تیرے عشق میں
We Are Marshall۔ اردو سب۔ٹائٹلز
فلم: We are Marshall (ہم ہیں مارشل)
ڈائریکٹر: McG
دورانیہ: 131 منٹ
IMDB ریٹنگ: 7.1/10
کہانی:
فلم کی بنیاد حقیقی واقعات پر ہے۔ یہ کہانی ہے مارشل یونیورسٹی کی جب اس کی فٹ بال ٹیم کے ہوائی جہاز کو حادثہ پیش آجاتا ہے اور ساری ٹیم مع کوچنگ عملے و دیگر معزز شہری باشندوں کے جل کر راکھ ہوجاتی ہے سوائے دو کھلاڑیوں نیٹ رافن اور ٹام کے جو جہاز پر سوار ہونے سے رہ جاتے ہیں اور کوچ ریڈ ڈاؤسن جو جہاز کے بجائے بہ ذریعہ کار آرہے ہوتے ہیں۔ اس افسوس ناک واقعے میں مارشل یونیورسٹی کے سربراہ کا بیٹا بھی دارِ فانی سے کوچ کرجاتا ہے۔ مکمل ٹیم اور عملہ کھونے کے باعث مارشل یونیورسٹی فیصلہ کرتی ہے کہ فٹ بال پروگرام ختم کردیا جائے لیکن بچ جانے والا کھلاڑی نیٹ رافن اس فیصلے سے اختلاف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ گزرجانے والوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم فٹ بال پروگرام کام یابی کے ساتھ جاری رکھیں۔ وہ یونیورسٹی کے پریزیڈنٹ ڈاکٹر ڈیڈمن کو اس بات پر راضی کرلیتا ہے۔ ڈاکٹر ڈیڈمن کوچنگ کے لیے ریڈڈاؤسن سے بات کرتے ہیں لیکن وہ صدمے کے باعث انکار کردیتا ہے۔ باقی جتنے کوچز سے رابطہ کیا جاتا ہے، وہ بھی تیار نہیں ہوتے۔ تب ایک نوجوان جیک لینگل آتا ہے اور صورتِ حال بدلنے کی تھام لیتا ہے۔ ڈاکٹر ڈیڈمن اس کے ہمت بندھانے پر بہت سے اہم قدم اُٹھاتےہیں جس کی صورت میں آخرکار یونیورسٹی کے سربراہ مسٹر گریفن، ڈاکٹر ڈیڈمن کو فارغ کردیتے ہیں۔ لیکن جیک لینگل، ڈاکٹر ڈیڈمن، ریڈڈاؤسن اور نیٹ رافن کا بلند حوصلہ اور پختہ عزم اُنہیں بالآخر اپنے مقصد میں کام یاب کردیتا ہے۔ فلم میں تفریح بھی ہے، جذبات بھی اور حقیقت سے قریب بھی۔
کام کے بارے میں:
جیساکہ پہلے لکھا تھا، نئے سال کے آغاز پر کچھ کام پیش کرنے کا ارادہ تھا، اسی سلسلے کی ایک کڑی پیشِ خدمت ہے اور میری زنبیل میں اس وقت بس یہ آخری چیز ہی بچی تھی۔ اس فلم کا دورانیہ دو گھنٹے سے کچھ زائد ہے اس لیے اس کے اردو سب ٹائٹلز تیار کرنے میں وقت بھی خاصا لگا۔ کچھ نیند قربان کی، کچھ پسندیدہ ٹی وی پروگرامز سے نظریں چرائیں، بالآخر کام مکمل ہو ہی گیا۔
اس میں سب سے زیادہ مشکل کھیل کی اصطلاحات کو بیان کرنا تھا۔ پہلے تو میں نے کوشش کی تھی کہ اردو میں ڈھال لوں اور پورا کام اسی طرح کیا لیکن جب دیکھا تو وہ مناسب نہیں لگ رہا تھا لہٰذا کھیل کی اصطلاحات زیادہ تر انگریزی ہی میں رہنے دیں کہ اسی طرح بہتر لگتی ہیں۔
آپ لطف اندوز ہوں۔
12 بجے (دوسری اور آخری قسط)
آٹھ سے نو بجے۔۔۔ اور نو سے دس بج گئے۔ مجال ہے جو کسی آنے جانے والے نے شادی ہال کا رُخ کیا ہو۔ اُن کی نظریں اپنے سامنے سے گزرنے والے ہر شخص کا تعاقب کرتیں کہ شاید وہ شادی ہال میں داخل ہو اور وہ امید بھری نگاہیں تب تک تعاقب میں رہتیں جب تک وہ شخص نگاہوں سے اوجھل نہ ہوجاتا۔ کوئی ساڑھے دس بجے کا وقت ہوگا کہ انہیں ان کا ایک شناسا ارشاد احمد شادی ہال کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ دوڑے دوڑے گئے اور اُس کے چہرے کے بوسے لینے لگے۔ وہ بے چارا اِس اچانک افتاد سے بوکھلا گیا۔
”چھوڑو مجھے۔۔۔ میں اِس طرح کا نہیں ہوں بھئی۔ چھوڑو!“ ارشاد بے بسی سے چلایا۔
”میرے بچے۔۔۔ میرے لال۔۔۔ میرے بابو! کہاں رہ گیا تھا تُو؟“ فخرو نے مامتا بھری شفقت سے پوچھا جیسے ماں اپنے لڑکے کے رات گئے آنے پر سوال کرتی ہے۔
”اوئے۔۔۔ یہ تم ہو فخرو!“ ارشاد نے جب اُن کی جبری قید سے نجات پائی تو دیکھا کہ اُس کے ساتھ ”زبردستی“ کی کوشش کرنے والا کوئی اور نہیں، دولہا میاں تھے۔ جی میں تو اُس کے یہ آیا کہ ایک دو کرارے دار تھپڑا رسید کرڈالے، آنے کو تو منہ میں بھی اعلا درجے کی مغلظات آئیں لیکن موقع محل کا لحاظ کیا۔ فخرو نے اُسے پکڑا اور وہاں لے گئے جہاں گذشتہ تین گھنٹے سے انتظار کی مجسم تصویر بنے بیٹھے تھے۔ اب جو فٹ پاتھ پر بیٹھنے لگے تو ارشاد چلایا:
”ابے یہاں بیٹھ کر کیا کرے گا پاگل؟“
”کتے کی دُم سیدھی کروں گا۔“ فخرو کا دماغ گھوم گیا تھا۔
فخرو کے ہاتھ جو آجائے، وہ بھلا بچ کیسے سکتا تھا۔ کوئی آدھ/ پون گھنٹے تک ارشاد سر جھکائے وقت کی پابندی پر فخرو میاں کا لیکچر سنتا رہا اور جواب میں فرماں بردار شاگرد کی طرح سر ہلاتا رہا کہ اُس کی خیریت و عافیت بہ ہر حال اِسی میں تھی۔ یہاں تک کہ وہ وقت آن پہنچا جب فخرو میاں کو شادی ہال میں لایا گیا۔
یہ دیکھیں۔۔۔ فخرو میاں باراتیوں کے ہمراہ اسٹیج کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ارے!! یہ شور کیسا؟ اوہ خدایا! فخرو میاں نے اپنا سہرا اُتار کر ارشاد کے منہ پر کھینچ مارا۔ دروغ بر گردنِ راوی، مگر سنتے ہیں کہ کسی ناہنجار، نامعقول نے فخرو میاں کو شادی ہال میں داخل ہوتے ہی سہرا پہنادیا۔ سہرا کیا پہنایا، فخرو میاں تو ہوگئے اندھے۔ چہرے کو پھولوں نے یوں ڈھک لیا گویا داغ زدہ چاند کو بادلوں نے چھپالیا ہو۔ اب فخرو میاں اسٹیج کی طرف یوں چل رہے تھے جیسے کسی گائے کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اُسے قربان گاہ کی طرف لے جایا جائے۔ ایک طرف تو فخرو میاں کو یہ الجھن کہ وقت گزرتا جاتا ہے، دوسری طرف مووی بنانے والا کہ اُن کے ہر قدم کو دس سیکنڈز تک محفوظ کرنا چاہتا تھا۔ فخرو میاں نے بارہا کوشش کی کہ یہاں سے چھپ چھپاکر آگے بھاگ سکیں لیکن ارشاد نے اُن کی ہر کوشش ناکام بنادی۔ بھلا یہ بے چارے بھولے بھالے معصوم سے فخرو میاں اِس ”جبری تشدد“ کے کہاں عادی تھے؟ جونہی صبر کا پیمانا لبریز ہوا، اچانک سہرا اُتار کر ارشاد کے منہ پر دے مارا۔
”لے مردود! تجھی کو مبارک ہو یہ سہرا۔۔۔ ہم ایسے ہی بھلے۔“ اچھا خاصا تماشا کھڑا ہوگیا۔ ارشاد نے کانوں کو ہاتھ لگائے کہ مجال ہے جو آئندہ فخرو میاں کے ساتھ کہیں جاؤں۔
بارہ بجنے کی دیر تھی۔ اِدھر فخرو میاں کی گھڑی نے ”دھوم مچالے، دھوم مچالے دھوم“ کی دُھن کے ساتھ بارہ بجنے کا اعلان کیا، اُدھر اُن کے دماغ کی پھرکی ایسی گھومی اور وہ اُدھم مچاکہ کیا سرداروں کے بارہ بجتے ہوں گے۔ کبھی مووی والے کو گھور کر بڑبڑاتے، کبھی اسٹیج پر بیٹھے بیٹھے قاضی صاحب کو آوازیں مارتے۔ حد تو یہ ہے کہ کئی بار ویٹرز کو کھانا کھول دینے کا سختی سے حکم صادر فرمادیا۔ بے چارے اُن کے احباب ہر ایک کو سمجھاتے پھرتے کہ فخرو کی بات کو ہرگز سنجیدہ نہ لیا جائے۔ بل کہ کچھ احباب تو دبے الفاظ میں کہتے پھرتے کہ خود فخرو کو بھی سنجیدہ نہ لیں۔
غرض اِس شادی خانہ آبادی میں بہت سے لوگوں کی خانہ بربادی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ مووی اور عجیب و غریب قسم کی رسموں سے فارغ ہوکر بے چارے فخرو جب گھر پہنچے تو رات بیت چکی تھی۔ صبح کے ساڑھے چار بج رہے تھے۔ دل میں ہزاروں خواہشیں لیے کمرے میں داخل ہوئے، ہولے سے دروازہ بند کیا اور دبے پاؤں اپنی نئی نویلی دُلہن کی طرف بڑھے لیکن دو قدم بڑھاکر ہی ٹھہرگئے۔
”لعنت ہے۔۔۔!!“ فخرو میاں نے اشکوں بھری آنکھوں کے ساتھ اُداسی سے کہا۔
اُن کی دُلہن گہری نیند میں جاچکی تھی۔ فخرو میاں ایک کونے میں منہ بسورے ساری رات ٹسوے بہاتے رہے۔۔۔ بہاتے رہے۔۔۔ بہاتے رہے۔۔۔ یہاں تک کہ سورج کی کرنیں کمرے کی کھڑکی سے اندر جھانکنے لگیں۔
اگلے دن صبح کے تقریباً سب ہی اخبارات میں ایک خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی:
صوبے بھر میں شادی ہالز کی تقریبات رات 12 بجے ختم کرنے کا حکم
حکومت نے دفعہ 144 کے تحت ایک حکم جاری کیا ہے جس کے تحت میرج گارڈنز، ہال اور ہوٹلوں میں ہونے والی تقریبات رات 12 بجے تک ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ حکم کی خلاف ورزی پر میرج گارڈنز، ہال اور ہوٹل مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے گی۔
12 بجے (پہلی قسط)
(میں نے کوشش تو کی تھی ایک پُرمزاح کہانی لکھنے کی۔ لکھا کیا ہے، اس کا فیصلہ قارئین پر۔)
”ارے بانگڑو! لعنت ہے بھئی، ہماری شیروانی کہاں رکھی تُو نے؟“ فخرو چلائے۔ ”اوئے بانگڑو! ابے زندہ ہے کہ مرگیا کم بخت؟“
بانگڑو مرا تو نہیں تھا لیکن گھر میں وہ شور مچا تھا کہ خدا کی پناہ۔ ایسے میں بھلا بانگڑو تک فخرو میاں کی آواز کیسے پہنچتی۔ اور خاموشی ہوتی بھی تو کیوں کر؟ اجی آج تو فخرو میاں کی شادی خانہ آبادی تھی۔ محلے بھر میں جو بھی فخرو میاں کی خبر آگے پہنچاتا تو ساتھ یہ ضرور کہتا کہ لو جی! آخرکار فخرو بھی شادی شہدا میں نام لکھوانے پر تل گئے۔
فخرو کی عمر زیادہ نہیں تھی، بس یہی کوئی 34، 35 سال صرف۔ اب آپ بتائیں، یہ بھی کوئی عمر ہوتی ہے؟ ننھا سا انسان۔ یہ تو کھیل کود کے دن ہوتے ہیں نہ کہ شادی کرکے ذمہ داری اٹھانے کی عمر۔ کچھ عرصے پہلے تک یہ ارشادات تھے فخرو میاں کے لیکن سر سے اُڑتے بالوں اور دوست احباب کی جانب سے سنجیدہ نوعیت کے خدشات کے اظہار نے انہیں کچھ ایسا حواس باختہ کیا کہ وہ چھ مہینوں ہی میں شادی کی تیاریاں مکمل کر بیٹھے۔ کہاں تو انہیں شادی کے نام سے بجلی کا جھٹکا لگتا تھا اور اب کہاں وہ بے تابی کہ شام پانچ بجے سے تیار ہونے کی کوششِ پیہم جاری رکھے ہوئے تھے۔
”لعنت ہے! یہ بانگڑو بھی احمق نہ جانے کہاں جاکر دفعان ہوگیا ہے۔“ ہر جملے میں ”لعنت ہے“ کا موتی ٹانکنا فخرو میاں کی عادت بن گئی تھی۔ اس کے بغیر تو گویا اُن کا جملہ مکمل نہ ہوتا تھا۔ آپ ہی آپ بڑبڑاتے ہوئے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جھانکتے پھرتے رہے۔ آپ بھی سوچیں گے کہ بانگڑو بے چارا کون تھا؟ سچ کہیں تو فخرو میاں کی نظروں میں تو کچھ دن پہلے تک دو ٹکے کا نوکر تھا۔ لیکن آج کے دن اس کی اہمیت میں چار چاند لگنے کے ساتھ ساتھ پانچ/چھ ستارے بھی لگ گئے تھے۔ ایک ایک کمرے کی تلاشی لیتے ہوئے انہیں بانگڑو تو نظر نہ آیا، ایک جگہ اپنی شیروانی ٹنگی نظر آگئی۔ اُتار کر سینے سے ایسے لگایا جیسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ کپڑے اُٹھائے اور غسل خانے کا رُخ کیا۔ چند ہی ثانیوں بعد اندر سے صدا بلند ہوئی:
”بانگڑو۔۔۔ ابے او بانگڑو۔۔۔!“ بے چارے بانگڑو کی بدقسمتی کہیے یا فخرو میاں کی خوش قسمتی، بانگڑو قریب ہی سے گزر رہا تھا۔ جواب دے کر پھنس گیا۔
”ابے گدھے! پانی کہاں ہے؟“ فخرو اندر سے دھاڑے۔
”کہاں ہے صاحب؟“ بانگڑو نے سوال پر سوال جڑدیا۔
”لعنت ہے!“ حسبِ معمول تکیہ کلام سے جملے کا آغاز ہوا۔ ”نالائق! نلکے میں نہیں آرہا پانی۔ جاکر موٹر چلا۔“
جب تک نلکے میں پانی آنا شروع نہ ہوا، وہ اندر کھڑے (یا بیٹھے؟؟) گنگناتے رہے۔ باتھ روم singing کو وہ عظیم الشان کنسرٹ سمجھ کر شاید مزید گیتوں پر مشقِ سخن کرتے لیکن مجمع خاصا تھا اور غسل خانہ اکلوتا۔ جب دو تین لوگوں نے غسل خانے کے دروازے پر کھٹکا کیا تو انہیں خیال آیا کہ وہ کس مقام پر ہیں اور اس مقام کا کیا تقاضا ہے لہٰذا جلد از جلد (جیسے تیسے) تمام تقاضے پورے کیے اور نیا جوڑا زیب تن کیا۔ غسل خانے سے باہر نکلے تو فضا میں دبے دبے سے قہقہے سنائی پڑتے تھے لیکن وہ خوشی خوشی اُنہیں قطعی نظرانداز کرکے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
”لاحول ولاقوة! یہ کون واہیات سا آدمی ہے؟“ فخرو بھونچکا رہ گئے۔ قدِّ آدم آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر انہیں اپنا آپ بھی اجنبی گمان ہونے لگا۔ ہر طرح کی بے ہودہ حرکت کرنے کے بعد جب انہیں یقین آگیا کہ آئینے میں نظر آنے والا واہیات آدمی کوئی اور نہیں بل کہ اُن ہی کی دل فریب شخصیت (بہ زعمِ خود) ہے تو خوشی سے پھولے نہ سمائے۔
”ماشاء اللہ فخرو! آج تو تم نکھر گئے ہو۔“ انہوں نے زیرِ لب مسکراتے اور شرماتے ہوئے اپنا کاندھا تھپتھپایا۔
”ہائیں۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔۔؟“ اچانک اُن کی نظر اپنے سر پر پڑی اور پھر پڑی ہی رہ گئی جہاں بالوں کے درمیان اُن کی چمک دار ٹنڈ چپکے چپکے جھانک رہی تھی۔
”لعنت ہے۔۔۔“ تکیہ کلام کا گولا فائر ہوا۔
”ہائے ہائے ہائے ہائے۔۔۔۔“ فخرو میاں نے سینہ پیٹ لیا۔ کمرے میں ذرا سی دوڑ لگائی، بستر پر چڑھ کر اُچھل کود کی، فرش پر لیٹ کر لوٹیں ماریں، تب جاکر اُن کے ذہن میں ایک خیال آیا جس کے تصور سے اُن کا چہرہ تمتما اُٹھا۔
کمرے سے باہر نکل کر پہلا شخص جو اُن کے ہتھے چڑھا، واہ رے قسمت کہ بانگڑو تھا۔ فخرو کی حالت دیکھ کر اُس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ کھلا تو اُس کا منہ بھی تھا لیکن اِس سے پہلے کہ اُس کی گز بھر زبان باہر نکلتی، فخرو نے دھماکا کردیا:
”ٹوپی دے۔“ اُنہوں نے مختصر الفاظ میں حکم صادر کیا۔
”نہیں صاحب میں ٹوپی نہیں دیتا۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میں درزی سے شیروانی اِس حالت میں نہیں لایا تھا۔“ بانگڑو بات کو سمجھنے کے بجائے دوسری الجھن میں پڑگیا۔
”شیروانی کو آگ میں جھونک۔ ٹوپی بتا۔“ فخرو کو خوف کھائے جارہا تھا کہ شادی کی تقریب تک اُن کی ٹنڈ مزید سر نہ نکال لے۔
”ہوا کیا ہے صاحب؟ کس سے بچنے کے لیے ٹوپی بتاؤں؟“ بانگڑو بھی بوکھلا گیا۔
”اُلو کے۔۔۔۔ ٹنڈ چھپانے کے لیے ٹوپی پہننی ہے۔“ فخرو نے ہاتھ سے سر کی طرف اشارہ کیا تو اصل بات بانگڑو کے پلے پڑی۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے فخرو کو اپنی ٹنڈ کا ذکر کرنا بڑا معیوب گزرا۔ بہ ہر حال، وہ تو اُن کا اپنا ہی بندہ تھا۔ ٹوپی پہننے کے بعد جو وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے تو بڑا اطمینان محسوس کیا لیکن ابھی سکون کے دو سانس بھی نہ لیے تھے کہ نظر شیروانی پر پڑگئی جو فرش پر لوٹ پوٹ ہونے کے سبب اُن کا منہ چڑا رہی تھی۔
”لعنت ہے۔۔۔“ فخرو کے جی میں آیا کہ شیروانی پھاڑ کر پرے کردیں لیکن اپنی دیوانگی پر مصلحتاً قابو پایا اور اُسے ٹھیک کرنے کے جتن میں لگ گئے۔
شام کے سات بجے تھے جب فخرو مکمل طور پر تیار ہوکر کمرے سے باہر جلوہ افروز ہوئے۔ جس نے بھی دیکھا، اپنا سر پیٹ لیا۔ لاکھ سمجھایا کہ بھلا اتنی جلدی تیار ہونے کی کیا ضرورت؟لیکن فخرو میاں تو فخرو میاں ٹھہرے۔ اب موصوف کے دماغ میں جو بات ایک بار گھس جائے، وہ اندر کی بھول بھلیوں میں ایسی گم ہوتی ہے کہ اُسے واپسی کا راستہ کم ہی ملتا ہے۔ کچھ بھی کہہ کر دیکھ لیجیے، وہی ضد کہ احباب کو وقت کی پابندی کا کہا ہے۔ آٹھ بجے ہی شادی ہال پہنچ گئے۔ ہاں، اِتنا ضرور خیال کیا کہ شادی کے دن پہلے لڑکی والے جاتے ہیں، پھر لڑکے والوں کی بارات پہنچتی ہے۔ شادی ہال سے قدرے فاصلے پر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور ہر آنے جانے والے کی کڑی نگرانی کا من بھاتا فریضہ سرانجام دینے لگے۔
(جاری ہے۔۔۔)
ورڈپریس ڈیفالٹ تھیم۔ اردو ورژن
نئے سال کے موقع پر میں نے ارادہ کیا تھا کہ چند ایک کام پیش کروں گا۔ پچھلی تحریر میں ایک کتاب ’’سائنس دان کا اغوا‘‘ مطالعے کے لیے آن۔لائن رکھ چکا۔ اب پیش ہے ورڈپریس کی ڈیفالٹ تھیم (Kubrik۔ورژن 1.5) کا اردو ورژن۔
بقیہ تحریر پڑھیں »

