی گزرتی چلی جارہی ہے اور آپ کو ہر سروس پرووائڈر کا نمائندہ جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ تو بس خوش بو دار کاغذ میں لپٹی ایک ہی چیز ہے جس کو کھولنے پر آپ کے سامنے جو ہوگا وہ دراصل یہاں گاڑیوں کے پیچھے لکھے ہوئے ایک جملے سے بہ آسانی سمجھی جاسکتا ہے کہ<br />
’’تپڑ ہے تو پاس کر، ورنہ برداشت کر‘‘</p>
<p>اتنی طویل تحریر پڑھ کر تھک گئے؟ کوئی بات نہیں۔ کیا یہ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Consumerism" >کنزیومر ازم</a> کے کمالات ہیں۔ چلیں <a target="_blank" href="http://www.imdb.com/title/tt0137523/" >فائٹ کلب</a> دیکھیے، میں نے بھی دو دن پہلے دیکھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>25</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>Have an ICE day</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/05/have-an-ice-day/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/05/have-an-ice-day/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 15 May 2010 06:23:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[Have a nice day]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=385</guid>
		<description><![CDATA[جس شدت کی گرمی ان دنوں شہرِ کراچی سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں پڑرہی ہے، اس نے اچھے اچھوں کا حال خراب کررکھا ہے۔ اس پر مستزاد بجلی کا غائب رہنا۔ عام طور سے کراچی میں ایک ایک گھنٹے کے لیے تین مرتبہ بجلی جاتی ہے لیکن کچھ علاقوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جس شدت کی گرمی ان دنوں شہرِ کراچی سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں پڑرہی ہے، اس نے اچھے اچھوں کا حال خراب کررکھا ہے۔ اس پر مستزاد بجلی کا غائب رہنا۔ عام طور سے کراچی میں ایک ایک گھنٹے کے لیے تین مرتبہ بجلی جاتی ہے لیکن کچھ علاقوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کے لیے تین سے چار مرتبہ بجلی غائب رہتی ہے جن میں سے ایک ہمارا علاقہ بھی ہے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_twisted.gif' alt=':devil:' class='wp-smiley' />  ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان کے میچز کے دوران K.E.S.C نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے بجلی بند نہیں کی لیکن کل پاکستان کی سیمی فائنل میں شکست کے بعد ہم سے ایسا بدلہ لیا گیا جیسے شکست کے سب سے بڑے قصوروار ہم لوگ ہیں۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_blush.gif' alt=':ops:' class='wp-smiley' />  پہلے رات چار بجے کے قریب بجلی بند کردی تو ڈیڑھ گھنٹے کے قریب بند رہی اور ہمارا محنت کا پسینہ بستر اور تکیہ بھگوتا رہا۔ اس کے بعد صبح آٹھ بجے کے قریب بند کی تو پونے دس بجے عطا کی۔</p>
<p>آج صبح جو ایک نے مجھے ٹیکسٹ کیا: ’’Have a nice day‘‘ تو جواباً اسی میں معمولی سی تبدیلی کے بعد میں نے لکھا: ’’Have an ICE day‘‘۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/05/have-an-ice-day/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دعاے صحت کی درخواست</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/11/duae-sehet/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/11/duae-sehet/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2009 14:04:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=279</guid>
		<description><![CDATA[دنیا جہاں کی فکر میں گھلنے والی میری آپی کچھ عرصے سے کافی مشکلات کا شکار ہیں۔ خاصی بیمار بھی ہیں۔ ڈاکٹرز نے آپریشن تجویز کیا ہے۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا مانگیں۔ اللہ پاک انہیں تمام بیماریوں اور امراض سے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>دنیا جہاں کی فکر میں گھلنے والی <a target="_blank" href="http://shahi.urdutech.net/" >میری آپی</a> کچھ عرصے سے کافی مشکلات کا شکار ہیں۔ خاصی بیمار بھی ہیں۔ ڈاکٹرز نے آپریشن تجویز کیا ہے۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا مانگیں۔ اللہ پاک انہیں تمام بیماریوں اور امراض سے شفاے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور ان کے تمام مسائل حل فرمائے۔ آمین!</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/11/duae-sehet/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نالائق (ہفتۂ بلاگستان)</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/08/nalaiq-hafta-blog/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/08/nalaiq-hafta-blog/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Aug 2009 14:22:38 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[education]]></category>
		<category><![CDATA[guidance]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=249</guid>
		<description><![CDATA[یار دوست سوچیں گے، بڑا فارغ بندہ بنا ہے آج۔ تحریر پر تحریر آرہی ہے۔ سچ کہوں تو ارادہ نہیں تھا۔ اردو کا اسائنمنٹ بنانے بیٹھا تھا، ڈفر نے بیچ میں ٹانگ اڑا دی تو یہاں آکر گرا۔ میں نے کالج میں انجینئرنگ ہی لی تھی لیکن جب فکرِ معاش ہوئی تو کالج چھوڑنا پڑا۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>یار دوست سوچیں گے، بڑا فارغ بندہ بنا ہے آج۔ تحریر پر تحریر آرہی ہے۔ سچ کہوں تو ارادہ نہیں تھا۔ اردو کا اسائنمنٹ بنانے بیٹھا تھا، ڈفر نے بیچ میں ٹانگ اڑا دی تو یہاں آکر گرا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>میں نے کالج میں انجینئرنگ ہی لی تھی لیکن جب فکرِ معاش ہوئی تو کالج چھوڑنا پڑا۔ تعلیمی سلسلے میں دو سال کا وقفہ آیا (یقین جانیں، اس میں سبز ستارہ والی گولی کا کام نہیں تھا <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' /> )۔ بعد میں جب پڑھائی شروع کی تو عقل آگئی تھی، آرٹس کے مضامین منتخب کیے۔ مجھے جتنی باتیں سننی پڑسکتی تھیں، میں ان کے لیے تیار تھا۔ خاندان میں، دوست احباب میں، ملنے جلنے والوں میں۔ جن سے واسطہ نہ تھا، وہ بھی ناک بھوں چڑھانا اپنا فرضِ عین سمجھتے۔ اکثر مکالمے اس طرح پیش آتے:</p>
<p>٭ انجینئرنگ کیوں نہیں لی؟<br />
میرا انجینئرنگ کی طرف رجحان نہیں تھا۔</p>
<p>٭ یار تو کامرس پڑھ لیا ہوتا۔<br />
کس خوشی میں؟ میں نے کوئی بینکنگ کی نوکری کرنی ہے؟</p>
<p>٭ ارے آرٹس کا کیا مستقبل ہے؟<br />
سنو بھئی! میں نے مضامین وہ لینے تھے جن میں آگے چل کر میں نے اپنا مستقبل بنانا ہے اور جن میں مجھے دلچسپی ہے۔ جن سے ککھ تعلق نہیں، ان کو پڑھ کر کیا لینا۔ او بھائی! میری ملازمت کا ہی خیال کرلو۔ صبح سے شام تک دفتر میں مصروف ہوتا ہوں۔ سائنس یا کامرس کیا کوئی مجھے پانی میں گھول کر پلائے گا۔</p>
<p>آگے سے منہ میں کچھ بڑبڑ اور بات ختم۔ اپنے ددھیال اور ننھیال میں، میں پہلا فرد تھا جس نے روایت شکنی کرتے ہوئے آرٹس کا شعبہ منتخب کیا اور بعد میں اپنی ایک بہن کو بھی بہت سمجھا کر اسی راہ پر ڈالا۔ اور اُس کے ساتھ پچھلے دنوں ہوا یہ کہ ایک اسکول میں پڑھانے کے لیے انٹرویو دینے گئی تو جب وہاں کی منتظمہ کو یہ پتا چلا کہ آرٹس پڑھی ہے، ناک چڑھاکر بولیں: ارے آرٹس کیوں لی آپ نے؟ اس کا تو کوئی مستقبل نہیں ہے۔ یہ سوچ ہے ہماری درسگاہوں کے منتظمین اور معلمین کی۔</p>
<p>مضامین منتخب کرنے میں رہ نمائی اور مشاورت کسے کہتے ہیں، یہ تو کالج سطح کے طلبا شاید جانتے بھی نہیں۔ خود ہم نے پہلی بار یہ نام یونیورسٹی میں آکر سنا۔ ہمارے ہاں تو بس خاندان میں یا دوستوں میں جس نے جو پٹی پڑھادی، سارا خاندان وہی مضمون پڑھنے بیٹھ گیا۔</p>
<p>اور ہمارا تعلیمی نظام ہمیں کیسے طلبا دے رہا ہے، اس کے لیے میری پچھلی تحریر ’’<a href="http://ibnezia.com/blog/2009/08/jn-ep11/" >کتابوں کی حالتِ زار</a>‘‘ ہی کافی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/08/nalaiq-hafta-blog/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>20</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>انٹرمیڈیٹ کا نتیجہ</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2008/11/intermediate-result/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2008/11/intermediate-result/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 08 Nov 2008 13:27:20 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[2008]]></category>
		<category><![CDATA[exam]]></category>
		<category><![CDATA[intermediate]]></category>
		<category><![CDATA[result]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=46</guid>
		<description><![CDATA[اور آخرکار میرے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا تفصیلی نتیجہ آگیا۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آخر کار نالائق بچے کے انٹرمیڈیٹ کا تفصیلی نتیجہ آگیا۔ اب بچہ سال بھر پڑھے گا نہیں اور امتحان سے کچھ دن پہلے ہوش آئے گا تو نتیجہ ظاہر ہے یہی آنا تھا۔۔۔</p>
<p><a href="http://ibnezia.com/blog/wp-content/uploads/2008/11/marksheet.jpg" ><img class="alignnone size-medium wp-image-47" title="marksheet" src="http://ibnezia.com/blog/wp-content/uploads/2008/11/marksheet-300x228.jpg" alt="" width="300" height="228" /></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2008/11/intermediate-result/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>29</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قصہ راہ بھٹکنے کا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2008/10/raah-bhatakna/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2008/10/raah-bhatakna/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 20 Oct 2008 03:47:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=25</guid>
		<description><![CDATA[قصہ اس دوپہر کا جب ہم اسکول سے گھر واپسی پر راستہ بھٹک گئے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہم اپریل 1999ء میں محمود آباد سے شمالی کراچی منتقل ہوے۔ یہاں آکر میں نے چھٹی جماعت سے اسکول کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا۔ میرا، اسامہ اور دو بہنوں کا ایک اسکول میں داخلہ ہوا جو ہمارے گھر سے کافی فاصلہ پر تھا۔ اس وقت میری عمر کوئی 13 سال ہوگی۔ اسامہ مجھ سے ڈیڑھ سال چھوٹا اور دو بہنیں اس سے بھی ڈھائی، تین سال چھوٹی۔ پھر یہ کہ ہم لوگ اس سے پہلے گھر میں ہی رہے تھے، باہر کی دنیا زیادہ دیکھی نہیں تھی اس لیے کافی معصوم اور بھولے بھالے تھے (آپ بے وقوف بھی کہہ سکتے ہیں)۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_wink.gif' alt=':wink:' class='wp-smiley' />  اب کچھ دن تو بس کے ذریعہ آنا جانا ہوا، پھر ابو نے کہا کہ راستہ اتنا زیادہ تو نہیں ہے، ایک دن میں صبح تم لوگوں کے ساتھ بس میں چلتا ہوں، واپسی میں کوئی شارٹ کٹ راستہ دیکھتا ہوں پیدل آنے جانے کے لیے۔ سو، ابو ایک صبح ہمارے ساتھ گئے اور واپسی میں ایک شارٹ کٹ راستہ تلاش کر آئے۔</p>
<p>اگلے دن ہم ابو کے ساتھ نکلے اسکول جانے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ دیکھو، اس گلی میں داخل ہونے کے بعد یہ سڑک سیدھی تمہارے اسکول کی سڑک سے ملتی ہے اور نشانیاں ذہن نشین کراتے ہوئے اس راستہ سے ہمیں لے گئے۔ پوچھا کہ سمجھ آیا؟ ہم نے کہا، ہاں۔ یہ تو بہت ہی سیدھا سا راستہ ہے۔ طے ہوا کہ اسکول سے گھر واپسی میں ہم پیدل مارچ کریں گے۔</p>
<p>اب اسکول کی گلی سے نکلتے ہی ہم ایک الجھن میں پڑگئے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_think.gif' alt=':hmm:' class='wp-smiley' />  ہمارے سامنے دو گلیاں تھیں۔ سمجھ نہیں آیا کہ ہمیں کس میں جانا تھا۔ خیر، اللہ کا نام لے کر پہلی گلی میں چلے آئے۔ وہ گلی دو قدم کے بعد ہی بند تھی اور دائیں طرف مڑ رہی تھی۔ دراصل ہم نے جس سڑک پر جانا تھا، وہ دوسری گلی کی تھی اور ہم جو پہلی گلی میں داخل ہوے تو وہ پہلی گلی بھی دائیں طرف مڑ کر اسی سڑک سے ملتی تھی جس پر ہمیں چلنا تھا۔ لیکن ہماری بے وقوفی دیکھیے۔ ہمیں اب عین شاہراہ پر آکر بائیں طرف مڑنا تھا کہ وہ سیدھی ہمارے گھر کی طرف جارہی تھی لیکن ہم بائیں طرف مڑنے کے بجاے سیدھا سامنے والی گلی میں داخل ہوگئے۔ اور بس یہیں سے ہماری شامت آئی۔ وہیں ایک ہی دائرے میں گھومتے رہے اور حیران پریشان کہ خدایا، یہ کیا ماجرا ہے۔ جس گلی سے نکلتے ہیں، ایک ہی جگہ سامنے ہوتی ہے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
<p>ایک موڑ پر آکر اسامہ نے کہا کہ دائیں طرف مڑنا ہے، میں نے کہا کہ نہیں بائیں طرف مڑنا ہے۔ یہاں بحث ہوئی تو وہ صاحب ضد میں یہ کہہ کر الگ ہوگئے کہ آپ نے جہاں جانا ہے، جاؤ، میں تو اپنے رستے پر جارہا ہوں۔ اب میرے ساتھ دو چھوٹی بہنیں، مئی کا مہینہ، شدید دھوپ، کاندھے پر اسکول بستہ کا بھاری بوجھ۔ کچھ سمجھ نہ آئے۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/icon_sad.gif' alt=':sad:' class='wp-smiley' /> </p>
<p>اسی طرح بھٹکتے پھرتے دیکھا تو سامنے سے اسامہ فٹ پاتھ پر چلتا آرہا تھا۔ اچانک ٹھوکر لگی اور گرپڑا۔ ہم نے کہا کہ دیکھو، ہم سے الگ ہوکر بھی اسی حال میں پھررہا ہے۔ آواز دے کر بلایا کہ بھئی یہیں آجا۔ خیر، پھر ہم اس بڑی شاہراہ پر جانکلے جہاں ٹریفک کی آمد و رفت تھی۔ بہنوں کے کاندھے پر بوجھ کا احساس کرکے میں نے ایک کا بستہ سنبھال لیا۔ اب دو بستوں کا بوجھ اٹھائے، اپنی مرضی سے جو سمت درست لگی، منہ اٹھاکر اسی سمت کو لے چلا۔ کافی دیر چلنے تک جب کوئی شناسا مقام نظر نہ آیا تو سوچا کہ کسی سے پوچھ کر ہی دیکھیں۔ اب ہمارے ہاں بچوں کو شروع سے ڈرایا جاتا ہے کہ لوگ اغوا کرلیتے ہیں، اجنبی سے بات نہ کرو، برے لوگ ہوتے ہیں، پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ تو یہ ڈر بھی تھا دل میں کہ کوئی یہ جان کر کہ ہم رستہ بھٹک گئے ہیں، پکڑ کر ہی نہ لے جائے۔ بہرحال، ڈرتے ڈرتے ایک بندے سے پوچھا کہ جناب، یوپی موڑ کہاں ہے؟ بولا، سیدھا چلتے جاؤ، آجائے گا۔ ہم چلتے رہے، لیکن نہ آیا۔ خوف لیے ایک اور شخص سے پوچھا۔ اس نے بھی یہی کہا کہ سیدھا چلتے جاؤ، آجائے گا۔ ہم پھر چلتے رہے لیکن نہیں آیا۔ اب تو یہ اندیشے سر اٹھانے لگے کہ ہم نے جن دو بندوں سے پوچھا، یقینا وہ آپس میں ملے ہوے تھے اور انہوں نے جان بوجھ کر ہمیں غلط راستہ بتادیا ہے تاکہ جب ہم کسی سنسان مقام پر پہنچیں تو وہ ہمیں پکڑ لیں۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_rotfl.gif' alt=':haha:' class='wp-smiley' /> </p>
<p>پھر ایک راہ سوجھی، ایک رکشہ روکا۔ اس کو کہا کہ یوپی موڑ جانا ہے۔ الو کا پٹھا، کہتا ہے، یوپی موڑ کہاں ہے؟ مجھے نہیں پتا۔ اور ہم انتہائی درجے کے احمق، اس سے کہا کہ یار، پتا تو ہمیں بھی نہیں ہے پر پوچھا ہے تو سب کہہ رہے ہیں کہ سیدھا چل کر ہی ہے۔ رکشے والا بولا، پندرہ روپے لوں گا۔ ہم نے کہا، ٹھیک ہے۔ پہنچائے تو سہی منزل پر۔ اب رکشے میں بیٹھے، اور رکشہ جیسے ہی چلا، یوپی موڑ آگیا۔ خون کھول اٹھا۔ اتنے مختصر فاصلے کے پندرہ روپے۔ شاید ہم نے جب رکشہ کیا تو ہم یوپی موڑ کے پاس ہی کھڑے تھے اور رکشے والے نے ہماری بے وقوفی کو بھانپ کر یہ کہا تھا کہ اسے یوپی موڑ کا نہیں پتا۔  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/msn_teeth.png' alt=':@' class='wp-smiley' /> </p>
<p>خیر، ہم گھر پہنچ گئے۔ خدا کا شکر ادا کیا۔ دیکھا تو امی بے چاری پریشان ہوکر ہمیں تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکل رہی تھیں۔ ہم کوئی آدھ/ پون گھنٹہ بھٹکتے پھرے تھے۔ انہیں سارا قصہ سنایا۔ رات کو ابو آئے تو ان کو بھی بتایا۔ بڑی باتیں سننی پڑیں۔ اگلے دن ابو ہمیں صبح دوبارہ اسی راستہ سے اسکول لے کر گئے تو ہم پر انکشاف ہوا کہ ہم نے کل کہاں غلطی کی تھی۔ اس کے بعد سے میں اس اسکول میں دو سال تک زیر تعلیم رہا اور شاذ و ناذ ہی ایسا ہوا کہ میں بس میں آیا ہوں۔ سردی ہو یا گرمی، ہم اسی راستے سے پیدل آتے جاتے رہے۔ کوئی پندرہ منٹ چہل قدمی کا فاصلہ تھا۔</p>
<p>اب بھی اگر ہم رات کو کبھی ٹہلنے نکلیں تو اسی راستے پر چلے جاتے ہیں اور میں ہمیشہ وہ وقت یاد کرکے ہنستا ہوں جب ہم پریشان حال بھٹکتے پھر رہے تھے۔ جب میں اس کی آس پاس کی گلیاں دیکھتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ ہم کس طرح ایک ہی دائرے میں گھومتے پھر رہے تھے۔ اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اس دن خیریت سے گھر پہنچ گئے تھے۔ والدین کو چاہیے کہ کبھی اس طرح اپنے بچے کو ایک دفعہ راستہ بتاکر نہ چھوڑیں اور نہ ہی بچپن سے اس کے دل میں زیادہ خوف بٹھائیں کہ باہر کی دنیا اتنی خطرناک ہے، کوئی بھی تمہیں پکڑ کر لے جائے گا۔ بلکہ بہتر ہوگا اگر اسے حفاظتی اقدامات اور تدابیر ذہن نشین کرائی جائیں۔ ورنہ کل کو کسی اور بلاگ پر بھی ایسی ہی کہانی پڑھنے کو مل سکتی ہے۔<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>میٹرک کے امتحانات تھے۔ اردو کا پرچہ تھا۔ مضمون آیا کہ میری زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ۔ میں کبھی مضامین وغیرہ کے رٹے تو لگاتا نہیں۔ کچھ دیر سوچا کہ کون سا واقعہ لکھوں۔ اسی واقعہ کا خیال آیا اور لکھنا شروع کردیا۔ کمرہ میں جو ٹیچر تھیں، وہ ٹہلتے ٹہلتے میری طرف آئیں اور مجھے یہ واقعہ لکھتے دیکھا تو وہیں کھڑی ہوکر پڑھنا شروع کردیا۔ ادھورا ہی لکھا تھا کہ انہیں دوسری طرف توجہ دینی پڑی تو انہیں میری کاپی کا انتظار رہا کہ میں پرچہ دے کر جاؤں تو وہ کاپی میں پورا واقعہ پڑھا۔ انہیں بھی کافی دلچسپ لگا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2008/10/raah-bhatakna/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ابتدائیہ</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2008/10/ibtedaiyah/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2008/10/ibtedaiyah/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 01 Oct 2008 12:13:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=6</guid>
		<description><![CDATA[یہ ہے میرے بلاگ کا ابتدائیہ۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج یکم شوال 1429ھ ہے۔ عید الفطر کا پہلا دن۔ تمام دنیا کے مسلمانوں میں یہ دن اللہ تعالٰی کی جانب سے دعوت کی خوشی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن میرے اور میرے گھر والوں کے لیے یہ دن ایک اور سبب کے باعث بھی یادگار ہے۔ آج سے بائیس سال پہلے عید الفطر کے اول روز (یکم شوال 1407ھ، بروز جمعۃ المبارک) میں نے اس فانی دنیا میں آنکھیں کھولی تھیں۔</p>
<p>بائیس سال بیت گئے۔ کیا کچھ دیکھا۔۔۔ کیا کچھ جانا۔۔۔ کیا کیا سیکھا۔۔۔ لیکن اب بھی ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی علم نہیں۔ ہر شے میں اپنائیت کے ساتھ ساتھ اجنبیت ہے۔ کون جانے کہ زندگی میں کتنے لمحات باقی بچے ہیں۔ آج بائیس سال پورا ہونے پر میرا ایک سپنا حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ میں اپنی ویب سائٹ پر بلاگ شروع کررہا ہوں۔ اللہ تعالٰی آغاز کی طرح انجام بھی مبارک کرے اور ہم پر ہمیشہ اپنی رحمت کا سایہ رکھے۔ آمین!</p>
<p>اس مقام تک پہنچنے میں کئی دوستوں نے میرا ساتھ دیا۔ کچھ نے اتفاق کیا اور کچھ نے اختلاف لیکن مجھے یقین ہے کہ کسی کی رائے کچھ بھی ہو، درحقیقت ان سب نے مجھے مخلصانہ مشورے دیے۔ ان سب کا بہت بہت شکریہ۔ خاص کر میرے ایک محسن کا کہ اگر انہوں نے اپنا تعاون اور مدد فراہم نہ کی ہوتی تو شاید میں یہاں نہیں ہوتا۔ جزاکم اللہ خیرا۔</p>
<p>سو، جناب! یہی میرے بلاگ کا ابتدائیہ ٹھہرا۔</p>
<p>(میں نے کوشش کی کہ پچھلے بلاگ کی تحاریر بھی یہیں امپورٹ کرلوں لیکن xml فائل میں نجانے کیا مسئلہ آرہا تھا کہ پوری امپورٹ ہی نہیں ہورہی تھی۔ لہذا میرا پچھلا بلاگ <a href="http://raahbar.urdutech.com"  target="_blank">پرانے ربط</a> پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے)</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2008/10/ibtedaiyah/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>22</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
