فارورڈ ایس.ایم.ایس
گزرے سنیچر کی بات ہے، میرے پاس ایک ایس.ایم.ایس آیا:
earnmoney. com
یہ ایس.ایم.ایس دس لوگوں کو بھیجیں۔ دو منٹ میں آپ کے پاس 72.67 روپے کا کریڈٹ آجائے گا۔ یہ جھوٹ نہیں ہے، یقین کریں۔ یہ ویب سائٹ کی ایڈورٹائزمنٹ کے لیے ہے۔
میں نے حسبِ عادت نظر انداز کردیا۔ تھوڑی دیر بعد کسی اور کے پاس سے یہی پیغام آیا۔ پھر کہیں اور سے تیسری بار یہی چیز پڑھی تو تنگ آگیا۔ پہلے تو میں سمجھا کہ واقعی کسی سائٹ کی تشہیر کے لیے لوگوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ میں نے سائٹ کھولنا چاہی تو پتا چلا کہ اس ڈومین کی کوئی ویب سائٹ موجود ہی نہیں۔ مزید تصدیق کے لیے میں نے گوڈیڈی ڈاٹ کام پر چیک کیا تو earnmoney.com کا ڈومین خریدنے کے لیے دستیاب تھا۔ اس دوران میرے پاس مختلف جگہوں سے مزید یہی ایس.ایم.ایس آیا۔ میں نے سب کو کہا کہ بوگس خبر ہے تو سب کا یہی جواب آیا کہ ہاں یار
میرے ساتھ جو دوست تھا، اسے بھی کئی جگہوں سے یہ پیغامات موصول ہوئے۔ صرف کراچی ہی نہیں، بیرونِ شہر سے بھی یہی ایس.ایم.ایس آئے۔۔۔ ہم دونوں حیران کہ یہ کیا چکر ہے۔ ویب سائٹ موجود ہوتی تو سمجھ بھی آتا کہ اس کی مشہوری کی جارہی ہے۔ لیکن یہاں تو ایسا بھی کچھ معاملہ نہیں۔
تھوڑی دیر بعد عجیب معاملہ ہوا۔ یہ پیغامات آنے لگے کہ آئی ایم سوری، اس ویب سائٹ پر نہ جائیں، اس پر وائرس ہے جو آپ کے کمپیوٹر کو ہیک کرلے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یعنی کہ حد ہی ہوگئی۔
ہمارے ہاں ایس.ایم.ایس سستے کیا ہوئے ہیں، اس قدر فضول استعمال ہونے لگا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں یہ سروس کم استعمال کرتا ہوں لیکن کم از کم غیر ضروری استعمال نہیں کرتا۔ لوگوں نے تو اسی کے ذریعے بھیک مانگنا بھی شروع کردی ہے۔ اکثر اس طرح کے پیغامات آتے ہیں کہ وہ یا اس کا کوئی عزیز ہسپتال میں داخل ہے، پیسوں کی اشد ضرورت ہے، برائے مہربانی 20 روپے کا کریڈٹ بھیج دیں۔ ایک بار میرے پاس پیغام آیا کہ پچاس روپے کا کریڈٹ دلوادو، ابھی بات کروں گی۔۔۔ آگے کسی لڑکی کا نام بھی لکھا تھا شاید۔ میں نے جواب دیا کہ پہلے بات کرلو، پھر کریڈٹ کا سوچتے ہیں کچھ۔
لوگوں کے بے وقوف بنانے والوں کو اندازہ ہے کہ یہ قوم مذہب کے حوالے سے ذرا جذباتی ہوجاتی ہے (صرف بات چیت کی حد تک)۔ لہٰذا مذہبی حوالے سے کوئی پیغام آئے گا اور لکھا ہوگا کہ یہ پڑھ کر اور آگے دس لوگوں کو یا چھ لوگوں کو بھیج دیں۔ یا آخر میں لکھا ہوگا کہ دن میں کتنے فضول پیغامات کرتے ہیں، لیکن یہ پیغام آگے نہیں بھیجتے، کیوں؟ یا یہ کہ اس پیغام کو اتنا پھیلادو جتنا اللہ اور اس کے رسول سے پیار کرتے ہو۔
یا یہ کہ نیک بات پھیلانا بھی صدقۂِ جاریہ ہے۔ غرض یہ کہ کسی نہ کسی طرح ایسے پیغامات کا سلسلہ چلائے رکھنا ہے۔
میرے پاس ایسا کبھی کوئی پیغام آتا ہے تو پڑھ کر یا تو حذف کردیتا ہوں یا اگر بہت ہی اچھا ہو تو آگے بھیجتا ضرور ہوں لیکن اس میں ترمیم کرکے جہاں یہ جملہ ہوتا ہے کہ اسے فاورڈ کریں اسے مٹادیتا ہوں۔
منہ کالا

بہ حوالہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی، جمعہ 16 اکتوبر 2009ء، ص:9
اب اِس بے چارے کو دیکھو، خود تو عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے لیکن دوسروں کو قید سے رہا کرانے کا دعوے دار بنا بیٹھا ہے۔
اور یہ معصوم قیدی۔۔۔ اتنی سمجھ بوجھ سے کام نہیں لیا کہ یہ بابا جو خود قید میں بیٹھا ہے، وہ اپنے تعویذ سے پہلے اپنے آپ کو رہا کیوں نہیں کروادیتا؟ عقل کے اندھے!
مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری
خاکہ وہ تحریر ہے جس میں خاکہ نگار کسی انسان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح اجاگر کرے کہ وہ شخصیت قاری کو ایک زندہ شکل میں نظر آئے اور خاکہ نگار نے اس انسان کی زندگی کا جس قدر مشاہدہ کیا ہو، غیر جانب داری سے اس سے متعلقہ حالات و واقعات کو قاری کے مطالعہ میں لے آئے۔
شخصیت نگاری کی تاریخ نئی نہیں ہے۔ البتہ زمانۂ قدیم میں یہ فن صرف بادشاہوں، نوابوں، راجاؤں یا مذہبی شخصیات کے حالاتِ زندگی لکھنے تک محدود تھا۔ یہ حالاتِ زندگی سوانحِ عمری کی صورت رقم کیے جاتے اور ان میں کئی جگہ لکھنے والے کی جانب داری نمایاں ہوتی کیوں کہ ایسی تحاریر عموماً کسی خاص مقصد کے تحت لکھی جاتیں یعنی مصنف کا مطمحِ نظر کسی شخصیت سے عقیدت یا لگاؤ کے سبب اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا یا رنجش و عداوت کے سبب اس پر الزام تراشی اور اس کی کردار کُشی کرنا ہوتا تھا۔ ایسی سوانحِ عمریوں کے مقابلے میں بہرحال خاکہ نگاری ایک نئی صنف ہے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی (پ۱۹۲۹ء) لکھتے ہیں:
اردو ادب میں خاکہ، مختصر افسانہ کی طرح، ایک نئی صنف ہے۔ اس سے پہلے ہمیں طویل سوانح عمریاں تو ملتی ہیں لیکن اُن کی حیثیت عام طور پر ادبی کم اور تاریخی زیادہ ہے۔غاؔلب کے فوراً بعد کے دور میں سوانح نگاری نے ایک خاص اہمیت حاصل کرلی اور حاؔلی کی یادگارِ غالب، حیاتِ سعدی، حیاتِ جاوید، شبلیؔ کی حیاتِ ابوحنیفہ، المامون اور الفاروق وغیرہ سامنے آئیں۔ یہ چیزیں مستقل تصانیف ہیں اور ان میں کسی ایک شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو ہر زاویۂ نظر سے دیکھا اور دکھایا گیا ہے۔ ان میں تاریخی اہمیت زیادہ اور کردار نگاری کا عنصر کم ہے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ ۱۵؍اگست ۱۸۸۵ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حشمت بیگ تھا۔ ان کے آبا و اجداد شاہ عالم ثانی کے دورِ حکومت میں ۱۸ویں صدی کے آخر میں ہجرت کرکے دہلی پہنچے اور فوج کی ملازمت اختیار کی۔ فرحت نے ابتدا میں مرزا الم نشرح کے قلمی نام سے لکھا۔ عظمت اللہ خاں ان کی تحریروں کی تعریف کرتے اور زور دیتے کہ کوئی زوردار مضمون لکھیے۔ اسی اصرار کے نتیجے میں فرحت اللہ نے مولوی نذیر احمد پر اپنا معرکہ آرا خاکہ لکھا جو کہ آپ کے اصل نام سے چھپا۔ اس مضمون سے اُردو دنیا میں اُن کی دھوم مچ گئی اور وہ یکایک شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ فرحت اللہ بیگ نے ۱۹۴۷ء میں وفات پائی۔
خاکہ نگاری اور مرزا فرحت اللہ بیگ کی خاکہ نگاری کے حوالے سے میرا اسائنمنٹ آن.لائن پڑھیں.
ہفتۂِ طلبا میں خطاطی کا اسٹال
ہفتۂِ طلبا کے سلسلے میں 14 اور 15 اکتوبر کو اے۔پی۔ایم۔ایس۔او (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے تحت جمنازیم میں میلہ لگایا گیا تھا۔ میرے دو ہم جماعت علی اور اویس بھی اسی تنظیم کے کارکن ہیں۔ 14؍ اکتوبر کو تذکرہ نکلا تو علی نے کہا کہ اگر وہاں میلے میں کسی چیز کا اسٹال لگانا ہو تو مفت میں لگوادوں گا (ویسے فی اسٹال ڈھائی سو روپے تھا)۔ میں اس دن میلے سے ہوکر آیا تھا، خاصا رش تھا۔سوچا کہ کیوں نہ ابو کی خطاطی کا اسٹال لگوالوں۔ ایسا ایک تجربہ پہلے ایک اسکول والے کرچکے تھے۔ میں نے علی سے بات کی تو اس نے کہا کہ فکر کی بات ہی نہیں، میں انتظام کردوں گا۔ میں نے اُسی وقت ابو کو اطلاع کردی تاکہ وہ بھی اس حساب سے تیاری کرلیں۔
اگلے دن میں تو صبح اپنے وقت پر جامعہ پہنچا کہ صبح اردو کی کلاس تھی۔ ابو سوا دس بجے کے قریب جامعہ پہنچ گئے۔ میں انہیں لے کر جمنازیم پہنچا۔ اویس نے ایک اسٹال کا بندوبست کردیا۔ ابو نے اپنا سارا سامان نکالا، خطاطی کے کچھ نمونے اور اپنی چند پینٹنگز بھی سامنے رکھیں۔ اسٹال یہ تھا کہ آپ اپنا نام خوبصورت انداز میں لکھوائیں، فی نام 20روپے۔ شروع میں تو ایسا لگا جیسے لوگ اس طرف توجہ نہ دیں گے لیکن علی نے کافی ساتھ دیا (حالانکہ ویسے اس سے اتنی زیادہ بنتی نہیں)۔ آدھ/ ایک گھنٹا وہیں کھڑا رہا اور لوگوں کو آواز دے دے کر اس طرف متوجہ کرتا رہا۔ کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہونے دی۔ بعد میں تو پھر ایسا رش لگا کہ ابو کو پانی پینے کا بھی مشکل سے وقت ملتا۔ میرے شعبے میں محفلِ میلاد بھی تھی۔ میری تین ہم جماعتوں تابندہ، اریبہ اور منیبہ کا اسٹال (Personality Test by Dr. Phills) برابر ہی میں لگا تھا۔ انہیں خیال رکھنے کا کہہ کر میں محفلِ میلاد میں چلا گیا کہ وہاں ایک نعت کے لیے نام لکھوایا ہوا تھا (اس کی موبائل سے بنی ہوئی ویڈیو مل سکی تو لگاؤں گا)۔ ان دوستوں نے واقعی کافی ساتھ دیا جس کی وجہ سے بے فکری رہی۔ وہاں سے ایک/ ڈیڑھ گھنٹے بعد واپس آیا تو ابو کام میں مصروف تھے۔۔۔ وہیں گھومتا پھرتا رہا۔ کافی سارے اسٹالز لگے تھے اور خوب ہلّا گلّا تھا۔ مختلف کھیل ہورہے تھے، مہندی لگ رہی تھی، گانے بج رہے تھے، عبایا اور چوڑیوں کی خرید و فروخت جاری تھی، اسکیچ کلب میں ایک نوجوان بیٹھا 15 منٹ اور 150 روپے کے بدلے لوگوں کے خاکے بنارہا تھا۔ دل تو بہت کیا کہ میں بھی بنواؤں مگر ڈیڑھ سو روپے نکالنے کی ہمت نہ ہوئی۔ جامعہ سے عنقریب شایع ہونےوالے میگزین ’’یوتھ ایکسپریس‘‘ کے اسٹال پر گیا تو وہاں اس کے ایڈیٹر ان۔چیف مرزا نادر بیگ سے پہلی ملاقات ہوئی۔ انہیں میں نے اپنی تحریر ’’انڈا‘‘ بھیجی تھی جس سے یہ خاصے متاثر لگتے ہیں۔
شام سوا چار بجے کے قریب جب رش چھٹنا شروع ہوا اور ہمارے پڑوسیوں نے اسٹال سمیٹا تو ہم نے بھی اپنی دکان بڑھائی اور چل دیے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ لوگوں کا ردِّ عمل خاصا مثبت رہا اور خوشی خوشی گھر واپسی ہوئی۔
جامعہ نامہ. 13
اس ہفتے جامعہ کراچی میں ’’ہفتۂِ طلبا‘‘ منایا جارہا ہے۔ ہمارے شعبے کے مشیرِ امورِ طلبا کی سستی کہیے یا طلبا کی عدم دل چسپی، اب تک ہمارے شعبے میں کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔ ہفتۂِ طلبا میں دن گیارہ بجے کے بعد تدریسی عمل ختم ہوجاتا ہے اور ہر شعبے اپنی مرضی سے ہر دن یا چند مخصوص دن کوئی تقریب رکھتا ہے جیسے مقابلۂِ قراٴت و نعت، نمائش، کوئز پروگرام، وغیرہ۔ ہمارے شعبے میں ہر طالبِ علم سے 150 روپے مانگے گئے۔ میری تجویز تھی کہ پچاس روپے یا زیادہ سے زیادہ سو روپے فی طالب علم لیے جائیں۔ شعبے میں تین سو سے زائد طلبا ہیں، اگر دو سو طلبا سے بھی پچاس روپے مل جائیں تو دس ہزار روپے ہوجائیں گے جب کہ ہمارے خرچے کا تخمینہ اب پانچ ہزار سے زیادہ کا نہیں۔ لیکن اساتذہ سنتے نہیں۔ دو ہی تو پروگرام ہیں، میلاد اور نمائش/ میلہ۔ بھلا اس میں کتنا خرچ ہوجانا ہے۔ میں نے تو اپنے ہم جماعتوں کو تسلی دی ہے کہ فکر نہ کرنا، پیسوں کا حساب دوں گا۔ کیوں کہ چار سال تک مجھے ہی ان سے ہر موقع پر پیسے مانگنے ہوں گے۔۔۔ طے کیا تھا کہ شعبے میں ایسے کسی دن کچھ نہیں رکھیں گے جس دن کسی طلبا تنظیم کی طرف سے جامعہ میں کوئی پروگرام رکھا جاے کیوں کہ طلبا کی اکثریت وہیں چلی جاتی ہے اور شعبہ سنسان پڑا رہتا ہے۔ ہفتۂِ طلبا کے ابتدائی دو دن یعنی سوموار اور منگل خالی گزار دیے، اب کل یعنی بدھ، 14؍اکتوبر کو نمائش/ میلہ رکھا ہے جب کہ کل اور پرسوں اے پی ایم ایس او کی جانب سے میلہ لگایا جارہا ہے۔ اب ہمارا پروگرام فلاپ ہی ہونا ہے۔ اللہ مالک ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
اللہ جانے، اور کیا سوچا تھا جامعہ نامہ میں لکھنے کے لیے۔۔۔اب یاد نہیں آرہا۔

