<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Ibn-e-Zia &#187; society</title>
	<atom:link href="http://ibnezia.com/blog/tag/society/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://ibnezia.com/blog</link>
	<description>... a ray of light</description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Sep 2010 20:05:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>امداد کے مستحقین</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/08/imdaad-mustahiq/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/08/imdaad-mustahiq/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 12 Aug 2010 08:39:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[Expensive]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Poor]]></category>
		<category><![CDATA[Poverty]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=413</guid>
		<description><![CDATA[ملک کے کئی حصوں میں تاریخ کا خطرناک ترین اور تباہ کُن سیلاب آیا ہوا ہے جس سے ایک طرف بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے تو دوسری طرف انفراسٹرکچر اور صحت کے حوالے سے صورتِ حال خاصی مخدوش ہے۔ اس موقع پر جہاں متاثرینِ سیلاب کو امداد کی اشد ضرورت ہے، [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ملک کے کئی حصوں میں تاریخ کا خطرناک ترین اور تباہ کُن سیلاب آیا ہوا ہے جس سے ایک طرف بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے تو دوسری طرف انفراسٹرکچر اور صحت کے حوالے سے صورتِ حال خاصی مخدوش ہے۔ اس موقع پر جہاں متاثرینِ سیلاب کو امداد کی اشد ضرورت ہے، یہ بات خاص کر نوٹ کی جارہی ہے کہ اس بار پاکستانی عوام میں پہلے سا جوش و خروش نظر نہیں آتا۔ امداد جمع کرنے کے لیے لگائے گئے اسٹالز اکثر خالی نظر آتے ہیں۔ مختلف لوگ اس کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ مثلاً:</p>
<p>1۔ حکومتی اداروں، این۔جی۔اوز اور دیگر تنظیموں پر سے لوگوں کا اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ انہیں یقین نہیں ہے کہ وہ جو کچھ عطیات دیتے ہیں، ان کا صحیح استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>2۔ میڈیا نے آئے دن لاشیں دکھاکر عوام میں سے پہلے سا احساس ختم کردیا ہے۔ اب اتنی تباہی دیکھ کر دکھ نہیں ہوتا کہ یہ تباہیاں تو روز کا معمول بن گئی ہیں۔</p>
<p>3۔ درج بالا دو نقطہ ہائے نظر بھی یقیناً اپنی جگہ درست ہیں لیکن میں جس بات کو زیادہ اہمیت دے رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ مستحقین کی امداد کرنے والے فی الوقت خود امداد کے مستحق ہیں۔ زیادہ لمبی چوڑی بات کرنے کے بجائے مختصراً کچھ اعداد و شمار پیش ہیں:</p>
<p><em>کریانہ اسٹور:</em><br />
آٹا: 29 سے 40 روپے کلو<br />
دال ماش: 160 روپے کلو<br />
دال ارہر: 140 روپے کلو<br />
دال چنا: 65 روپے کلو<br />
موٹا چاول: 36 روپے کلو<br />
ٹوٹا چاول: 42 روپے کلو<br />
درمیانا چاول: 50 روپے کلو<br />
چینی: 70 روپے کلو<br />
گھی: 135 روپے کلو<br />
تیل: 140 روپے کلو<br />
بیسن: 68 روپے کلو</p>
<p><em>مِلک شاپ:</em><br />
دودھ: 54 روپے کلو<br />
دہی: 76 روپے کلو<br />
انڈے: 68 روپے درجن</p>
<p><em>سبزیاں:</em><br />
آلو: 30 روپے کلو<br />
پیاز: 30 روپے کلو<br />
ٹماٹر: 70/ 80 روپے کلو<br />
اروی: 40 روپے کلو<br />
بھنڈی: 50 روپے کلو<br />
بند گوبھی: 60 روپے کلو</p>
<p>گوشت: 300 روپے کلو</p>
<p>اگر ایک متناسب گھر کی ضروریات بھی دیکھی جائیں تو ہفتے بھر کا خرچا ڈھائی ہزار روپے سے اوپر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی مہینے بھر (چار ہفتوں کا خرچا) کم سے کم بھی دس ہزار تو کہیں نہیں گیا۔ اب آپ خود سوچیں کہ جس گھر کی آمدنی آٹھ سے دس ہزار روپے ہو، اس کی کُل آمدنی سے زیادہ خرچا تو اس کے کھانے پینے میں اُٹھ رہا ہے۔ بجلی، گیس، فون، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے، آنے جانے کا خرچا الگ۔ پھر جس کا مکان کراے کا ہو، وہ کس حال میں ہوگا؟ خود میرے دفتر میں ایک صاحب کام کرتے ہیں جن کی تنخواہ سات ہزار روپے ہے۔ ان کے چار چھوٹے بچے ہیں، گھر کراے کا ہے۔</p>
<p>تو صاحبو! اب کیا کہیں!</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/08/imdaad-mustahiq/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>12</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>برداشت کر!!</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 17 Jul 2010 08:29:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[میری باتیں]]></category>
		<category><![CDATA[Broadband]]></category>
		<category><![CDATA[Consumerism]]></category>
		<category><![CDATA[Electricity]]></category>
		<category><![CDATA[Fight Club]]></category>
		<category><![CDATA[K.E.S.C]]></category>
		<category><![CDATA[Landline Telephone]]></category>
		<category><![CDATA[Loadshedding]]></category>
		<category><![CDATA[mobile]]></category>
		<category><![CDATA[movie]]></category>
		<category><![CDATA[P.T.C.L]]></category>
		<category><![CDATA[pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>
		<category><![CDATA[Wateen]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=402</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان میں رہنے والوں کو ایک مسئلہ جو بارہا درپیش ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شکایات کے اندراج کے لیے مناسب طریقۂ کار کی عدم موجودگی۔ آپ کے علاقے میں بجلی بند ہوگئی۔ اب آپ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں، کس کے پاس جائیں؟ شکایت کے لیے K.E.S.C کا رابطہ نمبر 118 صرف PTCL [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں رہنے والوں کو ایک مسئلہ جو بارہا درپیش ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ شکایات کے اندراج کے لیے مناسب طریقۂ کار کی عدم موجودگی۔ آپ کے علاقے میں بجلی بند ہوگئی۔ اب آپ شکایت درج کرانا چاہتے ہیں، کس کے پاس جائیں؟ شکایت کے لیے <a target="_blank" href="http://www.kesc.com.pk/en" >K.E.S.C</a> کا رابطہ نمبر 118 صرف <a target="_blank" href="http://ptcl.com.pk/" >PTCL</a> فون سے ملایا جاسکتا ہے جب کہ PTCL فون اب گھروں میں کم ہی پایا جاتا ہے۔ موبائل سے اس نمبر تک رسائی نہیں۔ اور آپ کے پاس اگر PTCL ہے بھی تو اوّل آپ آدھ گھنٹا فون ملاتے رہیں، مجال ہے جو دوسری طرف سے اُٹھانے کی زحمت کی جائے۔ پھر اگر دوسری طرف سے جواب دے بھی دیا جائے تو آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے آپ کو ٹال دینا ہے کہ جی، فلاں فلاں خرابی ہے، کام کررہے ہیں، دو گھنٹے لگیں گے۔ گویا دن میں معمول کے مطابق چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ الگ اور پھر یہ دو، تین گھنٹے کا بونس بھی۔ آپ چیخیں، چلائیں، شور مچائیں، روئیں، جو چاہیں کریں، لیکن بجلی نہیں آنے کی جب تک احباب نہ چاہیں۔</p>
<p>آپ کی ٹیلے فون لائن خراب ہے، شور سنائی دیتا ہے، دوسری طرف سے کسی کی آواز ایسے سنائی دیتی ہے جیسے آپ ہواؤں کے دوش پر اُڑتے ہوئے بات چیت کررہے ہوں۔ آپ شکایت کرنا چاہتے ہیں۔ کرکے دکھائیے۔ کس سے کریں گے؟ ٹیلے فون بل پر موجود ہر نمبر ملالیجیے، یا مصروف ملے گا یا جواباً آپ کو بہت خوب صورتی سے شائستہ انداز میں ایک عدد بہانے سے ٹال دیا جائے گا لیکن مسئلہ جوں کا توں موجود رہے گا۔</p>
<p>آپ کے ہاں بجلی/ گیس کا بِل بہت زیادہ آرہا ہے۔ آپ پریشان ہیں کہ اتنا کیسے؟ لیکن شکایت کس سے کیجیے؟ کوئی سننے والا موجود جو نہیں۔ K.E.S.C کے دفتر چلے جائیے، ایک میز سے دوسری میز، دوسری سے تیسری، تیسری سے چوتھی اور پھر جب آخری میز پر پہنچیں تو آپ کہا جائے گا کہ آپ پہلی منزل پر چلے جائیں۔ پہلی منزل پر بھی ایسی ہی کاروائی۔ کسی کو ترس آگیا تو ٹھیک ورنہ جتنی منزلیں ہوں گی، سب کی سیر کرائی جائے گی۔ ترس آنے سے مراد یہ نہیں کہ کوئی اللہ کا بندا جھٹ پٹ آپ کا کام کردے گا۔ ارے نہیں جناب، ہرگز نہیں، اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ترس کھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا کھانچا بنانے کا ارادہ کرلے۔ کچھ دو کچھ لو کے اصول پر بات چیت کرنے کو صاحب کا من چاہے تو مبارک۔</p>
<p>آپ کے گھر ٹیلے ویژن ہے تو یقیناً ٹی۔وی کیبل لگائی ہوئی ہوگی کیوں کہ اکثریت <a target="_blank" href="http://ptv.com.pk/index.asp" >PTV Home</a> اور <a target="_blank" href="http://news.ptv.com.pk/index.asp" >PTV News</a> اور <a target="_blank" href="http://atv.com.pk/" >ATV</a> جیسے تھکے ہوئے چینلز دیکھنا نہیں چاہتی۔ اب آپ کے پاس 80 سے کچھ زیادہ ٹیلے ویژن چینلز آرہے ہیں۔ آپ ہر ماہ اس سہولت کے تین سو روپے ادا کرتے ہیں۔ اچانک ہوا یہ کہ آپ کے کنکشن میں خرابی آگئی۔ 80 میں سے 8 چینلز بمشکل صاف آرہے ہیں باقیوں پر مکھیاں بھنبھنارہی ہیں۔ آپ کیبل آپریٹر کو فون کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں کہ بھائی، یہ مسئلہ ہوگیا ہے۔ وہ کہتا ہے، اچھا میں آکر دیکھتا ہوں۔ وہ آنے میں تین/ چار دن لگادیتا ہے۔ آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ آتا ہے، دیکھ کر کہتا ہے کہ کنکشن تو ٹھیک ہے۔ لگتا ہے، تار خراب ہوگئی ہے لہٰذا تار اچھی والی لے آئیں۔ آپ سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اگلے ہی دن مہنگے داموں ایک معیاری تار کا بندوبست کردیتے ہیں لیکن اب جو اس کو بلانا چاہتے ہیں تو وہ صاحب کبھی فون بند کردیتے ہیں تو کبھی بہانا بناکر ٹال جاتے ہیں۔ پورا مہینا اسی طرح گزر جاتا ہے اور پھر اچانک سے آپ کے پاس سارے چینلز صاف آنے لگتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد موصوف کیبل آپریٹر آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ ان سے عرض کرتے ہیں کہ صاحب، جب شکایت کررہا تھا تو آپ نے کان نہیں دھرے، اب پیسے کس بات کے جب کہ آپ کی خدمات ہی نہیں ملیں؟ جواب ملتا ہے کہ یہ تو بالکل فضول کی بات ہے، پیسے تو آپ کو دینے ہی ہوں گے۔ آپ کہتے ہیں، میں تو آدھی رقم دوں گا حالانکہ حق دار تو آپ اس کے بھی نہیں ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ رقم تو پوری ہی دینی پڑے گی۔ آپ کا انکار سن کر وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے جی، نہ دیجیے اور پھر جاکر آپ کا کنکشن منقطع کردیتے ہیں۔ کرسکتے ہیں کسی سے شکایت؟ کرکے دکھائیے؟ ایک علاقے میں ایک کیبل آپریٹر کی موجودگی میں چوں کہ دوسرا آپریٹر خدمات فراہم نہیں کرتا اس لیے مونوپلی ہونے کے باعث تو ان کو پروا نہیں۔ کنکشن کروانا ہے تو کرواؤ نہیں تو بھاڑ میں جاؤ، اُن کے پاس اتنے لوگوں کے کنکشنز ہیں کہ ایک آپ کے جانے سے اُنہیں فرق بھی نہیں پڑتا۔ آپ خوش رہیے۔</p>
<p>آپ کے پاس کمپیوٹر ہے، آپ نے قریبی <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Cable_Internet_access" >انٹرنیٹ کیبل</a> کی خدمت فراہم کرنے والے ایک صاحب سے ماہانہ چھ سو روپے پر کنکشن کروایا (ویسے ہمارے ہاں کنکشن لگوایا جاتا ہے)۔ آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں کسی تعلیمی غرض سے یا انٹرنیٹ پر روزی تلاش کرتے ہیں۔ کبھی آپ کی انٹرنیٹ کچھوے کی رفتار سے چلتا ہے اور کبھی کچھوے کی طرح خول میں منھ دے کر سوجاتا ہے۔ آپ ہزار ٹھوکیے، ایسے ہوگیا جیسے مُردا۔ آپ آپریٹر کو فون لگاتے ہیں، وہ جواباً عرض کرتا ہے کہ جناب، اس طرف کی بجلی گئی ہوئی ہے۔ آپ کیا کرسکتے ہیں؟ پاکستان میں رہتے ہیں، بجلی سب کے ہاں جاتی ہے، اُس کے ہاں کوئی انوکھی نہیں گئی۔ اب کیا کریں کہ وہ اس علاقے میں بیٹھا ہے کہ جب اس کے بجلی ہوتی ہے تو آپ کے نہیں ہوتی اور جب آپ کے ہاں ہوتی ہے تو اس کے ہاں غایب۔ بے چارے کا کیا قصور۔ چلو، اچھا آپریٹر ہے، اس کے ہاں جنریٹر یا <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/U.P.S." >U.P.S</a> لگا ہوا ہے، بجلی جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ پھر بھی انٹرنیٹ نہیں چل رہا، آپ نے فون گھمایا تو بتایا گیا کہ پیچھے کہیں تار ٹوٹ گئی ہے، کام کیا جارہا ہے۔ ارے غصہ کیوں ہوتے ہیں؟ میاں آپ بھی یہیں کے باسی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ تاروں کے گچھے کیسے آپ کے سروں پر سایا کیے رہتے ہیں۔ کون سا تار بجلی کا ہے، کون سا انٹرنیٹ کا اور کون سا کیبل ٹی۔وی کا، آپ یہ اندازا ہی نہیں لگاسکتے۔ اب کہیں کوئی تار ٹوٹ گیا تو اوّل اسے ڈھونڈا جائے گا، پھر اس کو صحیح کرنے کا کام ہوگا، یوں آپ کا انٹرنیٹ مرے سے مرے، دو دن میں جاکر انگڑائی لے گا اور خراماں خراماں چلے گا۔</p>
<p>دو مہینے بعد تنگ آکر آپ نے کیبل انٹرنیٹ پر چار حرف بھیجے، سوچا <a target="_blank" href="http://ptcl.com.pk/contentp.php?NID=291" >PTCL کا براڈبینڈ انٹرنیٹ</a> اچھا چل رہا ہے، کیوں نہ وہی استعمال کیا جائے۔ آپ نے اس کی طرف رجوع کیا۔ آپ کو PTCL کی طرف سے بِل ملنا شروع ہوگیا لیکن تار اب تک نہیں لگائی گئی۔ یہ کیسا غضب ہے! آپ کو شکایت کرنی ہے؟ کس سے کریں گے؟ <a target="_blank" href="http://www.etisalat.ae/" >اتصالات کمپنی</a> کے ڈائریکٹر سے یا <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Asif_Ali_Zardari" >عزت مآب زرداری صاحب</a> سے؟ تین/ چار ماہ تک آپ کو بِل موصول ہوتا رہا، تب کہیں جاکر آپ کو تار فراہم کی گئی۔ لیکن نجانے تار کے جوڑ میں کہاں خرابی ہے۔ براؤزنگ کررہے ہوں تو صفحہ کھلتے کھلتے دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ کی طرح بھول جاتا ہے کہ وہ کر کیا رہا تھا۔ آپ اس پر دو تین بار Refresh کا مولا بخش مارتے ہیں، <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/List_of_web_browsers" >مختلف براؤزرز</a> کے ٹھڈے استعمال کرتے ہیں، تب جاکر براؤزنگ ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ بھی صاف بند۔۔۔ چلنے سے انکاری۔۔۔ آپ شکایت کرنے کی سعیِ لاحاصل کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خبر ملتی ہے کہ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Fiber_optic" >فائبر آپٹک</a> میں خرابی آگئی ہے، درست کرنے میں دو دن لگ سکتے ہیں۔ اب آپ PTCL کو فون گھماکر شکایت کرنے کی حماقت کریں گے تو ظاہر ہے، دوسری طرف سے کبھی جواب نہیں ملے گا۔ صاحب، آپ کو اطلاع دینے کے لیے تو ہر ہر ٹی۔وی چینلز پر خبر دکھائی گئی، اخبار میں سیاہی جمائی گئی (سرخی کا زمانہ کہاں، عورتوں سے بچتی ہی نہیں)، اب ہر طرح سے آپ کو مطلع کردیا گیا تو آپ کاہے کو فون کی زحمت کرتے ہیں؟</p>
<p>بڑے بے آبرو ہوکر تِرے کوچے سے ہم نکلے۔ تعجب ہے، آپ میں پاکستانی ہوکر برداشت نہیں؟ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ <a target="_blank" href="http://www.wateen.com/" >وطین</a> کے وائی میکس یا وائی فائی انٹرنیٹ کی طرف رجوع کریں گے؟ کرلیجیے۔ کرلیا؟ خوب!! واہ، یہ تو بہت اچھا رہا۔ رفتار بھی خاصی ہے۔ پھر ایک دن صبح جب آپ انٹرنیٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے سامنے ایک صفحہ آتا ہے کہ وطین ساری ڈیوائسز کا ریکارڈ اپڈیٹ کررہا ہے لہٰذا آپ بذریعہ ای۔میل یا فون اپنی ڈیوائس پر درج کوڈ ہمیں بتائیں۔ اللہ کے بندو، جب ڈیوائس دی تھی، تب ریکارڈ رکھا تو تھا، اب کیا ہوا؟ ارے جناب، پاکستان ہے، کوئی بعید نہیں کہ اُن کے کمپیوٹرز سے سارا ریکارڈ اُڑن چھو ہوگیا ہو۔ سب کچھ ہوسکتا ہے۔ اب آپ ای۔میل کرکے تو بتانے سے رہے کیوں کہ جب تک آپ کی ڈیوائس کا ریکارڈ اپڈیٹ نہیں ہوتا، آپ کی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔ فون کرنا ہی واحد ذریعہ ہے۔ آپ فون کرتے ہیں، مصروف ہے۔ پھر کرتے ہیں، مصروف۔۔۔ صاحبو! جب پوری وطین کمیونٹی کا انٹرنیٹ تم نے یہ کہہ کر بند کردیا کہ ریکارڈ اپڈیٹ کرواؤ اور پھر ساری دنیا یہ کوشش کرے گی تو تمہارا واحد فون نمبر مصروف ہی تو رہے گا (اُلّو کے۔۔۔۔)!!! آپ فون کے پاس کرسی رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، آدھ گھنٹے تک ملاتے ہیں تب جاکر کہیں کنیکٹ ہوتا ہے، ٹیلے فون آپریٹر سے نہیں، کمپیوٹر سے۔۔ پھر وہ کمپیوٹر آپ کو سہانی دھنیں سناتا ہے جو غصے کے سبب آپ کے کانوں میں ایسے لگتی ہیں جیسے کسی سوتے آدمی کے سر پر بے سرے انداز میں ڈرم بجایا جانے لگے یا اس کے کانوں میں بنا سیکھے بانسری بجائی جائے۔ کمپیوٹر آپ کو پندرہ منٹ انتظار کروانے کے بعد کسٹمر سینٹر کے آپریٹر سے آپ کی کال کنیکٹ کرتا ہے۔ آپ اسے اپنی ڈیوائس کی معلومات فراہم کرتے ہیں تو وہ آپ کو مژدۂ جانفزا سناتا ہے کہ صرف اور صرف، جی ہاں صرف اور صرف چوبیس گھنٹے میں آپ کا انٹرنیٹ بحال ہوجائے گا۔ شکایت کریں گے؟ کس سے؟ U.A.E میں وطین کے ہیڈکوارٹر سے؟ چچ چچ۔۔۔ آپ چوبیس گھنٹے گزرنے کا انتظار یوں کرتے ہیں کہ ہر کچھ دیر بعد براؤزر کھولتے ہیں کہ شاید انٹرنیٹ چوبیس گھنٹے سے پہلے بحال ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ چوبیس گھنٹے کہاں، اڑتالیس گھنٹے گزر جاتے ہیں، انٹرنیٹ جوں کا توں مُردا۔ آپ پھر وطین کے کسٹمر (کئیر؟؟؟)  سینٹر پر نمائندے سے بات کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے آپ کو حسبِ سابق آدھ گھنٹے سے زیادہ بار بار ٹیلے فون نمبر ریڈائل کرنا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر رابطہ ہوتا ہے۔ آپ اس کو برا بھلا کہتے ہیں، زبان کی نوک پر رُکے سنسر کے قابل الفاظ پھسلنے لگتے ہیں، لاوا جو اب تک پک رہا تھا، اب اُبل پڑتا ہے لیکن دوسری طرف وہ اسی تحمل مزاجی سے آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آیندہ ایسا نہیں ہوگا اور وہ آپ کی درخواست دوبارہ آگے بھیج رہا ہے، جلد مسئلہ حل ہوجائے گا۔ لیکن پھر بھی نہیں ہوتا۔ کچھ گھنٹے بعد دوبارہ کوشش کی جاتی ہے۔ اب کی بار ان کا نمایندہ آپ کو کہتا ہے کہ آپ کی درخواست تو آگے بھیجی ہی نہیں گئی ہے لیکن وہ بھیج رہا ہے، ساتھ ہی آپ کا انٹرنیٹ آدھ گھنٹے میں لاگ۔ان صفحے کے بنا ڈائرکٹ کنیکٹ پر ہوجائے گا۔ آپ کو اس کی بات پر یقین نہیں آتا، دل میں ہزار گالیاں دیتے ہیں لیکن اس کی بات سچ ثابت ہوتی ہے۔ آپ کی ڈیوائس کی معلومات پر کام تو جب ہوگا سو ہوگا، لیکن اس نے آپ کی ڈیوائس کو ڈائرکٹ کنیکٹ کردیا۔ آپ سوچتے ہیں کہ اس کو دعا دوں یا پچھلے والوں کو بد دعا؟</p>
<p>اسی کشمکش میں آپ کی زندگی گزرتی چلی جارہی ہے اور آپ کو ہر سروس پرووائڈر کا نمائندہ جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ تو بس خوش بو دار کاغذ میں لپٹی ایک ہی چیز ہے جس کو کھولنے پر آپ کے سامنے جو ہوگا وہ دراصل یہاں گاڑیوں کے پیچھے لکھے ہوئے ایک جملے سے بہ آسانی سمجھی جاسکتا ہے کہ<br />
’’تپڑ ہے تو پاس کر، ورنہ برداشت کر‘‘</p>
<p>اتنی طویل تحریر پڑھ کر تھک گئے؟ کوئی بات نہیں۔ کیا یہ <a target="_blank" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Consumerism" >کنزیومر ازم</a> کے کمالات ہیں۔ چلیں <a target="_blank" href="http://www.imdb.com/title/tt0137523/" >فائٹ کلب</a> دیکھیے، میں نے بھی دو دن پہلے دیکھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2010/07/bardasht-kar/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>25</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>حب الوطن</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/08/hubbul-watan/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/08/hubbul-watan/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 08 Aug 2009 12:55:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[Indipendance day]]></category>
		<category><![CDATA[people]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=238</guid>
		<description><![CDATA[جشنِ آزادی قریب ہے. ہمارے ہاں علاقے میں دو کچھ زیادہ ہی محب الوطن پیدا ہوگئے ہیں. دونوں نے اعلا لاؤڈ اسپیکرز کی مدد سے ہر لمحہ اہلِ محلہ کے کان میں رس گھولنے کا انتظام کیا ہوا ہے. صرف نغمے ہی نہیں، انڈین گیت بھی چلتے رہتے ہیں اور کوئی کام سکون سے کرنے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جشنِ آزادی قریب ہے. ہمارے ہاں علاقے میں دو کچھ زیادہ ہی محب الوطن پیدا ہوگئے ہیں. دونوں نے اعلا لاؤڈ اسپیکرز کی مدد سے ہر لمحہ اہلِ محلہ کے کان میں رس گھولنے کا انتظام کیا ہوا ہے. صرف نغمے ہی نہیں، انڈین گیت بھی چلتے رہتے ہیں اور کوئی کام سکون سے کرنے نہیں دیتے. میں ایک دن اپنے کمرے میں لیٹا دونوں طرف سے آنے والی آوازوں پر غور کررہا تھا. ایک طرف ہندوستانی فلمی گیت اور دوسری طرف پاکستانی قومی نغمہ، دونوں کا امتزاج عجیب و غریب صورت پیدا کررہا تھا. محلے کا سکون برباد ہوتا ہے تو ہوتا رہے، ان کو آپ لاکھ سمجھالیں، انہوں نے باز نہیں آنا کیوں کہ شاید ہم سب سے زیادہ جذبہِ حبُ الوطنی انہی میں جوش مار رہا ہے.  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/msn_think.gif' alt=':hunh:' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/08/hubbul-watan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دعا</title>
		<link>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/</link>
		<comments>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 22 May 2009 11:23:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>عمار ابنِ ضیاء</dc:creator>
				<category><![CDATA[آس پاس]]></category>
		<category><![CDATA[deen]]></category>
		<category><![CDATA[dua]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[masjid]]></category>
		<category><![CDATA[namaz]]></category>
		<category><![CDATA[social]]></category>
		<category><![CDATA[society]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://ibnezia.com/blog/?p=208</guid>
		<description><![CDATA[’’دعا مانگو کہ اللہ اس امام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے۔‘‘ بعد از نمازِ جمعہ امامِ مسجد کی دعاؤں اور نمازیوں کی ’آمین‘ کی صداؤں کے درمیان میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’اِسے اتنی عقل نہیں ہے کہ خود تو پنکھے کے نیچے بیٹھا ہے اور باہر نمازی دھوپ میں جھلس رہے ہیں۔‘‘ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>’’دعا مانگو کہ اللہ اس امام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے۔‘‘ بعد از نمازِ جمعہ امامِ مسجد کی دعاؤں اور نمازیوں کی ’آمین‘ کی صداؤں کے درمیان میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ’’اِسے اتنی عقل نہیں ہے کہ خود تو پنکھے کے نیچے بیٹھا ہے اور باہر نمازی دھوپ میں جھلس رہے ہیں۔‘‘</p>
<p>یہ آج نمازِ جمعہ کا احوال ہے۔ جماعت کے بعد امام صاحب نے جو دعائیں مانگنا شروع کیں تو ان کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا۔  یہاں تک کہ ہم بقیہ پوری نماز (آٹھ رکعات) پڑھ کر فارغ ہوگئے اور امام صاحب کی دعائیں ختم نہ ہوئیں۔</p>
<p>’’اگر میں امیر المؤمنین ہوتا تو آج اس امام کو کوڑے لگواتا۔‘‘ میں  نے غصہ میں کہا۔ ’’مجھے تو ان بے چارے نمازیوں پر ترس آرہا ہے جو بغیر پنکھے کے، باہر دھوپ میں بیٹھے ہیں۔‘‘</p>
<p>اگرچہ امام صاحب کی دُعا آج کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی تھی لیکن عام طور سے بھی مساجد کے اِمام دیگر نمازیوں کا خیال کیے بغیر دعائیں مانگتے ہیں اور مانگتے ہی چلے جاتے ہیں۔ </p>
<p>صحیح بخاری، جلد3، پارہ 25، حدیث 1043 ہے:<br />
’’ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں عشاء کی نماز میں فلاں فلاں شخص کے طویل نماز پڑھانے کی وجہ سے شریک نہیں ہوتا ہوں، ابومسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ میں اس سے زیادہ غصے میں نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! ہم میں سے بعض وہ ہیں، جو دوسروں کو بھگاتے ہیں (نفرت دلاتے ہیں) اس لئے تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو مختصر پڑھے، اس لئے کہ ان میں مریض اور بوڑھے اور حاجت مندلوگ بھی ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>صحیح بخاری، جلد1، پارہ3، حدیث 673ہے:<br />
’’انس بن مالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں نماز شروع کرتا ہوں تو اس کو طول دینا چاہتا ہوں مگر بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس کی ماں سخت پریشان ہو جائے گی۔‘‘</p>
<p>کہاں تو میرے نبی کریمﷺ کی یہ احتیاط کہ فرض عبادت بھی مختصر فرمائیں اور کہاں آج کے مولوی کہ غیر فرض، غیر واجب عمل کو اتنا طویل کردیں۔۔۔ ایسے صاحبان کی دعاؤں میں کیا اثر۔۔۔</p>
<p>بعد میں میرے دوست نے موقع کی مناسبت سے ایک واقعہ سنایا۔  کہنے لگا کہ اس کے ایک شاعر دوست کا ایک بڑے میاں سے کافی بے تکلفانہ  تھا۔ ان بڑے میاں کو بڑی بڑی دعائیں مانگنے کی عادت تھی۔ ایک بار وہ شاعر اپنے دوست کے پاس کسی کام سے گیا۔ وہ بڑے میاں دعائیں مانگنے میں مصروف تھے۔ شاعر کافی دیر تک انتظار کرتا رہا اور جب تھک گیا تو اس کے کان میں آکر بولا:</p>
<p>’’اگر جوانی میں اتنی حرام پائیاں نہ کی ہوتیں تو اتنی لمبی دعا مانگنی نہ پڑتی۔‘‘  <img src='http://ibnezia.com/blog/wp-includes/images/smilies/yahoo_tongue.gif' alt=':P' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://ibnezia.com/blog/2009/05/duaa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
