نیا سال ۔۔۔ نیا منظر

میرے بلاگ کے تمام قارئین کو نیا اسلامی سال 1430ھ اور نیا عیسوی سال 2009ء بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سال ہمیں اپنے مکمل حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین

گزرے سال میں کیا کیا اہم تھا، اس کا جائزہ میں الگ تفصیلی تحریر میں لینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ لیکن اس نئے سال پر بہت کچھ نیا ہے۔ میں نے اور ماوراء نے منظرنامہ کو الگ سے ڈومین اور ہوسٹنگ پر منتقل کیا ہے (ماوراء اور wirepaq کا بہت شکریہ)، پھر آج سے میری جامعہ بھی شروع ہوگئی ہے (برائے نام ہی سہی)۔ :P جامعہ کراچی میں مجھے شعبہ تعلیم میں داخلہ ملا ہے۔ آج پہلے دن گیا تھا، بس گھوم پھر کر واپس آگیا۔ آثار نظر آرہے ہیں کہ اب میں آہستہ آہستہ غائب ہوتا جاؤں گا۔ صبح کو جامعہ، دوپہر میں جامعہ سے سیدھا دفتر کو۔۔۔ رات گئے دفتر سے گھر واپسی تو بس۔۔۔ پھر نہ وقت نہ ہمت۔ اللہ جانے کیا ہوگا۔

متفرقات

اردو میں پہلا فلم سب ٹائٹل جاری

آپ نے فلموں کے ساتھ مختلف زبانوں میں ان کے سب ٹائٹل تو چلتے دیکھے ہی ہوں گے۔۔۔
subtitle
(سب۔ٹائٹل کے بارے میں پڑھیں)

ہر منظر کے مکالمے لکھے آنے سے مختلف زبانوں والے لوگ اپنی اپنی زبان میں فلم کے مکالمے پڑھ سکتے ہیں۔ تاہم اردو زبان اب تک ایسے سب ٹائٹلز سے محروم رہی تھی۔ بہرحال، دو رات پہلے اچانک ہی میرا اس حوالے سے کام کرنے کا پروگرام بن گیا اور یوں آج میں ایک انگریزی فلم کا اردو سب ٹائٹل جاری کررہا ہوں۔ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ کسی بھی فلم کا اردو زبان میں پہلا سب ٹائٹل ہے۔

بقیہ تحریر پڑھیں »

تکنیکی باتیں

بگاڑ

ہمارے ہاں اکثر لوگ آپ کو حکمرانوں پر تنقید کرتے ہی نظر آئیں گے، لیڈر کرپٹ ہیں، حکمران بکے ہوئے ہیں، رہنما ضمیر بیچ چکے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ نہیں، بلکہ اگر میں یوں کہوں کہ ہمارے لوگ ہر قسم کی خرابی کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہرانا چاہتے ہیں اور ٹھہراتے ہیں تو زیادہ درست ہوگا۔ لاکھ قصور ہمارا ہو، لیکن ہم اس کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہراکر دلی سکون محسوس کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہاں اپنے اپنے اداروں میں، اپنی اپنی جگہ پر ہر ایک بندہ کرپٹ ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری ملازمت کے حصول کی جستجو کی جاتی ہے تو یہی سوچ کر کہ آسانی ہوتی ہے، جاؤ نہ جاؤ، کام کرو یا نہ کرو، فرق نہیں پڑتا۔ ایک نو عمر جب شروع سے ایسے ہی خیالات سنتا ہے، پھر بڑے ہوکر سرکاری ملازمت حاصل کرتا ہے تو آپ اس سے کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض پوری طرح سر انجام دے گا۔

ہماری بلڈنگ ہی میں ایک صاحب ہیں۔ ہمیں یہاں آئے دس سال ہونے کو آئے ہیں، لیکن ان دس سالوں میں پہلی بار انہیں کچھ مہینے پہلے دیکھا گیا۔ پھر ان کے پاس گورنمنٹ نمبر پلیٹ کی گاڑی بھی۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ موصوف برسوں پہلے سرکاری ملازمت چھوڑ کر کسی عرب ملک (شاید سعودی عرب) چلے گئے تھے۔ اب واپس آئے ہیں تو کچھ جان پہچان کی مدد سے وہ اپنی ملازمت جہاں چھوڑ کر گئے تھے، وہیں سے دوبارہ مل گئی اور یہ گاڑی بھی۔۔۔ :devil: آپ اندازہ بھی کرسکتے ہیں اس امر کا؟؟؟ ایک بندہ آٹھ/ دس برس پہلے اپنی ملازمت چھوڑ کر جارہا ہے اور پھر واپسی پر وہیں سے دوبارہ شروع کررہا ہے۔۔۔ یہ حال ہے یہاں کا۔۔۔ پھر بھی حکمران کرپٹ ہیں؟؟؟

ہم لوگ تبھی سدھریں گے جب اپنے فرائض کو اپنا سمجھیں گے۔۔۔ اس ملک کو اپناسمجھیں گے۔۔۔ سڑک پر کچرا پھینکنے سے یہ سوچ کر رک جائیں گے کہ ہم اپنے ہی گھر کو گندا کررہے ہیں، دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے یہ سوچ کر باز رہیں گے کہ خامی تو ہم بھی ہے اور تبدیلی کا عمل ہم نے اپنے آپ سے شروع کرنا ہے۔۔۔ اس بگاڑ کو ہم ہی نے درست کرنا ہے۔

آس پاس

پابندی

بم دھماکہ اگرچہ دوسرے صوبے کے شہر میں ہوا تھا لیکن اس صوبے کے وزیرِ داخلہ کی بوکھلاہٹ اور ان سے متعلقہ محکمہ جات کے ہر سیکریٹری کی دوڑ قابلِ دید تھی۔ وزیرِ داخلہ نے تناؤ کے عالم میں ٹی وی کھولا تو صحافی کو حکومتی اقدامات کا پوسٹ مارٹم اور حفاظتی پہلوؤں کے نقائص واضح کرتے دیکھ کر ان کا پارہ آسمان پر پہنچ گیا۔ غصے میں تنک کے ٹی وی چینل تبدیل کیا تو اگلے نیوز چینل کا منظر بھی پچھلے سے کچھ خاص مختلف نہیں تھا۔ آخر کار انہوں نے ٹی وی بند کرکے ریموٹ زمین پر دے مارا۔

اسی لمحے ان کے ملازم نے اطلاع دی کہ میٹنگ روم میں تمام افسران جمع ہوچکے ہیں۔ وزیرِ داخلہ صاحب نے سامنے میز پر پڑی فائل اٹھائی اور فرش پر پاؤں پٹختے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

میٹنگ روم میں داخل ہوئے تو کمرے میں جاری سرگوشیاں اچانک دم توڑ گئیں اور تمام لوگ انہیں ایسے گھورنے لگے جیسے ان کے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔ انہوں نے باقی تمام لوگوں کے مقابلے میں آنکھیں زیادہ پھاڑ کر گھورا اور اپنی کرسی پر براجمان ہوگئے۔ اُسی روایتی بریفنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس میں زیادہ تر وہی پرانی باتیں شامل تھیں جو وہ اپنا منصب سنبھالنے کے وقت سے سنتے چلے آرہے تھے۔ جتنے وقت بریفنگ جاری رہی، وہ جماہیاں لیتے رہے۔ بریفنگ ختم ہونے پر شاید سب سے زیادہ لمبی چین کی سانس انہی کی تھی۔

وزیرِ داخلہ صاحب کرسی پر سیدھا ہوکر بیٹھے اور کچھ بولنے سے پہلے کھنکھارنا مناسب خیال کیا۔ لب کھولے تو اول پرانی باتیں دہرائیں۔ پھر یہ سوال اٹھا کہ آخر اب کیا قدم اٹھایا جائے تاکہ دکھایا جاسکے کہ حکومت اپنی طرف سے تمام حفاظتی اقدامات اور تدابیر اختیار کررہی ہے۔

“پچھلے دنوں جب دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو ہماری طرف سے کیا قدم اٹھایا گیا تھا؟” وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا۔

“سر! ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی لگائی تھی۔” ایک ماتحت نے جواب دیا۔

“اس سے پہلے کون سی پابندی لگائی تھی؟” اگلا سوال ہوا۔

تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی۔ کہیں سے کوئی جواب نہیں اٹھا تو پھر سوال ہوا: “اب کیا کرنا ہے؟؟؟”

کمرے میں کھسر پھسر سنائی دی۔۔۔ کچھ وقت بعد کہیں سے منمناتی ہوئی آواز آئی: “ڈبل سواری۔۔۔”

“لیکن اس کا فائدہ؟” ایک ماتحت نے سوال پوچھا۔

“فائدہ یہ کہ لوگوں کو پتا چلے گا کہ حکومت اپنی طرف سے اقدامات مکمل کرکے بیٹھی ہے۔” یہ آواز کسی دوسرے چمچے کی تھی۔

وزیرِ داخلہ صاحب نے پُرسکون انداز میں تمام افراد پر نظر ڈالی اور حکم صادر ہوا:
“صوبے بھر میں ڈبل سواری پر پابندی عائد کردو۔ فورا”

اجلاس برخواست ہوگیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خبر: کراچی میں عید الاضحٰی سے پہلے ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ پہلے اس میں تین دن کی، پھر پندرہ دن کی اور اب 10 محرم تک کی توسیع کردی گئی ہے۔

آس پاس

ذمہ دار کون؟ پاکستان!!!

یہ “ویسا” والا ذمہ دار نہیں ہے جسے کہیں کہ “پاکستان بہت ذمہ دار ملک ہے۔” بلکہ یہ “ایسا” والا ذمہ دار ہے جسے کہتے ہیں کہ “پاکستان ہر مصیبت کا ذمہ دار ملک ہے۔” بھئی، ہندوستانی لوک سبھا پر حملہ ہوا، ذمہ دار کون؟ پاکستان! سمجھوتہ ایکسپریس کا حادثہ ہوا۔ ذمہ دار کون؟ پاکستان!! ممبئی حملے ہوئے، ذمہ دار کون؟ پاکستان!!!

خیر، ہندوستان میں جو کچھ ہوتا رہا اور جو کچھ ہوتا رہے گا، امید قوی ہے کہ اس کا ذمہ دار پاکستان ہی کو ٹھہرایا جاتا رہے گا۔ لیکن اندر کی خبریں ہیں کہ عراق میں عراقی صحافی منتظر الزیدی نے عراقی وزیر اعظم نور المالکی کے ساتھ پریس کانفرنس میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو جوتے مارے، ذمہ دار کون؟؟؟ پاکستان۔۔۔ پاکستان۔۔۔ پاکستان!!! کیوں بھلا؟؟

جوتے سیالکوٹ کے بنے ہوئے تھے :P

آس پاس