<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Thu, 02 Sep 2010 13:57:40 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/spot-fixing-scandal/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/spot-fixing-scandal/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 17:58:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=425</guid>
		<description><![CDATA[ہر آنے والا دن الجھنوں اور پریشانیوں کا نیا باب کھولتا چلا جارہا ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے بعد آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے ایک تہلکہ مچا رکھا ہے۔ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، لکھا جارہا ہے اور مستقبل میں بھی لکھا جاتا ہی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہر آنے والا دن الجھنوں اور پریشانیوں کا نیا باب کھولتا چلا جارہا ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے بعد آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے ایک تہلکہ مچا رکھا ہے۔ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، لکھا جارہا ہے اور مستقبل میں بھی لکھا جاتا ہی رہے گا۔ میں نے اب تک کے مشاہدے اور تجزیوں کے مطالعے کے بعد جو نکات اکٹھے کیے ہیں، انہیں ایک جگہ جمع کررہا ہوں۔</p>
<h2>پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف شکوک و شبہات جنم دینے والی باتیں:</h2>
<p>٭ پاکستانی کھلاڑیوں کے اظہر مجید اور مظہر مجید سے رابطے تھے۔</p>
<p>٭ کھلاڑیوں کو مجید برادرز سے دور رہنے کا کہا گیا لیکن انہوں نے یہ ہدایات نظر انداز کردیں۔ اسکینڈل سامنے آنے سے ایک مہینہ پہلے یعنی 27 جولائی 2010ء کو روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے نمائندے عبد الماجد بھٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا ذکر کرکے خدشات کا اظہار کیا۔ یہ رپورٹ 27 جولائی کو شائع ہوئی ہے جب کہ برطانوی میڈیا میں ایسا کوئی اسکینڈل گردش نہیں کررہا تھا۔ (بہ حوالہ روزنامہ <a target="_blank" href="http://www.jang.com.pk/jang/jul2010-daily/27-07-2010/sports.htm" >’’جنگ‘‘</a>، 27 جولائی 2010ء)</p>
<p>٭ شاہد خان آفریدی نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کے فوراً بعد استعفا دے دیا تھا۔ اُس وقت شاہد آفریدی کے فیصلے کو اُن کی جذباتیت اور جلد بازی ٹھہرایا گیا۔ تاہم اب سامنے آنے والی خبریں ظاہر کرتی ہیں کہ آفریدی نے انتظامیہ سے کہا تھا کہ کھلاڑیوں کی مشکوک افراد سے ملاقاتوں کے حوالے سے سختی کی جائے لیکن کھلاڑی جب باز نہیں آئے تو پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد آفریدی نے اسی میں عافیت سمجھی کہ وہ عزت کے ساتھ وطن رخصت ہوجائیں۔ (بہ حوالہ روزنامہ <a target="_blank" href="http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101041321&#038;Issue=NP_KHI&#038;Date=20100830" >’’ایکسپریس‘‘</a>، 30اگست 2010ء)</p>
<p>٭ ایک سینئر کھلاڑی نے انتظامیہ کو کامران اکمل اور سلمان بٹ کو موصول ہونے والے ایک مشکوک ایس۔ایم۔ایس سے آگاہ کیا جس میں یہ تفصیل درج تھی کہ کون سا اوور میڈن کھیلنا ہے اور کس اوور میں کتنا اسکور کرنا ہے۔</p>
<p>٭ محمد عامر اور محمد آصف کی دونوں نو بالز پر کمنٹریٹرز کا تبصرہ غیر معمولی ہے۔ (<a target="_blank" href="http://www.youtube.com/watch?v=5mjHBFDamqc" >ویڈیو دیکھیں</a>)</p>
<h2>پاکستانی کھلاڑیوں کے حق میں جانے والی باتیں:</h2>
<p>٭ نیوز آف دی ورلڈ کی جانب سے بنائی جانے والی کسی ویڈیو سے تاریخ اور وقت ظاہر نہیں ہوتا۔</p>
<p>٭ مظہر مجید سے رپورٹر کی وہ ملاقات جو گاڑی میں ہوئی اور مظہر کو دس ہزار پاؤنڈ دیے گئے، اس کی ویڈیو بنانے میں تین خفیہ کیمروں کی مدد لی گئی ہے۔ کیا یہ کام اتنی صفائی سے ممکن تھا؟ (<a target="_blank" href="http://www.youtube.com/watch?v=gLILvZPfhdE" >ویڈیو دیکھیں</a>)</p>
<p>٭ کار میں ہونے والی ملاقات کی ویڈیو میں مظہر کی اداکاری انتہائی تھرڈ کلاس ہے۔ وہ کیمرے کی طرف نظر کرتا ہے، کبھی جملہ ادھورا چھوڑ دیتا ہے تو کبھی دو بار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>٭ اس ویڈیو میں مظہر کی شرٹ کا رنگ آسمانی نیلا دکھائی دیتا ہے جب کہ جب وہ کار سے نکل کر وہاب ریاض اور عمر امین سے ملاقات کرتا ہے تو جیکٹ اتارنے پر اس کی شرٹ کا رنگ سیاہ ہوتا ہے۔</p>
<p>٭ مظہر وہاب ریاض اور عمر امین کو اپنی جیکٹ کھول کر دکھارہا ہے جس میں دس ہزار پاؤنڈ کی رقم رکھی ہوئی ہے۔ آس پاس خاصی عوام ہے، کیا اس ہجوم میں ایسی حرکت مناسب لگتی ہے؟</p>
<p>٭ مظہر کے چوں کہ پاکستانی کرکٹرز سے کافی روابط تھے اس لیے ان میں سے کسی کو شرٹ دینے سے کوئی خاص بات ثابت نہیں کی جاسکتی جب کہ ویڈیو سے یہ بھی پتا نہیں چل رہا ہے کہ کار میں گفتگو کے مناظر اور وہاب ریاض کو جیکٹ دینے کے مناظر میں تسلسل ہے۔</p>
<p>٭ ایک ’’فکسر‘‘ کا اتنی جلدی کسی پر اعتماد کرلینا اور یوں ’’بالمشافہ سودے‘‘ کرتے پھرنا خاصا معنی خیز ہے۔</p>
<p>٭ جس ویڈیو میں مظہر نے رپورٹر سے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ لیے، وہاں کیمرے کا بالکل مظہر مجید پر فوکس ہونا شکوک و شبہات کو جنم لیتا ہے۔ (<a target="_blank" href="http://www.youtube.com/watch?v=5mjHBFDamqc" >ویڈیو دیکھیں</a>)</p>
<p>٭ مظہر جس طرح اتنی بڑی رقم وصول کرتا ہے اور کیمرے کے سامنے میز پر سجاتا ہے پھر ایک گڈی گنتا ہے، اس پر بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔</p>
<p>٭ کیا نو بالز پر بھی سٹہ کھیلا جاتا ہے؟ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔</p>
<p>٭ کہا جارہا ہے کہ محمد عامر جب نو بال کرارہے تھے تو کپتان سلمان بٹ بیٹسمین کی طرف دیکھنے کے بجائے محمد عامر کو دیکھ رہے تھے کہ کیا وہ نوبال کروائے گا؟ (<a target="_blank" href="http://www.newsoftheworld.co.uk/multimedia/archive/00144/bowl_280_144457a.jpg" >تصویر</a>) یہ ایک احمقانہ اعتراض ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب بالر گیند کرانے کے لیے بھاگتا ہے تو اسے دیکھا جارہا ہوتا ہے اور جیسے ہی وہ گیند پھینکتا ہے تو توجہ بیٹسمین کی طرف مبذول ہوجاتی ہے۔</p>
<p>٭ وہ تصویر جس میں سلمان بٹ، مظہر مجید اور رپورٹر دکھائی دیتے ہیں، اس پر بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اگر سلمان بٹ اس تصویر کھنچواتے وقت موجود تھے تو وہ ان دونوں کے آگے آکر کیوں کھڑے ہوئے؟ دونوں کے درمیان میں کیوں نہیں؟ سلمان بٹ کے بائیں ہاتھ پر جیکٹ بالکل سیدھی ہے اور دائیں جانب قدرے ناہموار۔ سلمان بٹ کے چہرے پر باقی دونوں افراد کے مقابلے میں زیادہ روشنی پڑتی نظر آتی ہے۔ مظہر کے بائیں ہاتھ کے سامنے کوئی چیز پڑی ہے جو شاید کرسی ہے۔ کیا فوٹوگرافر اتنا بے وقوف تھا؟ (<a target="_blank" href="http://www.newsoftheworld.co.uk/multimedia/archive/00144/516_our_man_144749a.jpg" >تصویر دیکھیں</a>)</p>
<p>ابھی بہت سی باتیں سامنے آنا باقی ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اگر کیس صحیح طرح لڑا جائے تو ہم ان لڑکوں کو بچاسکیں گے۔ لیکن دو قسم کے لوگوں کو جوتے پڑنا ضروری ہیں۔ ایک وہ جن کے سر غیر ثابت شدہ الزامات پر ہی جھک گئے اور ایک وہ جو اس میں پنجابی تعصب ڈھونڈ رہے ہیں، اُلو کے پٹھے!</p>
<h2>مزید تحاریر:</h2>
<p><a target="_blank" href="http://www.newsoftheworld.co.uk/news/924349/Cricket-in-the-dock-as-we-expose-match-fixing-scandal-England-Pakistan-Test.html" >میچ فکسنگ اسکینڈل</a> (نیوز آف دی ورلڈ سے)۔ مظہر محمود<br />
<a target="_blank" href="http://www.newsoftheworld.co.uk/news/924391/The-three-balls-that-will-shake-world-of-cricket.html" >تین نو بالز کی کہانی</a> (نیوز آف دی ورلڈ سے)۔ مظہر محمود<br />
<a target="_blank" href="http://www.newsoftheworld.co.uk/news/924695/Mr-Big-stuffed-the-10k-in-his-jacket-then-went-to-meet-players.html" >فکسر دس ہزار پاؤنڈز وصول کرتا ہے</a> (نیوز آف دی ورلڈ سے)۔ مظہر محمود<br />
<a target="_blank" href="http://www.newsoftheworld.co.uk/news/935606/Pakistan-cricket-captain-Salman-Butt-and-bowlers-Mohammad-Amir-and-Mohammad-Asif-dropped-from-tour-following-News-of-the-World-spot-fixing-expose.html" >تین پاکستانی کھلاڑی ٹور سے باہر</a> (نیوز آف دی ورلڈ سے)۔<br />
<a target="_blank" href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2010/09/100901_pak_cricketers_punishment.shtml" >شواہد ناکافی ثابت ہوسکتے ہیں</a> (بی بی سی اردو سے)<br />
<a target="_blank" href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2010/08/100830_pak_cricket_indian_media.shtml" >پاک کا ناپاک کھیل</a> (بی بی سی اردو سے) ہندو ذہنیت کا کمینہ پن<br />
<a target="_blank" href="http://blog.bilaunwan.co.cc/2010/sports/spot-fixing-scandal/" >اسپوٹ فکسنگ اسکینڈل</a> (بلا عنوان سے) اسد</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/spot-fixing-scandal/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نظریۂ دورِ ترغیب</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 24 Aug 2010 10:01:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[Ammar]]></category>
		<category><![CDATA[Ammar's Theory of Motivation Cycle]]></category>
		<category><![CDATA[Cycle]]></category>
		<category><![CDATA[Herzberg]]></category>
		<category><![CDATA[Maslow]]></category>
		<category><![CDATA[Motivation]]></category>
		<category><![CDATA[Sir Imtiaz]]></category>
		<category><![CDATA[Theory]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=421</guid>
		<description><![CDATA[ان دنوں سر امتیاز ہمیں ترغیب (Motivation) کے بارے میں مختلف نظریات (theories) پڑھارہے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے میسلو (Maslow) اور ہرزبرگ (Herzberg) کی تھیوری پڑھی۔ سر امتیاز اس بات پر بے حد زور دیتے ہیں کہ صرف کتابی باتوں تک محدود نہ رہا جائے بل کہ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مختلف [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ان دنوں سر امتیاز ہمیں ترغیب (Motivation) کے بارے میں مختلف نظریات (theories) پڑھارہے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے میسلو (Maslow) اور ہرزبرگ (Herzberg) کی تھیوری پڑھی۔ سر امتیاز اس بات پر بے حد زور دیتے ہیں کہ صرف کتابی باتوں تک محدود نہ رہا جائے بل کہ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مختلف نظریات و مفروضوں کا اطلاق موجودہ زمانے میں مختلف صورتِ حال پر کرکے دیکھا جائے۔ ترغیب کے بارے میں دو مختلف نظریات پڑھ کر تیسرے نظریے نے میرے دماغ میں جنم لیا۔ ممکن ہے کہ اس میں کئی خامیاں ہوں لیکن بہ ہر حال، یہ ایک منفرد کوشش ہی صحیح۔<br />
<span id="more-421"></span></p>
<p>موضوع سے متعلقہ دیگر تحاریر:<br />
میسلو کا نظریۂ وراثت (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Maslow%27s_hierarchy_of_needs" >Maslow&#8217;s hierarchy of need</a>)<br />
ہرزبرگ کا نظریہ (<a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Motivator-Hygiene_theory" >Two-Factor Theory</a>)<br />
سر امتیاز کے بارے میں میری ایک تحریر (<a href="http://ibnezia.com/blog/2010/04/aisa-kahan-se-laaon/" >ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے</a>)</p>
<p><center><br />
<h2>عمار کا نظریۂ دورِ ترغیب</h2>
<p></center></p>
<p><a target="_blank" href="http://www.scribd.com/doc/36339010/Ammar-s-Theory-of-Motivation-Cycle" title="View Ammar's Theory of Motivation Cycle on Scribd"  style="margin: 12px auto 6px auto; font-family: Helvetica,Arial,Sans-serif; font-style: normal; font-variant: normal; font-weight: normal; font-size: 14px; line-height: normal; font-size-adjust: none; font-stretch: normal; -x-system-font: none; display: block; text-decoration: underline;">Ammar&#8217;s Theory of Motivation Cycle</a> <object id="doc_659580966307402" name="doc_659580966307402" height="500" width="100%" type="application/x-shockwave-flash" data="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf" style="outline:none;" rel="media:document" resource="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf?document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list" ><param name="movie" value="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf"><param name="wmode" value="opaque"><param name="bgcolor" value="#ffffff"><param name="allowFullScreen" value="true"><param name="allowScriptAccess" value="always"><param name="FlashVars" value="document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list"><embed id="doc_659580966307402" name="doc_659580966307402" src="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf?document_id=36339010&#038;access_key=key-zorh88hj2eo8cty4r4q&#038;page=1&#038;viewMode=list" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" height="500" width="100%" wmode="opaque" bgcolor="#ffffff"></embed></object></p>
<p><img src="http://lh5.ggpht.com/_Vgu6zRJopWg/THOUuZ2catI/AAAAAAAAATI/7Py_VJOGrxk/s576/Motivation-Cycle.jpg" alt="Ammar's Theory of Motivation Cycle" /></p>
<p>دورِ ترغیب کی چار درجوں میں تقسیم یوں ہے:</p>
<p>پہلا درجہ:<br />
پہلے درجے میں تین عوامل ہیں: حالت، ضرورت،ماحول۔ حالت سے مراد یہ ہے کہ انسان کی کیفیت کیا ہے۔ وہ کس صورتِ حال میں زندگی بسر کررہا ہے۔ اس کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی، سماجی، معاشی و معاشرتی کیفیات کس نوعیت کی ہیں۔ دوسری چیز ہے ضرورت، یعنی انسان جس مقام پر موجود ہے، وہاں اس کو کس قسم کی ضروریات محسوس ہوتی ہیں؟ کیا وہ ضروریات کے تحت اپنی حالت میں تبدیلی چاہتا ہے؟ پہلے درجے کے تین عوامل میں سے آخری ہے، ماحول۔ انسان کس ماحول میں رہ رہا ہے؟ آیا ماحول میں آنے والی تبدیلیاں اسے کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کروارہی ہیں؟ کیا ماحول اس کی طبیعت یا اس کی مطلوبہ تبدیلیوں کے موافق ہے؟</p>
<p>دوسرا درجہ:<br />
	دوسرا درجہ ’ترغیب‘ ہے جس کا مکمل انحصار پہلے درجے پر ہے۔ اگر انسان کی جسمانی، ذہنی و نفسیاتی کیفیت درست ہے تو وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ماحول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کسی نہ کسی قدم اُٹھانے کی طرف ضرور ترغیب حاصل کرے گا۔ البتہ اگر انسان ذہنی لحاظ سے تندرست نہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ وہ ضرورت ہونے کے باوجود اپنے اندر کسی قسم کی ترغیب محسوس نہ کرے کہ اُسے کچھ سوجھ بوجھ ہی نہیں ہوگی۔</p>
<p>تیسرا درجہ:<br />
پہلے درجے کی طرح تیسرے درجے کے بھی تین مراحل ہیں: فعل، نتائج اور امکانات۔ ’فعل‘ کا براہِ راست رابطہ پہلے درجے (یعنی حالت، ضرورت، ماحول) اور دوسرے درجے (یعنی ترغیب) سے ہے۔ انسان کو صورتِ حال کے مطابق کسی قسم کی ’ضرورت‘ کا محسوس ہونا اسے ’ترغیب‘ دلاتا ہے کہ وہ کوئی قدم اُٹھاکر اپنی ضرورت کو پورا کرے اور خواہش کی تسکین کرے (بہ شرط یہ کہ وہ ذہنی و نفسیاتی لحاظ سے تندرست ہو جیساکہ پہلے گزرا)۔ ترغیب اُسے کسی ’فعل‘ کی طرف راغب کرتی ہے، ایسا فعل جس کے ذریعے اُسے لگتا ہو کہ وہ یوں اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ جب انسان کوئی ’فعل‘ انجام دیتا ہے تو اگلا مرحلہ ہوتا ہے ’نتائج‘ کا یعنی اس فعل کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ آیا اس کی ضرورت پوری ہوئی کہ نہیں؟ اس کی خواہش کو تسکین ملی یا نہیں؟ اس درجے پر تیسرا مرحلہ ہے ’امکانات‘ کا۔ امکانات سے مراد مستقبل کے ممکنہ نتائج ہیں کہ اپنے اس عمل میں انسان کس حد تک آگے بڑھ سکتا ہے اور اُسے مزید کیا فائدہ مل سکتا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ اُس نے اس درجے پر جو کام کیا ہو، اس کے نتائج تسلی بخش نہ ہوں اور وہ مزید ایک کوشش کرنا چاہے یا ایک قدم بڑھنا چاہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کی وقتی ضرورت تو پوری ہوگئی ہو لیکن وہ مزید اطمینان چاہتا ہو یا مزید آگے بڑھنا چاہتا ہو۔</p>
<p>چوتھا درجہ:<br />
چوتھا درجہ بھی ’ترغیب‘ ہے لیکن اس درجے پر ترغیب کی نوعیت معمولی سی بدل جاتی ہے۔ پہلے اس کی ترغیب ایک ضرورت کے سبب تھی۔ اس درجے پر ترغیب کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مثلاً اگر تیسرے درجے پر کیے جانے والے ’فعل‘ سے حاصل ہونے والے ’نتائج‘ نے فاعل کو مطمئن نہ کیا ہو یا اس کی ’ضروریات‘ پوری نہ ہوئی ہوں تو اسے مزید کوشش کرنے کی ’ترغیب‘ بھی ہوسکتی ہے۔ یا تیسرے درجے پر انجام پذیر ہونے والے ’فعل‘ کے ’نتائج‘ حوصلہ افزا ہوں اور وہ اُن سے مزید مستفید ہونا چاہے یا حاصل شدہ ’نتائج‘ کے بعد اس کے آگے بڑھنے کے ’امکانات‘ روشن ہوں اور فوائد متوقع ہوں تو وہ اس ’فعل‘ کو جاری رکھنے یا اس میں بہتری لانے کی طرف راغب ہوگا۔</p>
<p>ایک بار پھر:<br />
چوں کہ یہ ایک دور یا چکر (Cycle) ہے لہٰذا یہ اس مرحلے پر آکر رُک نہیں جاتا بل کہ کچھ تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل جاری رہتا ہے۔ ایک چکر مکمل کرنے کے بعد جب آپ دوبارہ پہلے درجے کی طرف بڑھتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کے ’افعال‘ اور ان کے ’نتائج‘ کے بعد آنے والے ’تغیرات‘ کے سبب اب انسان کی ’حالت‘، ’ضرورت‘ اور ’ماحول‘ میں تبدیلی آگئی ہے۔ اس مرحلے پر اس کی ضروریات بدل جاتی ہیں، ماحول بدل جاتا ہے۔ اب کی بار جو چیز اُسے دوسرے درجے ’ترغیب‘ کی طرف لے کر جاتی ہے، وہ کچھ بھی ہوسکتی ہے کیوں کہ انسان کی خواہشات کا سلسلہ لامتناہی ہے اور ایک ضرورت یا خواہش پوری ہوتے ہی اگلی جنم لے لیتی ہے۔ مثلاً پہلا چکر مکمل ہونے کے بعد اب جس مقام پر وہ پہنچا ہے، اس کی ضروریات پہلے کے مقابلے میں مختلف ہوگئی ہیں، ماحول بدل گیا ہے تو اب وہ ان ضروریات کو حاصل کرنے کے لیے ’ترغیب‘ پاتا ہے اور پھر کوئی ’فعل‘ انجام پذیر ہوتا ہے، اس کے ’نتائج‘ اور مزید ’امکانات‘ اسے آگے بڑھنے کی طرف ’ترغیب‘ دیتے ہیں اور یہ چکر چلتا چلا جاتا ہے۔</p>
<p>از<br />
عمار ابنِ ضیا<br />
اگست ۲۰۱۰ء</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
یہ نظریہ آج میں نے کلاس میں پیش کیا اور طلبہ سمیت سر امتیاز نے بھی بے حد سراہا اور اس کے مختلف مثبت پہلوؤں کو مزید اجاگر کیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/motivation-cycle-theory/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہم ہیں نئے، انداز کیوں ہو پرانا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/ham-hain-naey/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/ham-hain-naey/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 20 Aug 2010 10:53:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=419</guid>
		<description><![CDATA[میں ابھی نمازِ جمعہ سے واپس آرہا تھا تو دیکھا کہ چار، پانچ لڑکے ایک طرف بیٹھے تھے جن کی عمریں پندرہ سال سے کم ہی تھیں۔ سب وقفے وقفے سے ایک ہی آواز بلند کرتے: ’’آئے ہائے جوانی!‘‘ پہلے تو میں نے خیال کیا کہ یوں ہی شرارتوں میں لگے ہیں لیکن غور کرنے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میں ابھی نمازِ جمعہ سے واپس آرہا تھا تو دیکھا کہ چار، پانچ لڑکے ایک طرف بیٹھے تھے جن کی عمریں پندرہ سال سے کم ہی تھیں۔ سب وقفے وقفے سے ایک ہی آواز بلند کرتے: ’’آئے ہائے جوانی!‘‘ پہلے تو میں نے خیال کیا کہ یوں ہی شرارتوں میں لگے ہیں لیکن غور کرنے پر اندازہ ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ سامنے سے ایک لڑکی جس کی عمر شاید بیس سال ہو، پانچ/ چھ چھوٹے بچے، بچیوں کے ساتھ جارہی تھی۔ سب کے کاندھوں پر لٹکے بستوں سے پتا چلتا تھا کہ کہیں ٹیوشن پڑھنے جارہے ہیں۔ ’’آئے ہائے جوانی‘‘ کا نعرہ تو لگتا ہی رہا، مگر جب وہ لڑکی مع اپنی ٹولی کے ان لڑکوں سے آگے نکلی تو ایک لڑکے کی آواز آئی: ’’سلمان! کہاں جارہے ہو؟‘‘ تو اس کے ساتھ کھڑے لڑکے نے کہا: ’’ٹیوشن پڑھنے جارہا ہوں۔‘‘ یہ بالواسطہ ان پر چوٹ تھی۔ میں تب سے سوچ رہا ہوں کہ یہ سب کچھ ایک انسان کو کس قدر ذہنی اذیت کا شکار کرتا ہوگا۔</p>
<p>میری ابتدائی زندگی ایک یکسر مختلف ماحول میں گزری ہے۔ گھر سے باہر کی دنیا کے بارے میں ایک عرصے تک میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ مجھے گھر میں سنجیدہ (اور تھوڑا بہت علمی) ماحول ملا اس لیے میرا مزاج قطعاً دوسروں سے بے حد مختلف رہا۔ مجھے اب تک اس طرح ’’ہوٹنگ‘‘ اور ’’جملے بازی‘‘ کرنا نہیں آتی۔ کبھی کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کہ سامنے سے مجھ پر بھی حملہ ہو تو مجھے بروقت جواب نہیں سوجھتے۔ لیکن میں یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ آج کل بچے بھی کیسی کیسی حرکتیں کرنے لگے ہیں اور ان کی سوچ کہاں کہاں پہنچ جاتی ہے۔</p>
<p>جامعہ آنے کے بعد مجھے مزید جاننے کا موقع ملا۔ یہاں آکر میں نے یہ دیکھا کہ جملے بازی صرف لڑکوں تک محدود نہیں ہے۔ جامعہ میں اگر اس میدان کا جائزہ لیا جائے تو لڑکیوں کا پلّہ بھاری نظر آتا ہے۔ آپ نے کچھ ہٹ کے یا عجیب سے کپڑے پہنے ہوں یا آپ کوئی الٹی حرکت کریں، مجال ہے کہ لڑکیاں دیکھ کر جملے نہ کسیں۔</p>
<p>جامعہ کے شعبوں کی راہداریوں میں جابجا طلبہ بیٹھے ملتے ہیں۔ آس پاس کے ماحول سے بے نیاز طلبہ جنہیں اگر کوئی جگہ نہیں ملتی تو وہ وہیں زمین پر دائرہ بناکر بیٹھ جاتے ہیں اور گپ شپ یا پڑھائی میں مگن ہوجاتے ہیں۔ یا جہاں راہداریوں میں بیٹھنے کی جگہ موجود ہے، وہ بھی بھری ہوتی ہے۔ ہوتا کیا ہے کہ وہاں سے جو کوئی گزر رہا ہوتا ہے، اس پر نہ صرف مزے سے تبصرے ہوتے ہیں بل کہ اس پر جملے بھی کسے جاتے ہیں۔ فلاں نے کپڑے کیسے پہنے ہیں، فلاں کے چلنے کا انداز کیسا ہے۔ سب سے زیادہ مزا یوں لیا جاتا ہے کہ جیسے ہی کوئی قریب سے گزرا، ایک آواز لگائی: ’’اوئے!‘‘ جوں ہی اُس نے مڑکر دیکھا تو اپنے برابر والے ساتھی کی طرف مڑ کر کہا: ’’کہاں جارہا ہے؟‘‘ یا کوئی بھی الٹی سیدھی بات۔</p>
<p>اس کے علاوہ جو طلبہ راہداری میں زمین پر یا سیڑھیوں پر بیٹھے ہوتے ہیں، ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ آج جمعرات تو نہیں ہے، چونی دے دوں؟ ایک روپیہ دے دو بھئی! شاید جامعہ میں لڑکیاں اپنی اکثریت کا فائدہ اُٹھاتی ہیں  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/ham-hain-naey/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>امداد کے مستحقین</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/imdaad-mustahiq/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/imdaad-mustahiq/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 12 Aug 2010 08:39:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[Expensive]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Poor]]></category>
		<category><![CDATA[Poverty]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=413</guid>
		<description><![CDATA[ملک کے کئی حصوں میں تاریخ کا خطرناک ترین اور تباہ کُن سیلاب آیا ہوا ہے جس سے ایک طرف بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے تو دوسری طرف انفراسٹرکچر اور صحت کے حوالے سے صورتِ حال خاصی مخدوش ہے۔ اس موقع پر جہاں متاثرینِ سیلاب کو امداد کی اشد ضرورت ہے، [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ملک کے کئی حصوں میں تاریخ کا خطرناک ترین اور تباہ کُن سیلاب آیا ہوا ہے جس سے ایک طرف بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے تو دوسری طرف انفراسٹرکچر اور صحت کے حوالے سے صورتِ حال خاصی مخدوش ہے۔ اس موقع پر جہاں متاثرینِ سیلاب کو امداد کی اشد ضرورت ہے، یہ بات خاص کر نوٹ کی جارہی ہے کہ اس بار پاکستانی عوام میں پہلے سا جوش و خروش نظر نہیں آتا۔ امداد جمع کرنے کے لیے لگائے گئے اسٹالز اکثر خالی نظر آتے ہیں۔ مختلف لوگ اس کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ مثلاً:</p>
<p>1۔ حکومتی اداروں، این۔جی۔اوز اور دیگر تنظیموں پر سے لوگوں کا اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ انہیں یقین نہیں ہے کہ وہ جو کچھ عطیات دیتے ہیں، ان کا صحیح استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>2۔ میڈیا نے آئے دن لاشیں دکھاکر عوام میں سے پہلے سا احساس ختم کردیا ہے۔ اب اتنی تباہی دیکھ کر دکھ نہیں ہوتا کہ یہ تباہیاں تو روز کا معمول بن گئی ہیں۔</p>
<p>3۔ درج بالا دو نقطہ ہائے نظر بھی یقیناً اپنی جگہ درست ہیں لیکن میں جس بات کو زیادہ اہمیت دے رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ مستحقین کی امداد کرنے والے فی الوقت خود امداد کے مستحق ہیں۔ زیادہ لمبی چوڑی بات کرنے کے بجائے مختصراً کچھ اعداد و شمار پیش ہیں:</p>
<p><em>کریانہ اسٹور:</em><br />
آٹا: 29 سے 40 روپے کلو<br />
دال ماش: 160 روپے کلو<br />
دال ارہر: 140 روپے کلو<br />
دال چنا: 65 روپے کلو<br />
موٹا چاول: 36 روپے کلو<br />
ٹوٹا چاول: 42 روپے کلو<br />
درمیانا چاول: 50 روپے کلو<br />
چینی: 70 روپے کلو<br />
گھی: 135 روپے کلو<br />
تیل: 140 روپے کلو<br />
بیسن: 68 روپے کلو</p>
<p><em>مِلک شاپ:</em><br />
دودھ: 54 روپے کلو<br />
دہی: 76 روپے کلو<br />
انڈے: 68 روپے درجن</p>
<p><em>سبزیاں:</em><br />
آلو: 30 روپے کلو<br />
پیاز: 30 روپے کلو<br />
ٹماٹر: 70/ 80 روپے کلو<br />
اروی: 40 روپے کلو<br />
بھنڈی: 50 روپے کلو<br />
بند گوبھی: 60 روپے کلو</p>
<p>گوشت: 300 روپے کلو</p>
<p>اگر ایک متناسب گھر کی ضروریات بھی دیکھی جائیں تو ہفتے بھر کا خرچا ڈھائی ہزار روپے سے اوپر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی مہینے بھر (چار ہفتوں کا خرچا) کم سے کم بھی دس ہزار تو کہیں نہیں گیا۔ اب آپ خود سوچیں کہ جس گھر کی آمدنی آٹھ سے دس ہزار روپے ہو، اس کی کُل آمدنی سے زیادہ خرچا تو اس کے کھانے پینے میں اُٹھ رہا ہے۔ بجلی، گیس، فون، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے، آنے جانے کا خرچا الگ۔ پھر جس کا مکان کراے کا ہو، وہ کس حال میں ہوگا؟ خود میرے دفتر میں ایک صاحب کام کرتے ہیں جن کی تنخواہ سات ہزار روپے ہے۔ ان کے چار چھوٹے بچے ہیں، گھر کراے کا ہے۔</p>
<p>تو صاحبو! اب کیا کہیں!</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/imdaad-mustahiq/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جوتا آصف علی زرداری کو یا سربراہِ پاکستان کو؟</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/joota-aasif-zardari-sadr-pakistan/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/joota-aasif-zardari-sadr-pakistan/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 07 Aug 2010 20:58:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=411</guid>
		<description><![CDATA[ہر طرف چرچا ہے کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو دورہِ برطانیہ کے دوران ایک ادھیڑ عمر شخص نے دو جوتے دے مارے۔ جوں ہی یہ خبر آئی، ٹیلے ویژن چینلز نے حسبِ عادت خوب مزے لے لے کر سنائی اور احباب نے ایک دوسرے کو مبارک باد کے پیغامات ارسال کرنا شروع کردیے۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہر طرف چرچا ہے کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو دورہِ برطانیہ کے دوران ایک ادھیڑ عمر شخص نے دو جوتے دے مارے۔ جوں ہی یہ خبر آئی، ٹیلے ویژن چینلز نے حسبِ عادت خوب مزے لے لے کر سنائی اور احباب نے ایک دوسرے کو مبارک باد کے پیغامات ارسال کرنا شروع کردیے۔ ہماری قوم کی پھرتی دیکھیے، ایک گھنٹے کے اندر اندر موضوع کی مناسبت سے مختلف اشعار بھی گردش کرنے لگے جن میں صدر زرداری کو جوتا مارے جانے کا واقعہ پُر مزاح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔</p>
<p>میں صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کا حامی نہیں ہوں نہ ہی یہ ٹولا مجھے کسی صورت بھاتا ہے، لیکن اس کے باوجود مجھے اس واقعے سے خوشی نہیں ہوئی بل کہ لوگوں کا ردِّ عمل دیکھ کر افسوس ہوا۔ زرداری صاحب اچھے ہیں یا بُرے، ہر ایک کی اپنی رائے ہے اور اسے اس کا حق ہے لیکن سب باتوں کے ساتھ ساتھ وہ آپ کی مملکت کے سربراہِ مملکت بھی ہیں۔ آپ جس جوتے کو آصف علی زرداری کی ذات پر سمجھ رہے ہیں، وہ بیرونِ پاکستان آصف علی زرداری پر نہیں، صدرِ پاکستان پر جوتا ہے۔</p>
<p>یہ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات کا سبب حکمراں جماعت کی پالیسیاں بھی ہیں جن سے عوام بے حد بددل اور اس کے دل میں غصے اور نفرت کا طوفان ہے، لیکن ایسا کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے کسی شخص کے منصب و مرتبے کا بھی لحاظ کرنا چاہیے۔ ایک پاکستانی نے جوتا مارا اور وہ بھی اپنے نہیں، پرائے دیس میں۔ واہ رے! اپنے دیس کا خوب نام روشن کیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/joota-aasif-zardari-sadr-pakistan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>36</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہمدرد نونہال ادب</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 04 Aug 2010 08:42:45 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[کتب خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[Adab]]></category>
		<category><![CDATA[books]]></category>
		<category><![CDATA[children]]></category>
		<category><![CDATA[Hakim Saeed]]></category>
		<category><![CDATA[Hamdard Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[literature]]></category>
		<category><![CDATA[Masud Ahmad Barkati]]></category>
		<category><![CDATA[Naunehal]]></category>
		<category><![CDATA[Novel]]></category>
		<category><![CDATA[Sadia Rashid]]></category>
		<category><![CDATA[Stories]]></category>
		<category><![CDATA[story]]></category>
		<category><![CDATA[urdu]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=407</guid>
		<description><![CDATA[پچھلے مہینوں میرا جانا آرام باغ کی طرف ہوا تو ’’ہمدرد کتابستان‘‘ دیکھ کر میرا جی للچاگیا۔ ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ سوچا، عرصہ ہوگیا ہے، کیوں نہ ایک چکر اس کا بھی لگالیا جائے۔ اندر گیا تو ترتیب بدلی نظر آئی لیکن کتابیں زیادہ تر پرانی ہی تھیں۔ میں وہی لینے گیا تھا۔ مجھے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پچھلے مہینوں میرا جانا آرام باغ کی طرف ہوا تو ’’ہمدرد کتابستان‘‘ دیکھ کر میرا جی للچاگیا۔ ماضی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ سوچا، عرصہ ہوگیا ہے، کیوں نہ ایک چکر اس کا بھی لگالیا جائے۔ اندر گیا تو ترتیب بدلی نظر آئی لیکن کتابیں زیادہ تر پرانی ہی تھیں۔ میں وہی لینے گیا تھا۔ مجھے میرے گھر والوں نے بچپن سے مطالعے کی عادت ڈالی ہے۔ ابو اکثر اوقات مختلف کتابیں لاکر دیتے رہتے تھے جن میں زیادہ تعداد ہمدرد نونہال ادب کی ہوتی تھی۔<span id="more-407"></span> میرے پاس کتب کا خاصا ذخیرہ تھا جسے سنبھالنا کافی مشکل ہوگیا تھا۔ آٹھویں جماعت میں جب ہم طلبہ نے رضاکارانہ طور پر اپنے کمپیوٹر کے استاد اُسامہ صاحب کے ساتھ پبلک پیراڈائز اسکول میں طلبہ کے لیے ایک لائبریری کھولنے کا فیصلہ کیا تو وہ سب کتب میں نے اس لائبریری کو عطیہ کردی تھیں۔ اس اسکول کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہم نے ایسے کوششیں کی تھیں جسے وہ ہمارا خاندانی اسکول ہو لیکن جب مالکان کی نیت ٹھیک نہ ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔ لہٰذا وہ اسکول مجھ سمیت کئی طلبہ نے ایک سال بعد ہی چھوڑ دیا اور وہ اب بھی بے کار سی حالت میں ہے۔</p>
<p>خیر، قصہ تھا نونہال ادب کی کتابوں کی۔ میں نے چوں کہ تقریباً سبھی کتب اسکول کی لائبریری کو عطیہ کردی تھیں اس لیے میری چھوٹی بہن زینب کو وہ کہانیاں پڑھنے کو نہیں ملیں۔ میرے بعد گھر میں کسی کو مطالعے کا زیادہ شوق بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی اس دن ہمدرد کتابستان دیکھ کر میں نے سوچا کہ کچھ پرانی کتب خرید لوں تاکہ بچپن کی یاد بھی تازہ ہوجائے اور بہنوں کو بھی وہ دل چسپ کہانیاں پڑھنے کو ملیں۔ میں نے کتابیں اُٹھانا شروع کیں۔ زیادہ تر 1993ء اور 1994ء کے وقت کی چھپی ہوئی ہیں۔ ہمدرد نونہال ادب کی خاص بات یہ ہے کہ کتابیں بے حد سستی ہیں۔ ساٹھ/ ستّر صفحات کی کتاب دس روپے کی۔ اگرچہ یہ پرانی چھپی ہوئی ہیں اور اس وقت اتنی مہنگی طباعت نہیں تھی لیکن پھر بھی ان کا یہ قدم خوش آئند ہے کہ انہوں نے ان کتابوں کی قیمت جوں کی توں رہنے دی ہے ورنہ ہمارے ہاں پبلشرز کے حال سے کون واقف نہیں۔ میں اے۔حمید کی لکھی 12 کتابوں پر مشتمل خلائی مخلوق سیریز کا مکمل سیٹ خریدنا چاہتا تھا۔ یہ اے۔حمید کا بہترین ناول ہے جس کی کہانی عمران اور شیبا کے گرد گھومتی ہے جو کزنز  ہیں۔ خلائی مخلوق زمین پر اُترتی ہے تو اس کے سگنلز پکڑ لیتے ہیں اور اپنی زمین کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ناول سے بچوں کو بہت سی سائنسی باتوں کا علم ہوجاتا ہے۔ خلائی مخلوق اور اڑن طشتری کی بحث، ٹائم مشین، تاریخی واقعات اور بہت کچھ اس داستان میں سمویا ملتا ہے ساتھ ہی اچھی باتیں اور پند و نصائح بھی۔ افسوس اس سیریز کی  دو، تین کتابیں ان کے پاس نہیں تھیں۔ انہوں نے مجھے پیشکش کی کہ 9کتابیں 85 روپے کی عوض خرید لوں لیکن میرے لیے وہ نامکمل ہونے کے سبب اتنی سود مند نہیں تھیں۔ اس کے بجائے میں نے اے۔حمید کی لکھی 7 کتابوں پر مشتمل ’’نامور مسلمان طبیب اور عالم‘‘ سیریز اٹھائی جس کی تمام کتب موجود تھیں۔ یہ بہت دل چسپ ناول ہے۔</p>
<p>بہت سی کتب ایسی تھیں جن کا میں نے پوچھا مگر مجھے بتایا گیا کہ اب وہ ختم ہوگئی ہیں۔ آپ ہمدرد کتابستان میں داخل ہوں تو اندر موجود دو بزرگوں کے چہرے پر جیسے رونق آجاتی ہے۔ وہ بڑی خوشی سے آپ کو مختلف کتابیں پیش کرتے ہیں کہ یہ دیکھیں، یہ آپ نے پڑھی ہے؟ یہ بہت اچھی ہے، اسے دیکھیں۔ بے چارے دونوں حضرات اکثر اوقات فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر آپ کتابیں لینے جارہے ہیں تو آپ اطمینان کرلیں کہ آپ کے پاس کھلے پیسے موجود ہیں کیوں کہ وہاں جب کچھ آمدنی ہی نہیں ہوتی تو کھلے پیسے کہاں ہوں گے۔</p>
<p>میں نے ہمدرد کی شائع کردہ دو کتب، ’’مونٹی کرسٹو کا نواب‘‘ اور ’’سائنس دان کا اغوا‘‘ آن۔لائن رکھی تو ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ باقی کتب پر کام کرنے سے پہلے مسعود احمد برکاتی صاحب یا سعدیہ راشد صاحبہ سے باقاعدہ اجازت لے لوں۔ مجھے ابھی تک اپنی مصروفیات اور زندگی کے بکھیڑوں سے فرصت نہیں مل پارہی کہ ان سے ملاقات کا وقت لوں۔</p>
<p>میں نے ہمدرد کتابستان سے جو کتب خریدیں، ان میں سے چند کا مختصر تعارف:<br />
1۔ پُراسرار مکان: یہ کہانی ہے دو بھائیوں عمران، رضوان اور ایک بہن شازیہ کی۔ والدہ کے انتقال کے بعد اُن کے والد نے اُنہیں خالہ صفیہ کے پاس لندن بھیج دیا۔ خالہ صفیہ کے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا۔ انہوں نے اپنے گھر کو بورڈنگ ہاؤس میں تبدیل کررکھا تھا۔ اگر کوئی مہمان رکنے آجاتا تو ان کو گزر بسر کے لیے کچھ آمدنی ہوجاتی۔ ان کے ہاں دو پُراسرار مہمان شیرازی صاحب اور نور جہاں بیگم عرصے سے رہائش پذیر تھے۔ پڑوس کا مکان خالی تھا۔ وہاں انہیں ایک لڑکی دکھائی دی۔ وہ لڑکی کون تھی، اس سے ملنے کے بعد کیا ہوا، لڑکی نے جھوٹ کیوں بولے، خالہ صفیہ کے ہاں تین بہن بھائی کیا کرتے رہے، انہی واقعات پر مشتمل یہ دل چسپ کہانی ظفر محمود نے تحریر کی ہے۔128 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت صرف 12روپے ہے۔ (میں اس کا نسبتاً صاف نسخہ اُٹھالیا، شاید ہی کوئی نسخہ اب اچھی حالت میں موجود ہو۔)</p>
<p>2۔ انسان اور شیطان: یہ رابرٹ لوئی اسٹیونسن کی مشہور کہانی ’’ڈاکٹر جیکال اور مسٹر ہائیڈ‘‘ کا خلاصہ ہے جسے رفیع الزمان زبیری نے اردو زبان میں بہت خوب ڈھالا ہے۔ کہانی بہت دل چسپ ہے اور اس موضوع کو کئی فلموں میں بھی فلمایا جاچکا ہے کہ ڈاکٹر ہنری جیکال ایک تجربے کے ذریعے ایسی دوا بنالیتا ہے جو انسان کی اچھی اور بری شخصیت کو علاحدہ کرسکتی ہے۔ جب وہ دوائی ایک مرتبہ استعمال کرتا ہے تو اس کے اندر کا برا انسان ظاہر ہوجاتا ہے، دوسری بار استعمال پر اچھا انسان واپس۔ بری شخصیت ابتدا میں کمزور ہوتی ہے کیوں کہ ڈاکٹر ہنری جیکال ایک اچھا ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن بعد میں اس کی بری شخصیت جب رات کے اندھیرے میں شہر کی سڑکوں پر آزادی سے برے کام کرتی پھرتی ہے تو اس کی اچھی شخصیت پر بُری شخصیت غالب آنے لگتی ہے اور اس قدر طاقتور ہوجاتی ہے کہ دوائی کے بغیر ہی اس کی اچھی شخصیت پر بری شخصیت ظاہر ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر جیکال کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ کیا طریقہ استعمال کرتا ہے، یہ سب بہت ہی دل چسپ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ 52صفحات پر مشتمل اس رسالے کی قیمت صرف 8روپے ہے۔</p>
<p>3۔ شاہی خزانہ: یہ کہانی محمد سعید اختر نے تحریر کی ہے جس میں صابر حسین اور سلطان ایک چھپے ہوئے خزانے کو کھوجنے نکلتے ہیں۔ راستےمیں کتنی مشکلات آتی ہیں اور انجام کیا ہوتا ہے، یہ سبق آموز کہانی 64صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت 10روپے ہے۔</p>
<p>4۔ ہلتا ہوا مکان: یہ توراکینہ قاضی کی لکھی چند کہانیوں کا انتخاب ہے۔ صفحات:56 قیمت:10روپے</p>
<p>5۔ نامور مسلمان طبیب اور عالم سیریز: یہ اے۔حمید کی لکھی ہوئی دل چسپ طویل کہانی ہے۔ اس میں شہزاد ایک جن کے بچّے سانچی سے ملتا ہے اور اسے سامری جادوگر کی قید سے رہائی دلاتا ہے۔ اس احسان کے بدلے میں سانچی اس سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کی کوئی ایک خواہش پوری کردے گا۔ شہزاد یہ خواہش کرتا ہے کہ اس کی ملاقات ماضی کے عظیم مسلمان اطبا و علما سے کروادے۔ چنانچہ سانچی اپنے وعدے کے مطابق اس کی خواہش پوری کرتا ہے۔ پہلی کتاب میں حکیم زکریا رازی، دوسری کتاب میں ابوالبرکات بغدادی، تیسری کتاب میں البیرونی، چوتھی میں ابنِ سینا، پانچویں میں ابوعلی الحسن ابن الہیثم، چھٹی میں ابنِ رُشد اور ساتویں کتاب میں جابر بن حیان سے ملاقات ہوتی ہے۔ سات کتابوں پر مشتمل یہ مکمل سیٹ آپ کو تقریباً 85 روپے میں مل جائے گا۔ اس میں بچوں کو نہ صرف عظیم مسلمان سائنس دانوں کی شخصیت، کارناموں اور واقعات سے دل چسپ انداز میں روشناس کرایا گیا ہے بل کہ اس میں دوسرے واقعات بھی اتنے سحر انگیز ہیں کہ پڑھنے والے بچے کو چھوڑنے کا دل نہیں کرتا (اگر اسے مطالعہ کا شوق ہو)۔</p>
<p>اس کے علاوہ وہ کتابیں جو مجھے ملی نہیں اور مجھے ان کتب کے پچھلے صفحے پر اُن کے سرورق دیکھ کر اُن کی یاد آرہی ہے، وہ کروڑ پتی فقیر، بیس سال بعد، عمون کی تباہی، جادو نگری، پتھر کی گڑیا وغیرہ ہیں۔ عمون کی تباہی اور جادونگری تو کمال کی کہانیاں تھیں۔ افسوس مجھے نہیں مل سکیں۔</p>
<p>میں نے کُل 13، 14 کتابیں خریدی تھیں اور کُل میزانیہ 150روپے سے بھی کم کا بنا تھا۔ اب اور کیا چاہیے؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/hamdard-naunehal-adab/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>19</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا کہوں</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/07/kya-kahun/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/07/kya-kahun/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Jul 2010 18:22:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[abuse]]></category>
		<category><![CDATA[University Girl]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=405</guid>
		<description><![CDATA[میں آج صبح یونیورسٹی میں داخل ہوا تو وہ چیک پوسٹ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی اور ایک لڑکا بھی تھا جن سے وہ باتیں کررہی تھی۔ میں جب اس کے پاس سے گزرا تو مجھے اس کی آواز سنائی دی: ’’بہن چ**‘‘۔ میرے کانوں کو یقین نہیں آیا کہ یہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میں آج صبح یونیورسٹی میں داخل ہوا تو وہ چیک پوسٹ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے ساتھ ایک لڑکی اور ایک لڑکا بھی تھا جن سے وہ باتیں کررہی تھی۔ میں جب اس کے پاس سے گزرا تو مجھے اس کی آواز سنائی دی: ’’بہن چ**‘‘۔ میرے کانوں کو یقین نہیں آیا کہ یہ لفظ اس نے کہا ہوگا۔ میں نے اس پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔ وہ عبایا میں تھی۔ دیکھنے سے اچھے گھر کی لگتی تھی۔ وہ ہنس رہی تھی اور اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ تفریح کے موڈ میں ہے۔</p>
<p>پھر بولی: ’’حرامی۔۔۔ حرام زادہ۔‘‘ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ اتنے مجمع میں کس طرح کی زبان استعمال کررہی ہے۔ میں سر جھٹک کر آگے بڑھا۔</p>
<p>’’مادر چ**‘‘۔ اس کے منہ سے یہ گالی سن کر مجھے جیسے بجلی کا جھٹکا لگا۔ میں نے اُسے مُڑ کر دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھا اور اپنے راستے ہولیا۔</p>
<p>[اس تمام واقعے سے یہ نہ سمجھیے گا کہ وہ یہ گالیاں مجھے دے رہی تھی۔ وہ جو کوئی بھی تھی، اپنے دوستوں کے ساتھ تفریح کررہی تھی۔]</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/07/kya-kahun/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>44</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>برداشت کر!!</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 17 Jul 2010 08:29:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[Broadband]]></category>
		<category><![CDATA[Consumerism]]></category>
		<category><![CDATA[Electricity]]></category>
		<category><![CDATA[Fight Club]]></category>
		<category><![CDATA[K.E.S.C]]></category>
		<category><![CDATA[Landline Telephone]]></category>
		<category><![CDATA[Loadshedding]]></category>
		<category><![CDATA[mobile]]></category>
		<category><![CDATA[movie]]></category>
		<category><![CDATA[P.T.C.L]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>
		<category><![CDATA[Wateen]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=402</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان میں رہنے والوں کو ایک مسئلہ جو بارہا درپیش ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شکایات کے اندراج کے لیے مناسب طریقۂ کار کی عدم موجودگی۔ آپ کے علاقے میں بجلی بند ہوگئی۔ اب آپ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں، کس کے پاس جائیں؟ شکایت کے لیے K.E.S.C کا رابطہ نمبر 118 صرف PTCL [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں رہنے والوں کو ایک مسئلہ جو بارہا درپیش ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شکایات کے اندراج کے لیے مناسب طریقۂ کار کی عدم موجودگی۔ آپ کے علاقے میں بجلی بند ہوگئی۔ اب آپ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں، کس کے پاس جائیں؟ شکایت کے لیے <a target="_blank" href="http://www.kesc.com.pk/en" >K.E.S.C</a> کا رابطہ نمبر 118 صرف <a target="_blank" href="http://ptcl.com.pk/" >PTCL</a> فون سے ملایا جاسکتا ہے جب کہ PTCL فون اب گھروں میں کم ہی پایا جاتا ہے۔ موبائل سے اس نمبر تک رسائی نہیں۔ اور آپ کے پاس اگر PTCL ہے بھی تو اوّل آپ آدھ گھنٹا فون ملاتے رہیں، مجال ہے جو دوسری طرف سے اُٹھانے کی زحمت کی جائے۔ پھر اگر دوسری طرف سے جواب دے بھی دیا جائے تو آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے آپ کو ٹال دینا ہے کہ جی، فلاں فلاں خرابی ہے، کام کررہے ہیں، دو گھنٹے لگیں گے۔ گویا دن میں معمول کے مطابق چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ الگ اور پھر یہ دو، تین گھنٹے کا بونس بھی۔ آپ چیخیں، چلائیں، شور مچائیں، روئیں، جو چاہیں کریں، لیکن بجلی نہیں آنے کی جب تک احباب نہ چاہیں۔</p>
<p>آپ کی ٹیلے فون لائن خراب ہے، شور سنائی دیتا ہے، دوسری طرف سے کسی کی آواز ایسے سنائی دیتی ہے جیسے آپ ہواؤں کے دوش پر اُڑتے ہوئے بات چیت کررہے ہوں۔ آپ شکایت کرنا چاہتے ہیں۔ کرکے دکھائیے۔ کس سے کریں گے؟ ٹیلے فون بل پر موجود ہر نمبر ملالیجیے، یا مصروف ملے گا یا جواباً آپ کو بہت خوب صورتی سے شائستہ انداز میں ایک عدد بہانے سے ٹال دیا جائے گا لیکن مسئلہ جوں کا توں موجود رہے گا۔</p>
<p>آپ کے ہاں بجلی/ گیس کا بِل بہت زیادہ آرہا ہے۔ آپ پریشان ہیں کہ اتنا کیسے؟ لیکن شکایت کس سے کیجیے؟ کوئی سننے والا موجود جو نہیں۔ K.E.S.C کے دفتر چلے جائیے، ایک میز سے دوسری میز، دوسری سے تیسری، تیسری سے چوتھی اور پھر جب آخری میز پر پہنچیں تو آپ کہا جائے گا کہ آپ پہلی منزل پر چلے جائیں۔ پہلی منزل پر بھی ایسی ہی کاروائی۔ کسی کو ترس آگیا تو ٹھیک ورنہ جتنی منزلیں ہوں گی، سب کی سیر کرائی جائے گی۔ ترس آنے سے مراد یہ نہیں کہ کوئی اللہ کا بندا جھٹ پٹ آپ کا کام کردے گا۔ ارے نہیں جناب، ہرگز نہیں، اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ترس کھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا کھانچا بنانے کا ارادہ کرلے۔ کچھ دو کچھ لو کے اصول پر بات چیت کرنے کو صاحب کا من چاہے تو مبارک۔</p>
<p>آپ کے گھر ٹیلے ویژن ہے تو یقیناً ٹی۔وی کیبل لگائی ہوئی ہوگی کیوں کہ اکثریت <a target="_blank" href="http://ptv.com.pk/index.asp" >PTV Home</a> اور <a target="_blank" href="http://news.ptv.com.pk/index.asp" >PTV News</a> اور <a target="_blank" href="http://atv.com.pk/" >ATV</a> جیسے تھکے ہوئے چینلز دیکھنا نہیں چاہتی۔ اب آپ کے پاس 80 سے کچھ زیادہ ٹیلے ویژن چینلز آرہے ہیں۔ آپ ہر ماہ اس سہولت کے تین سو روپے ادا کرتے ہیں۔ اچانک ہوا یہ کہ آپ کے کنکشن میں خرابی آگئی۔ 80 میں سے 8 چینلز بمشکل صاف آرہے ہیں باقیوں پر مکھیاں بھنبھنارہی ہیں۔ آپ کیبل آپریٹر کو فون کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں کہ بھائی، یہ مسئلہ ہوگیا ہے۔ وہ کہتا ہے، اچھا میں آکر دیکھتا ہوں۔ وہ آنے میں تین/ چار دن لگادیتا ہے۔ آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ آتا ہے، دیکھ کر کہتا ہے کہ کنکشن تو ٹھیک ہے۔ لگتا ہے، تار خراب ہوگئی ہے لہٰذا تار اچھی والی لے آئیں۔ آپ سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اگلے ہی دن مہنگے داموں ایک معیاری تار کا بندوبست کردیتے ہیں لیکن اب جو اس کو بلانا چاہتے ہیں تو وہ صاحب کبھی فون بند کردیتے ہیں تو کبھی بہانا بناکر ٹال جاتے ہیں۔ پورا مہینا اسی طرح گزر جاتا ہے اور پھر اچانک سے آپ کے پاس سارے چینلز صاف آنے لگتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد موصوف کیبل آپریٹر آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ ان سے عرض کرتے ہیں کہ صاحب، جب شکایت کررہا تھا تو آپ نے کان نہیں دھرے، اب پیسے کس بات کے جب کہ آپ کی خدمات ہی نہیں ملیں؟ جواب ملتا ہے کہ یہ تو بالکل فضول کی بات ہے، پیسے تو آپ کو دینے ہی ہوں گے۔ آپ کہتے ہیں، میں تو آدھی رقم دوں گا حالانکہ حق دار تو آپ اس کے بھی نہیں ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ رقم تو پوری ہی دینی پڑے گی۔ آپ کا انکار سن کر وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے جی، نہ دیجیے اور پھر جاکر آپ کا کنکشن منقطع کردیتے ہیں۔ کرسکتے ہیں کسی سے شکایت؟ کرکے دکھائیے؟ ایک علاقے میں ایک کیبل آپریٹر کی موجودگی میں چوں کہ دوسرا آپریٹر خدمات فراہم نہیں کرتا اس لیے مونوپلی ہونے کے باعث تو ان کو پروا نہیں۔ کنکشن کروانا ہے تو کرواؤ نہیں تو بھاڑ میں جاؤ، اُن کے پاس اتنے لوگوں کے کنکشنز ہیں کہ ایک آپ کے جانے سے اُنہیں فرق بھی نہیں پڑتا۔ آپ خوش رہیے۔</p>
<p>آپ کے پاس کمپیوٹر ہے، آپ نے قریبی <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Cable_Internet_access" >انٹرنیٹ کیبل</a> کی خدمت فراہم کرنے والے ایک صاحب سے ماہانہ چھ سو روپے پر کنکشن کروایا (ویسے ہمارے ہاں کنکشن لگوایا جاتا ہے)۔ آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں کسی تعلیمی غرض سے یا انٹرنیٹ پر روزی تلاش کرتے ہیں۔ کبھی آپ کی انٹرنیٹ کچھوے کی رفتار سے چلتا ہے اور کبھی کچھوے کی طرح خول میں منھ دے کر سوجاتا ہے۔ آپ ہزار ٹھوکیے، ایسے ہوگیا جیسے مُردا۔ آپ آپریٹر کو فون لگاتے ہیں، وہ جواباً عرض کرتا ہے کہ جناب، اس طرف کی بجلی گئی ہوئی ہے۔ آپ کیا کرسکتے ہیں؟ پاکستان میں رہتے ہیں، بجلی سب کے ہاں جاتی ہے، اُس کے ہاں کوئی انوکھی نہیں گئی۔ اب کیا کریں کہ وہ اس علاقے میں بیٹھا ہے کہ جب اس کے بجلی ہوتی ہے تو آپ کے نہیں ہوتی اور جب آپ کے ہاں ہوتی ہے تو اس کے ہاں غایب۔ بے چارے کا کیا قصور۔ چلو، اچھا آپریٹر ہے، اس کے ہاں جنریٹر یا <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/U.P.S." >U.P.S</a> لگا ہوا ہے، بجلی جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ پھر بھی انٹرنیٹ نہیں چل رہا، آپ نے فون گھمایا تو بتایا گیا کہ پیچھے کہیں تار ٹوٹ گئی ہے، کام کیا جارہا ہے۔ ارے غصہ کیوں ہوتے ہیں؟ میاں آپ بھی یہیں کے باسی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ تاروں کے گچھے کیسے آپ کے سروں پر سایا کیے رہتے ہیں۔ کون سا تار بجلی کا ہے، کون سا انٹرنیٹ کا اور کون سا کیبل ٹی۔وی کا، آپ یہ اندازا ہی نہیں لگاسکتے۔ اب کہیں کوئی تار ٹوٹ گیا تو اوّل اسے ڈھونڈا جائے گا، پھر اس کو صحیح کرنے کا کام ہوگا، یوں آپ کا انٹرنیٹ مرے سے مرے، دو دن میں جاکر انگڑائی لے گا اور خراماں خراماں چلے گا۔</p>
<p>دو مہینے بعد تنگ آکر آپ نے کیبل انٹرنیٹ پر چار حرف بھیجے، سوچا <a target="_blank" href="http://ptcl.com.pk/contentp.php?NID=291" >PTCL کا براڈبینڈ انٹرنیٹ</a> اچھا چل رہا ہے، کیوں نہ وہی استعمال کیا جائے۔ آپ نے اس کی طرف رجوع کیا۔ آپ کو PTCL کی طرف سے بِل ملنا شروع ہوگیا لیکن تار اب تک نہیں لگائی گئی۔ یہ کیسا غضب ہے! آپ کو شکایت کرنی ہے؟ کس سے کریں گے؟ <a target="_blank" href="http://www.etisalat.ae/" >اتصالات کمپنی</a> کے ڈائریکٹر سے یا <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Asif_Ali_Zardari" >عزت مآب زرداری صاحب</a> سے؟ تین/ چار ماہ تک آپ کو بِل موصول ہوتا رہا، تب کہیں جاکر آپ کو تار فراہم کی گئی۔ لیکن نجانے تار کے جوڑ میں کہاں خرابی ہے۔ براؤزنگ کررہے ہوں تو صفحہ کھلتے کھلتے دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ کی طرح بھول جاتا ہے کہ وہ کر کیا رہا تھا۔ آپ اس پر دو تین بار Refresh کا مولا بخش مارتے ہیں، <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_web_browsers" >مختلف براؤزرز</a> کے ٹھڈے استعمال کرتے ہیں، تب جاکر براؤزنگ ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ بھی صاف بند۔۔۔ چلنے سے انکاری۔۔۔ آپ شکایت کرنے کی سعیِ لاحاصل کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خبر ملتی ہے کہ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Fiber_optic" >فائبر آپٹک</a> میں خرابی آگئی ہے، درست کرنے میں دو دن لگ سکتے ہیں۔ اب آپ PTCL کو فون گھماکر شکایت کرنے کی حماقت کریں گے تو ظاہر ہے، دوسری طرف سے کبھی جواب نہیں ملے گا۔ صاحب، آپ کو اطلاع دینے کے لیے تو ہر ہر ٹی۔وی چینلز پر خبر دکھائی گئی، اخبار میں سیاہی جمائی گئی (سرخی کا زمانہ کہاں، عورتوں سے بچتی ہی نہیں)، اب ہر طرح سے آپ کو مطلع کردیا گیا تو آپ کاہے کو فون کی زحمت کرتے ہیں؟</p>
<p>بڑے بے آبرو ہوکر تِرے کوچے سے ہم نکلے۔ تعجب ہے، آپ میں پاکستانی ہوکر برداشت نہیں؟ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ <a target="_blank" href="http://www.wateen.com/" >وطین</a> کے وائی میکس یا وائی فائی انٹرنیٹ کی طرف رجوع کریں گے؟ کرلیجیے۔ کرلیا؟ خوب!! واہ، یہ تو بہت اچھا رہا۔ رفتار بھی خاصی ہے۔ پھر ایک دن صبح جب آپ انٹرنیٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے سامنے ایک صفحہ آتا ہے کہ وطین ساری ڈیوائسز کا ریکارڈ اپڈیٹ کررہا ہے لہٰذا آپ بذریعہ ای۔میل یا فون اپنی ڈیوائس پر درج کوڈ ہمیں بتائیں۔ اللہ کے بندو، جب ڈیوائس دی تھی، تب ریکارڈ رکھا تو تھا، اب کیا ہوا؟ ارے جناب، پاکستان ہے، کوئی بعید نہیں کہ اُن کے کمپیوٹرز سے سارا ریکارڈ اُڑن چھو ہوگیا ہو۔ سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اب آپ ای۔میل کرکے تو بتانے سے رہے کیوں کہ جب تک آپ کی ڈیوائس کا ریکارڈ اپڈیٹ نہیں ہوتا، آپ کی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ فون کرنا ہی واحد ذریعہ ہے۔ آپ فون کرتے ہیں، مصروف ہے۔ پھر کرتے ہیں، مصروف۔۔۔ صاحبو! جب پوری وطین کمیونٹی کا انٹرنیٹ تم نے یہ کہہ کر بند کردیا کہ ریکارڈ اپڈیٹ کرواؤ اور پھر ساری دنیا یہ کوشش کرے گی تو تمہارا واحد فون نمبر مصروف ہی تو رہے گا (اُلّو کے۔۔۔۔)!!! آپ فون کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، آدھ گھنٹے تک ملاتے ہیں تب جاکر کہیں کنیکٹ ہوتا ہے، ٹیلے فون آپریٹر سے نہیں، کمپیوٹر سے۔۔ پھر وہ کمپیوٹر آپ کو سہانی دھنیں سناتا ہے جو غصے کے سبب آپ کے کانوں میں ایسے لگتی ہیں جیسے کسی سوتے آدمی کے سر پر بے سرے انداز میں ڈرم بجایا جانے لگے یا اس کے کانوں میں بنا سیکھے بانسری بجائی جائے۔ کمپیوٹر آپ کو پندرہ منٹ انتظار کروانے کے بعد کسٹمر سینٹر کے آپریٹر سے آپ کی کال کنیکٹ کرتا ہے۔ آپ اسے اپنی ڈیوائس کی معلومات فراہم کرتے ہیں تو وہ آپ کو مژدۂ جانفزا سناتا ہے کہ صرف اور صرف، جی ہاں صرف اور صرف چوبیس گھنٹے میں آپ کا انٹرنیٹ بحال ہوجائے گا۔ شکایت کریں گے؟ کس سے؟ U.A.E میں وطین کے ہیڈکوارٹر سے؟ چچ چچ۔۔۔ آپ چوبیس گھنٹے گزرنے کا انتظار یوں کرتے ہیں کہ ہر کچھ دیر بعد براؤزر کھولتے ہیں کہ شاید انٹرنیٹ چوبیس گھنٹے سے پہلے بحال ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ چوبیس گھنٹے کہاں، اڑتالیس گھنٹے گزر جاتے ہیں، انٹرنیٹ جوں کا توں مُردا۔ آپ پھر وطین کے کسٹمر (کئیر؟؟؟)  سینٹر پر نمائندے سے بات کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے آپ کو حسبِ سابق آدھ گھنٹے سے زیادہ بار بار ٹیلے فون نمبر ریڈائل کرنا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر رابطہ ہوتا ہے۔ آپ اس کو برا بھلا کہتے ہیں، زبان کی نوک پر رُکے سنسر کے قابل الفاظ پھسلنے لگتے ہیں، لاوا جو اب تک پک رہا تھا، اب اُبل پڑتا ہے لیکن دوسری طرف وہ اسی تحمل مزاجی سے آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا اور وہ آپ کی درخواست دوبارہ آگے بھیج رہا ہے، جلد مسئلہ حل ہوجائے گا۔ لیکن پھر بھی نہیں ہوتا۔ کچھ گھنٹے بعد دوبارہ کوشش کی جاتی ہے۔ اب کی بار ان کا نمایندہ آپ کو کہتا ہے کہ آپ کی درخواست تو آگے بھیجی ہی نہیں گئی ہے لیکن وہ بھیج رہا ہے، ساتھ ہی آپ کا انٹرنیٹ آدھ گھنٹے میں لاگ۔ان صفحے کے بنا ڈائرکٹ کنیکٹ پر ہوجائے گا۔ آپ کو اس کی بات پر یقین نہیں آتا، دل میں ہزار گالیاں دیتے ہیں لیکن اس کی بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ آپ کی ڈیوائس کی معلومات پر کام تو جب ہوگا سو ہوگا، لیکن اس نے آپ کی ڈیوائس کو ڈائرکٹ کنیکٹ کردیا۔ آپ سوچتے ہیں کہ اس کو دعا دوں یا پچھلے والوں کو بد دعا؟</p>
<p>اسی کشمکش میں آپ کی زندگی گزرتی چلی جارہی ہے اور آپ کو ہر سروس پرووائڈر کا نمائندہ جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ تو بس خوش بو دار کاغذ میں لپٹی ایک ہی چیز ہے جس کو کھولنے پر آپ کے سامنے جو ہوگا وہ دراصل یہاں گاڑیوں کے پیچھے لکھے ہوئے ایک جملے سے بہ آسانی سمجھی جاسکتا ہے کہ<br />
’’تپڑ ہے تو پاس کر، ورنہ برداشت کر‘‘</p>
<p>اتنی طویل تحریر پڑھ کر تھک گئے؟ کوئی بات نہیں۔ کیا یہ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Consumerism" >کنزیومر ازم</a> کے کمالات ہیں۔ چلیں <a target="_blank" href="http://www.imdb.com/title/tt0137523/" >فائٹ کلب</a> دیکھیے، میں نے بھی دو دن پہلے دیکھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>25</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وہی جامعہ کو رونا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/06/wohi-uni-rona/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/06/wohi-uni-rona/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 30 Jun 2010 14:36:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[exam]]></category>
		<category><![CDATA[karachi university]]></category>
		<category><![CDATA[students]]></category>
		<category><![CDATA[teacher]]></category>
		<category><![CDATA[University of Karachi]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=400</guid>
		<description><![CDATA[جب کوئی اور موضوع سمجھ نہیں آتا، اپنی جامعہ کراچی یاد آجاتی ہے۔ جامعہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھو، کم ہے۔ تعمیرات، ڈھانچہ، نظام، تعلیم، تدریس، اساتذہ۔۔۔ جامعہ سے وابستہ وہ کون سی چیز ہے جو تفصیلی گفتگو کی محتاج نہ ہو۔ فائنل ایئر میں طلبہ عموماً زیادہ محنت کرتے ہیں کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جب کوئی اور موضوع سمجھ نہیں آتا، اپنی جامعہ کراچی یاد آجاتی ہے۔ جامعہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھو، کم ہے۔ تعمیرات، ڈھانچہ، نظام، تعلیم، تدریس، اساتذہ۔۔۔ جامعہ سے وابستہ وہ کون سی چیز ہے جو تفصیلی گفتگو کی محتاج نہ ہو۔</p>
<p>فائنل ایئر میں طلبہ عموماً زیادہ محنت کرتے ہیں کہ یار، آخری سال ہے، جی جان سے محنت کرکے بہتر نتائج حاصل کرلیے جائیں۔ ایسے میں اگر شعبے کے چیئرمین کی جانب سے اساتذہ پر دباؤ ڈالا جائے کہ فائنل ایئر کے طلبہ کو 100 میں 65 سے زیادہ نمبرز نہ دیے جائیں تو آپ بتائیے، یہ حرکت کیسی ہے؟ جب کہ پاس ہونے کے لیے 50 نمبرز کی حد ہے، اور 70 نمبرز سے اوپر B گریڈ بنتا ہے۔ یعنی کہ طلبہ نے جتنی بھی محنت کی ہو، ان کو 65 سے زیادہ نمبرز نہیں ملیں گے اور گریڈ بنے گا C۔</p>
<p>یہ کوئی سنی سنائی خبر نہیں ہے بلکہ میری خالہ زاد جو خود جامعہ کے ایک شعبے میں پڑھارہی ہیں، انہوں نے کل ہی ذکر کیا۔ اب وہ پریشان ہیں کہ کیا کریں؟ اگر چیئرمین کی بات نہیں مانتیں تو امتحانی کاپیاں ویسے بھی پہلے تو چیئرمین کے پاس ہی جائیں گی، لہٰذا نتائج میں تبدیلی تو کی ہی جائے گی ساتھ نوکری جانے کے امکانات بھی کیوں کہ ابھی عارضی لیکچرار شپ ہے۔ اگر چیئرمین کی بات مانی جائے تو طلبہ کے ساتھ ناانصافی اور ان کی بددعائیں۔ جی جناب۔۔۔!!!</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/06/wohi-uni-rona/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>15</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملیں گے ملیں گے</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/06/milenge-milenge-music/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/06/milenge-milenge-music/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 25 Jun 2010 07:44:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیت/ شاعری]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=373</guid>
		<description><![CDATA[دوسرے کئی لوگوں کی طرح مجھے بھی یہ عادت ہے کہ جب میں کمپیوٹر پر کوئی ایسا کام کررہا ہوں جس میں مجھے سوچنے کی ضرورت نہ ہو جیسے لکھنا پڑھنا، تو میں ساتھ ہی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں۔ کبھی ٹائپنگ کا کوئی کام جلدی نمٹانا ہو تو تیز دھن والے گیت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>دوسرے کئی لوگوں کی طرح مجھے بھی یہ عادت ہے کہ جب میں کمپیوٹر پر کوئی ایسا کام کررہا ہوں جس میں مجھے سوچنے کی ضرورت نہ ہو جیسے لکھنا پڑھنا، تو میں ساتھ ہی موسیقی سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں۔ کبھی ٹائپنگ کا کوئی کام جلدی نمٹانا ہو تو تیز دھن والے گیت سنتا ہوں، اس سے لکھنے کی رفتار بھی کچھ تیز ہوجاتی ہے۔ پچھلے دنوں <a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/" >UrduLyrics.Net</a> کا آغاز کیا تو اچھی، بری ہر قسم کی موسیقی سننے کو ملی۔ ایسے گیت بھی سنے کہ انہیں لکھنے کے بعد دوبارہ ان کی طرف رخ نہیں کیا۔<span id="more-373"></span></p>
<p>حال ہی میں شاہد کپور اور کرینہ کپور کی مووی ’’<a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/2010/06/milenge-milenge-2010.html" >ملیں گے ملیں گے</a>‘‘ کا میوزک البم ریلیز ہوا۔ اس کے گیت سنے تو میں نے نوٹ کیا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے ہندی فلموں کا میوزک ایک الگ ہی رنگ اختیار کرتا جارہا تھا جس کی مثال <a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/search/label/Movie%3A%20HouseFull" >ہاؤس فل</a> اور <a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/2010/06/i-hate-luv-storys-2010.html" >I Hate Luv Storys</a> کے گیت ہیں، جو سننے میں برے نہیں ہیں بلکہ کافی اچھے ہیں لیکن وہ ہندی فلموں کی موسیقی کے روایتی طرز سے خاصے ہٹ کر ہیں۔ اس کے مقابلے میں جب میں نے ’’ملیں گے ملیں گے‘‘ کی موسیقی سنی تو بہت زبردست لگی کہ اس کے موسیقار ہمیش رمیشیا نے وہی روایتی طرز کو اپنایا ہے۔ ہمیش کے گائے ہوئے گنتی کے چند گانوں کے سوا مجھے کچھ خاص پسند نہیں آتے لیکن موسیقی میں تو اس نے کمال ہی کردیا ہے۔ پھر مجھے یہ جان کر بھی حیرت ہوئی کہ سلمان خان کی مشہورِ زمانہ مووی ’’<a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/2010/06/tere-naam-2003.html" >تیرے نام</a>‘‘ کی موسیقی بھی ہمیش ہی نے دی تھی۔ بندہ تو ٹیلنٹڈ ہے۔</p>
<p>یہ گیت خاص کر سننے کے لائق ہیں:</p>
<div>
<table cellpadding="0" cellspacing="0"><TR VALIGN="MIDDLE"><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/corner-topleft2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: bottom;"></td>
<p><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/bkgnd-top2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: middle;"> Himesh Reshammiya &#038; Shreya Gho &#8211; Milenge Milenge .mp3</td>
<p><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/corner-topright2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: bottom;"></td>
<p></TR><TR VALIGN="MIDDLE"><TD WIDTH="16" style="width: 16px;background-image:url(http://beemp3.com/player/left-ltrow2.gif);"/> </TD><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/light2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 11px;vertical-align: bottom;"><embed class="beeplayer" wmode="transparent" style="height:24px;width:290px;" src="http://beemp3.com/player/player.swf" quality="high" bgcolor="#ffffff" width="290" height="24" align="middle" allowScriptAccess="sameDomain" type="application/x-shockwave-flash" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" flashvars="playerID=1&#038;bg=0xCDDFF3&#038;leftbg=0x357DCE&#038;lefticon=0xF2F2F2&#038;rightbg=0x64F051&#038;rightbghover=0x1BAD07&#038;righticon=0xF2F2F2&#038;righticonhover=0xFFFFFF&#038;text=0x357DCE&#038;slider=0x357DCE&#038;track=0xFFFFFF&#038;border=0xFFFFFF&#038;loader=0xAF2910&#038;soundFile=http%3A//files4.fm420.com/musics//Milenge%20Milenge%20%282010%29/05%20-%20Milenge%20Milenge%20%28Part%202%29%20@%20Tafreeh.Com.mp3%0A%0A"></embed> <img style="padding:0;border:0;vertical-align:bottom" src="http://beemp3.com/player/logo_small.gif"/> </td>
<p><TD WIDTH="16" style="width: 16px;background-image:url(http://beemp3.com/player/right-ltrow2.gif);"/></TD></TR><TR><TD WIDTH="16"><IMG style="padding:0;border:0;" SRC="http://beemp3.com/player/corner-bottomleft2.gif"></TD><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/bkgnd-bottom2.gif);background-repeat: repeat-x;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 11px;vertical-align: top;text-align: center;padding:0;border: 0;margin:0;">Found at <a target="_blank" href="http://beemp3.com/download.php?file=7685520&#038;song=Milenge+Milenge" >bee mp3 search engine</a></TD><TD WIDTH="16"><IMG style="padding:0;border:0;" SRC="http://beemp3.com/player/corner-bottomright2.gif"></TD></TR></table>
</div>
<p>ملیں گے ملیں گے (<a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/2010/06/milenge-milenge-milenge-milenge-lyrics.html" >شاعری</a>)</p>
<div>
<table cellpadding="0" cellspacing="0"><TR VALIGN="MIDDLE"><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/corner-topleft2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: bottom;"></td>
<p><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/bkgnd-top2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: middle;"> Himesh Reshammiya-(SongsBlasts &#8211; Hare Kanch Ki Chuddiyan-(Songs .mp3</td>
<p><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/corner-topright2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: bottom;"></td>
<p></TR><TR VALIGN="MIDDLE"><TD WIDTH="16" style="width: 16px;background-image:url(http://beemp3.com/player/left-ltrow2.gif);"/> </TD><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/light2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 11px;vertical-align: bottom;"><embed class="beeplayer" wmode="transparent" style="height:24px;width:290px;" src="http://beemp3.com/player/player.swf" quality="high" bgcolor="#ffffff" width="290" height="24" align="middle" allowScriptAccess="sameDomain" type="application/x-shockwave-flash" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" flashvars="playerID=1&#038;bg=0xCDDFF3&#038;leftbg=0x357DCE&#038;lefticon=0xF2F2F2&#038;rightbg=0x64F051&#038;rightbghover=0x1BAD07&#038;righticon=0xF2F2F2&#038;righticonhover=0xFFFFFF&#038;text=0x357DCE&#038;slider=0x357DCE&#038;track=0xFFFFFF&#038;border=0xFFFFFF&#038;loader=0xAF2910&#038;soundFile=http%3A//www.songblasts.com/songs/hindi/m/milenge-milenge/05-Hare_Kanch_Ki_Chuddiyan-%28SongsBlasts.Com%29.mp3"></embed> <img style="padding:0;border:0;vertical-align:bottom" src="http://beemp3.com/player/logo_small.gif"/> </td>
<p><TD WIDTH="16" style="width: 16px;background-image:url(http://beemp3.com/player/right-ltrow2.gif);"/></TD></TR><TR><TD WIDTH="16"><IMG style="padding:0;border:0;" SRC="http://beemp3.com/player/corner-bottomleft2.gif"></TD><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/bkgnd-bottom2.gif);background-repeat: repeat-x;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 11px;vertical-align: top;text-align: center;padding:0;border: 0;margin:0;">Found at <a target="_blank" href="http://beemp3.com/download.php?file=7624299&#038;song=Hare+Kanch+Ki+Chuddiyan-%28Songs" >bee mp3 search engine</a></TD><TD WIDTH="16"><IMG style="padding:0;border:0;" SRC="http://beemp3.com/player/corner-bottomright2.gif"></TD></TR></table>
</div>
<p>ہرے کانچ کی چوڑیاں (<a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/2010/06/milenge-milenge-hare-kanch-ki-chuddiyan.html" >شاعری</a>)</p>
<div>
<table cellpadding="0" cellspacing="0"><TR VALIGN="MIDDLE"><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/corner-topleft2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: bottom;"></td>
<p><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/bkgnd-top2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: middle;"> Rahat Fateh Ali Khan &#038; Jayesh &#8211; Ishq Ki Gali .mp3</td>
<p><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/corner-topright2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 12px;vertical-align: bottom;"></td>
<p></TR><TR VALIGN="MIDDLE"><TD WIDTH="16" style="width: 16px;background-image:url(http://beemp3.com/player/left-ltrow2.gif);"/> </TD><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/light2.gif);background-repeat: repeat;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 11px;vertical-align: bottom;"><embed class="beeplayer" wmode="transparent" style="height:24px;width:290px;" src="http://beemp3.com/player/player.swf" quality="high" bgcolor="#ffffff" width="290" height="24" align="middle" allowScriptAccess="sameDomain" type="application/x-shockwave-flash" pluginspage="http://www.macromedia.com/go/getflashplayer" flashvars="playerID=1&#038;bg=0xCDDFF3&#038;leftbg=0x357DCE&#038;lefticon=0xF2F2F2&#038;rightbg=0x64F051&#038;rightbghover=0x1BAD07&#038;righticon=0xF2F2F2&#038;righticonhover=0xFFFFFF&#038;text=0x357DCE&#038;slider=0x357DCE&#038;track=0xFFFFFF&#038;border=0xFFFFFF&#038;loader=0xAF2910&#038;soundFile=http%3A//files4.fm420.com/musics//Milenge%20Milenge%20%282010%29/04%20-%20Ishq%20Ki%20Gali%20@%20Tafreeh.Com.mp3"></embed> <img style="padding:0;border:0;vertical-align:bottom" src="http://beemp3.com/player/logo_small.gif"/> </td>
<p><TD WIDTH="16" style="width: 16px;background-image:url(http://beemp3.com/player/right-ltrow2.gif);"/></TD></TR><TR><TD WIDTH="16"><IMG style="padding:0;border:0;" SRC="http://beemp3.com/player/corner-bottomleft2.gif"></TD><TD style="background-image: url(http://beemp3.com/player/bkgnd-bottom2.gif);background-repeat: repeat-x;font-family: Arial, Helvetica, sans-serif;font-size: 11px;vertical-align: top;text-align: center;padding:0;border: 0;margin:0;">Found at <a target="_blank" href="http://beemp3.com/download.php?file=7685519&#038;song=Ishq+Ki+Gali" >bee mp3 search engine</a></TD><TD WIDTH="16"><IMG style="padding:0;border:0;" SRC="http://beemp3.com/player/corner-bottomright2.gif"></TD></TR></table>
</div>
<p>عشق کی گلی (<a target="_blank" href="http://www.urdulyrics.net/2010/06/milenge-milenge-ishq-ki-gali-lyrics.html" >شاعری</a>)<br />
یہ گیت راحت فتح علی خان نے گایا ہے اور اندازِ گائیکی راحت کے تمام گانوں سے منفرد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/06/milenge-milenge-music/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
