<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia &#187; Islam</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/tag/islam/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Sep 2010 20:05:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>محمد نبینا۔ حمادۃ ھلال</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/09/muhammad-nabina-hamada-helal/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/09/muhammad-nabina-hamada-helal/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 06 Sep 2010 20:05:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[گیت/ شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[arabic]]></category>
		<category><![CDATA[Hamada Helal]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[Muhammad Nabina]]></category>
		<category><![CDATA[Muhammad Nabiyyina]]></category>
		<category><![CDATA[song]]></category>
		<category><![CDATA[Video]]></category>
		<category><![CDATA[Youtube]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=433</guid>
		<description><![CDATA[سبحان اللہ! کیا آواز ہے حمادۃ ھلال کی۔ بہت خوب پڑھا ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><object width="445" height="364"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/O8I7VxHQ12Q?fs=1&amp;hl=en_US&amp;rel=0&amp;color1=0x234900&amp;color2=0x4e9e00&amp;border=1"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/O8I7VxHQ12Q?fs=1&amp;hl=en_US&amp;rel=0&amp;color1=0x234900&amp;color2=0x4e9e00&amp;border=1" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="445" height="364"></embed></object></p>
<p>سبحان اللہ! کیا آواز ہے حمادۃ ھلال کی۔ بہت خوب پڑھا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/09/muhammad-nabina-hamada-helal/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دعا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 22 May 2009 11:23:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[deen]]></category>
		<category><![CDATA[dua]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[masjid]]></category>
		<category><![CDATA[namaz]]></category>
		<category><![CDATA[social]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=208</guid>
		<description><![CDATA[’’دعا مانگو کہ اللہ اس امام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے۔‘‘ بعد از نمازِ جمعہ امامِ مسجد کی دعاؤں اور نمازیوں کی ’آمین‘ کی صداؤں کے درمیان میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’اِسے اتنی عقل نہیں ہے کہ خود تو پنکھے کے نیچے بیٹھا ہے اور باہر نمازی دھوپ میں جھلس رہے ہیں۔‘‘ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>’’دعا مانگو کہ اللہ اس امام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے۔‘‘ بعد از نمازِ جمعہ امامِ مسجد کی دعاؤں اور نمازیوں کی ’آمین‘ کی صداؤں کے درمیان میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’اِسے اتنی عقل نہیں ہے کہ خود تو پنکھے کے نیچے بیٹھا ہے اور باہر نمازی دھوپ میں جھلس رہے ہیں۔‘‘</p>
<p>یہ آج نمازِ جمعہ کا احوال ہے۔ جماعت کے بعد امام صاحب نے جو دعائیں مانگنا شروع کیں تو ان کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا۔  یہاں تک کہ ہم بقیہ پوری نماز (آٹھ رکعات) پڑھ کر فارغ ہوگئے اور امام صاحب کی دعائیں ختم نہ ہوئیں۔</p>
<p>’’اگر میں امیر المؤمنین ہوتا تو آج اس امام کو کوڑے لگواتا۔‘‘ میں  نے غصہ میں کہا۔ ’’مجھے تو ان بے چارے نمازیوں پر ترس آرہا ہے جو بغیر پنکھے کے، باہر دھوپ میں بیٹھے ہیں۔‘‘</p>
<p>اگرچہ امام صاحب کی دُعا آج کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی تھی لیکن عام طور سے بھی مساجد کے اِمام دیگر نمازیوں کا خیال کیے بغیر دعائیں مانگتے ہیں اور مانگتے ہی چلے جاتے ہیں۔ </p>
<p>صحیح بخاری، جلد3، پارہ 25، حدیث 1043 ہے:<br />
’’ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز میں فلاں فلاں شخص کے طویل نماز پڑھانے کی وجہ سے شریک نہیں ہوتا ہوں، ابومسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ میں اس سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! ہم میں سے بعض وہ ہیں، جو دوسروں کو بھگاتے ہیں (نفرت دلاتے ہیں) اس لئے تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو مختصر پڑھے، اس لئے کہ ان میں مریض اور بوڑھے اور حاجت مندلوگ بھی ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>صحیح بخاری، جلد1، پارہ3، حدیث 673ہے:<br />
’’انس بن مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نماز شروع کرتا ہوں تو اس کو طول دینا چاہتا ہوں مگر بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس کی ماں سخت پریشان ہو جائے گی۔‘‘</p>
<p>کہاں تو میرے نبی کریمﷺ کی یہ احتیاط کہ فرض عبادت بھی مختصر فرمائیں اور کہاں آج کے مولوی کہ غیر فرض، غیر واجب عمل کو اتنا طویل کردیں۔۔۔ ایسے صاحبان کی دعاؤں میں کیا اثر۔۔۔</p>
<p>بعد میں میرے دوست نے موقع کی مناسبت سے ایک واقعہ سنایا۔  کہنے لگا کہ اس کے ایک شاعر دوست کا ایک بڑے میاں سے کافی بے تکلفانہ  تھا۔ ان بڑے میاں کو بڑی بڑی دعائیں مانگنے کی عادت تھی۔ ایک بار وہ شاعر اپنے دوست کے پاس کسی کام سے گیا۔ وہ بڑے میاں دعائیں مانگنے میں مصروف تھے۔ شاعر کافی دیر تک انتظار کرتا رہا اور جب تھک گیا تو اس کے کان میں آکر بولا:</p>
<p>’’اگر جوانی میں اتنی حرام پائیاں نہ کی ہوتیں تو اتنی لمبی دعا مانگنی نہ پڑتی۔‘‘  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اسلام کا تصورِ جہاد۔ اسائنمنٹ</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/03/tasawwur-jihad/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/03/tasawwur-jihad/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 07 Mar 2009 06:36:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[جامعہ نامہ]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[islamiat]]></category>
		<category><![CDATA[jahaad]]></category>
		<category><![CDATA[Jihad]]></category>
		<category><![CDATA[karachi university]]></category>
		<category><![CDATA[shahida parveen]]></category>
		<category><![CDATA[terror]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=182</guid>
		<description><![CDATA[جامعہ میں سب سے پہلا اسائنمنٹ جو ملا وہ اسلامیات کا تھا۔ پانچ پانچ طلبا پر مشتمل گروہ بنائے گئے اور ہر گروہ کو کچھ عنوانات دیے گئے۔ میرے گروہ کے حصے میں آنے والے تین عناوین یہ تھے: 1۔ غزوہ احزاب 2۔ غزوہ خیبر 3۔ اسلام کا تصورِ جہاد ہوتا عموماً یہ ہے کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جامعہ میں سب سے پہلا اسائنمنٹ جو ملا وہ اسلامیات کا تھا۔ پانچ پانچ طلبا پر مشتمل گروہ بنائے گئے اور ہر گروہ کو کچھ عنوانات دیے گئے۔ میرے گروہ کے حصے میں آنے والے تین عناوین یہ تھے:<br />
1۔ غزوہ احزاب<br />
2۔ غزوہ خیبر<br />
3۔ اسلام کا تصورِ جہاد</p>
<p>ہوتا عموماً یہ ہے کہ گروہ کے تمام اراکین مل کر ہر موضوع پر مواد اکٹھا کرتے اور اسے ترتیب دیتے ہیں تاہم میں نے کیا یہ کہ عناوین تقسیم کردیے۔ میرے گروہ میں، میں اکلوتا لڑکا تھا اور باقی چار لڑکیاں۔ دو لڑکیوں کو ایک موضوع دیا، دو لڑکیوں کو دوسرا موضوع دیا اور اسلام کا تصورِ جہاد میں نے اپنے پاس رکھا کیوں کہ اس میں لکھنے کی گنجائش تھی۔ کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں:</p>
<blockquote><p>اسلامی تاریخ کا متعصبانہ اور سرسری مطالعہ رکھنے والے حلقوں کی طرف سے ہر دور میں یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ اسلام جبر کا دین ہے جو تلوار کے زور پر پھیلا۔ اس الزام کے ثبوت میں اسلام کی طویل جنگی تاریخ پیش کی جاتی ہے تاہم اگر غیر جانبداری سے اسلام کے تصورِ جہاد کا مطالعہ کیا جائے تو اس الزام کی قلعی بہ آسانی کھل جاتی ہے۔</p>
<p>امن و سلامتی کا دین:</p>
<p>اسلام دین ہے امن و سلامتی کا۔ جس دور میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلافات کے باعث خون کی ندیاں بہائی جاتی تھیں، نومولود لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا، اس وقت شبِ ظلمت کے اندھیروں میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا اور چاروں طرف اجالا ہوگیا۔</p>
<p>اسلام کے پیامبر رحمت و شفقت اور لطف و عنایت کے مجسم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ تو وہ عظیم انسان تھے کہ جن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، زخم دیے گئے، لہولہان کیا گیا، برا بھلا کہا گیا لیکن آپ رحمت اللعالمین تھے، آپ نے کسی کے لیے بددعا نہیں کی۔ پھر کیسے ان کا لایا ہوا دین جبر یا ظلم کا دین ہوسکتا ہے؟ جس دین نے یہ اعلان کیا ہو کہ ایک بے گناہ جان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ایسا پیامِ سلامتی پیش کرنے والا یہ دین کیونکر تلوار کے زور پر پھیلایا جاسکتا ہے؟</p></blockquote>
<p>جہاد کے بارے میں احکامات کے حوالے سے کچھ احادیث:</p>
<blockquote><p>لڑائی کی آرزو سے ممانعت:<br />
حضرت عبد اللہ بن ابی ادنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ’’رسول اللہﷺنے بعض جنگوں میں انتظار کیا یہاں تک کہ جب آفتاب ڈھل گیا تو آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! دشمنوں سے معرکہ آراء ہونے کی آرزو نہ کرو بلکہ خدا سے امن و عافیت طلب کرو اور جب تم دشمن سے لڑو، صبر سے کام لو۔۔۔‘‘<br />
(بخاری، بحوالہ پیارے نبی کی پیاری باتیں، علامہ عالم فقری، شبیر برادرز، لاہور، ص:۷۸، ۱۹۹۳ء)</p>
<p>قتل کی ممانعت:<br />
اسلام کے تصورِ جہاد کا خوبصورت ترین پہلو یہ ہے کہ اسلام قتلِ عام سے روکتا ہے، اعتدال میں رہنے کی تلقین کرتا ہے اور حالتِ جہاد کے باوجود قتل و غارت گری کی اجازت نہیں دیتا۔</p>
<p>حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’نبی کریمﷺ نے عورتوں اور بچوں کو (جنگ میں) قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘<br />
(مسلم، بحوالہ پیارے نبی کی پیاری باتیں، علامہ عالم فقری، شبیر برادرز، لاہور، ص:۸۵، ۱۹۹۳ء)</p>
<p>حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے چند لوگوں کے پاس رسول اللہﷺ نے ہم کو بھیجا۔ میں ایک شخص کے مقابلہ پر آیا اور اس پر نیزہ سے حملہ کرنا چاہا، اس نے لاالہ الا اللہ کہہ دیا۔ میں نے اس کے نیزہ مارا اور مار ڈالا۔ پھر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا، جب اس نے لاالہ الا اللہ کہہ دیا تھا تھا تو پھر تُو نے اس کو کیوں قتل کیا؟ میں نے عرض کی، یارسول اللہ! اس نے تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا۔ آپ نے فرمایا، کیا تُو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟‘‘ (بخاری، بحوالہ پیارے نبی کی پیاری باتیں، علامہ عالم فقری، شبیر برادرز، لاہور، ص:۸۴، ۱۹۹۳ء)</p>
<p>آپ ﷺ قرآن لے کر دشمن کی سرزمین میں جانے سے منع کرتے۔ آپ بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرماتے تھے۔ لڑائی کے دوران آپ جسے بالغ سمجھتے، اسے قتل کرتے اور جو بالغ نہ ہوتا، اسے قتل کرنے سے گریز کرتے۔ جب کوئی لشکر بھیجتے تو اسے اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتے اور فرماتے: ’’اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں جاؤ، کافروں سے جنگ کرو، مثلہ نہ کرو (یعنی حلیہ نہ بگاڑو)، بدعہدی نہ کرو، زیادتی نہ کرو اور بچوں کو قتل نہ کرو۔‘‘<br />
(مختصر زاد المعاد، شیخ محمد بن عبد الوہاب، ترجمہ: سید احمد قمر الزمان ندوی، ص:۲۲۸)</p></blockquote>
<p>جہاد اور عصرِ حاضر کے موضوع کے تحت میں نے اپنے اسائنمنٹ کا نتیجہ اور دورِ حاضر میں جاری جہاد پر مختصر سی گفتگو کی ہے۔۔۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://docs.google.com/Doc?id=dc9prjwv_1hfjc9z5d" >پورا اسائنمنٹ یہاں</a> ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/03/tasawwur-jihad/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>9</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
