میری ذات ذرۂِ بے نشاں
گیت: میری ذات ذرۂِ بے نشاں
گلوکار: راحت فتح علی خاں
ڈراما: میری ذات ذرۂِ بے نشاں
تیرے سوا کیا جانے کوئی دل کی حالت ربّا
سامنے تیرے گزری مجھ پر کیسی قیامت ربّا
میں وہ کس طرح سے کروں بیاں
جو کیے گئے ہیں ستم یہاں
سُنے کون میری یہ داستاں
کوئی ہم نشیں ہے نہ راز داں
جو تھا جھوٹ وہ بنا سچ یہاں
نہیں کھولی میں نے مگر زُباں
یہ اکیلا پن، یہ اُداسیاں
میری زندگی کی ہیں ترجماں
میری ذات ذرۂِ بے نشاں
میری ذات ذرۂِ بے نشاں
کبھی سُونی صبح میں گھومنا
کبھی اُجڑی شاموں کو دیکھنا
کبھی بھیگی آنکھوں سے جاگنا
کبھی بیتے لمحوں کو سوچنا
مگر ایک پل ہے اُمید کا
ہے مجھے خدا کا جو آسرا
نہ ہی میں نے کوئی گِلہ کیا
نہ ہی میں نے دی ہیں دہائیاں
میری ذات ذرۂِ بے نشاں
میری ذات ذرۂِ بے نشاں
میں بتاؤں کیا، مجھے کیا ملے؟
مجھے صبر ہی کا صِلہ ملے
کسی آگہی کی رِدا ملے
کسی درد ہی کا سِرا ملے
کسی غم کی دل میں جگہ ملے
جو مِرا ہے وہ مجھے آ ملے
رہے شاد یوں ہی میرا جہاں
کہ یقیں میں بدلے میرا گماں
میری ذات ذرۂِ بے نشاں
میری ذات ذرۂِ بے نشاں
ٹی وی کی آواز آہستہ رکھیں
آپ کو ہمارے ہاں کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشریات دیکھنے کا اتفاق تو ہوا ہی ہوگا بل کہ اکثر ہوتا ہوگا۔ آپ نے شاید نوٹ کیا ہو کہ ہر کچھ دیر بعد پروگرام کا میزبان ایک ہی بات دہراتا ہے کہ جب پروگرام میں کال کریں تو اپنا ٹی وی بند کردیں یا آواز آہستہ کردیں۔ میں خود ہزار بار یہ جملہ سُن چکا ہوں۔ اس کے باوجود ہر دوسری/ تیسری کال کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے اور میزبان وہی بات دہراتا رہتا ہے۔ یہ ذرا سی بات ہماری عوام کو سمجھ کیوں نہیں آتی؟ یا پھر اپنی آواز سننے کا شوق اتنا ہوتا ہے؟
یوتھ ایکسپریس

14 اکتوبر 2009ء، سنیچر، ایک یادگار دن جب جامعہ کراچی کے آڈیو ویژول سینٹر میں نوجوانوں کی آواز ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کی تقریبِ اجرا منعقد ہوئی۔ تقریب کی نظامت (کمپیرئنگ) کے فرائض انجام دینے والوں میں ایک موصوف مابدولت بھی تھے۔
میگزین کے ایڈیٹر ان چیف مرزا نادر بیگ سے میرا تعارف بس اچانک ہی ہوا۔ گذشتہ ماہ میں نے جامعہ میں مختلف جگہ ایک اعلان چسپاں دیکھا کہ ماہ نامہ ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کا اجرا کیا جارہا ہے جس کے لیے تحاریر ارسال کی جاسکتی ہیں۔ میں نے ان کے دیے ہوئے ای۔میل پتے پر ربطہ کیا تو مرزا نادر بیگ کا حوصلہ افزا جواب آیا۔ میں نے اپنی ایک پرانی تحریر ’’انڈا‘‘ ارسال کی تو مرزا صاحب خاصے متاثر ہوئے۔ شروع میں کافی تکلفات ملحوظ رکھے کیوں کہ مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ اس میگزین کا جامعہ سے کوئی تعلق ہے۔ پھر جب نادر سے پہلی ملاقات ہوئی تو بالکل ہی الٹ ماجرا تھا۔ یہ صاحب تو مجھ سے بھی آٹھ/ نو ماہ چھوٹے نکلے۔ شعبۂِ سیاسیات (پولیٹکل سائنس) کے دوسرے سال میں زیرِ تعلیم۔ نادر کے توسط سے باقی دوستوں سے بھی شناسائی ہوئی۔ سلیم انصاری، شاہ ولی، عباد، احسن، طلحہ، جبران، ماہین علی وغیرہ۔۔۔ نادر نے میگزین کی تکمیل کے تمام مراحل میں سب کو ساتھ رکھنے کی کوشش کی اور آخر ہم ایک اچھی ابتدا کرنے میں کامیاب ہوئے الحمدللہ۔
بقیہ تحریر پڑھیں »
دعاے صحت کی درخواست
دنیا جہاں کی فکر میں گھلنے والی میری آپی کچھ عرصے سے کافی مشکلات کا شکار ہیں۔ خاصی بیمار بھی ہیں۔ ڈاکٹرز نے آپریشن تجویز کیا ہے۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا مانگیں۔ اللہ پاک انہیں تمام بیماریوں اور امراض سے شفاے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے اور ان کے تمام مسائل حل فرمائے۔ آمین!


