سگریٹ ہے؟

سردار جی پہنچے دکان دار کے پاس اور پوچھا: سگریٹ ہے؟
دکان دار: ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔

اگلے دن۔
سردار: سگریٹ ہے؟
دکان دار: میں نے تمہیں کل بھی بتایا تھا کہ ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔

اگلے دن۔
سردار: سگریٹ ہے؟
دکان دار: ابے تمہیں آرام سے سمجھ نہیں آتی کہ ہم سگریٹ نہیں بیچتے۔ ہتھوڑا ماروں تمہارے سر پر؟

اگلے دن۔
سردار: ہتھوڑا ہے؟
دکان دار: نہیں۔
سردار: تو پھر سگریٹ ہے؟ :P
:haha:

ہلکا پھلکا

ٹیگ۔ دو اور 2 ؟ چار۔

موبی نے ڈفر کو اور ڈفر نے ماوراء کو ٹیگ کیا، یوں یہ ٹیگ مجھ تک پہنچا۔ جوابات حاضر۔ :-)

چار جگہیں جہاں میں بار بار جاتا ہوں
گھر
دفتر
سموسے والے کی دکان :razz:
اوررر۔۔۔ اب یونیورسٹی :)

چار لوگ جن سے باقاعدہ ملتا ہوں، گھر والوں کے علاوہ
دفتر کے ساتھی
موبائل میں ایزی لوڈ کرنے والا
بس کنڈیکٹر :P

کھانے کی پسندیدہ چار جگہیں
الحاج اختر ریسٹورنٹ
مہران آئس کریم
ریگل لسی کارنر :grins:
اوررر۔۔۔ :hmm: ساحلِ سمندر :wink:

چار جگہیں جہاں میں ہونا چاہوں
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
چاند
میری پرانی رہائش گاہ
جنت۔۔۔ :wel:

چار پسندیدہ ٹی وی پروگرام
(ٹی وی تو دیکھنا ہی برائے نام کیا ہوا ہے)
خبریں
ریسلنگ
آف دی ریکارڈ (اے آر وائی پر کاشف عباسی کا پروگرام)
Hagemaru (جاپانی کارٹون ہے شاید لیکن POGOوالوں نے ہندی میں بہت خوب صورت ڈب کیا ہے)

چار فلمیں جو بار بار دیکھنا چاہوں
کل ہو نہ ہو (شاہ رخ خان)
مسٹر بین سیریز
ہیری پورٹر سیریز
ریس (سیف علی خان)

اب باری ہے آگے چار لوگوں کو ٹیگ کرنے کی۔۔۔ کس کو کروں کہ اکثریت یا تو پہلے ہوچکی ہے یا غائب ہے۔ خیر۔۔۔
شگفتہ
فرحت کیانی
ساجد اقبال
بدتمیز بھائی صاحب، جانتا ہوں یہ جناب آج کل بہت مصروف ہوئے ہیں لیکن امید ہے کہ فرصت میں ضرور جواب لکھ دیں گے۔

ہلکا پھلکا

آٹھ گھر

گذشتہ دنوں مجھےمیرے آٹھ گھر کا ایک ٹیگ لگا تھا۔ اب جس بلاگ سے ٹیگا گیا، خود وہ بلاگ ان دنوں کومے میں ہے لیکن بہرحال میں اپنا قرض اتار رہا ہوں۔ اب اس بلاگ اور بلاگر پر منحصر ہے کہ وہ میرا ٹیگ کیچ کرتا ہے یا نہیں۔۔۔ کیچ اٹ اف یو کین ;)

کھیل کے اصول:

بتانے ہیں آٹھ گھر۔ اگر آپ اپنے آٹھ گھر بناتے تو کہاں ہوتے؟ یہ شرط اضافی ٹانگی گئی ہے کہ وہ آٹھ کے آٹھ گھر اسی ملک میں ہونے چاہئیں جہاں آپ رہ رہے ہیں۔ بھئی یہ تو بے مانٹی ہے نا ;) خیر، چوں کہ اس ٹیگ کے ساتھ ٹیگنے والے نے یہی دُم چھلا لگانا پسند کیا ہے تو ہم بھی چار و ناچار سرِ تسلیم خم کیے دیتے ہیں۔ ویسے مابدولت کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ استطاعت ہو بھی تو آٹھ گھر بنانے کی زحمت ہرگز نہ کریں گے۔

میرا پہلا گھر۔۔۔
میرا پہلا گھر میرے پیارے شہر کراچی ہی میں ہوتا۔ ساحلِ سمندر کے پاس۔۔۔ بلکہ اگر میرے بس میں ہو تو ساحل کی ریت ہی پر اپنا پیارا سا چھوٹا سا گھروندا بنالوں۔ بس مسئلہ یہ ہوگا کہ گھروندے میں فِٹ نہیں ہوسکوں گا۔ صبح سویرے اٹھوں تو پُرسکون سمندر میرا استقبال کرے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں لہکتی لہکتی مجھے چھوکر گزرتی ہوئیں صبح بخیر کہیں۔۔۔ شام ہو تو ساحل کا سحر انگیز رومانوی نظارا مجھے اپنے سحر میں جکڑ کر دنیا کے ہر غم سے بے نیاز کردے۔۔۔ رات ہو تو گہری تاریکی، سناٹا، خاموشی۔۔۔ سوائے لہروں کے ہلکے ہلکے شور کے کوئی آواز نہیں۔۔۔ کیا خوب زندگی ہو۔۔۔

میرا دوسرا گھر۔۔۔
یوں تو اس پہلے گھر کے بعد دوسرا گھر بنانے کا تصور کرنا ہی محال ہے کہ سب کچھ تو پہلے ہی گھر میں ہے۔۔۔ لیکن اگر پھر بھی کوئی ڈنڈا لے کر مجھ پر سوار ہوجائے کہ تم نے دوسرا گھر بنانا ہی ہے تو میں قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے پاس ایک گھر بنانا چاہوں گا۔ وہ علاقہ بہت اچھا ہے۔ عقبی حصہ تو کافی پُرسکون، سرسبز اور صاف ستھرا ہے۔ اس گھر میں میرے کمرے کی کھڑکی مزارِ قائد کی طرف کھلتی ہو اور میں جب صبح سویرے اٹھوں تو بستر سے اتر کر کھڑکی میں جاکھڑا ہوں اور قائد کو سلام پیش کروں کہ ان کی شب و روز کڑی محنت سے ہمیں یہ ارضِ پاک میسر آئی۔

میرا تیسرا گھر۔۔۔
میرا تیسرا گھر ایک انتہائی گندے نالے اور کچرے کوڑے کے بہت بڑے ڈھیر کے پاس ہوتا جہاں سے ہر وقت بدبو ہی بدبو اٹھتی رہتی اور وہاں ایک منٹ بھی ٹھہرنا دشوار ہوتا۔۔۔ کیا ہوا؟ کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں وہاں کس لیے گھر بناتا؟ ارے صرف بناتا۔۔۔ رہتا تھوڑی۔۔۔ وہاں تو میں اس قوم کے سیاستدانوں کو پکڑ پکڑ کر بند کرتا کہ منحوسو! رہو ساری زندگی یہاں۔

چوتھا گھر۔۔۔
چوتھا گھر ایوانِ صدر کے سامنے بناتا اور ایوانِ صدر سے کئی گنا زیادہ عالیشان بناتا۔۔۔ پھر زرداری کو کھانے کی دعوت پر بلاتا اور اس کو کہتا کہ حضور والا! اگر آپ کو عیش و آرام ہی چاہیے تو آئیے آپ اس گھر میں منتقل ہوجائیے لیکن یار! خدا کے واسطے اس ملک کی کرسیٴ صدارت کو چھوڑ کر لوگوں پر احسانِ عظیم کردو۔۔۔ آخر کار، صدارت کی کرسی پر ہمارا بھی کچھ حق بنتا ہے۔ :P

پانچواں گھر۔۔۔
اففف۔۔۔ ابھی چار مزید گھر بنانا رہتے ہیں۔۔۔ اگر میرا پانچواں گھر ہوتا تو شاید لاہور شہر میں ہوتا۔ سچ کہوں تو مجھے لاہور کے اکلوتے دورے میں ایسا کوئی خاص لطف تو بالکل نہیں آیا تھا لیکن میرا ایک کزن میرے پیچھے پڑا ہے کہ لاہور منتقل ہوجاؤ۔۔۔ اب اگر وسائل بنے تو ضرور وہاں بھی ایک گھر بناکر رکھوں گا تاکہ آنا جانا رہے۔

چھٹا گھر۔۔۔
ہمم۔۔۔ ہمم۔۔۔ ارے بس بھئی۔۔۔ اتنا کافی ہے۔۔۔ ہم تو یہیں تھک گئے۔ آٹھ گھر نہ ہوئے، مصیبت ہوگئے۔۔۔ اتنا مشکل آٹھ گھر بنانا نہیں ہوگا، جتنا ان کا سوچنا۔۔۔ یار! ہم درویشوں کو لوگ ایسے جھنجھٹ میں ڈال دیتے ہیں :P توبہ توبہ!

ہلکا پھلکا

ورنہ۔۔۔۔!!!

جی تو چاہتا تھا کہ تحریر کا آغاز ہی نہ صرف گالیوں سے کروں بلکہ عنوان بھی ایسا ہی کچھ رکھوں لیکن بہرحال میرے خود ساختہ اصولوں نے مجھے فی الحال اس کی اجازت نہیں دی۔ :nahi:

آج 8 محرم الحرام تھا، کیا ہوا؟ اہلِ تشیع نے جلوس نکالا۔۔۔ نتیجہ؟ ہوا یہ کہ کراچی شہر کی مصروف ترین شاہراہیں بند کردی گئیں۔ میں شام سوا چھ بجے دفتر سے نکلا تو رات دس بجے گھر پہنچا۔ :devil: اور جس طرح پہنچا ہوں، وہ میں ہی جانتا ہوں۔ کوئی دو، تین گھنٹے تک تو پیدل چلتا رہا ہوں۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند۔۔۔ ڈبل سواری پر پابندی۔۔۔ ہر شاہراہ پر جاکر دیکھ لیا لیکن گاڑی نہیں ملی۔ :oops:

آخر کچھ راستہ رکشے میں اور کچھ بس میں طے کیا۔ کل سے مجھے ٹھنڈ لگی ہوئی ہے، نزلہ، زکام۔۔۔ جامعہ میں چل چل کر بری حالت۔۔۔ میرا تو حال برا ہوگیا۔ جی میں تو آتا تھا کہ۔۔۔

اب مجھے کوئی بتائے، ایسے جلوسوں کا مقصد؟ منالی حضرت حسین اور شہدائے کربلا کی یاد؟ اور ان سیکڑوں لوگوں کی بددعاؤں کا کیا ہو جو انہوں نے پریشانی کی حالت میں دیں؟ ہوا کوئی ثواب کا کام؟ اسلام نے انسانوں کو تکلیف دینا سکھایا ہے؟ اسلام کے نام پر تکلیف۔۔۔

صرف اہلِ تشیع سے نہیں، مجھے ان تمام لوگوں سے اختلاف ہے جو جلوس نکالتے ہیں اور وہ بھی عوامی شاہراہوں پر۔۔۔ چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی۔۔۔ اتنے بڑے بڑے پارک اور گراؤنڈ کیا اچار ڈالنے کے لیے بنے ہیں؟ انہیں لوگوں کی تکلیف نظر نہیں آتی؟ یا یہ صرف طاقت کا مظاہرہ ہوتا ہے؟؟؟ :devil: آپ اس تحریر کو فرقہ واریت یا مسلکی تعصب سے ہٹ کر انسانی بنیادوں پر پڑھیں۔

کراچی کی دیواروں پر اکثر ایسے جملے لکھے ہوتے ہیں کہ فلاں کو رہا کرو ورنہ۔۔۔!!! فلاں کام کرو ورنہ۔۔۔۔!!! یہ حکومت یا دوسرے لوگوں کو دھمکیاں ہوتی ہیں، بے فائدہ۔۔۔ ایسی ہی ایک بے فائدہ دھمکی میری طرف سے بھی کہ یہ اسلام کے نام پر لوگوں کو تکلیف دینے والے لوگ سدھر جائیں ورنہ۔۔۔۔۔!!! :nahi:

آس پاس

جامعہ نامہ

“جامعہ نامہ” میں خوش آمدید۔ :) یہ ہمارے بلاگ کا نیا زمرہ ہے۔

جامعہ کراچی، پاکستان کی بڑی اور اہم ترین جامعات میں سے ایک ہے۔ کراچی کے اکثر طلباء کی آرزو ہوتی ہے کہ ان کا داخلہ کسی بھی طرح جامعہ کراچی میں ہوجائے اور اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی مضمون میں داخلہ لینے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ میں نے ایسے طلباء بھی دیکھے ہیں جو انٹر تک میڈیکل یا انجینئرنگ پڑھے ہیں اور پھر جامعہ کراچی میں داخلہ کے لیے انہیں اسلامک لرننگ (Islamic Learning) یا تاریخِ عامہ (General History) جیسے شعبوں میں جانا بھی گوارا ہے۔

میں نے جامعہ کراچی میں داخلے کے لیے جب فارم بھرا تو میری پہلی ترجیح ابلاغِ عامہ (Mass Communication)، دوسری ترجیح تعلیم اور تیسری Political Science تھی۔ میری دوسری ترجیح کو جامعہ والوں نے میرے لیے پسند کیا :wink: اور یوں میرا شعبہ تعلیم میں داخلہ ہوگیا۔

یکم تا تین جنوری 2009ء داخلہ فارم اور دستاویزات جمع کروانی تھیں، پانچ جنوری کو تقریبِ پذیرائی تھی لیکن جب ہم یکم جنوری کو جامعہ پہنچے تو بتایا گیا کہ داخلہ فارم اب تک آئے نہیں ہیں اور پانچ تاریخ کو ملیں گے۔ اِدھر اُدھر، ہر جگہ معلومات کرنے کے بعد جب یقین کامل ہوگیا کہ واقعی پانچ جنوری سے پہلے کچھ ہونے کا نہیں تو واپس لوٹے۔ لیکن اس مختصر سے دورے میں ہمیں ساتھی نے بتادیا تھا کہ دیکھو، یہ گرلز کامن روم اور ویژول لائبریری کا حصہ جمعیت والوں کا ہے اور وہاں جو آگے تمہیں لڑکے کھڑے نظر آرہے ہیں، وہ اے پی ایم ایس او (متحدہ قومی مومنٹ) کا ہے۔ یہاں والے وہاں نہیں جاسکتے اور وہاں والے یہاں نہیں آسکتے۔ :hunh:

خیر، پانچ جنوری 2009ء۔ سوموار۔ ہم دستاویزات کے ساتھ دوبارہ جامعہ پہنچے۔ جیسے تیسے فارم جمع کروایا۔ مختصر سی تعارفی کلاس ہوئی جس میں ہمارے شعبے کے اساتذہ کا تعارف ہوا۔ جامعہ میں ہمارے شعبہ تعلیم کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر غلام رسول میمن ہیں، خاصے عمر رسیدہ آدمی، سفید ریش، نورانی چہرہ۔ ہمیں بتایا گیا کہ آپ جب یہاں آئے ہوں گے تو یقینا مختلف جماعت سے تعلق رکھنے والوں کو دیکھا ہوگا لیکن ضروری نہیں ہے کہ آپ کسی کے ساتھ منسلک بھی ہوں۔ آپ ایک آزاد طالب علم ہیں، جمہوری ملک کی جمہوری یونیورسٹی کے طلباء ہیں، آپ پر منحصر ہے کہ کسی سے منسلک ہوتے ہیں یا نہیں لیکن ایک اچھا طالب علم وہی ہوتا ہے جو آزاد ہوتا ہے اور سب کے ساتھ اچھا تعلق رکھتا ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ یہاں ماحول لبرل ہے، آپ کو ہر طرح کے لوگ ملیں گے، سب کچھ ہوتا ہوا نظر آئے گا، جب آپ گھومیں پھریں گے تو آپ بہت کچھ دیکھیں گے، آپ کو سب آزادی ہے لیکن جب آپ اپنے شعبے میں آئیں گے تو آپ صرف طالب علم ہوں گے، ایک اچھے طالب علم جہاں آپ نے صرف پڑھائی کرنی ہے۔ باقی کاموں کے لیے پوری یونیورسٹی پڑی ہے۔ :)

تعارفی کلاس کے دوران مجھ سمیت صرف تین لڑکے تھے اور باقی سب لڑکیاں جن کی تعداد کوئی تیس سے تو زیادہ ہی ہوگی۔ تعلیم سے لڑکوں کی دلچسپی اتنی کم؟ :hmm:

5 جنوری 2005ء کی روداد بس اسی قدر۔

جامعہ نامہ