ٹی20 ورلڈکپ 2010ء میں پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی

گذشتہ روز ٹی20 ورلڈ کپ 2010ء کے سپر ایٹ (Super 8) مرحلے کا آخری میچ کھیلنے کے لیے پاکستان کی کرکٹ ٹیم جب جنوبی افریقہ کے مقابلے پر میدان میں اُتری تو دعائیں صرف پاکستانی ٹیم کی فتح تک محدود نہیں تھیں بلکہ پاکستانی ٹیم کو اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے انگلیڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ کے میچ میں انگلینڈ کی فتح بھی درکار تھی۔ اس کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے تھے۔ پاکستان کی ٹیم تو آخرکار کامیاب ہوگئی۔ جب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا میچ شروع ہوا تو میرے بھائی کا کہنا تھا کہ شاید انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جوڑ توڑ سے کام لیتے ہوئے پاکستان کو ٹورنامنٹ سے باہر کردیں کیوں کہ آئی۔سی۔سی (International Cricket Council) میں انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا شمار ویسے بھی ایشیائی ممالک کے مخالفوں میں ہوتا ہے۔ مشہورِ زمانہ ڈیرل ہیئر کیس میں بھی پاکستان کے خلاف ووٹ دینے والے یہی ملک تھے۔

بہرحال! ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مجھے جتنی توقعات تھیں، کل وہ سب پوری ہوئیں۔ پاکستان نے بالآخر سیمی فائنل کے مرحلے تک رسائی حاصل کرلی۔ میرے نزدیک پاکستان نے جیت کے معاملے میں کفایت شعاری سے کام لیا ہے۔ اور ان شاء اللہ جب پاکستان یہ ورلڈ کپ جیت کر لائے گا تو اپنی نوعیت کی منفرد کامیابی ہوگی کہ اس ٹورنامنٹ میں چار مرحلے تھے اور ہم نے چار ہی کامیابیاں حاصل کیں۔ :)

ہلکا پھلکا

Platelets کا عطیہ اور ہم

مجھے ایک دوست نے کہا کہ اس کے ماموں کو کینسر ہے اور ان میں Platelets کی کمی ہے جس کی وجہ سے انہیں خون کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اگر کوئی جاننے والا ہو جو خون عطیہ کرسکے تو ضرور انتظام کروادو۔ میں نے کہا، اچھا۔ اصولاً تو مجھے پہلے اپنے خون کی پیش کش کرنی چاہیے تھی لیکن یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آکر میں خاموش ہوجاتا ہوں۔ جس انسان میں خود خون کی کمی ہو، وہ دوسروں کو کیا عطیہ کرے۔ :P دوست احباب تو دور، ڈاکٹرز تک دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ یار دیکھنے میں اچھے خاصے ہو، اس کے باوجود بھی۔۔۔

خیر، میں نے پہلے تو یہ جاننے کی کوشش کی کہ Platelets ہوتی کیا بلا ہے۔۔۔ مختلف جگہوں سے یہ سمجھ میں آیا کہ خون میں شامل ایسے خلیے ہوتے ہیں جن میں نیوکلیس نہیں ہوتا تاہم D.N.A پایا جاتا ہے۔ اب اس کی ضرورت کیا ہوتی ہے، اس کو ایک طرف رکھ کر یہ تلاش کیا کہ ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل کرنے کا عمل کیسے ہوتا ہے؟

یہاں سے پڑھنے میں یہ آیا کہ اگر آپ Platelets کا عطیہ دینا چاہتے ہیں تو کسی قریبی اچھے ہسپتال یا ریڈ کراس کے عملے سے رابطہ کریں، وقت طے کریں، مقررہ وقت پر پہنچ جائیں۔ وہاں آپ کو آرام دہ کرسی پر بٹھادیا جائے گا جہاں آپ ٹی وی دیکھ سکتے ہیں، موسیقی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں یا سو بھی سکتے ہیں۔ دونوں ہاتھوں میں needle لگائی جائے گی۔ ایک ہاتھ سے خون نکل کر مشین میں جائے گا جہاں Platelets الگ ہوجائیں گی اور بقیہ خون آپ کے دوسرے ہاتھ کی needle کے ذریعے واپس آپ کے جسم میں داخل ہوجائے گا۔ اس تمام عمل میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگیں گے۔ 48 گھنٹے میں یہ Platelets آپ کے جسم میں دوبارہ بن جائیں گی۔ اگر آپ باقاعدگی سے عطیہ کرنا چاہتے ہیں تو دو ہفتے میں ایک بار کرسکتے ہیں۔

یہ طریقہ جان کر میں نے سوچا کہ ایسا ہے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ خون تو مجھ میں واپس آ ہی جائے گا نا۔ :P لیکن جب بعد میں، میں نے یہاں رائج طریقہ کار معلوم کیا تو وہی مسئلہ آن کھڑا ہوا۔ یہاں شاید ایسی مشینیں نہیں۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ڈاکٹرز پہلے سے عطیہ شدہ خون میں سے Platelets علیحدہ کرکے مریض کے جسم میں داخل کردیتے ہیں اور جتنی بوتل خون استعمال میں آتی ہے، بدلے میں خون کی اتنی ہی بوتلیں طلب کی جاتی ہیں۔ :sad: یعنی ایہہ ساڈے وس دا روگ نئی اے۔

آس پاس

موبائل پر مفت خبریں

پاکستان میں جیو نیوز اور ایکسپریس نیوز نے موبائل پر نیوز الرٹس کی خدمات بھی دی ہوئی ہیں۔ اگر آپ جیو نیوز سے موبائل پر خبریں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو News لکھ کر 436 پر ایس ایم ایس کردینے سے پورا مہینے آپ کو اہم خبروں سے بذریعہ ایس ایم ایس آگاہ کیا جاتا رہے گا۔ اس کے ماہانہ چارجز 25 روپے علاوہ ٹیکس ہیں۔ ایکسپریس نیوز سے موبائل پر خبریں حاصل کرنے کے لیے NewsU لکھ کر 2470 پر بھیجیں تو 25 روپے علاوہ ٹیکس کے عوض آپ کو چھ مہینے تک موبائل پر تازہ ترین خبروں سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔

لیکن کیا آپ مفت میں اپنے موبائل پر تازہ ترین خبروں سے آگاہی چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو ایک ترکیب بتادیتا ہوں۔ میں فرض کررہا ہوں کہ آپ فیس بک کے صارف ہیں اور آپ نے فیس بک کو اپنے موبائل کے ساتھ منسلک کیا ہوا ہے اور فیس بک کی اپڈیٹس آپ کو موبائل پر ملتی رہتی ہیں۔ ٹیلی نار پاکستان یہ سہولت مفت فراہم کررہا ہے، باقی کمپنیز بھی شاید اس کا معاوضہ نہیں لیتیں۔آپ فیس بک پر ایکسپریس نیوز یا کسی اور نیوز ایجنسی کے صفحے کے مداح بن جائیں۔ وہ صفحہ آپ کے دوستوں کی فہرست میں ظاہر ہونے لگے گا۔ اسے آپ موبائل الرٹس کے لیے سبسکرائب کرلیں۔ یوں اس صفحے پر ہونے والی ہر اپڈیٹ آپ کو موبائل پر بھی مل جایا کرے گی۔

وضاحت: وہ صفحہ شامل نہ کریں جس پر یونی کوڈ اردو میں لکھا جاتا ہوں کیوں کہ کم از کم ٹیلی نار کی حد تک تو مجھے یہ تجربہ رہا ہے کہ آپ اپنے موبائل سے یونی کوڈ اردو میں اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ تو کرسکتے ہیں لیکن فیس بک پر ہونے والی اپڈیٹ اگر یونی کوڈ میں ہے تو آپ کے موبائل پر وہ سوالیہ نشان کی صورت میں ظاہر ہوگی۔

تکنیکی باتیں

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

میں نے پچھلے دنوں اپنے شعبے کی ایک استانی صاحبہ کے حوالے سے کچھ خامہ فرسائی کی تھی جسے بعد ازاں چند خدشات اور خطرات کے سبب غائب کردیا کہ بہرحال میرے غائب ہوجانے سے بہتر اس تحریر کا غائب ہونا تھا. :) سوچا تھا کہ اساتذہ پر لکھنے سے پرہیز کروں گا، کم از کم تب تک جب تک کہ میں جامعہ کا طالبِ علم ہوں لیکن طبیعت کا کیا کروں کہ پرہیز پر راغب نہیں ہوتی :P

اب ارادہ ہے اپنے ہی شعبے کے ایک اور استاد پر لکھنے کا اور اگرچہ میں نے اُن کی ہجو نہیں لکھنی، نہ ہی انہیں تنقید کا نشانہ بنانا ہے لیکن ۔۔۔ خیر، آگے بڑھتے ہیں۔ :)

سر امتیاز۔۔۔ میں ان کا پورا نام نہیں جانتا اور یقین جانیں کہ یہ اُن کا فرضی نہیں، اصل نام ہے۔ :razz: دیکھنے سے مجھے ایسا شبہ پڑتا ہے کہ سندھی ہوں گے لیکن اس سے کوئی غرض نہیں۔ اُن سے پڑھتے ہوئے مجھے ڈھائی مہینے ہی کا عرصہ گزرا ہے اور اس عرصے میں اُن کے کوئی دس لیکچرز ہی ہوئے ہیں لیکن مجھے اس مختصر عرصے ہی میں اُن کے طریقۂ تدریس نے بے حد متاثر کیا ہے۔ میں نے اپنے تمام تعلیمی کیریئر میں ایسا محنتی استاد نہیں دیکھا جسے اپنی ذمہ داری سے دلچسپی ہے، لگن ہے اور وہ اس ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ ہمیں آرگنائزیشن، منیجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن (Organization, Management & Administration) کے موضوعات تعلیمی اداروں (Educational Organizations) کے حوالے سے پڑھارہے ہیں۔ باریک سے باریک نکتے کو بھی آسان اور واضح انداز میں جامعہ کراچی کی مثالوں سے مزین کرتے ہیں کہ نالائق سے نالائق ترین طالبِ علم کی سمجھ میں بھی آسانی سے آجاتا ہے۔

جس دن جس موضوع پر لیکچر دینا ہوتا ہے، اس سے چند دن پہلے کوئی ایسی کتاب دے دیتے ہیں جس میں اس موضوع پر مناسب مواد موجود ہوتا ہے تاکہ تمام طلبہ اس کی فوٹوکاپی کروالیں اور لیکچر والے دن پہلے ہی گھر سے کچھ پڑھ کر آئیں تاکہ اُن کا ذہن کھلا ہو اور موضوع سے متعلق انہیں پہلے سے تھوڑی بہت آگاہی ہو تاکہ لیکچر کے وقت وہ ہونق بنے منہ نہ تکیں۔ لیکچر کا انداز یہ ہے کہ جس موضوع پر بولنا ہوتا ہے، اس کی پہلے سے تیاری کرکے آتے ہیں اور عموماً ایک صفحے پر اہم نکات نوٹ کیے ہوتے ہیں۔ لیکچر دینے سے پہلے عنوان تختۂ سیاہ (Black Board) پر لکھتے ہیں اور پھر طلبہ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا جانتے ہیں یا اس سے کیا سمجھتے ہیں۔ طلبہ کی رائے سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ نکات سامنے آتے ہیں جو کتب میں نہیں ملتے۔ بعد ازاں، سر امتیاز خود ایک ایک موضوع کو تفصیل سے سمجھاتے ہیں اور آخر میں یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ ہم نے جو کچھ پڑھا، تعلیمی اداروں میں اس کا عملی اطلاق کس قدر نظر آتا ہے اور اگر کہیں خامیاں پائی جاتی ہیں تو کیوں اور اُن کا سدِّباب کیوں کر ہو۔ سر امتیاز نے پہلی تعارفی کلاس میں ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے interactive class پسند ہے، خالی دماغ کے ساتھ میرے لیکچر میں بیٹھنے سے بہتر ہے کہ آپ نہ ہی آئیں۔

ایک اور منفرد بات میں نے یہ نوٹ کی کہ ہر استاد کے پاس ایک حاضری رجسٹر ہوتا ہے لیکن سر امتیاز حاضری رجسٹر کے بجائے اپنی ڈائری لے کر آتے ہیں اور لکھے لکھائے ناموں کے آگے بس حاضر اور غیر حاضر کا نشان لگانے کے بجائے طلبہ کو دیکھتے جاتے ہیں اور نام لکھتے جاتے ہیں۔ ہر بار نام لکھنے کے باعث اُنہیں طلبہ کے نام بہت جلدی یاد ہوئے۔ اس کے علاوہ جو طلبہ لیکچر کے دوران اپنی رائے دیتے ہیں اور تدریسی عمل میں خود بھی حصہ لیتے ہیں تو سر امتیاز اپنی ڈائری میں اُن کے ناموں کے آگے نشان لگاتے جاتے ہیں تاکہ فعال طلبہ کا ثبوت رہے۔

تختے پر لکھنے کے لیے وہ مختلف رنگوں کی chalk استعمال کرتے ہیں جن میں پیلی، گلابی (ایسا گلابی رنگ جو شوخ نہیں ہوتا) اور سفید رنگ کی chalk شامل ہوتی ہے۔ جب وہ پڑھا رہے ہوتے ہیں تو یہ فکر نہیں کرتے کہ chalk powder سے بھرا اُن کا ہاتھ ان کی نفیس پینٹ کو کس قدر خراب کررہا ہے۔ :) اُن کی ساری توجہ صرف لیکچر کی طرف ہوتی ہے۔

شعبۂ تعلیم کے طلبہ خاص کر چند لڑکوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تعلیم کا شعبہ ہمارے لیے بے کار اور فضول ہے۔ سر امتیاز نے دو/ تین بار اس تصور کو زائل کرنے کی کوشش کی اور بیرونِ ملک اسکالر شپ کے وہ اشتہارات دکھائے جن میں شعبۂ تعلیم اور ماہرینِ تعلیم کو اسکالر شپ کے لیے اولین ترجیح دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اپنے موضوع سے دلچسپی پیدا کرنے کے لیے وہ اکثر طلبہ کو راغب کرتے ہیں کہ اخبارات میں شائع ہونے والے تعلیمی صفحات کا خصوصاً روزنامہ ’’ڈان‘‘ کی اتوار کی اشاعت میں شامل تعلیمی صفحے کا ضرور مطالعہ کریں تاکہ اُنہیں اپنے شعبے کی تازہ ترین صورتِ حال اور اس میں آنے والی جدتوں سے آگاہی رہے۔

میں نہیں جانتا کہ سر امتیاز کس تعلیمی ادارے سے پڑھ کر آئے ہیں، اتنا جانتا ہوں کہ جامعہ کراچی کے نہیں پڑھے ہوئے، لیکن اُن کے جو بھی اساتذہ رہے ہوں گے، وہ خود بھی بہت قابل ہوں گے جن کی تعلیم و تربیت کا اثر سر امتیاز کے طریقۂ تدریس میں نظر آتا ہے۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی میں ایسا استاد نہیں دیکھا اور آپ ہمارے شعبے کے کسی بھی ایسے طالبِ علم سے پوچھ کر دیکھ لیں جس نے سر امتیاز سے پڑھا ہو، مجال ہے جو ایک لفظ اُن کی برائی میں کہے۔ میرے جتنے بھی سینئرز نے پوچھا کہ کون پڑھا رہا ہے اور میں نے کہا کہ سر امتیاز تو آگے سے اُن کے طریقۂ تدریس کے بے انتہا خوبیاں ہی سُنیں کہ اُن جیسا استاد پورے شعبے میں کوئی نہیں ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ اس مادہ پرست دور میں جب کہ ہر ایک اپنی ذمہ داری نبھانے سے کوسوں دور بھاگتا ہے، اساتذہ کی اکثریت کا مقصد صرف دولت کا حصول رہ گیا ہے اور انہیں طلبہ کی تعلیم و تربیت سے غرض نہیں رہی، اب بھی سر امتیاز جیسے اساتذہ موجود ہیں اور ایسا استاد میسر آنے پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتا ہوں۔ خدا کرے کہ میں بھی اُنہی کے نقشِ قدم پر چلنے میں کامیاب ہوسکوں۔ آمین۔

جامعہ نامہ

مہنگی گاڑی کا سفر

کراچی (یا شاید پورے پاکستان ہی کی) پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا بھی کمال ہے۔ بس میں ایسے کھڑے جیسے ٹرک میں بھیڑ بکریاں لدی ہوئی ہوں، دروازے پر لٹکی اور چھتوں پر سوار عوام۔۔۔ یہ سب کسی تماشے سے کم نہیں ہوتا۔ کسی کو ایک طرف سے دھکا پڑتا ہے اور وہ آگے ہوتا ہے تو بیٹھے ہوئے صاحب سے ٹکرا جاتا ہے جو اسے گھور کر دیکھتے ہیں۔۔۔ کبھی موصوف ڈرائیور گاڑی بھگاتے بھگاتے ایسا بریک لگاتے ہیں کہ سوتے ہوئے لوگ جاگ جاتے ہیں اور اچھے خاصے حضرات لڑھک جاتے ہیں۔ اورکبھی گاڑی کی سست رفتاری بندے کو یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ اگر وہ اس بس کے بجائے گدھا گاڑی پر سوار ہوتا تو شاید جلدی پہنچ جاتا۔۔۔ :)

بس کے سفر میں اکثر بدتمیزی اور بداخلاقی کے نمونے تو دیکھنے کو ملتے ہی ہیں، کبھی اعلیٰ اخلاق کی مثالیں بھی سامنے آتی ہیں جب کوئی نوجوان کسی بزرگ کو دیکھ کر اپنا آرام قربان کردیتا ہے اور بیٹھنے کی جگہ اُن کے حوالے کرکے خود کھڑا ہوجاتا ہے۔ لیکن کچھ افراد دو نمبری بھی کرجاتے ہیں۔ ندیم صاحب میرے ساتھ دفتر میں کام کرتے ہیں۔ کہنے لگے، مجھے ایسے لوگوں پر بڑا غصہ آتا ہے کہ جب تک خود بیٹھے تھے تو بیٹھے رہے اور جب خود کے اُترنے کا وقت آیا تو کسی بزرگ کو دور سے اشارہ کرکے اُن کو بلایا اور اپنی جگہ بٹھاکر اتر گئے۔ بھئی تمہیں اگر بزرگ کا اتنا ہی خیال تھا تو پہلے قربانی دینی تھی نا۔ اب تو سیٹ پر اس بندے کا حق تھا جو وہاں کھڑا ہوا تھا، تم نے کس اختیار سے اس کا حق چھین کر دوسرے پر احسان کرنے کی کوشش کی۔ :devil: بات ویسے ٹھیک ہے ندیم صاحب کی، مجھے بھی بہت غصہ آتا ہے :wink: حالانکہ بزرگوں کو دیکھ کر میں بھی کبھی اپنی جگہ خالی کردیتا ہوں۔

دوسری طرف، اگر بس ڈرائیور کا موڈ نہیں ہے تو آپ اس کو لاکھ کہتے رہیں، شور مچاتے رہیں، گاڑی پیٹتے رہیں، گالیاں دیتے رہیں، مجال ہے جو اس کے کان پر جوں رینگے۔ لیکن اگر پیچھے سے اس کے مقابلے پر کوئی گاڑی آگئی تو پھر اترنے والے مسافروں کی خیر نہیں۔ گاڑی وہ رفتار پکڑتی ہے کہ جن کی منزل آجاتی ہے، وہ شور مچاتے رہتے ہیں اور گاڑی پوری رفتار سے جھومتی جھامتی رواں دواں۔

اس سب کے باوجود ہمارے ہاں جب کوئی پوچھتا ہے کہ کیسے آئے ہو؟ بائیک پر یا کار میں؟ تو جواب ملتا ہے کہ نہیں بھئی، میں یہ چھوٹی چھوٹی غریبوں والی گاڑیاں استعمال نہیں کرتا، مہنگی والی گاڑی میں آیا ہوں :P

آس پاس