کیا جانو!
تم درد ہمارا کیا سمجھو، تم حال ہمارا کیا جانو
ہم زندہ کس امید پہ تھے، کس خوف نے مارا کیا جانو
تم کہتے تھے کہ قدر نہیں عمار کو رتی بھر کی بھی
تم تھے اس کی دنیا کا سورج، چاند، ستارا، کیا جانو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانا ہے تمہیں، تم جاؤ مگر دو بول تو ہنس کر بولو تم
چپ توڑ بھی دو، اب بہت ہوا، ہے تم کو قسم، لب کھولو تم
عمار میں خامی لاکھ، مگر ہے تم سے لگاؤ سچ مچ کا
ہر ایک برائی ایک طرف، اس سچ کو تو لیکن تولو تم
زندہ ہونے کی رسید کے طور پر۔
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی میں ہر طرف ایک ہی موضوع زیرِ بحث تھا، طوفان آرہا ہے۔ جسے دیکھو، وہ بارش اور طوفان کا انتظار کررہا ہے۔ شدید گرمی کے بعد برسات کی اُمید نے لوگوں کو خوش کردیا تھا۔ میڈیا نے بھی ایک شور مچائے رکھا تھا کہ طوفان اتنے کلومیٹر دور رہ گیا ہے، اتنی رفتار سے آرہا ہے، بس اب آیا کہ تب آیا۔۔۔ جمعرات سے جمعہ اور جمعہ سے سنیچر آگیا لیکن طوفان آکر نہ دیا۔ سنیچر کو صبح بتایا جارہا تھا کہ شام تک ٹکرائے گا لیکن شام بھی گزر گئی۔ طوفان تو دور، بارش کا قطرہ تک نہ ٹپکا۔ طوفان کی پیشین گوئی کو اتوار تک کردیا گیا۔ سنیچر کو رات میں اللہ اللہ کرکے بارش ہوہی گئی۔ بارہ بجے کے بعد بارش نے خاصا زور بھی پکڑا۔ اتوار کو دن گیارہ بجے جو ہمارے ہاں بجلی گئی تو شام پانچ بجے کے قریب آئی۔ وہ بھی شکر ہے کہ آگئی ورنہ کچھ علاقوں میں تو چوبیس گھنٹوں سے زائد ہوا، بجلی نے اپنی صورت نہ دکھائی۔
اتوار کو کہا جانے لگا کہ طوفان شام میں ٹکرائے گا، شام ہوتے ہوتے رات ہوگئی اور پھر خبر آئی کہ طوفان کراچی کے ساحل سے ٹکرائے بغیر ہی گزر گیا۔
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اِک قطرۂ خوں نہ نکلا
یہ مہمان کئی دن کا انتظار کرکے بِنا ملاقات کیے چل دیا لیکن احباب نے اس موقع پر مختلف قسم کے پیغامات اور شاعری سے بھرپور لطف اُٹھایا۔ ملاحظہ ہو:
رویہ
لندن کی ایک سڑک پر فائرنگ ہوئی، سب لوگ گھروں میں گھس گئے۔
اور کراچی میں طوفان کا خطرہ، ساری عوام ساحلِ سمندر پہنچ گئی۔
تم بجلی، پانی، ٹرین کو روتے ہو جگر
اس ملک میں تو طوفان بھی ٹائم پر نہیں آتا
یہ طوفان ایسے تو نہ آیا ہوگا
کسی نے تو اسے ستایا ہوگا
لگتا ہے کچھ ایسا ہوا ہوگا
کہ اپنا صدر سمندر میں نہایا ہوگا
بریکنگ نیوز
طوفان کلفٹن تین تلوار کے سگنل تک پہنچ چکا ہے۔ شکر کرو سگنل بند ہے ورنہ کچھ بھی ہوسکتا تھا۔
خوش خبری
سمندری طوفان نے اپنا راستہ بدل دیا ہے اور یہ سب زرداری صاحب کے جرأت مندانہ فیصلے سے ہوا ہے کیوں کہ انہوں نے طوفان کے آنے پر بھی ٹیکس لگادیا ہے۔
آج بھی بارش خوب ہوئی اور بادل ٹوٹ کے برسا تھا
گلیاں، کوچے جل تھل تھے، پر سوچ کا صحرا پیاسا تھا
بند دروازوں کے شیشوں پر بوندیں دستک دیتی تھیں
احساس ہوا، تم آئے ہو، انداز تمہارے جیسا تھا
اتوار کو شام میں آسمان پر قوس و قزح کا خوب صورت نظارہ بھی دکھائی دیا۔
پہلے بلاگ ایوارڈز کی جھلکیاں
پہلے پاکستان بلاگ ایوارڈز کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔ بہترین اردو بلاگ کے لیے ابوشامل کو نوازا گیا۔ بہت مبارک ہو۔ مجھے یہ تحریر رات ہی لکھ لینی چاہیے تھی لیکن نیند اور تھکن اس قدر تھی کہ ہمت نہ ہوئی اور پھر رات 12 بجتے ہی سال گرہ کی مبارک بادیں سمیٹنے میں مصروف ہوگیا۔
اگرچہ ایوارڈز کی تقریب سے دو روز پہلے ابوشامل اور شعیب صفدر کے ساتھ اس تقریب میں شرکت پر رضامندی ظاہر کردی تھی لیکن عین تقریب کے دن میرا ارادہ ڈانواں ڈول ہوگیا۔ ابوشامل کا بھی شاید میرے جیسا ہی حال تھا لیکن وکیل صاحب نے چھوڑا نہیں اور ہم دونوں کو دوپہر تین بجے تک تیار کرلیا کہ شرکت ضرور کرنی ہے۔
تقریب کی مختصراً جھلکیاں:
ساڑھے چھ بجے تک میں اور ابوشامل ریجنٹ پلازہ پہنچ گئے تھے۔
تقریب کی نظامت کے فرائض رابعہ غریب نے انجام دیے، ان کے حوصلے اور ہمت کی یقیناً داد دینی پڑے گی کہ اتنا وقت کھڑی رہیں اور اپنے گلے کا بھرپور استعمال کیا۔
عمار یاسر سے ملاقات اچھی رہی۔ اردو کے حوالے سے کام کرنے کے لیے اس بندے نے خاصے مثبت انداز کا مظاہرہ کیا اور رابطے میں رہنے کا کہا۔
ابوشامل کو جب ایوارڈ کے لیے بلایا گیا تو تقریب کو وقت پر ختم کرنے کی بھرپور کوشش میں جلدی جلدی ایوارڈز نمٹائے جارہے تھے لہٰذا جب تک ابوشامل اسٹیج تک پہنچے، رابعہ صاحبہ نے سمجھا کہ شاید ابوشامل تقریب میں موجود نہیں اس لیے اگلے ایوارڈ کا اعلان کردیا گیا اور جب ابوشامل اسٹیج پر پہنچے تو ان کو اگلا ایوارڈ (E-Zine) تھمادیا گیا۔ بعد میں، میں نے ان کی توجہ دلائی تو ہم نے نیچے سے تبدیل کروایا۔
![]()
ابوشامل کے ایوارڈ پر ان کا نام Abu Shumail لکھا دیکھ کر غصہ آیا۔
حالانکہ بلاگ کا ربط صحیح لکھا تھا۔
![]()
پوری تقریب میں شاید ہم تین (میں، ابوشامل، شعیب صفدر) ہی اردو بلاگرز تھے۔
![]()
تقریب کی گفتگو کا بڑا حصہ بلاگنگ کے متعلق نہیں تھا جس نے مایوس کیا۔
تقریب کےدرمیان ایک بار چائے سے، دوسری بار ریڈ بُل سے مہمان نوازی کی گئی جب کہ آخر میں ریجنٹ پلازہ کا اعلا قسم کا کھانا دیا گیا۔
جارج فلٹن بہت ملنساری سے ملے۔ یہ جان کر کہ ہم اردو بلاگرز ہیں، خوش ہوئے۔ ان کے اس بلاگ کا ذکر بھی ہوا کہ یہ بہت پسند کیا گیا۔ بوشامل سے بلاگ کا ربط لینے کے بعد پوچھنے لگے، آپ کا بلاگ رومن میں ہے یا مکمل اردو اسکرپٹ؟ جس پر ابوشامل نے کہا کہ مکمل اردو رسم الخط میں، جو کہ شاید آپ کے کام کا نہیں ہو۔ اس پر جارج ہنس پڑے۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ سب سے بہترین اردو ٹرانسلیٹر کون سا ہے؟ افسوس کہ کوئی نہیں ہے تاہم ہم نے انہیں بتایا کہ گوگل اس سلسلے میں کام کررہا ہے۔
![]()
تقریب کے شرکا کو مختلف تحائف بھی ملے۔ ڈان نیوز کی طرف سے ایک مگ، Dell کی طرف سے ٹی شرٹ، نصیب ڈاٹ کام کی طرف سے بھی مگ، بلاگ ایوارڈز ڈاٹ پی کے کی طرف سے key chain اور ایک اجرک ملی۔
![]()
ریجنٹ پلازہ سے نکلتے نکلتے گیارہ بج گئے۔
اور سب سے آخری جھلکی، میں نے پوری تقریب میں ایک بندے کو بہت miss کیا۔
Have an ICE day
جس شدت کی گرمی ان دنوں شہرِ کراچی سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں پڑرہی ہے، اس نے اچھے اچھوں کا حال خراب کررکھا ہے۔ اس پر مستزاد بجلی کا غائب رہنا۔ عام طور سے کراچی میں ایک ایک گھنٹے کے لیے تین مرتبہ بجلی جاتی ہے لیکن کچھ علاقوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کے لیے تین سے چار مرتبہ بجلی غائب رہتی ہے جن میں سے ایک ہمارا علاقہ بھی ہے۔
ٹی20 ورلڈکپ میں پاکستان کے میچز کے دوران K.E.S.C نے اپنا وعدہ نبھاتے ہوئے بجلی بند نہیں کی لیکن کل پاکستان کی سیمی فائنل میں شکست کے بعد ہم سے ایسا بدلہ لیا گیا جیسے شکست کے سب سے بڑے قصوروار ہم لوگ ہیں۔
پہلے رات چار بجے کے قریب بجلی بند کردی تو ڈیڑھ گھنٹے کے قریب بند رہی اور ہمارا محنت کا پسینہ بستر اور تکیہ بھگوتا رہا۔ اس کے بعد صبح آٹھ بجے کے قریب بند کی تو پونے دس بجے عطا کی۔
آج صبح جو ایک نے مجھے ٹیکسٹ کیا: ’’Have a nice day‘‘ تو جواباً اسی میں معمولی سی تبدیلی کے بعد میں نے لکھا: ’’Have an ICE day‘‘۔
قصہ نصاب کے تین حصوں، سمسٹر کے تین مہینوں اور آخر کے تین دنوں کا
پورا سمسٹر نصاب کے ایک حصے پر زور صرف کرنے کے بعد جب استانی صاحبہ کو علم ہوا کہ امتحانات سر پر آپہنچے ہیں اور ان کے پاس لیکچر (دوسرے الفاظ میں املا کرانے) کے لیے کچھ ہی دن باقی رہے ہیں تو انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اب جلد ہی نصاب مکمل کروادیں گی۔ یوں جہاں تین مہینے میں نصاب کے تین حصوں میں سے صرف ایک حصہ پڑھایا گیا تھا، وہاں اگلے تین دنوں میں باقی کے دو حصے پڑھانے کی کوشش کا آغاز ہوا۔
ویسے تو موصوفہ نے کبھی وقت پر آنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی۔ ان کی کلاس کا وقت جب کہ صبح 9 بج کر 25 منٹ پر شروع ہوتا لیکن مجال ہے جو وہ پونے دس سے پہلے کبھی تشریف لائی ہوں۔ بفرضِ محال اگر کبھی وہ ذرا پہلے ڈپارٹمنٹ پہنچ بھی جاتیں، تب بھی اپنے دفتر میں اتنا وقت لگانا لازمی تصور کرتیں کہ پونے دس ہوجائیں۔ البتہ کلاس کا وقت ختم ہونے کے بعد تب تک پڑھانا ختم نہ کرتیں جب تک اگلے استاد کو کلاس سے باہر پانچ منٹ انتظار میں کھڑا نہ رکھیں۔ اگلا استاد چونکہ جونیئر ہے اس لیے یقین قوی ہے کہ وہ اُن کی شکایت نہیں کرے گا۔ بہرحال، اب جو طے پایا کہ اگلے تین دنوں میں نصاب کے دو حصے مکمل کیے جائیں تو انہوں نے (شاید مروت میں) طلبہ سے پوچھ لیا کہ کیا صبح اُن کی کلاس سے پہلے کسی کی کلاس ہوتی ہے؟ جواب انکار میں تھا۔ لہٰذا انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ سب صبح نو بجے پہنچ جائیں، وہ بھی جلدی آنے کی ’’کوشش‘‘ کریں گی۔
پیر، منگل، بدھ۔۔۔ یہ تین دن اُن کے پاس باقی تھے۔ پیر کے دن تقریباً تمام طلبہ صبح نو بجے کمرۂ جماعت میں موجود لیکن محترمہ کا نام و نشان نہیں۔ تشریف لائیں تو وہی پونے دس بجے کے بھی بعد۔
حاضری لی۔۔۔ پڑھانا شروع کیا تو ارشاد ہوا، چونکہ وقت کم ہے اس لیے جلدی جلدی ’’بولتی‘‘ جاؤں گی، آپ لوگ اپنے الفاظ میں نوٹ کرتے رہیں۔ ہمیں کیا مجال جو انکار کریں۔ حکم کی تعمیل میں سرِ تسلیم خم کیا۔ انہوں نے جو سمجھایا، وہ ہماری سمجھ میں آنا تو دور، یقینِ کامل ہے کہ خود اُن کی سمجھ میں بھی نہ آیا ہوگا۔
مختلف کتابوں سے دیکھ کر ’’ریڈنگ‘‘ کرتی رہیں اور طلبہ اپنی استطاعت اور بساط کے مطابق ان میں سے کچھ نکات اخذ کرکے لکھتے رہے۔ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا یہاں تک کہ اگلی کلاس کا وقت ہوگیا اور وقت کا پابند ’’جونیئر استاد‘‘ کلاس کے باہر آکھڑا ہوا۔ یہ دیکھ لینے کے باوجود وقت کی ’’کمی‘‘ کا خیال کرتے ہوئے استانی صاحبہ نے تدریسی عمل جاری رکھا اور پانچ منٹ بعد گویا بادل نخواستہ وہ کتب بند کیں جن سے ’’ریڈنگ‘‘ کرکے ہمیں ’’لیکچر‘‘ دیا جارہا تھا۔ پھر سوال ہوا، آپ لوگوں کی سمجھ میں آگیا نا سب کچھ؟ خاموشی چھائی رہی۔ پھر تکیہ کلام کا گولا فائر ہوا: ’’Clear?‘‘ خاموشی چھائی رہی۔ اقرار میں سر ہلانے کا جی نہیں چاہتا۔ انکار میں سر ہلے تو اس کے بعد جو ہوتا ہے اس سے بہتر ہے کہ سر قلم کروالیا جائے۔
کبھی جو کسی نے کہہ دیا کہ فلاں بات سمجھ نہیں آئی تو حکم ہوگا، کھڑے ہوجائیں پہلے آپ۔ بندہ جھجکتے ہوئے کھڑا ہو تو سوال ہوتا ہے، جی اب بتائیے، کیا سمجھ نہیں آیا آپ کو؟؟؟؟؟
اس سوال پر میرا جی کرتا ہے کہ میں قہقہہ ماردوں۔ خیر۔۔۔ ان کے ’’کلیئر‘‘ کو عموماً میں ہی جیسے تیسے سر ہلاکر ’’کلیئر‘‘ کرتا ہوں کہ سب سے آگے اور ان کے سب سے قریب بیٹھا ہوتا ہوں (فیوض و برکات کے حصول کے لیے)۔
اس کے بعد سوال ہوا، آپ لوگ آج کب آئے تھے؟ اس سوال پر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میری ’’بیستی‘‘ ہوئی ہو حالانکہ میں اس شعبے کا چیئرمین ہرگز نہیں۔ سب طلبہ نے کہا، نو بجے آگئے تھے۔ شاید موصوفہ کو یقین نہیں آیا یا پھر انہوں نے اپنی شرمندگی چھپانا چاہی، کہنے لگیں:
’’سب نو بجے آگئے تھے؟ سب؟؟؟‘‘
’’جی میڈم!‘‘ کئی آوازیں ابھریں۔
’’اچھا۔۔۔‘‘ (تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کی)۔ چلیں، آج تو مجھے ’’تھوڑی‘‘ دیر ہوگئی تھی، کل آپ لوگ نو بجے آجائیے گا تاکہ ہم یہ کورس مکمل کرلیں، دن کم بچے ہیں نا۔۔۔ انہوں نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا اور چل دیں۔
نادان بچوں کا کیا جائے، اگلے دن پھر نو بجے موجود۔ محترمہ وہی پونے دس بجے تشریف لائیں۔ پچھلے دن کی طرح ’’تیز رفتاری‘‘ سے پڑھایا بلکہ بھگایا اور اگلے استاد کے آنے تک یہ مشقت جاری رکھی۔ حسبِ عادت اسے پانچ منٹ انتظار کروانے کے بعد جب ’’ریڈنگ‘‘ کرنا بند کی تو سوال ہوا، آج آپ لوگ کتنے بجے آگئے تھے؟ گذشتہ روز کی طرح وہی جواب اور ویسا ہی ردِ عمل۔
سب نو بجے آگئے تھے؟ اچھا، کتنے لوگ نو بجے آئے تھے، ہاتھ کھڑا کریں۔ (شکر ہے صرف ہاتھ کھڑا کروانے پر اکتفا کروایا)۔ 
اچھا۔۔۔ سب آگئے تھے۔۔۔ ہمم۔۔۔ چلیں آج مجھے ’’ذرا سی‘‘ دیر ہوگئی تھی۔ کل آپ لوگ نو بجے آجائیے گا، میں بھی آجاؤں گی کیوں کہ کل ہمیں یہ ختم کرنا ہے نا۔۔۔!!
جو حکم۔۔۔ اگلے دن طلبہ نو بجے موجود۔ غضب کیا تِرے وعدے پہ اعتبار کیا۔ میں نوابوں کی طرح ساڑھے نو بجے پہنچا تو پتا چلا کہ اب تک نہیں آئی ہیں۔ ساڑھے نو بجے کے بعد تو وہ ڈپارٹمنٹ تشریف لائیں، اپنے دفتر میں ’’تیار‘‘ ہوئیں اور پھر اپنے ’’لیکچر‘‘ سے فیض یاب کرنے کے لیے موجود۔ اس دن تو گاڑی اتنی رفتار سے بھاگی کہ میں مشکل سے کچھ ہی جملے مکمل نوٹ کرسکا۔ اخیر میں یہ ہوا کہ چونکہ ہمارا نصاب مکمل نہیں ہوسکا ہے، اس لیے ہم ایک ’’ایکسٹرا کلاس‘‘ رکھیں گے۔
اس قصے کو اصولی طور پر یہاں ختم ہوجانا چاہیے کہ سمسٹر کے تین مہینوں کے بعد آخر کے تین دن کا ذکر بھی مکمل ہوچکا لیکن حسنِ اتفاق یا شومئی قسمت کہ نصاب کے تین حصے تو ابھی مکمل نہیں ہوئے نا
تو ایکسٹرا کلاس کا صرف ایک واقعہ۔
Laws of Reading پڑھاتے ہوئے ذکر آیا Law of Association کا کہ کسی چیز سے مشروط کرکے سکھایا جائے۔ میری ناقص سمجھ کے مطابق اس سے مراد یہ ہوگی کہ جب ہم طلبہ کو تعلیم دے رہے ہیں تو اس کو پڑھائی کی طرف راغب کرنے کے لیے پڑھائی کے ساتھ کسی ایسی چیز کو مشروط کردیا جائے جو اسے پڑھائی کی طرف رغبت دلائے۔ لیکن محترمہ نے جو ’’اعلیٰ‘‘ مثال دی وہ اس قانون سے مطابقت بھلے نہ رکھے، عملی زندگی میں اس کا بے حد تجربہ رہا۔ کہنے لگیں، Law of Association سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز سے مشروط کردیا جائے۔ مثلاً میں آپ سے کہوں کہ آپ لوگ صبح نو بجے آجائیں
تو آپ لوگ کتنے بجے آئیں گے؟ آپ لوگ نو بجے آجائیں گے نا کیوں کہ آپ کو پتا ہے کہ ٹیچر نے نو بجے بلایا ہے تو وہ بھی نو بجے آجائے گا۔ تو ٹیچر کے آنے سے آپ کا آنا مشروط ہوگیا
اب اگر ٹیچر نو بجے نہ آتا ہو تو آپ وقت پر آئیں گے؟ نہیں نا۔۔۔ تو اسے Law of Association کہتے ہیں۔

