<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia &#187; deen</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/tag/deen/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Sep 2010 20:05:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>دعا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 22 May 2009 11:23:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[deen]]></category>
		<category><![CDATA[dua]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[masjid]]></category>
		<category><![CDATA[namaz]]></category>
		<category><![CDATA[social]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=208</guid>
		<description><![CDATA[’’دعا مانگو کہ اللہ اس امام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے۔‘‘ بعد از نمازِ جمعہ امامِ مسجد کی دعاؤں اور نمازیوں کی ’آمین‘ کی صداؤں کے درمیان میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’اِسے اتنی عقل نہیں ہے کہ خود تو پنکھے کے نیچے بیٹھا ہے اور باہر نمازی دھوپ میں جھلس رہے ہیں۔‘‘ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>’’دعا مانگو کہ اللہ اس امام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے۔‘‘ بعد از نمازِ جمعہ امامِ مسجد کی دعاؤں اور نمازیوں کی ’آمین‘ کی صداؤں کے درمیان میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’اِسے اتنی عقل نہیں ہے کہ خود تو پنکھے کے نیچے بیٹھا ہے اور باہر نمازی دھوپ میں جھلس رہے ہیں۔‘‘</p>
<p>یہ آج نمازِ جمعہ کا احوال ہے۔ جماعت کے بعد امام صاحب نے جو دعائیں مانگنا شروع کیں تو ان کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا۔  یہاں تک کہ ہم بقیہ پوری نماز (آٹھ رکعات) پڑھ کر فارغ ہوگئے اور امام صاحب کی دعائیں ختم نہ ہوئیں۔</p>
<p>’’اگر میں امیر المؤمنین ہوتا تو آج اس امام کو کوڑے لگواتا۔‘‘ میں  نے غصہ میں کہا۔ ’’مجھے تو ان بے چارے نمازیوں پر ترس آرہا ہے جو بغیر پنکھے کے، باہر دھوپ میں بیٹھے ہیں۔‘‘</p>
<p>اگرچہ امام صاحب کی دُعا آج کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی تھی لیکن عام طور سے بھی مساجد کے اِمام دیگر نمازیوں کا خیال کیے بغیر دعائیں مانگتے ہیں اور مانگتے ہی چلے جاتے ہیں۔ </p>
<p>صحیح بخاری، جلد3، پارہ 25، حدیث 1043 ہے:<br />
’’ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز میں فلاں فلاں شخص کے طویل نماز پڑھانے کی وجہ سے شریک نہیں ہوتا ہوں، ابومسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ میں اس سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! ہم میں سے بعض وہ ہیں، جو دوسروں کو بھگاتے ہیں (نفرت دلاتے ہیں) اس لئے تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو مختصر پڑھے، اس لئے کہ ان میں مریض اور بوڑھے اور حاجت مندلوگ بھی ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>صحیح بخاری، جلد1، پارہ3، حدیث 673ہے:<br />
’’انس بن مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نماز شروع کرتا ہوں تو اس کو طول دینا چاہتا ہوں مگر بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس کی ماں سخت پریشان ہو جائے گی۔‘‘</p>
<p>کہاں تو میرے نبی کریمﷺ کی یہ احتیاط کہ فرض عبادت بھی مختصر فرمائیں اور کہاں آج کے مولوی کہ غیر فرض، غیر واجب عمل کو اتنا طویل کردیں۔۔۔ ایسے صاحبان کی دعاؤں میں کیا اثر۔۔۔</p>
<p>بعد میں میرے دوست نے موقع کی مناسبت سے ایک واقعہ سنایا۔  کہنے لگا کہ اس کے ایک شاعر دوست کا ایک بڑے میاں سے کافی بے تکلفانہ  تھا۔ ان بڑے میاں کو بڑی بڑی دعائیں مانگنے کی عادت تھی۔ ایک بار وہ شاعر اپنے دوست کے پاس کسی کام سے گیا۔ وہ بڑے میاں دعائیں مانگنے میں مصروف تھے۔ شاعر کافی دیر تک انتظار کرتا رہا اور جب تھک گیا تو اس کے کان میں آکر بولا:</p>
<p>’’اگر جوانی میں اتنی حرام پائیاں نہ کی ہوتیں تو اتنی لمبی دعا مانگنی نہ پڑتی۔‘‘  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
